براہ راست نشریات

ایران کا خلیج میں انٹرنیٹ کیبلز کو نشانہ بنانے کا منصوبہ

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
Iran Undersea Internet Cables

ایرانی سکیورٹی حکام نے خلیج میں زیرِ سمندر انٹرنیٹ کیبلز کو ممکنہ جوابی حملوں میں نشانہ بنانے کے منصوبوں کا دعویٰ کیا ہے۔
اس سے سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کی بینکنگ، مواصلات اور ڈیجیٹل معیشت متاثر ہونے کا خدشہ ہے، تاہم کسی حملے کی تصدیق نہیں ہوئی۔

ایران نے امریکا یا اسرائیل کے ساتھ نئی جنگ کی صورت میں خلیج کی تہہ میں موجود انٹرنیٹ اور مواصلاتی کیبلز کو نشانہ بنانے کے منصوبے تیار کئے ہیں۔ 

خبر رساں ادارے رائٹرز نے 23 اکتوبر کو دو ایرانی سکیورٹی حکام کے حوالے سے یہ اطلاع دی۔ تاہم کسی حملے کی تصدیق نہیں ہوئی اور عمل درآمد کا کوئی وقت نہیں بتایا گیا۔

ایران کا منصوبہ کیا ہے؟

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایرانی حکام نے بتایا کہ نئی امریکی یا اسرائیلی کارروائی کے جواب میں سمندر کی تہہ سے گزرنے والی فائبر آپٹک کیبلز پر حملہ کیا جا سکتا ہے۔ 

ایک عہدیدار کے مطابق مرمت کی کوششوں میں رکاوٹ ڈالنے پر بھی غور کیا گیا ہے تاکہ مواصلاتی خدمات دیر تک متاثر رہیں۔ رائٹرز ان تفصیلات کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا۔

🔎 کیا تصدیق ہوئی، کیا ابھی ثابت نہیں؟

تصدیق شدہ خبر: رائٹرز نے دو نام ظاہر نہ کرنے والے ایرانی سکیورٹی حکام سے منسوب بیانات شائع کئے ہیں۔

عوامی انتباہ: پاسدارانِ انقلاب کے ایک عہدیدار کی جانب سے آبنائے ہرمز کی اہم مواصلاتی کیبلز کو ممکنہ ہدف قرار دینے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

غیر مصدقہ پہلو: عملی منصوبے کی تفصیلات، کسی مخصوص مقام پر حملے کی تیاری اور کیبلز کو نقصان پہنچنے کی آزادانہ تصدیق دستیاب نہیں۔

اہم فرق: ممکنہ حملے کی دھمکی کو بالفعل حملہ یا جاری انٹرنیٹ بندش قرار نہیں دینا چاہئے۔

پاسدارانِ انقلاب کے عہدیدار یداللہ جوانی نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والی سات اہم انٹرنیٹ کیبلز کو ممکنہ ہدف قرار دیا تھا۔ 

ڈیٹا سینٹرز اور مصنوعی ذہانت کی تنصیبات کے بارے میں بھی تنبیہ سامنے آ چکی ہے۔

مزید پڑھیں

زیرِ سمندر کیبلز کیوں اہم ہیں؟

دنیا میں ملکوں اور براعظموں کے درمیان انٹرنیٹ ڈیٹا کی بھاری اکثریت سمندر کے نیچے بچھائی گئی فائبر آپٹک کیبلز سے منتقل ہوتی ہے۔ 

ان راستوں پر بینکوں کی ادائیگیاں، کاروباری رابطے، ویڈیو کالز، کلاؤڈ سروسز اور سرکاری ڈیجیٹل نظام انحصار کرتے ہیں۔

البتہ آبنائے ہرمز میں چند کیبلز متاثر ہونے سے پوری دنیا کا انٹرنیٹ بند 

ہونے کا دعویٰ درست نہیں۔ 

ٹیلی کمیونی کیشن ماہرین کے مطابق عالمی بین الاقوامی بینڈوتھ کا بہت محدود حصہ اس راستے سے گزرتا ہے۔ 

خطرہ زیادہ تر خلیجی ممالک اور ایسے اداروں کے لئے ہے جن کے ڈیٹا کا اہم حصہ انہی روابط پر منتقل ہوتا ہے۔

⚠️ ایران کس چیز کو نشانہ بنانے کی بات کر رہا ہے؟

زیرِ سمندر کیبلز: فائبر آپٹک لائنیں جو خلیجی ممالک کو علاقائی اور بین الاقوامی ڈیٹا نیٹ ورکس سے ملاتی ہیں۔

آبنائے ہرمز: ایرانی عہدیدار کی جانب سے اس گزرگاہ کے نیچے موجود سات اہم کیبلز کے بارے میں انتباہ دیا گیا تھا۔

مشروط دھمکی: نشانہ بنانے کی بات امریکا یا اسرائیل کے نئے حملوں کی صورت میں جوابی کارروائی کے تناظر میں کی گئی۔

وضاحت: یہ اعلانات اور ذرائع کے دعوے ہیں؛ کسی کارروائی کے وقت یا طریقے کی مصدقہ اطلاع نہیں۔

سعودی عرب اور خلیجی ممالک پر ممکنہ اثرات

سعودی عرب، بحرین، قطر، کویت، متحدہ عرب امارات اور عمان میں ڈیجیٹل معیشت تیزی سے پھیل رہی ہے۔ 

آن لائن بینکنگ، الیکٹرانک ادائیگیوں، ای کامرس اور سرکاری ایپلی کیشنز کے لئے مستحکم رابطے ضروری ہیں۔

اگر کئی کیبلز بیک وقت متاثر ہوئیں تو بعض خدمات سست پڑ سکتی ہیں، ڈیٹا کی ترسیل میں تاخیر ہو سکتی ہے اور کمپنیوں کو متبادل راستوں پر انحصار بڑھانا پڑ سکتا ہے۔ 

اثرات کی شدت اس بات پر منحصر ہوگی کہ نیٹ ورکس کے پاس اضافی گنجائش کتنی ہے اور ٹریفک کتنی تیزی سے دوسرے راستوں پر منتقل کی جا سکتی ہے۔

🌐 دنیا کا انٹرنیٹ سمندر کے نیچے کیسے چلتا ہے؟

فائبر آپٹک نیٹ ورک: دنیا کی بین الاقوامی ڈیٹا ترسیل کا بہت بڑا حصہ سمندر کی تہہ میں بچھائی گئی کیبلز پر انحصار کرتا ہے۔

کن خدمات کے لئے؟ ویڈیو کالز، بینکوں کے رابطے، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، آن لائن تجارت اور بہت سی سرکاری ڈیجیٹل خدمات۔

متبادل راستے: بین الاقوامی نیٹ ورکس بعض صورتوں میں ڈیٹا دوسری کیبلز یا راستوں پر منتقل کر سکتے ہیں۔

نتیجہ: کسی ایک مقام پر نقصان کا اثر پورے عالمی انٹرنیٹ کے بند ہونے کے برابر نہیں ہوتا۔

خلیجی ممالک میں بڑے ڈیٹا سینٹرز اور مصنوعی ذہانت کے منصوبوں کے باعث مواصلاتی نظام کا تحفظ مزید اہم ہو گیا ہے۔ 

تاہم اس وقت کسی نئی کیبل پر حملے یا اس وجہ سے سعودی عرب میں خدمات بند ہونے کی مصدقہ اطلاع نہیں۔

مرمت میں تاخیر کیوں ہو سکتی ہے؟

زیرِ سمندر کیبل کی مرمت کے لئے خصوصی جہاز، تربیت یافتہ عملہ، سمندری راستوں تک محفوظ رسائی اور بعض اوقات مختلف ملکوں کی اجازت درکار ہوتی ہے۔ جنگ کے دوران جہازوں کی آمدورفت، انشورنس اور سلامتی سے متعلق مسائل مرمت کو مشکل بنا سکتے ہیں۔

🇸🇦 سعودی عرب اور خلیجی ممالک پر کیا اثر ہوگا؟

ممکنہ طور پر متاثر علاقے: سعودی عرب، بحرین، قطر، کویت، متحدہ عرب امارات اور عمان کے بعض بین الاقوامی روابط دباؤ میں آ سکتے ہیں۔

ممکنہ اثرات: ویب سائٹس سست کھلنا، کچھ بین الاقوامی خدمات میں تاخیر اور کاروباری ڈیٹا کے تبادلے میں رکاوٹ۔

اصل انحصار: متاثرہ کیبل کی اہمیت، متبادل راستوں کی دستیابی اور سروس فراہم کرنے والوں کی اضافی صلاحیت پر ہوگا۔

اہم بات: فی الحال سعودی عرب میں اس منصوبے کی وجہ سے کسی انٹرنیٹ بندش کی تصدیق نہیں۔

اسی لئے ماہرین صرف کیبل کٹنے کے ابتدائی نقصان سے نہیں بلکہ ممکنہ طویل تعطل سے بھی خبردار کر رہے ہیں۔ 

اگر مرمت کرنے والے جہاز متاثرہ مقام تک نہ پہنچ سکیں تو بعض رابطوں پر دباؤ برقرار رہ سکتا ہے۔

خلیجی ممالک
کی بینکنگ،
ڈیجیٹل خدمات
اور عالمی رابطوں
میں خلل
پڑ سکتا ہے

بحیرۂ احمر سے متعلق خدشات

بحیرۂ احمر یورپ، ایشیا اور افریقہ کو ملانے والی متعدد مواصلاتی کیبلز کا راستہ ہے۔
وہاں بڑے پیمانے پر نقصان کے بین الاقوامی اثرات آبنائے ہرمز کے مقابلے میں وسیع ہو سکتے ہیں۔
مگر ایران کی جانب سے بحیرۂ احمر میں کیبلز کو نشانہ بنانے کے کسی مخصوص عوامی منصوبے کی تصدیق نہیں ہوئی۔
اس لئے اس خطرے کو موجودہ ایرانی منصوبوں سے الگ سمجھنا ضروری ہے۔
تجزیہ کاروں کے نزدیک ایران کی دھمکیوں کا مقصد ممکنہ جنگ کی معاشی قیمت نمایاں کرنا بھی ہے۔
اگر خلیجی معیشتوں، بین الاقوامی کمپنیوں اور ڈیجیٹل خدمات کو نقصان کا اندیشہ بڑھے تو علاقائی حکومتیں کشیدگی کم کرنے کی سفارتی کوششوں میں مزید سرگرم ہو سکتی ہیں۔
یہ تجزیہ ہے، کسی ایرانی حکمت عملی کا ثابت شدہ مقصد نہیں۔

آگے کیا ہوگا؟

ابھی اس خبر کا بنیادی نکتہ منصوبوں سے متعلق ایرانی حکام کا دعویٰ ہے، نہ کہ کوئی ثابت شدہ حملہ۔ 

صورتحال کا انحصار امریکا، اسرائیل اور ایران کے اگلے اقدامات اور علاقائی سفارت کاری پر ہوگا۔

🏦 بینکنگ اور آن لائن کاروبار کو کیا خطرہ؟

بینکنگ: بین الاقوامی ادائیگیوں اور اداروں کے باہمی رابطوں کی رفتار پر دباؤ پڑ سکتا ہے؛ تمام بینکنگ نظام کے بند ہونے کی پیش گوئی نہیں کی جا سکتی۔

ای کامرس: سرحد پار ادائیگیاں، کلاؤڈ ہوسٹنگ اور آن لائن پلیٹ فارم بعض راستوں میں تاخیر محسوس کر سکتے ہیں۔

ڈیٹا سینٹرز: علاقائی ڈیٹا مراکز کے لئے مضبوط اور متعدد بین الاقوامی کنکشن ضروری ہیں۔

احتیاط: یہ ممکنہ نتائج ہیں، کسی موجودہ خرابی کا اعلان نہیں۔

 خلیجی ملکوں کے لئے اس بحث کا اہم سبق یہ ہے کہ جدید قومی سلامتی میں بندرگاہوں، تیل کی تنصیبات اور فضائی دفاع کے ساتھ انٹرنیٹ کے متبادل راستوں اور ڈیٹا مراکز کا تحفظ بھی ضروری ہو چکا ہے۔

🔗 اصل ذرائع اور مزید مطالعہ

Reuters — 23 October 2026
دو ایرانی سکیورٹی حکام سے منسوب زیرِ سمندر کیبلز کے ممکنہ حملوں کے منصوبوں سے متعلق خبر۔
اصل رپورٹ کھولیں

Al Jazeera — 13 October 2026
خلیجی ڈیٹا سینٹرز، مواصلاتی رابطوں اور متعلقہ خطرات کا پس منظر۔
اصل رپورٹ کھولیں