ایرانی سکیورٹی حکام نے خلیج میں زیرِ سمندر انٹرنیٹ کیبلز کو ممکنہ جوابی حملوں میں نشانہ بنانے کے منصوبوں کا دعویٰ کیا ہے۔
اس سے سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کی بینکنگ، مواصلات اور ڈیجیٹل معیشت متاثر ہونے کا خدشہ ہے، تاہم کسی حملے کی تصدیق نہیں ہوئی۔
بحیرۂ احمر یورپ، ایشیا اور افریقہ کو ملانے والی متعدد مواصلاتی کیبلز کا راستہ ہے۔
وہاں بڑے پیمانے پر نقصان کے بین الاقوامی اثرات آبنائے ہرمز کے مقابلے میں وسیع ہو سکتے ہیں۔
مگر ایران کی جانب سے بحیرۂ احمر میں کیبلز کو نشانہ بنانے کے کسی مخصوص عوامی منصوبے کی تصدیق نہیں ہوئی۔
اس لئے اس خطرے کو موجودہ ایرانی منصوبوں سے الگ سمجھنا ضروری ہے۔
تجزیہ کاروں کے نزدیک ایران کی دھمکیوں کا مقصد ممکنہ جنگ کی معاشی قیمت نمایاں کرنا بھی ہے۔
اگر خلیجی معیشتوں، بین الاقوامی کمپنیوں اور ڈیجیٹل خدمات کو نقصان کا اندیشہ بڑھے تو علاقائی حکومتیں کشیدگی کم کرنے کی سفارتی کوششوں میں مزید سرگرم ہو سکتی ہیں۔
یہ تجزیہ ہے، کسی ایرانی حکمت عملی کا ثابت شدہ مقصد نہیں۔