ہونڈا پروجیکٹ
⚡ چلتی گاڑی کی چارجنگ: 5 حیران کن حقائق
+
🚗 سڑک بنے گی چارجنگ اسٹیشن
جاپانی کمپنی ہونڈا نے تعمیراتی اداروں تائیسی اور تائیسی روٹیک کے ساتھ مل کر ایسی ٹیکنالوجی تیار کی ہے جو موٹروے پر سفر کرتی ہوئی الیکٹرک گاڑی کو وائرلیس طریقے سے مسلسل بجلی فراہم کر سکتی ہے۔
🔋 وائرلیس کوائلز کا نظام
سڑک کی سطح کے نیچے خصوصی کوائلز نصب ہوں گی جو مقناطیسی میدان بنائیں گی، اور گاڑی کے نچلے حصے میں لگا یونٹ اس توانائی کو بجلی میں تبدیل کرکے بیٹری تک پہنچائے گا۔
⚡ 150 کلوواٹ تک بجلی کی منتقلی
ہونڈا کا ہدف اس نظام کے ذریعے طاقتور فاسٹ چارجرز کے مساوی 150 کلوواٹ تک بجلی منتقل کرنا ہے، جس سے بڑی گاڑیوں اور ٹرکوں کا سفر زیادہ مؤثر ہو جائے گا۔
🏗️ تجارتی گاڑیوں پر ابتدائی توجہ
اس ٹیکنالوجی میں ابتدائی توجہ طویل سفر کرنے والے ٹرکوں اور بڑی تجارتی گاڑیوں پر ہے تاکہ انہیں بار بار چارجنگ کے لیے رکنا نہ پڑے اور ترسیل کا وقت بچ سکے۔
📅 2027ء میں جاپان میں آزمائش
بنیادی تحقیق کے بعد 2026ء کے آخر میں ٹیس트 ٹریک اور پھر جاپان کی تاتسیاما ایکسپریس وے پر 300 میٹر طویل حصے میں عملی آزمائشوں کا باقاعدہ منصوبہ ہے۔
تصور کریں کہ آپ اپنی الیکٹرک گاڑی میں موٹروے پر سفر کر رہے ہیں، بیٹری بھی چارج ہو رہی ہے اور کسی چارجنگ اسٹیشن پر رکنے کی ضرورت بھی نہیں۔
مزید پڑھیں
جاپانی کمپنی ہونڈا الیکٹرک گاڑیوں کے لیے اسی جدید تصور کو ایک انقلابی حقیقت میں بدلنے کی کوشش کر رہی ہے۔
اس کی نئی ٹیکنالوجی کامیاب ہوئی تو الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال کا انداز بدل سکتا ہے۔
سڑک بنے گی چارجنگ اسٹیشن
ہونڈا نے جاپان کی تعمیراتی کمپنیوں تائیسی اور تائیسی روٹیک کے
ساتھ مل کر ٹیکنالوجی تیار کی ہے جو چلتی ہوئی الیکٹرک گاڑی کو وائرلیس طریقے سے بجلی فراہم کر سکتی ہے۔
کمپنی کے مطابق اس نظام کی بنیادی ٹیکنالوجی تیار ہو چکی ہے اور جاپان میں 2027ء سے عملی آزمائشوں کا منصوبہ ہے۔
ہونڈا 2021ء سے اس شعبے میں تحقیق کر رہی ہے، جبکہ مشترکہ منصوبے پر کام 2025ء میں شروع ہوا۔
الیکٹرک گاڑیوں میں انقلاب: سڑکیں اب چارجر کا کام کریں گی
ہونڈا کی نئی وائرلیس ٹیکنالوجی کے ذریعے سفر کے دوران الیکٹرک گاڑیوں کو بجلی فراہم کرنے کا منصوبہ۔
جاپان میں 2027 سے شروع ہونے والی آزمائشوں میں سڑکوں کے اندر نصب کوائلز کے ذریعے چلتی ہوئی گاڑیوں کو وائرلیس بجلی فراہم کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
⚡ وائرلیس چارجنگ ہدف
150ہونڈا کا ہدف ہے کہ اس نظام کے ذریعے ایک یونٹ سے 150 کلوواٹ تک بجلی منتقل کی جائے جو فاسٹ چارجرز کے مساوی ہے۔
📅 جاپان میں عملی آزمائش
2027بنیادی ٹیکنالوجی تیار ہونے کے بعد 2027 میں جاپان کی ایکسپریس وے پر ٹرکوں اور تجارتی گاڑیوں کے ساتھ عملی آزمائشوں کا منصوبہ ہے۔
🛣️ فرانس میں کامیاب تجربہ
1.5اسرائیلی کمپنی الیکٹریون نے فرانس میں پیرس کے قریب 1.5 کلومیٹر طویل موٹروے پر وائرلیس چارجنگ کی کامیاب آزمائش کی ہے۔
💰 بنیادی چیلنج اور لاگت
ہر سڑک کے نیچے چارجنگ یونٹس نصب کرنا انتہائی مہنگا اور پیچیدہ کام ہے، جس کی مرمت اور حفاظت سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔
اوورسیز پوسٹ انٹرایکٹیو انفوگرافک سسٹم
بجلی سڑک سے گاڑی تک کیسے پہنچے گی؟
اس نظام میں بجلی منتقل کرنے والی خصوصی کوائلز سڑک کی سطح کے نیچے نصب ہوں گی، جبکہ گاڑی کے نچلے حصے میں بجلی وصول کرنے والا یونٹ لگایا جائے گا۔
سڑک میں موجود کوائل مقناطیسی میدان پیدا کرے گی اور گاڑی کا یونٹ اس توانائی کو بجلی میں تبدیل کرکے بیٹری تک پہنچائے گا۔
یہ اصول اسمارٹ فون کی وائرلیس چارجنگ سے ملتا جلتا ہے، فرق صرف یہ ہے کہ یہاں گاڑی حرکت میں ہوگی اور نظام بھاری گاڑیوں کو بھی بجلی فراہم کرنے کے لیے بنایا جا رہا ہے۔
پاکستان
🚗 کیا پاکستان کی موٹرویز بھی چارجنگ اسٹیشن بن سکتی ہیں؟
▼
💰 بھاری سرمایہ کاری اور مالیاتی چیلنجز
پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں جہاں بنیادی ڈھانچے کے منصوبے محدود وسائل کے مرہونِ منت ہیں، سڑکوں کے نیچے وائرلیس چارجنگ یونٹس نصب کرنا انتہائی مہنگا اور طویل مدتی سرمایہ کاری کا متقاضی ہے۔
🛣️ مستقبل کی شاہراہوں اور ٹرانسپورٹ کا رخ
اگرچہ فی الحال یہ ٹیکنالوجی ترقی یافتہ ممالک کے آزمائشی مرحلے میں ہے، مگر طویل عرصے میں یہ نظام پاکستان کی تجارتی موٹرویز اور مال بردار ٹرکوں کے سفر کو انقلابی انداز میں بدل سکتا ہے۔
150 کلوواٹ تک چارجنگ کا ہدف
ہونڈا کا ہدف ہے کہ اس نظام کے ذریعے ایک یونٹ سے 150 کلوواٹ تک بجلی منتقل کی جا سکے۔
یہ طاقتور فاسٹ چارجروں کی صلاحیت کے برابر ہوسکتی ہے، تاہم چلتی گاڑی کو حقیقتاً کتنی توانائی ملے گی، اس کا انحصار رفتار، سڑک میں نصب یونٹس کی ترتیب اور نظام کی کارکردگی پر ہوگا۔
Another Sign That Gasmobiles Are Toast: Honda Adds Muscle To The Wireless EV Charging Movement. https://t.co/KfeQZFVd0g
— Earth Accounting (@EarthAccounting) October 17, 2026
اس منصوبے میں ابتدائی توجہ ٹرکوں اور بڑی تجارتی گاڑیوں پر ہے۔ اگر انہیں سفر کے دوران بجلی ملتی رہے تو چارجنگ کے لیے رکنے کا وقت کم اور سامان کی ترسیل زیادہ مؤثر ہو سکتی ہے۔
🔋 چھوٹی بیٹری، زیادہ سفر؟ مستقبل کی گاڑیوں میں کیا بدلے گا
❮
⚖️ گاڑیوں کے وزن میں کمی
اگر سڑکوں سے ہی بجلی ملتی رہے تو الیکٹرک گاڑیوں کو ہزاروں کلوگرام وزنی بھاری بیٹریوں کی ضرورت نہیں رہے گی، جس سے گاڑیوں کا مجموعی وزن نمایاں طور پر کم ہو جائے گا۔
⏳ چارجنگ کے لیے رکنے کی زحمت ختم
ڈرائیوروں کو طویل سفر کے دوران چارجنگ اسٹیشنز پر گھنٹوں انتظار کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی کیونکہ سفر کے دوران ہی بیٹری مسلسل چارج ہوتی رہے گی۔
📉 پیداواری لاگت اور قیمت میں کمی
بڑی اور مہنگی بیٹریوں پر انحصار کم ہونے سے الیکٹرک گاڑیوں کی مجموعی پیداواری لاگت گھٹ سکتی ہے، جو مستقبل میں خریداروں کے لیے زیادہ سستی سواری کا باعث بن سکتی ہے۔
جاپان میں کب ہوگی آزمائش؟
2026ء کے آخر میں ایک مخصوص آزمائشی ٹریک تعمیر کرنے کا منصوبہ ہے۔
وہاں سڑک کے نیچے نصب آلات کی مضبوطی، چارجنگ کی کارکردگی اور برقی مقناطیسی میدان کے محفوظ انتظام کو جانچا جائے گا۔
ایک ٹیسٹ میں 10 لاکھ پہیوں کے بوجھ کے برابر دباؤ برداشت کرنے کی صلاحیت بھی پرکھی جائے گی۔
اس کے بعد جاپان کی تاتسیاما ایکسپریس وے پر تقریباً 300 میٹر طویل حصے میں آزمائش کا منصوبہ ہے، جس میں تیز رفتار اور بوجھ سے لدے ٹرکوں کو بھی شامل کیا جائے گا۔
🌍 جاپان سے فرانس تک: سڑکوں پر چارجنگ کی عالمی دوڑ
❖
🇯🇵 جاپان میں ہونڈا کا منصوبہ
جاپانی کمپنی ہونڈا 2021ء سے اس شعبے میں تحقیق کر رہی ہے اور 2027ء تک جاپانی شاہراہوں پر اس نظام کی عملی آزمائشوں کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ تجارتی گاڑیوں کو بجلی فراہم کی جا سکے۔
🇫🇷 فرانس میں الیکٹریون کی آزمائش
اس میدان میں صرف جاپان نہیں بلکہ اسرائیلی کمپنی الیکٹریون نے بھی فرانس میں پیرس کے قریب موٹروے پر 1.5 کلومیٹر طویل حصے پر وائرلیس چارجنگ کی کامیاب عملی آزمائش کی ہے۔
کیا یہ ٹیکنالوجی پہلے بھی آزمائی گئی ہے؟
ہونڈا اس میدان میں اکیلی نہیں ہے۔ اسرائیلی کمپنی الیکٹریون نے فرانس میں پیرس کے قریب ایک موٹروے پر 1.5 کلومیٹر طویل حصے میں دورانِ سفر وائرلیس چارجنگ کی آزمائش کی ہے۔
What if your EV could charge while you're driving? 🚗⚡ @Honda is developing roads that wirelessly transfer up to 150 kW of power to moving vehicles. Public-road testing in Japan is planned for 2027. #ElectricVehicles #Innovation https://t.co/xyTpiWaQqK
— Tomorrow's World Today (@twtexplore) October 20, 2026
منصوبے کے منتظمین کے مطابق موزوں حالات میں فوری توانائی کی منتقلی 300 کلوواٹ سے زیادہ اور اوسط طاقت 200 کلوواٹ سے زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
🔭 2027ء
🔮 2027ء کا بڑا امتحان: کیا چارجنگ اسٹیشن ماضی بن جائیں گے؟
❖
📊 لاگت اور بنیادی ڈھانچے کا اصل چیلنج
ہر سڑک کے نیچے چارجنگ یونٹس نصب کرنا انتہائی مہنگا اور پیچیدہ کام ہے۔ اس ٹیکنالوجی کا مستقبل اس بات پر منحصر ہے کہ 2027ء کی آزمائشیں کتنی معاشی اور قابلِ عمل ثابت ہوتی ہیں۔
✅ چارجنگ اسٹیشنوں پر انحصار میں کمی
اگر سڑکیں ہی مؤثر چارجنگ اسٹیشن بن گئیں تو طویل سفر کے دوران روایتی چارجنگ اسٹیشنوں پر رکنے کا تصور آہستہ آہستہ کم ہو سکتا ہے اور الیکٹرک گاڑیوں کا استعمال انتہائی آسان ہو جائے گا۔
⚠️ محدود پیمانے پر نفاذ اور متبادل حل
مرمت، حفاظت اور انتہائی زیادہ تعمیراتی لاگت کے باعث فی الحال اسے عام صارفین کے لیے دستیاب ٹیکنالوجی ماننا قبل از وقت ہے، اور یہ محدود طور پر صرف بڑی تجارتی شاہراہوں تک محدود رہ سکتی ہے۔
سب سے بڑی رکاوٹ کیا ہے؟
اس ٹیکنالوجی کا سب سے بڑا مسئلہ لاگت اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر ہے۔
ہر سڑک کے نیچے چارجنگ یونٹس نصب کرنا مہنگا اور پیچیدہ کام ہوگا۔ اس کے علاوہ مرمت، حفاظت اور مختلف کمپنیوں کی گاڑیوں کے ساتھ مطابقت بھی اہم چیلنجز ہیں۔
اگر نظام کامیاب اور معاشی طور پر قابلِ عمل ثابت ہوا تو مستقبل میں الیکٹرک گاڑیوں کی بڑی بیٹریوں پر انحصار کم ہو سکتا ہے۔ لیکن فی الحال اسے عام صارفین کے لیے دستیاب ٹیکنالوجی سمجھنا قبل از وقت ہوگا۔
اصل امتحان 2027ء کی آزمائشیں ہوں گی، جو بتائیں گی کہ آیا واقعی سڑکیں مستقبل کے چارجنگ اسٹیشن بن سکتی ہیں یا نہیں۔