براہ راست نشریات

سعودی عرب: بنگلہ دیشیوں کی سزائے موت اور وائرل کہانی کا سچ؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
سعودی عرب میں سزائے موت کے احکامات اور سرکاری عدالتی کارروائی کا علامتی خاکہ
دونوں کو مکہ مکرمہ کی ایک مسجد میں غیر اخلاقی فعل کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا
1′ — ایک منٹ میں پوری کہانی

14 اکتوبر 2026: سعودی وزارتِ داخلہ کے مطابق مکہ مکرمہ ریجن میں دو بنگلہ دیشی شہریوں کی سزائے موت پر عمل درآمد کیا گیا۔

مرد اور خاتون پر مکہ مکرمہ کی ایک مسجد میں مبینہ غیر اخلاقی فعل کا الزام تھا۔ سعودی حکام کے مطابق عدالت نے انہیں مجرم قرار دیا اور تعزیری سزائے موت سنائی۔

اہم فرق: واقعے اور سزا کی تصدیق موجود ہے، لیکن دونوں کے میاں بیوی ہونے یا محض بوسہ دینے پر سزا پانے کا دعویٰ ثابت نہیں۔

سعودی عرب میں ایک مرد اور خاتون کو سزائے موت دیے جانے کی خبر نے سوشل میڈیا پر ہلچل مچا رکھی ہے اور اس دوران صارفین نے کئی طرح کے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

مزید پڑھیں

کہیں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ دونوں میاں بیوی تھے اور مسجد میں ایک دوسرے کو بوسہ دینے پر انہیں یہ سزا ملی، تو کہیں اس واقعے سے منسوب ایک ویڈیو بھی شیئر کی جا رہی ہے۔

لیکن جب اس معاملے کی تفصیلات سامنے آئیں تو جہاں سوشل میڈیا پر وائرل کہانیاں دم توڑ گئیں، وہیں گردش کرنے والی کہانیوں  کی کھلی تردید بھی ہوگئی۔

سعودی حکومت نے کیا بتایا؟

سعودی وزارتِ داخلہ نے تصدیق کی ہے کہ 14 اکتوبر 2026 کو مکہ مکرمہ ریجن میں دو بنگلہ دیشی شہریوں کی سزائے موت پر عمل درآمد کیا گیا ہے۔

سرکاری بیان میں ان کی شناخت نذر الاسلام عبدالبصیر اور سیتی اختر کے ناموں سے کی گئی، جبکہ بنگلہ دیشی میڈیا نے ان کے نام نذرالاسلام اور سویٹی اختر بھی لکھے ہیں۔

🏛️ سعودی حکومت کے اصل بیان میں کیا ہے؟

نام: نذر الاسلام عبدالبصیر اور سیتی اختر، دونوں بنگلہ دیشی شہری۔

وزارتِ داخلہ کے مطابق تحقیقات اور مقدمے کے بعد عدالت نے سزائے موت سنائی، متعلقہ عدالتی اتھارٹی نے فیصلہ برقرار رکھا اور شاہی حکم کے بعد سزا پر عمل درآمد ہوا۔

بیان کی حدود: مبینہ فعل کی نوعیت، مسجد کا نام اور گرفتاری کی تاریخ واضح نہیں کی گئی۔

سعودی حکام کے مطابق دونوں کو مکہ مکرمہ کی ایک مسجد میں غیر اخلاقی فعل کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔

تحقیقات مکمل ہونے کے بعد مقدمہ عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں الزامات ثابت ہونے پر انہیں تعزیری سزائے موت سنائی گئی۔

وزارتِ داخلہ کا کہنا تھا کہ متعلقہ اعلیٰ عدالتی اتھارٹی کی توثیق اور شاہی حکم جاری ہونے کے بعد سزا پر عمل درآمد کیا گیا۔ حکومت نے اس موقع پر مساجد کی حرمت، قانون کی بالادستی اور اسلامی احکام کے نفاذ کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔

تاہم سرکاری بیان میں نہ تو مسجد کا نام بتایا گیا اور نہ ہی مبینہ فعل کی مکمل تفصیلات یا مقدمے میں پیش کیے گئے شواہد سامنے لائے گئے ہیں۔

⚖️ تعزیری سزائے موت کا کیا مطلب ہے؟

تعزیر اسلامی فقہ میں ایسے جرم کی سزا کا تصور ہے جس کے لیے ہر صورت ایک مخصوص حد مقرر نہیں ہوتی؛ سزا کا تعین متعلقہ عدالتی اور قانونی نظام میں کیا جاتا ہے۔

سعودی وزارتِ داخلہ کے مطابق اس مقدمے میں جرم کی سنگینی اور عبادت گاہ و وقت کی حرمت کا حوالہ دیا گیا۔

مکمل عدالتی فیصلہ سامنے نہ ہونے کی وجہ سے یہ بتانا ممکن نہیں کہ عدالت کے سامنے کون سے مخصوص شواہد تھے۔

کیا دونوں میاں بیوی تھے؟

اس واقعے کے حوالے سے سب سے زیادہ زیرِ بحث دعویٰ یہ ہے کہ سزا پانے والے مرد اور خاتون آپس میں میاں بیوی تھے، لیکن بنگلہ دیشی ذرائع ابلاغ میں سامنے آنے والی معلومات اس دعوے کی تائید نہیں کرتیں۔

بنگلہ دیشی نیوز ویب سائٹ جاگو نیوز نے 19 اکتوبر کو نذرالاسلام کے والد عبدالبصیر کا بیان شائع کیا۔ انہوں نے بتایا کہ سویٹی اختر ان کے بیٹے کی اہلیہ نہیں تھیں اور ان کا خاندان اس خاتون کو جانتا بھی نہیں تھا۔

والد نے بتایا کہ نذرالاسلام نومبر 2022 میں خاندان کی معاشی مشکلات دور کرنے کے لیے سعودی عرب گیا تھا۔ وہاں تقریباً 6 ماہ کام کرنے کے بعد اسے گرفتار کر لیا گیا اور وہ 3 سال سے زیادہ عرصہ زیرِ حراست رہا۔

خاندان کا کہنا ہے کہ اسے گرفتاری اور مقدمے کی وجوہات کے بارے میں مکمل معلومات نہیں مل سکیں۔

👥 کیا دونوں میاں بیوی تھے؟

سوشل میڈیا پر انہیں بنگلہ دیشی جوڑا قرار دیا جا رہا ہے، لیکن یہ رشتہ ثابت نہیں ہوا۔

19 اکتوبر: بنگلہ دیشی اخبار جاگو نیوز کے مطابق نذر الاسلام کے والد نے کہا کہ سویٹی اختر ان کے بیٹے کی اہلیہ نہیں تھیں اور خاندان اس خاتون کو نہیں جانتا تھا۔

اس لیے خبر میں انہیں بغیر ثبوت میاں بیوی لکھنے سے گریز ضروری ہے۔

دوسری جانب اخبار دی ڈیلی اسٹار نے سویٹی اختر کے خاندان کے حوالے سے بتایا کہ وہ روزگار کے لیے سعودی عرب گئی تھیں۔ ان کے والد کے مطابق گرفتاری کے بعد بھی ان کا گھر والوں سے ٹیلی فون پر رابطہ رہا۔

اس طرح دستیاب معلومات کی بنیاد پر دونوں کے میاں بیوی ہونے یا عمرہ ادا کرنے کے لیے سعودی عرب آنے کے دعووں کی تصدیق نہیں ہوتی۔

کیا صرف بوسہ دینے پر سزا ہوئی؟

سوشل میڈیا پر بعض پوسٹوں میں دعویٰ کیا گیا کہ مرد نے خاتون کی پیشانی پر بوسہ دیا تھا اور اسی وجہ سے دونوں کو سزائے موت دی گئی، تاہم سعودی وزارتِ داخلہ کے اعلان میں بوسہ دینے کا کوئی ذکر موجود نہیں۔

سرکاری بیان میں صرف مسجد کے اندر غیر اخلاقی فعل کا حوالہ دیا گیا ہے۔ اس کی نوعیت، حالات اور مقدمے میں پیش کیے گئے شواہد کی تفصیل عام نہیں کی گئی۔

❓ کیا صرف بوسہ دینے پر سزا ملی؟

بعض پوسٹوں میں پیشانی پر بوسہ دینے، بعض میں پیٹ چومنے اور بعض میں عمرہ کے سفر کی مختلف کہانیاں بیان کی گئیں۔

حقیقت: سرکاری بیان میں ان تفصیلات میں سے کسی کی تصدیق نہیں کی گئی۔

اسی طرح بیان میں مسجد الحرام نہیں بلکہ مکہ مکرمہ کی ایک مسجد کا ذکر ہے۔ مسجد الحرام قرار دینا بھی بغیر ثبوت ہوگا۔

اسی طرح بعض سوشل میڈیا پوسٹوں میں جائے وقوع کو مسجد الحرام قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ سرکاری اعلان میں صرف مکہ مکرمہ کی ایک مسجد کا ذکر ہے۔

اس لیے نہ یہ ثابت ہے کہ دونوں کو محض بوسہ دینے پر سزائے موت دی گئی اور نہ ہی یہ تصدیق ہوئی ہے کہ واقعہ مسجد الحرام میں پیش آیا تھا۔

بنگلہ دیشی حکومت نے سعودی عرب سے کیا مانگا؟

واقعے کی تفصیلات سامنے لانے کے لیے بنگلہ دیشی حکومت نے سعودی حکام سے رابطہ کیا ہے۔

بنگلہ دیشی وزیرِ مملکت برائے خارجہ شمع عبید اسلام نے 19 اکتوبر کو بتایا کہ ڈھاکہ نے سعودی عدالت کے فیصلے کی نقل طلب کی ہے تاکہ مقدمے اور سزا کی قانونی بنیادوں کا جائزہ لیا جا سکے۔

🇧🇩 بنگلہ دیش نے کیا کارروائی کی؟

بنگلہ دیشی حکام کے مطابق انہیں دونوں شہریوں کی سزائے موت پر عمل درآمد سے قبل باضابطہ اطلاع نہیں دی گئی تھی۔

19 اکتوبر: بنگلہ دیش کی وزیرِ مملکت برائے خارجہ شمع عبید اسلام نے کہا کہ سعودی عدالت کے فیصلے کی نقل طلب کی گئی ہے۔

ان کے مطابق مکمل دستاویزات ملنے کے بعد معاملے کا جائزہ لے کر آئندہ اقدامات طے کئے جائیں گے۔

بنگلہ دیشی حکام کے مطابق انہیں سزا پر عمل درآمد سے پہلے اس بارے میں باضابطہ اطلاع نہیں ملی تھی۔

اخبار پرتھم آلو نے 20 اکتوبر کو رپورٹ کیا کہ جدہ میں بنگلہ دیشی قونصل جنرل نے سعودی وزارتِ خارجہ کے حکام سے ملاقات کے دوران عدالتی کارروائی، قانونی دفاع کے مواقع اور سزا سے متعلق پیشگی اطلاع نہ ملنے کا معاملہ اٹھایا۔

رپورٹ کے مطابق دونوں افراد کے نام قیدیوں کی ایک فہرست میں شامل تھے، لیکن اس میں ان کی سزائے موت کا ذکر نہیں تھا۔ 

فہرست میں مختلف نوعیت کے الزامات درج تھے، تاہم ان کا حتمی عدالتی فیصلے سے تعلق واضح نہیں تھا۔

بنگلہ دیشی حکومت کے مطابق مکمل عدالتی دستاویزات ملنے پر ہی وہ کوئی حتمی مؤقف اختیار کرے گی۔

🎥 وائرل ویڈیو کی حقیقت

سوشل میڈیا پر ایک پرانی، پُرتشدد ویڈیو کو ان دو بنگلہ دیشیوں کی سزا سے جوڑا گیا۔

انڈیا ٹوڈے کے فیکٹ چیک کے مطابق: یہ ویڈیو جنوری 2015 کے ایک الگ واقعے کی ہے، جس میں میانمار کی ایک خاتون دکھائی گئی تھی۔

لہٰذا اسے اکتوبر 2026 کی سزا کی فوٹیج کے طور پر شیئر کرنا گمراہ کن ہے۔

وائرل ویڈیو کا اس واقعے سے تعلق؟

اس معاملے کے ساتھ ایک ویڈیو بھی شیئر کی جا رہی ہے جسے بنگلہ دیشی شہریوں کی سزائے موت کی کارروائی قرار دیا جا رہا ہے۔

بھارتی نیوز ادارے انڈیا ٹوڈے کی فیکٹ چیک تحقیق کے مطابق یہ ویڈیو اکتوبر 2026 کی نہیں، بلکہ جنوری 2015 کے ایک الگ واقعے کی ہے، جس میں میانمار کی ایک خاتون کی سزا دکھائی گئی تھی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح سے پرانی ویڈیو کو حالیہ واقعے سے جوڑ کر پیش کرنا گمراہ کن ہے۔

حقیقت کیسے پتا چلے گی؟

اب تک دستیاب معلومات سے یہ تصدیق ہوتی ہے کہ سعودی عرب میں 14 اکتوبر کو دو بنگلہ دیشی شہریوں کی سزائے موت پر عمل درآمد کیا گیا اور سعودی وزارتِ داخلہ نے مقدمے کو مسجد میں غیر اخلاقی فعل سے متعلق قرار دیا۔

✅ کیا ثابت ہے، کیا ابھی معلوم نہیں؟

تصدیق شدہ: دو بنگلہ دیشی شہریوں کی سزا پر 14 اکتوبر کو عمل درآمد؛ سرکاری بیان میں مسجد سے متعلق جرم کا ذکر؛ بنگلہ دیش کا عدالتی فیصلے کی نقل مانگنا۔

غیر مصدقہ: دونوں کا نکاح، عمرہ کا سفر، محض بوسہ دینے پر سزا اور واقعے کا مسجد الحرام میں ہونا۔

ابھی اہم سوال: عدالت کے سامنے اصل الزامات اور شواہد کیا تھے؟ اس کے لیے مکمل عدالتی دستاویزات ضروری ہیں۔

لیکن دونوں کے میاں بیوی ہونے، محض بوسہ دینے پر سزا ملنے، مسجد الحرام میں واقعہ پیش آنے اور وائرل ویڈیو کا اسی مقدمے سے تعلق ہونے کے دعوے ثابت نہیں ہوئے۔

اس پورے معاملے کا سب سے اہم سوال یہ ہے کہ عدالت نے کن مخصوص الزامات اور شواہد کی بنیاد پر سزائے موت سنائی؟ اس کا مستند جواب مکمل عدالتی فیصلے اور قانونی دستاویزات سامنے آنے کے بعد ہی مل سکتا ہے۔

فی الحال بنگلہ دیشی حکومت بھی انہی تفصیلات کی منتظر ہے۔ 

اس لیے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی سنسنی خیز کہانیوں کو حتمی حقیقت سمجھنے کے بجائے سرکاری دستاویزات اور قابلِ اعتماد صحافتی تحقیقات کی روشنی میں اس معاملے کو دیکھنا زیادہ مناسب ہے۔

🔗 اصل ذرائع اور مزید مطالعہ

سعودی پریس ایجنسی (واس) — وزارتِ داخلہ کا اصل اعلان
14 اکتوبر 2026: سزائے موت پر عمل درآمد، نام اور سرکاری مؤقف۔
اصل رپورٹ کھولیں ↗

BSS — بنگلہ دیش کی سرکاری نیوز ایجنسی
19 اکتوبر 2026: ڈھاکہ نے سعودی عدالتی فیصلہ طلب کیا۔
اصل رپورٹ کھولیں ↗

Jago News — خاندان کا مؤقف
19 اکتوبر 2026: والد نے میاں بیوی ہونے کے دعوے کی تردید کی۔
اصل رپورٹ کھولیں ↗

The Daily Star — سعودی اعلان اور قونصل خانے کا مؤقف
16 اکتوبر 2026: سرکاری بیان اور پیشگی اطلاع کا مسئلہ۔
اصل رپورٹ کھولیں ↗

India Today Fact Check — وائرل ویڈیو
19 اکتوبر 2026: ویڈیو کو 2015 کا قرار دیا۔
اصل رپورٹ کھولیں ↗