📋 فیکٹ باکس: 7 اکتوبر سے اسرائیلی انتخابات تک +
اسرائیل میں 27 اکتوبر 2026ء کے انتخابات 7 اکتوبر 2023ء کے حملے اور غزہ میں 3 سالہ تباہ کن جنگ کے بعد پہلا عوامی امتحان بن چکے ہیں، جہاں نیتن یاہو کی حکومت سے دفاعی غفلت کا حساب مانگا جا رہا ہے۔
سابق فوجی سیکریٹری میجر جنرل آوی گیل کی دستاویزات کے مطابق نیتن یاہو کو حملے سے قبل فوج کی کمزوری سے آگاہ کیا گیا تھا، مگر انہوں نے سکیورٹی اداروں کا مشترکہ اجلاس طلب نہیں کیا۔
3 سالہ جنگی جارحیت میں غزہ کے 74 ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور لاکھوں بے گھر ہوئے، جبکہ تباہی کے اس دورانیے میں تل ابیب کے اندر بھی جنگ بندی اور یرغمالیوں پر سیاسی کشمکش جاری رہی۔
مخالف رہنما گادی آئزن کوٹ نے اقتدار میں آنے پر ناکامیوں کی آزاد تحقیقات کا وعدہ کیا ہے، جبکہ نیتن یاہو اسے ٹال کر حزب اللہ اور ایران کے خلاف کارروائیوں کو ڈھال بنا رہے ہیں۔
120 رکنی کنیسٹ میں حکومت سازی کے لیے 61 ارکان کی حمایت لازمی ہے، لیکن تازہ جائزے ظاہر کرتے ہیں کہ حکومتی اتحاد واضح اکثریت حاصل کرنے میں شدید مشکلات کا شکار ہے۔
اسرائیل میں 27 اکتوبر 2026ء کو ہونے والے انتخابات محض اقتدار کی جنگ نہیں، بلکہ 7 اکتوبر 2023ء کے حملے، سکیورٹی کی ناکامیوں اور غزہ میں طویل جنگ کے فیصلوں پر عوامی احتساب کا امتحان بھی بن چکے ہیں۔
مزید پڑھیں
قابض ریاست کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اپنی غاصبانہ پالیسی اور جنگی جنون کو کامیابی ظاہر کرکے سیاسی حمایت برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
دوسری جانب مخالفین پوچھ رہے ہیں کہ جس حملے نے اسرائیلی سکیورٹی کے دعووں کو ہلا کر رکھ دیا، اس کی ذمہ داری آخر کون قبول کرے گا؟
میڈیا رپورٹس کے مطابق حالیہ ہفتوں میں سامنے آنے والی شہادتوں، دستاویزات اور سکیورٹی حکام کے بیانات نے اسرائیل میں انتخابی مہم کا رخ بدل کر رکھ دیا ہے۔
اسرائیلی انتخابات: نیتن یاہو کا کڑا امتحان
حفاظتی ناکامی کے نئے انکشافات، جنگی دعوے اور اقتدار بچانے کے لیے سیاسی گھمسان
حکومتی اتحاد کی گراوٹ ⚠️
حکومت سازی کے لیے 61 نشستیں درکار ہیں جبکہ تازہ جائزے میں حکومتی بلاک شدید اکثریت کے بحران کا شکار ہے۔
غزہ میں نسل کشی کی قیمت 💔
اسرائیلی جارحیت کے دوران معصوم جانوں کا غیر معمولی نقصان ہوا، جس سے بین الاقوامی سطح پر شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔
دستاویزی انکشافات کا ثبوت 📒
سابق فوجی سیکریٹری کے نوٹس کے مطابق حملے سے قبل فوج کی کمزوری اور عدم تیاری سے وزیر اعظم کو باقاعدہ آگاہ کیا گیا تھا۔
آزاد تحقیقات کا مطالبہ ⚖️
حزب اختلاف نے اقتدار سنبھالتے ہی دفاعی ناکامی اور یرغمالیوں کی واپسی میں تاخیر کی تحقیقات کے لیے کمیشن کا اعلان کیا ہے۔
کنیسٹ نشستوں کا سروے تخمینہ (چینل 12) 📊
اوورسیز پوسٹ انٹرایکٹیو انفوگرافک سسٹم
اب بحث صرف حماس کے حملے کو روکنے میں ناکامی تک محدود نہیں رہی، بلکہ یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ جنگ کے بعد اسرائیل کی قیادت کس کے ہاتھ میں ہونی چاہیے۔
نیتن یاہو گھیرے میں
اسرائیلی میڈیا میں سامنے آنے والی دستاویزات کے مطابق حملے سے چند روز قبل سکیورٹی اجلاسوں میں حماس کے خلاف کارروائی اور ممکنہ خطرات پر بات ہوئی تھی۔
ان انکشافات نے نیتن یاہو کے اس مؤقف پر سوال اٹھائے کہ انہیں حملے سے پہلے متعلقہ نوعیت کی سفارشات موصول نہیں ہوئی تھیں۔ رپورٹ کے مطابق اس وقت ان کی توجہ کشیدگی کم رکھنے اور سعودی عرب کے ساتھ ممکنہ معاہدے پر بھی مرکوز تھی۔
⚠️
نیتن یاہو کے لیے خطرے کی گھنٹی کیوں بج رہی ہے؟
▼
اسرائیلی سکیورٹی اداروں اور فوج کے سابق ذمہ داران کی شہادتوں نے نیتن یاہو کے بیانیے کو کمزور کر دیا ہے۔ سکیورٹی اجلاسوں کے حقائق ظاہر کرتے ہیں کہ خطرات کی پیشگی اطلاعات کو ترجیح نہیں دی گئی تھی۔
سابق فوجی سیکریٹری کے اس الزام نے شدید عوامی غم و غصہ پیدا کیا ہے کہ سیاسی بقا کی خاطر یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے کو دانستہ مؤخر کیا گیا، جس سے متاثرہ خاندان کھلم کھلا سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔
نیتن یاہو غزہ میں کارروائیوں، حزب اللہ اور ایران کے خلاف حملوں کو کامیابی بنا کر پیش کر رہے ہیں، لیکن ووٹروں کی اکثریت 7 اکتوبر کی تباہی کا حساب مانگتے ہوئے بعد کی کارروائیوں کو غیر متعلقہ قرار دے رہی ہے۔
اس بحث کو اس وقت مزید تقویت ملی جب نیتن یاہو کے سابق فوجی سیکریٹری میجر جنرل آوی گیل نے بتایا کہ ان کے پاس 16 نوٹ بکس ہیں، جن میں اہم اجلاسوں کی تفصیلات درج ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم کو فوج کی تیاری میں کمی اور اسرائیل کی دفاعی بازدار قوت کمزور ہونے کے خدشات سے آگاہ کیا گیا تھا، لیکن انہوں نے فوج، شاباک اور موساد کے سربراہوں کو ایک مشترکہ اجلاس میں بلانے کے بجائے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔
یہ بیانات اس لیے اہم ہیں کہ اسرائیلی عوام کے سامنے اب یہ سوال زیادہ شدت سے موجود ہے کہ خطرات کے بارے میں اطلاعات ہونے کے باوجود اتنا بڑا حملہ کیسے نہ روکا جا سکا۔
کامیابیوں کے دعوے اور سیاسی جواب دہی
نیتن یاہو اب اپنی انتخابی مہم میں حماس، حزب اللہ اور ایران کے خلاف کارروائیوں اور یرغمالیوں کی واپسی کو اپنی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔
انتخابی اعداد و شمار کیا بتاتے ہیں؟
چینل 12 سروے
تازہ سروے کے مطابق حزب اختلاف کے رہنما گادی آئزن کوٹ کی جماعت 23 نشستوں کے ساتھ برتری حاصل کر سکتی ہے، جبکہ نیتن یاہو کی حکمران لیکوڈ پارٹی کے 20 نشستوں تک محدود رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
موجودہ حکومتی بلاک کو مجموعی طور پر صرف 49 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جو کہ 120 رکنی پارلیمنٹ میں حکومت سازی کے لیے درکار 61 نشستوں کی حد سے 12 نشستیں کم ہے، جس سے اقتدار کے خاتمے کے امکانات بڑھ رہے ہیں۔
دوسری طرف ان کے مخالفین کا کہنا ہے کہ بعد کی فوجی کارروائیاں اس بنیادی سوال کا جواب نہیں دیتیں کہ 7 اکتوبر کا حملہ روکا کیوں نہ جا سکا۔
یہ تنازع صرف حملے یا دفاعی ناکامی تک محدود نہیں، بلکہ سابق فوجی سیکریٹری آوی گیل نے یہ الزام بھی لگایا کہ سیاسی وجوہات کی بنا پر یرغمالیوں کی رہائی کا معاہدہ پہلے طے کرنے کی کوشش ہی نہیں کی گئی۔
نیتن یاہو کے دفتر نے جوابی مؤقف اختیار کرتے ہوئے گیل کی اپنی ذمہ داری پر سوال اٹھا دیے۔ اس طرح یرغمالیوں کی واپسی اور جنگ جاری رکھنے کے فیصلے بھی انتخابی احتساب کا حصہ بن گئے ہیں۔
غزہ کی تباہی اور اسرائیلی بحران
اسرائیل میں سیاسی بحث کے ساتھ ساتھ غزہ کی انسانی نسل کشی بھی اس جنگ کا بنیادی پہلو ہے۔
رپورٹس کے مطابق 7 اکتوبر 2023ء کے حملے میں تقریباً 1,200 افراد ہلاک اور 251 افراد یرغمال بنائے گئے تھے۔
🔭
آگے کیا ہوگا؟ اسرائیل کی سیاست اور غزہ کا مستقبل
◀
اگر اپوزیشن کامیاب ہوتی ہے تو گادی آئزن کوٹ کی قیادت میں ایک سرکاری انکوائری کمیشن قائم ہو سکتا ہے جو نیتن یاہو کے سیاسی مستقبل کا باضابطہ خاتمہ کر دے گا اور عسکری و انٹیلی جنس ڈھانچے میں بڑے پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑ کا باعث بنے گا۔
نئی حکومت کے قیام سے یرغمالیوں کی رہائی اور لڑائی روکنے کے معاہدے کے امکانات روشن ہو سکتے ہیں، اگرچہ تباہ حال غزہ کی تعمیر نو اور مستقل سیاسی تصفیہ بدستور پیچیدہ رہے گا۔
اگر نیتن یاہو مذہبی اور انتہا پسند جماعتوں کو متحد رکھنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو وہ کشیدگی برقرار رکھ کر تحقیقات سے بچنے اور اقتدار پر قبضہ قائم رکھنے کی کوشش کریں گے۔
اس کے بعد شروع ہونے والی اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں غزہ کے 74 ہزار سے زیادہ فلسطینیوں کی شہادت ہوئی، جبکہ 3 سال بعد بھی متاثرہ خاندان، بے گھر شہری اور جنگ کے نتائج سے دوچار لوگ اس تنازع کی بھاری قیمت ادا کر رہے ہیں۔
اسی طرح اسرائیل کے اندر بھی متاثرہ خاندان آزاد تحقیقاتی کمیشن کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
حزب اختلاف کے رہنما گادی آئزن کوٹ نے وعدہ کیا ہے کہ اقتدار میں آنے کی صورت میں ایسا کمیشن قائم کرنا ان کے ابتدائی فیصلوں میں شامل ہوگا۔
دوسری جانب نیتن یاہو اس کے بجائے اپنی حکومت کی جنگی کامیابیوں پر زور دیتے ہیں، جبکہ ان کے مخالفین کے نزدیک مکمل تحقیقات کے بغیر ذمہ داری کا تعین ممکن نہیں۔
نیتن یاہو کے لیے مشکل سوال
13 اکتوبر کو شائع ہونے والے چینل 12 کے سروے کے مطابق گادی آئزن کوٹ کی جماعت کو 23 اور نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی کو 20 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
اسی سروے میں نیتن یاہو کے حکومتی اتحاد کے لیے 49 نشستوں کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جبکہ حکومت بنانے کے لیے 120 رکنی کنیسٹ میں کم از کم 61 نشستیں درکار ہیں۔
یہ ابھی صرف ایک جائزہ ہے، انتخابی نتیجہ نہیں، تاہم اس سے حکومتی اتحاد کو درپیش سیاسی چیلنج کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
اصل گیم کیا ہے؟
27 اکتوبر کے انتخابات میں اسرائیلی ووٹروں کے سامنے بنیادی سوال یہ ہوگا کہ کیا جنگی کامیابیوں کے دعوے 7 اکتوبر کی سکیورٹی ناکامی، یرغمالیوں کے معاملے اور آزاد تحقیقات کے مطالبے پر غالب آ سکتے ہیں؟
نیتن یاہو اپنی قیادت کو جنگ کے بعد حاصل ہونے والے نتائج کے ذریعے پیش کر رہے ہیں، جبکہ مخالفین ان کی حکومت سے پہلے ہونے والی ناکامیوں کا حساب مانگ رہے ہیں۔
اس کشمکش کا نتیجہ صرف وزیر اعظم کے سیاسی مستقبل تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ یہ بھی واضح ہوگا کہ اسرائیلی سیاست میں سکیورٹی، جنگ اور حکومتی جواب دہی کے بارے میں عوامی سوچ کس سمت جا رہی ہے۔
تاہم غزہ کے لیے سب سے اہم سوال یہی ہے کہ اسرائیل میں اقتدار کی جنگ کے بعد کیا فلسطینیوں کی تباہ حال زندگیوں، بے گھر خاندانوں اور مستقل امن کے مسئلے کو بھی حقیقی ترجیح ملے گی؟