غزہ جنگ روکنے کے لیے ٹرمپ منصوبے کو تقریباً ایک سال گزر گیا، مگر مستقل امن اب بھی دور ہے۔
ابتدائی جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے بعد اصل اختلاف حماس کو غیر مسلح کرنے، اسرائیلی فوج کے انخلا اور جنگ کے بعد غزہ کی حکمرانی پر مرکوز ہے۔
دوسری جانب تباہ شدہ علاقے کی تعمیر نو کے لیے 71 ارب ڈالر سے زیادہ درکار ہیں۔
غزہ میں جنگ ختم کرنے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے پر عمل شروع ہوئے تقریباً ایک سال گزر چکا ہے۔
بڑے پیمانے کی جنگ پہلے جیسی نہیں رہی، یرغمالیوں اور فلسطینی قیدیوں کی رہائی ہوئی اور انسانی امداد کی رسائی میں بھی کچھ بہتری آئی، لیکن جس مستقل امن کی امید اس منصوبے سے وابستہ کی گئی تھی وہ اب بھی بہت دور دکھائی دیتا ہے۔
1′ — ایک منٹ میں پوری کہانی
1. اکتوبر 2025 کی جنگ بندی نے بڑے پیمانے کی لڑائی کم کی اور یرغمالیوں و فلسطینی قیدیوں کی رہائی ممکن ہوئی۔
2. ایک سال بعد بھی حماس کا اسلحہ، اسرائیلی فوج کا مکمل انخلا اور غزہ کی مستقبل کی حکمرانی حل طلب ہیں۔
3. رائٹرز کے مطابق اسرائیل اب بھی غزہ کے تقریباً دو تہائی حصے پر کنٹرول رکھتا ہے۔
4. اقوام متحدہ، ورلڈ بینک اور یورپی یونین کے جائزے کے مطابق تعمیر نو کے لیے 71.4 ارب ڈالر درکار ہوں گے۔
6 اکتوبر کو رائٹرز کی ایک تفصیلی رپورٹ کے مطابق منصوبے کے آسان سمجھے جانے والے ابتدائی مراحل پر تو کسی حد تک عمل ہوا، لیکن مشکل ترین سوالات—حماس کو غیر مسلح کرنا، اسرائیلی فوج کا غزہ سے انخلا، نئی فلسطینی انتظامیہ کا قیام اور تباہ شدہ علاقے کی تعمیر نو—تقریباً وہیں رک گئے جہاں کئی ماہ پہلے تھے۔
جنگ بندی ہوئی، امن نہیں آیا
امریکی منصوبے کا پہلا بڑا نتیجہ 10 اکتوبر 2025 کی جنگ بندی تھی۔ اس کے بعد یرغمالیوں اور فلسطینی قیدیوں کی رہائی کا عمل آگے بڑھا اور غزہ میں خوراک اور دیگر انسانی امداد کا بہاؤ پہلے کے مقابلے میں بڑھا۔
مزید پڑھیں
لیکن جنگ بندی کا مطلب مکمل طور پر فائرنگ کا خاتمہ نہیں نکلا۔
رائٹرز کے مطابق جنگ بندی کے بعد بھی غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیاں جاری رہی ہیں اور اس عرصے میں 1,400 سے زیادہ فلسطینی ہلاک ہوئے ہیں، جبکہ 4 اسرائیلی فوجی بھی مارے گئے۔
دونوں جانب سے ایک دوسرے پر جنگ بندی کی شرائط کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔
اسی لیے غزہ کی موجودہ صورتحال کو مکمل امن کے بجائے ایک ایسی نازک جنگ بندی کہا جاسکتا ہے جو بنیادی سیاسی مسائل حل نہ ہونے کے باعث مسلسل دباؤ میں ہے۔
📊 اہم اعداد — ایک سال بعد غزہ کہاں کھڑا ہے؟
10 اکتوبر 2025: جنگ بندی کے نفاذ کی تاریخ۔
تقریباً دو تہائی غزہ: رائٹرز کے مطابق اب بھی اسرائیلی فوجی کنٹرول میں۔
1,400 سے زیادہ فلسطینی: رائٹرز کے مطابق جنگ بندی کے بعد اسرائیلی کارروائیوں میں ہلاک۔
71.4 ارب ڈالر: اگلی دہائی میں بحالی اور تعمیر نو کی تخمینی ضرورت۔
سب سے بڑی گرہ: حماس کا اسلحہ
امن منصوبے کا شاید سب سے مشکل حصہ حماس کو غیر مسلح کرنا ہے۔
امریکی حمایت یافتہ ایک منصوبے کے تحت حماس کو مرحلہ وار تقریباً 8 ماہ کے دوران اپنا اسلحہ حوالے کرنا اور غزہ میں زیر زمین سرنگوں کے نیٹ ورک کو ختم کرنے کی اجازت دینا تھی۔ اس کے ساتھ ایک فلسطینی ٹیکنوکریٹ انتظامیہ کو سکیورٹی ذمہ داریاں منتقل کرنے کا تصور بھی پیش کیا گیا تھا۔
لیکن عملی پیش رفت انتہائی محدود رہی۔
حماس نے بعض حالات میں بین الاقوامی نگرانی کے تحت اسلحے سے متعلق بات چیت پر آمادگی ظاہر کی، تاہم اسرائیل کا کہنا ہے کہ اسے مکمل غیر مسلح کیے بغیر فوجی انخلا ممکن نہیں۔
یہیں پورا عمل پھنس جاتا ہے۔
🕊️ جنگ بندی ہوئی، مستقل امن کیوں نہیں آیا؟
منصوبے کے پہلے مرحلے نے جنگ بندی، قیدیوں کے تبادلے اور انسانی امداد میں کچھ بہتری جیسے نتائج دیے۔
لیکن اصل سیاسی اور عسکری سوال اگلے مرحلے میں تھے: حماس کا اسلحہ، اسرائیلی انخلا، سکیورٹی انتظام اور غزہ کی حکومت۔
یہی وہ معاملات ہیں جن پر ایک سال بعد بھی فریقین کے درمیان بنیادی اختلاف برقرار ہے۔
اسرائیل کی بنیادی شرط ہے کہ پہلے حماس مکمل طور پر غیر مسلح ہو۔
دوسری جانب حماس اسرائیلی فوج کے مکمل انخلا اور فلسطینیوں کے سیاسی مستقبل سے متعلق ضمانتیں چاہتی ہے۔
یعنی دونوں فریق اپنے بڑے اقدام کو دوسرے فریق کے پہلے قدم سے مشروط کررہے ہیں۔
اسرائیلی فوج اب بھی غزہ کے بیشتر حصے میں
امن منصوبے کا ایک اہم مقصد اسرائیلی فوج کا مرحلہ وار انخلا تھا، لیکن ایک سال بعد بھی یہ ہدف پورا نہیں ہوا۔
رائٹرز کے مطابق اسرائیل اب بھی غزہ کے تقریباً دو تہائی علاقے پر فوجی کنٹرول رکھتا ہے۔
اس کے برعکس حماس غزہ کے گنجان آباد باقی علاقوں میں اپنا اثر برقرار رکھے ہوئے ہے۔
⚠️ سب سے بڑی گرہ — حماس کا اسلحہ
اسرائیل کا مؤقف ہے کہ حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے سے پہلے وسیع فوجی انخلا ممکن نہیں۔
حماس نے بعض حالات میں بین الاقوامی نگرانی کے تحت اسلحے پر بات چیت کی آمادگی ظاہر کی، لیکن وہ اسرائیلی انخلا اور سیاسی ضمانتوں کو اہم قرار دیتی ہے۔
نتیجہ یہ ہے کہ دونوں بڑے اقدامات ایک دوسرے کے پہلے قدم سے مشروط ہوگئے ہیں اور منصوبہ اسی مقام پر پھنس گیا ہے۔
یہ صورتحال ایک بنیادی سوال پیدا کرتی ہے:
اگر اسرائیلی فوج نکل جاتی ہے تو اس کے بعد غزہ کی سکیورٹی کون سنبھالے گا؟
اور اگر اسرائیل بدستور موجود رہتا ہے تو فلسطینیوں کے لیے جنگ کے خاتمے کا عملی مطلب کیا ہوگا؟
غزہ کی تعمیر نو
کے لیے تقریباً
71.4 ارب ڈالر
درکار ہیں
بین الاقوامی فورس بھی انتظار میں
ٹرمپ منصوبے میں ایک بین الاقوامی استحکام فورس قائم کرنے کا تصور پیش کیا گیا تھا، جو غزہ میں سکیورٹی سنبھالتی، فلسطینی اداروں کو تربیت دیتی اور اسرائیلی فوج کے انخلا کے بعد پیدا ہونے والے خلا کو پُر کرتی۔
امریکا نے اگست میں اس فورس کے لیے 206 ملین ڈالر سے زیادہ فراہم کرنے کے منصوبے سے کانگریس کو آگاہ بھی کیا، لیکن مجوزہ فورس ابھی مکمل طور پر فعال نہیں ہوسکی۔
نتیجہ یہ ہے کہ جس ادارے کو اسرائیلی فوج اور مقامی فلسطینی انتظامیہ کے درمیان عبوری پل بننا تھا، وہ خود ابھی پوری طرح زمین پر موجود نہیں۔
جنگ روکنا ایک مسئلہ ہے، تباہ شدہ غزہ کو دوبارہ آباد کرنا اس سے کہیں بڑا مسئلہ بنتا جارہا ہے۔
اقوام متحدہ، ورلڈ بینک اور یورپی یونین کے اپریل 2026 میں جاری مشترکہ جائزے کے مطابق غزہ کی بحالی اور تعمیر نو کے لیے اگلے 10 برسوں میں تقریباً 71.4 ارب ڈالر درکار ہوں گے۔
صرف پہلے 18 ماہ میں بنیادی سہولتیں بحال کرنے، اہم انفرااسٹرکچر بنانے اور معیشت کو دوبارہ کھڑا کرنے کے لیے 26.3 ارب ڈالر کی ضرورت ہے۔
🚧 اسرائیلی فوج کا انخلا کہاں رکا؟
امن منصوبے میں اسرائیلی فوج کے مرحلہ وار انخلا کا تصور موجود تھا، مگر رائٹرز کے مطابق اسرائیل اب بھی غزہ کے تقریباً دو تہائی حصے پر کنٹرول رکھتا ہے۔
اسرائیل انخلا کو حماس کی مکمل غیر مسلحی سے جوڑتا ہے، جبکہ فلسطینی فریق فوجی موجودگی کے خاتمے کو حقیقی جنگ بندی کی بنیادی شرط سمجھتے ہیں۔
یہ تعطل غزہ کے مستقبل کے سکیورٹی ڈھانچے کو بھی غیر یقینی بناتا ہے۔
جنگ میں غزہ کے بنیادی ڈھانچے کو تقریباً 35.2 ارب ڈالر کا براہ راست نقصان ہوا، جبکہ معاشی اور سماجی نقصانات 22.7 ارب ڈالر بتائے گئے ہیں۔
3 لاکھ 71 ہزار سے زیادہ مکانات تباہ یا متاثر ہوئے، نصف سے زیادہ ہسپتال فعال نہیں رہے اور تقریباً تمام اسکول کسی نہ کسی سطح پر نقصان کا شکار ہوئے۔
غزہ کی معیشت میں بھی تقریباً 84 فیصد سکڑاؤ ریکارڈ کیا گیا۔
یہ اعداد بتاتے ہیں کہ صرف جنگ بندی غزہ کے بحران کا حل نہیں۔اگر بڑے پیمانے پر سرمایہ، محفوظ ماحول اور مستقل سیاسی انتظام میسر نہ ہوا تو تعمیر نو کئی برس تک شروع ہی نہیں ہوپائے گی۔
غزہ پر حکومت کون کرے گا؟
جنگ کے بعد غزہ کی حکمرانی بھی اتنا ہی پیچیدہ سوال ہے۔
امریکا نے جنوری 2026 میں اپنے امن منصوبے کے دوسرے مرحلے کا اعلان کرتے ہوئے ایک فلسطینی ٹیکنوکریٹ کمیٹی بنانے کی کوشش کی، لیکن اسی وقت پہلے مرحلے کے کئی اہداف بھی نامکمل تھے۔
🛡️ بین الاقوامی استحکام فورس کیوں اہم ہے؟
منصوبے میں ایک بین الاقوامی استحکام فورس کا تصور پیش کیا گیا تھا جو عبوری سکیورٹی سنبھالتی اور فلسطینی اداروں کی مدد کرتی۔
لیکن رائٹرز کے مطابق ایک سال بعد بھی یہ فورس مکمل طور پر تشکیل نہیں پاسکی، اگرچہ کچھ ممالک نے اہلکار یا تعاون دینے کے وعدے کیے ہیں۔
فورس کے بغیر بنیادی سوال یہی رہتا ہے کہ اسرائیلی انخلا کے بعد پیدا ہونے والا سکیورٹی خلا کون پُر کرے گا؟
اسرائیل حماس کی دوبارہ مکمل حکمرانی قبول کرنے کے لیے تیار نہیں، جبکہ فلسطینی اتھارٹی، مقامی ٹیکنوکریٹس اور بین الاقوامی نگرانی پر مبنی مختلف فارمولے زیر بحث آئے ہیں۔
لیکن بنیادی مسئلہ اب بھی یہی ہے کہ ایسی حکومت کیسے بنائی جائے جسے فلسطینی عوام کی سیاسی قبولیت بھی حاصل ہو اور اسرائیل، امریکا اور عرب ممالک بھی اس کے ساتھ کام کرنے پر آمادہ ہوں۔
عام فلسطینی کے لیے کیا بدلا؟
سیاسی مذاکرات سے الگ غزہ کے عام باشندے کی زندگی اب بھی انتہائی مشکل ہے۔
رائٹرز کے مطابق 12 لاکھ سے زیادہ افراد شدید غذائی عدم تحفظ کا سامنا کررہے ہیں۔
ایک لاکھ سے زیادہ غزہ کے باشندے بیرونِ علاقے موجود ہیں اور بڑی تعداد اب تک واپس نہیں آسکی۔
🏛️ غزہ پر حکومت کون کرے گا؟
امریکی منصوبے میں حماس سے الگ ایک فلسطینی ٹیکنوکریٹ انتظامیہ اور بین الاقوامی نگرانی پر مبنی عبوری نظام کی تجویز شامل رہی ہے۔
لیکن مستقبل کی حکومت کو فلسطینی قبولیت، اسرائیلی منظوری، عرب حمایت اور بین الاقوامی تعاون بیک وقت درکار ہوگا۔
اسی لیے غزہ کی حکمرانی صرف انتظامی نہیں بلکہ پورے امن منصوبے کا بنیادی سیاسی سوال بن چکی ہے۔
لاکھوں افراد کے گھر تباہ ہوچکے ہیں اور بڑی تعمیر نو ابھی شروع نہیں ہوئی۔
یہی وہ فرق ہے جو کاغذ پر موجود جنگ بندی اور زمین پر موجود امن کے درمیان نظر آتا ہے۔
ایک سال بعد منصوبہ کہاں کھڑا ہے؟
ٹرمپ کے غزہ منصوبے کو مکمل ناکام قرار دینا درست نہیں ہوگا۔
اس نے جنگ بندی ممکن بنائی، یرغمالیوں اور قیدیوں کی رہائی کرائی اور بڑے پیمانے کی جنگ کو محدود کیا۔
لیکن منصوبے کی اصل کامیابی کا امتحان ہمیشہ دوسرا مرحلہ تھا۔
🏗️ 71.4 ارب ڈالر — تعمیر نو کا پہاڑ
71.4 ارب ڈالر: اگلی دہائی میں غزہ کی بحالی اور تعمیر نو کی مجموعی تخمینی ضرورت۔
26.3 ارب ڈالر: صرف پہلے 18 ماہ میں بنیادی خدمات، انفراسٹرکچر اور معاشی بحالی کے لیے درکار رقم۔
35.2 ارب ڈالر: بنیادی ڈھانچے کو براہ راست پہنچنے والا تخمینی نقصان۔
22.7 ارب ڈالر: معاشی اور سماجی نقصانات کا تخمینہ۔
کیا حماس غیر مسلح ہوگی؟
کیا اسرائیل مکمل فوجی انخلا کرے گا؟
غزہ پر حکومت کون کرے گا؟
71 ارب ڈالر سے زیادہ کی تعمیر نو کے اخراجات کون اٹھائے گا؟
اور سب سے بڑھ کر، کیا عارضی جنگ بندی ایک ایسے سیاسی سمجھوتے میں تبدیل ہوسکے گی جس میں فلسطینیوں کے مستقبل کا واضح جواب موجود ہو؟
ایک سال بعد غزہ کی حقیقت یہی ہے: جنگ کی شدت کم ہوئی ہے، لیکن وہ بنیادی تنازع ابھی ختم نہیں ہوا جس نے جنگ کو جنم دیا تھا۔
جب تک اسلحہ، اسرائیلی انخلا، فلسطینی حکمرانی، تعمیر نو اور مستقبل کے سیاسی بندوبست کو ایک قابلِ عمل معاہدے میں نہیں باندھا جاتا، غزہ میں خاموشی تو آسکتی ہے، مستقل امن نہیں۔
🔗 اصل ذرائع اور مزید مطالعہ
Reuters — 6 October 2026:
ٹرمپ کے غزہ منصوبے کو ایک سال مکمل ہونے کے بعد پیش رفت، حماس کی غیر مسلحی، اسرائیلی کنٹرول، انسانی صورتحال اور تعمیر نو کے تعطل کا تفصیلی جائزہ۔
اصل رپورٹ کھولیں
United Nations / World Bank / European Union — 20 April 2026:
غزہ کی تعمیر نو کے لیے 71.4 ارب ڈالر، پہلے 18 ماہ کے لیے 26.3 ارب ڈالر اور انفراسٹرکچر و معاشی نقصانات کے تفصیلی اعداد۔
اصل جائزہ کھولیں
Reuters — 14 January 2026:
جنگ کے بعد غزہ کی عبوری فلسطینی انتظامیہ، ٹیکنوکریٹ کمیٹی اور بین الاقوامی نگرانی کے مجوزہ ڈھانچے کی تفصیل۔
اصل رپورٹ کھولیں