براہ راست نشریات

3 سال قیامت سہنے والے غزہ کے بچے خیموں میں پڑھنے لگے

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
غزہ میں تعلیم کے لیے خیموں میں قائم عارضی اسکول میں زیرِ تعلیم فلسطینی بچّے
اکتوبر 2023 کے بعد شروع ہونے والی جنگ نے غزہ میں تعلیم کا پورا نظام ہلا کر رکھ دیا

خیمہ ہی کلاس روم: غزہ کی تعلیم کے 5 چونکا دینے والے حقائق

+
حقیقت 02

⏳ 3 تعلیمی سالوں کی مسلسل محرومی

4 سے 17 سال کی عمر کے تقریباً 7 لاکھ طلبہ تین سال تک باقاعدہ تدریس سے دور رہے، جس سے بنیادی خواندگی کا سلسلہ ٹوٹ گیا۔

حقیقت 03

👥 گنجائش 1 ہزار، آمد 3 ہزار

عارضی خیمہ اسکولوں میں طلبہ کا غیر معمولی رش ہے؛ ایک ہزار کی گنجائش والے مراکز میں 3 ہزار بچے تعلیم کی خاطر پہنچ رہے ہیں۔

حقیقت 04

🪑 کرسی، میز اور کتابوں کا کال

بچے زمین پر یا پھٹے ہوئے میٹ پر بیٹھتے ہیں، جبکہ کاپی پنسل اور نصابی کتب کی شدید قلت کے باوجود پڑھنے کے لیے پرعزم ہیں۔

حقیقت 05

🧠 ایک ہی عمر، مگر صلاحیت میں وسیع خلیج

تعلیم کے طویل تعطل کی وجہ سے ہم عمر بچوں کے پڑھنے اور حساب کی صلاحیت میں زمین آسمان کا فرق آ چکا ہے جس کے لیے خصوصی کلاسیز شروع کی گئی ہیں۔

3 سال بعد غزہ میں اسکول کی گھنٹی دوبارہ بجی ہے، مگر بہت سے بچوں کے لیے نہ وہ پرانا اسکول باقی ہے، نہ کلاس روم اور نہ ہی وہ میز کرسی جس پر بیٹھ کر انہوں نے کبھی پڑھنا سیکھا تھا۔

مزید پڑھیں

قابض اسرائیل کی مسلط کردہ جنگ کے بعد غزہ کی عمارتوں کے ملبے میں آج کہیں خیمہ کلاس ہے، کہیں زمینی نشست اور کہیں ایک ہزار کی جگہ پر 3 ہزار طلبہ پڑھنے پہنچے ہیں۔

گزشتہ عرصے میں گزرے کرب ناک حالات کے باوجود تقریباً 4 لاکھ طلبہ و طالبات کا تعلیم کی طرف لوٹنا غزہ کی تازہ تصویر کا سب سے غیر معمولی پہلو ہے۔

بچوں سے اسکول چھینا گیا

اکتوبر 2023 کے بعد شروع ہونے والی جنگ نے غزہ میں تعلیم کا پورا نظام ہلا کر رکھ دیا۔

Overseas Post
تباہی کے 3 سال بعد: غزہ میں خیمے اسکول بن گئے
نوے فیصد سے زائد عمارتیں تباہ ہونے کے باوجود چار لاکھ بچوں کا ملبے کے درمیان تعلیمی سفر جاری

جنگ کی ہولناکیوں اور اسکولوں کی تباہی کے باوجود غزہ کے چار لاکھ پرعزم بچے خیموں اور ملبے کے ڈھیر پر دوبارہ قلم تھام کر کلاس رومز میں لوٹ آئے۔

🎓 طلبہ کی کلاس رومز میں واپسی 📚

تین سالہ طویل محرومی کے بعد لاکھوں طلبہ و طالبات نے کتابوں اور قلم سے رشتہ جوڑ کر عارضی خیموں میں تدریسی سلسلہ بحال کیا۔

4 لاکھ طلبہ
🏫 تعلیمی عمارتوں کا سنگین زیاں ⚠️

یونیسیف کے مطابق خطے کے اسکولوں کا بڑا حصہ بمباری سے تباہ ہو چکا ہے جبکہ ترانوے فیصد عمارتیں مکمل تعمیرِ نو کی محتاج ہیں۔

98% اسکول متاثر
⛺ خیموں میں متبادل تدریسی مراکز 🎒

اقوام متحدہ نے ملبے کے درمیان سینکڑوں عارضی تعلیمی خیمے قائم کر کے ڈیڑھ لاکھ سے زائد اسکول بیگز اور تعلیمی کٹس تقسیم کیں۔

359 عارضی مراکز
⏳ تعلیمی تعطل اور بحالی پروگرام 🔄

طویل فاصلے پیدل طے کرنے اور کتابوں کی شدید قلت کے باوجود بچوں کی بنیادی پڑھنے لکھنے کی صلاحیت بحال کرنے کے لیے خصوصی شفٹیں جاری ہیں۔

3 سالہ تعطل

یونیسیف کے مطابق 4 تا 17 برس کے تقریباً 7 لاکھ بچے لگ بھگ 3 تعلیمی سال تک اسکولنگ سے محروم رہے۔ اپریل 2026 تک تقریباً 4 لاکھ 20 ہزار بچوں کو کسی بھی قسم کی براہ راست کلاس تک رسائی حاصل نہیں تھی۔

یہ معاملہ صرف اسکول بند ہونے کا نہیں، بلکہ یونیسیف کے مطابق غزہ کی تقریباً 98 فیصد تعلیمی عمارتیں بمباری سے متاثرہ ہیں اور 93 فیصد سے زیادہ کو بڑے پیمانے پر مرمت یا مکمل تعمیرِ نو کی ضرورت ہے۔

یعنی جن عمارتوں میں کبھی لاکھوں بچے بستے اٹھائے داخل ہوتے تھے، ان میں سے بہت سی عمارتیں اب ملبے، پناہ گاہوں یا ناقابلِ استعمال ڈھانچےمیں تبدیل ہو چکی ہیں۔

💔

تین سال اسکول سے دور: غزہ کے بچوں نے کیا کھویا؟

ماہرین کے مطابق تعلیمی نقصان صرف کتاب کے چند اسباق کا چھوٹ جانا نہیں ہے، بلکہ بچپن کا تحفظ، ذہنی امن اور باقاعدہ فکری تربیت کا تسلسل شدید متاثر ہوا ہے۔

نقصان 01

📖 بنیادی خواندگی اور ریاضی کی صلاحیت

پہلی اور دوسری جماعت کے وہ بچے جو حروف اور بنیادی حساب سیکھنے کے مرحلے میں تھے، مسلسل تعطل کے باعث ابتدائی مہارتوں میں کئی سال پیچھے چلے گئے۔

نقصان 02

🧠 ذہنی دباؤ اور گہرے نفسیاتی اثرات

مسلسل بمباری اور نقل مکانی کے خوف نے بچوں کی یادداشت اور توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت کو کمزور کیا، جس کی بحالی کے لیے اب سائیکو سوشل مدد دی جا رہی ہے۔

نقصان 03

⚽ معمول کی سماجی زندگی اور کھیل

اسکول محض کمرۂ جماعت نہیں بلکہ دوستوں سے ملنے اور کھیلنے کا محفوظ ماحول ہوتا ہے؛ تین سال تک بچوں کو پناہ گاہوں کے قید و بند کی زندگی جھیلنا پڑی۔

نقصان 04

🎓 مستقبل کے تعلیمی مدارج کا ضیاع

میٹرک اور انٹرمیڈیٹ سطح کے طلبہ کے اعلیٰ تعلیم کی طرف بڑھنے کے امتحانات معطل رہے، جس سے نوجوانوں کے تعلیمی و پیشہ ورانہ کیریئر میں سالوں کا خلا پیدا ہوا۔

خیمہ اسکول، جگہ بہت کم

غزہ شہر کے ایک عارضی اسکول میں، جسے یونیسیف وزارتِ تعلیم کے ساتھ مل کر چلا رہا ہے، تقریباً 3 ہزار طلبہ پہنچے، حالانکہ وہاں گنجائش صرف ایک ہزار کے قریب تھی۔

اصل مسئلہ یہی ہے کہ بچے پڑھنا چاہتے ہیں، والدین انہیں بھیجنا چاہتے ہیں، لیکن کلاس روم موجود نہیں۔

بعض طلبہ بہت دور سے پیدل چل کر خیموں تک پہنچتے ہیں۔ کہیں کتاب نہیں، کہیں کاپی پنسل کم ہے، کہیں کرسی دستیاب نہیں۔ موسم بدلنے کے ساتھ گرمی، سردی اور بارش میں بھی یہی خیمے بچوں کا کلاس روم ہیں۔

🏫

4 لاکھ بچے واپس، مگر اسکول کہاں ہیں؟

بحران کے اعدادوشمار
400,000
تعلیم کی طرف لوٹنے والے پُرجوش بچے
359
غزہ بھر میں قائم عارضی تعلیمی مقامات
3 شفٹیں
گنجائش کم ہونے پر روزانہ لگائی جانے والی کلاسز

⛺ خیمہ بستیوں کا سخت موسم

عارضی کپڑے کے خیمے موسمِ گرما کی جھلسا دینے والی دھوپ اور آنے والے موسمِ سرما کی بارش اور سردی سے محفوظ نہیں رکھ سکتے۔ نکاسی اور فرش نہ ہونے کی وجہ سے کیچڑ اور مٹی میں بیٹھ کر پڑھنا روز کا معمول بن چکا ہے۔

🧑‍🏫 اساتذہ پر غیر معمولی بوجھ

اساتذہ کو ایک ہی خیمے میں مختلف عمروں کے درجنوں بچوں کو سنبھالنا پڑتا ہے۔ تعلیمی عملے کے پاس نہ بلیک بورڈ ہے نہ تدریسی کٹس، جس کے باعث وہ طلبہ و طالبات کے دن الگ کر کے کلاسیز چلانے پر مجبور ہیں۔

ایک ہی خیمہ، مگر کلاسز الگ الگ

تعلیمی ماہرین کے مطابق غزہ کے بچوں کا 3 سال کا نقصان صرف نصاب میں پیچھے رہ جانے تک محدود نہیں ہے۔

کسی بچے نے جنگ کے دوران کبھی کبھار آن لائن پڑھا، کسی نے عارضی تعلیمی مرکز میں چند ماہ گزارے اور کسی کا پڑھائی سے تقریباً مکمل رابطہ ٹوٹ گیا۔ 

نتیجہ یہ ہے کہ ایک ہی عمر کے بچوں کی پڑھنے، لکھنے اور حساب کی صلاحیت میں بہت فرق پیدا ہو چکا ہے۔ بعض بچے اپنی جماعت کے درجے تک تو پہنچ گئے، مگر بنیادی مہارتیں پیچھے رہ گئیں۔

اسی خلا کو کم کرنے کے لیے تیز رفتار تعلیمی پروگرام شروع کیے جا رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق جولائی میں 6 اسکولوں میں ایسا پروگرام آزمایا گیا جس کا مقصد بچوں کو عربی، ریاضی اور بنیادی تعلیمی مہارتوں میں دوبارہ مضبوط کرنا تھا۔

🌐

دنیا غزہ کے بچوں کی تعلیم بچانے کے لیے کیا کر رہی ہے؟

یونیسیف اور اقوام متحدہ کے شراکت داروں نے اب تک ایک لاکھ 55 ہزار سے زیادہ اسکول بیگز اور 1,000 سے زائد تدریسی کٹس فراہم کی ہیں، مگر اصل چیلنج لاکھوں بچوں تک مستقل رسائی بنانا ہے۔

اقدام 01

⚡ تیز رفتار تعلیمی ماڈل (Accelerated Learning)

پہلے مرحلے میں 6 پائلٹ اسکولوں میں عربی زبان، بنیادی حساب اور ضروری فہم کے خصوصی کریش کورسز شروع کیے گئے ہیں تاکہ تین سالہ تعلیمی خلا کو کم سے کم وقت میں پر کیا جا سکے۔

اقدام 02

🧩 نفسیاتی بحالی اور تفریحی سیشنز

کلاس روم میں صرف کتاب نہیں بلکہ ڈرائنگ، اسپورٹس اور کونسلنگ کو شامل کیا گیا ہے تاکہ بچے جنگ کے خوف سے باہر نکل کر دوبارہ ایک نارمل سماجی ماحول میں سانس لے سکیں۔

اقدام 03

⛺ عارضی تعلیمی مراکز کا قیام

وزارتِ تعلیم کے اشتراک سے 359 خیمہ اور شیلٹر اسکول فعال کیے گئے ہیں جہاں مقامی بے گھر اساتذہ کو دوبارہ تدریسی عمل میں رضاکارانہ طور پر شامل کیا جا رہا ہے۔

اقدام 04

📦 تدریسی کٹس اور اسٹیشنری سپلائی

عالمی اداروں نے کاپیاں، پنسلیں اور کینوس بیگز تقسیم کیے ہیں تاکہ وسائل سے محروم خاندانوں کے لیے بچوں کو کلاس تک لانا معاشی بوجھ نہ بنے۔

سفر ابھی بہت طویل ہے

ستمبر میں نئے تعلیمی سال سے پہلے اقوام متحدہ کے تعلیمی شراکت دار غزہ بھر میں 359 عارضی تعلیمی مقامات چلا یا تیار کر رہے تھے۔ اگست کے اختتام تک ایک لاکھ 55 ہزار سے زیادہ اسکول بیگز اور ایک ہزار سے زائد تعلیمی کٹس بھی فراہم کی جا چکی تھیں۔

یہ اعداد و شمار اُمید افزا ضرور ہیں، مگر بحران کے سامنے دستیاب وسائل بہت کم اور ضرورت بہت زیادہ ہے۔

اساتذہ کو ایک ہی وقت میں بہت زیادہ بچوں، مختلف کلاسز اور محدود وسائل کا سامنا ہے۔ بعض مقامات پر روزانہ 3 شفٹیں چلانے اور طلبہ و طالبات کے دن الگ کرنے تک کی نوبت آ چکی ہے۔

اسکول واپسی کا مطلب صرف پڑھائی نہیں

غزہ کے بچوں کے لیے کلاس روم میں واپسی کا مطلب صرف کتاب کھولنا نہیں ہے، بلکہ یہ معمول کی زندگی، دوستوں، کھیل اور مستقبل سے دوبارہ جڑنے کی کوشش بھی ہے۔

یونیسیف کے حالیہ پروگراموں میں اسی لیے پڑھائی کے ساتھ کھیل، نفسیاتی مدد اور بچوں کو جنگ کے اثرات سے نکلنے میں مدد دینے والی سرگرمیاں بھی شامل ہیں۔ 

🔮

آگے کیا ہوگا؟ کیا غزہ کے بچے تعلیمی نقصان پورا کر پائیں گے؟

منظرنامہ 01 (فوری ضرورت)

نصاب کو مختصر اور عملی بنانا

ماہرین کے مطابق مکمل روایتی نصاب پڑھانا ممکن نہیں رہا؛ اب صرف عربی زبان، بنیادی سائنس اور ریاضی پر فوکس کر کے بچوں کو اگلی جماعتوں کے لیے اہل بنانا ہوگا۔

منظرنامہ 02 (طویل مدتی چیلنج)

اسکول عمارتوں کی تعمیرِ نو

93 فیصد عمارتوں کی بحالی کے لیے اربوں ڈالر کی مستقل بین الاقوامی فنڈنگ اور تعمیراتی سامان کی بلارکاوٹ ترسیل کے بغیر تعلیمی بحران مستقل حل نہیں ہو سکتا۔

منظرنامہ 03 (سب سے بڑا خطرہ)

اسکول چھوڑنے کی شرح میں اضافہ

اگر خیمہ اسکولوں کو سردیوں میں محفوظ چھت اور پینے کا صاف پانی نہ ملا تو غربت کے ستائے خاندان بچوں کو تعلیم کے بجائے روزگار اور امداد کی تلاش میں لگا سکتے ہیں۔

منظرنامہ 04 (امید کی کرن)

بچوں اور اساتذہ کا غیر متزلزل عزم

وسائل کی سخت کمی کے باوجود لاکھوں بچوں کا قلم تھام کر خیموں کا رخ کرنا ثابت کرتا ہے کہ غزہ کا تعلیمی مستقبل تاریک نہیں اور یہ قوم اپنی شناخت علم سے جوڑے ہوئے ہے۔

⚖️ فیصلہ کن موڑ

غزہ میں خیمے اسکول ضرور بن گئے ہیں مگر یہ ایک ہنگامی بندوبست ہے۔ بچوں کا اصل مستقبل اس بات پر منحصر ہے کہ عالمی برادری کتنی جلدی ملبے کو ہٹا کر وہاں ایک بار پھر مضبوط اور پرامن کلاس روم تعمیر کرتی ہے۔

ستمبر میں تنظیم نے بتایا کہ غزہ اور مغربی کنارے میں لاکھوں بچوں نے موسمِ گرما کے دوران ایسی تعلیمی اور تفریحی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔

غزہ میں آج ایک خیمے میں بیٹھا بچہ شاید میز، کتاب یا کسی پرسکون کلاس روم سے محروم ہو، مگر اس کے ہاتھ میں دوبارہ پنسل آنا خود ایک بڑی تبدیلی ہے۔

جنگ نے اسکول چھین لیے، مگر تعلیم کی طرف واپسی یہ بتاتی ہے کہ غزہ کے بچوں کے لیے مستقبل کا دروازہ ابھی مکمل طور پر بند نہیں ہوا اور یہ معصوم علم کے حصول کے لیے پُرعزم ہیں۔

📚 اصل ذرائع 🔎 VERIFIED SOURCES غزہ کے بچوں کی تعلیم، تباہ شدہ اسکولوں اور عارضی کلاس رومز سے متعلق بنیادی اور معتبر حوالہ جات 4 معتبر ذرائع
🏫 غزہ میں اسکول واپسی اور تعلیمی بحران
الجزیرہ — 3 سال بعد 4 لاکھ طلبہ کی تعلیم کی طرف واپسی وہ بنیادی رپورٹ جس میں غزہ کے تقریباً 4 لاکھ طلبہ کی واپسی، خیموں میں قائم اسکولوں، کتابوں اور نشستوں کی کمی، تین شفٹوں اور تعلیمی خلا کی تفصیل دی گئی ہے۔ 🎒 اصل خبر • 19 ستمبر 2026 اصل رپورٹ کھولیں ↗ یونیسیف — غزہ میں 7 لاکھ بچوں کا تعلیمی بحران یونیسیف کے مطابق تقریباً 7 لاکھ بچے قریب تین تعلیمی سال باقاعدہ اسکول سے محروم رہے، 4 لاکھ 20 ہزار کو بالمشافہ تعلیم دستیاب نہیں تھی جبکہ تقریباً 98 فیصد اسکول عمارتیں متاثر ہوئیں۔ 🧒📖 اقوام متحدہ کا بنیادی تعلیمی ڈیٹا یونیسیف رپورٹ کھولیں ↗
📌 اہم تناظر: غزہ میں مسئلہ صرف تباہ شدہ اسکولوں کا نہیں۔ لاکھوں بچوں کے مسلسل تعلیمی تعطل نے پڑھنے، لکھنے اور بنیادی حساب جیسی مہارتوں میں بھی بڑا خلا پیدا کیا ہے۔
⛺ عارضی اسکول، بیگز اور تعلیمی بحالی
اقوام متحدہ OCHA — 359 عارضی تعلیمی مراکز کی تیاری نئے تعلیمی سال سے قبل 22 شراکت دار ادارے غزہ میں 359 عارضی تعلیمی مقامات چلا یا تیار کر رہے تھے، جبکہ 155,711 اسکول بیگز اور ایک ہزار سے زائد تعلیمی کٹس فراہم کی گئیں۔ 🎒⛺ تازہ انسانی صورتِ حال • 4 ستمبر 2026 اقوام متحدہ رپورٹ کھولیں ↗ OCHA — تعلیمی نقصان پورا کرنے کا تیز رفتار پروگرام غزہ کے چھ اسکولوں میں تیز رفتار تعلیمی پروگرام کا پائلٹ شروع کیا گیا، جس میں بچوں کی بنیادی عربی اور ریاضی کی مہارتیں بحال کرنے پر توجہ دی گئی۔ ✏️➗ تعلیمی بحالی پروگرام • 31 جولائی 2026 تفصیلی رپورٹ کھولیں ↗
📰 ادارتی نوٹ: اس فیچر کی تیاری میں الجزیرہ کی اصل زمینی رپورٹ، یونیسیف کے تعلیمی اعداد و شمار اور اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی امور (OCHA) کی تازہ رپورٹس سے استفادہ کیا گیا ہے۔ SOURCES VERIFIED • BY: overseaspost.net