⛺
خیمہ ہی کلاس روم: غزہ کی تعلیم کے 5 چونکا دینے والے حقائق
+
خیمہ ہی کلاس روم: غزہ کی تعلیم کے 5 چونکا دینے والے حقائق
🏚️ 98 فیصد اسکول عمارتیں تباہ یا ناکارہ
یونیسیف کے مطابق غزہ کی تقریباً تمام تعلیمی عمارتیں بمباری سے متاثر ہو چکی ہیں، جن میں سے 93 فیصد سے زائد کو بچوں کے داخلے کے قابل بنانے کے لیے مکمل تعمیرِ نو یا بھاری مرمت درکار ہے۔
⏳ 3 تعلیمی سالوں کی مسلسل محرومی
4 سے 17 سال کی عمر کے تقریباً 7 لاکھ طلبہ تین سال تک باقاعدہ تدریس سے دور رہے، جس سے بنیادی خواندگی کا سلسلہ ٹوٹ گیا۔
👥 گنجائش 1 ہزار، آمد 3 ہزار
عارضی خیمہ اسکولوں میں طلبہ کا غیر معمولی رش ہے؛ ایک ہزار کی گنجائش والے مراکز میں 3 ہزار بچے تعلیم کی خاطر پہنچ رہے ہیں۔
🪑 کرسی، میز اور کتابوں کا کال
بچے زمین پر یا پھٹے ہوئے میٹ پر بیٹھتے ہیں، جبکہ کاپی پنسل اور نصابی کتب کی شدید قلت کے باوجود پڑھنے کے لیے پرعزم ہیں۔
🧠 ایک ہی عمر، مگر صلاحیت میں وسیع خلیج
تعلیم کے طویل تعطل کی وجہ سے ہم عمر بچوں کے پڑھنے اور حساب کی صلاحیت میں زمین آسمان کا فرق آ چکا ہے جس کے لیے خصوصی کلاسیز شروع کی گئی ہیں۔
3 سال بعد غزہ میں اسکول کی گھنٹی دوبارہ بجی ہے، مگر بہت سے بچوں کے لیے نہ وہ پرانا اسکول باقی ہے، نہ کلاس روم اور نہ ہی وہ میز کرسی جس پر بیٹھ کر انہوں نے کبھی پڑھنا سیکھا تھا۔
مزید پڑھیں
قابض اسرائیل کی مسلط کردہ جنگ کے بعد غزہ کی عمارتوں کے ملبے میں آج کہیں خیمہ کلاس ہے، کہیں زمینی نشست اور کہیں ایک ہزار کی جگہ پر 3 ہزار طلبہ پڑھنے پہنچے ہیں۔
گزشتہ عرصے میں گزرے کرب ناک حالات کے باوجود تقریباً 4 لاکھ طلبہ و طالبات کا تعلیم کی طرف لوٹنا غزہ کی تازہ تصویر کا سب سے غیر معمولی پہلو ہے۔
بچوں سے اسکول چھینا گیا
اکتوبر 2023 کے بعد شروع ہونے والی جنگ نے غزہ میں تعلیم کا پورا نظام ہلا کر رکھ دیا۔
جنگ کی ہولناکیوں اور اسکولوں کی تباہی کے باوجود غزہ کے چار لاکھ پرعزم بچے خیموں اور ملبے کے ڈھیر پر دوبارہ قلم تھام کر کلاس رومز میں لوٹ آئے۔
تین سالہ طویل محرومی کے بعد لاکھوں طلبہ و طالبات نے کتابوں اور قلم سے رشتہ جوڑ کر عارضی خیموں میں تدریسی سلسلہ بحال کیا۔
یونیسیف کے مطابق خطے کے اسکولوں کا بڑا حصہ بمباری سے تباہ ہو چکا ہے جبکہ ترانوے فیصد عمارتیں مکمل تعمیرِ نو کی محتاج ہیں۔
اقوام متحدہ نے ملبے کے درمیان سینکڑوں عارضی تعلیمی خیمے قائم کر کے ڈیڑھ لاکھ سے زائد اسکول بیگز اور تعلیمی کٹس تقسیم کیں۔
طویل فاصلے پیدل طے کرنے اور کتابوں کی شدید قلت کے باوجود بچوں کی بنیادی پڑھنے لکھنے کی صلاحیت بحال کرنے کے لیے خصوصی شفٹیں جاری ہیں۔
یونیسیف کے مطابق 4 تا 17 برس کے تقریباً 7 لاکھ بچے لگ بھگ 3 تعلیمی سال تک اسکولنگ سے محروم رہے۔ اپریل 2026 تک تقریباً 4 لاکھ 20 ہزار بچوں کو کسی بھی قسم کی براہ راست کلاس تک رسائی حاصل نہیں تھی۔
یہ معاملہ صرف اسکول بند ہونے کا نہیں، بلکہ یونیسیف کے مطابق غزہ کی تقریباً 98 فیصد تعلیمی عمارتیں بمباری سے متاثرہ ہیں اور 93 فیصد سے زیادہ کو بڑے پیمانے پر مرمت یا مکمل تعمیرِ نو کی ضرورت ہے۔
یعنی جن عمارتوں میں کبھی لاکھوں بچے بستے اٹھائے داخل ہوتے تھے، ان میں سے بہت سی عمارتیں اب ملبے، پناہ گاہوں یا ناقابلِ استعمال ڈھانچےمیں تبدیل ہو چکی ہیں۔
💔
تین سال اسکول سے دور: غزہ کے بچوں نے کیا کھویا؟
▼
تین سال اسکول سے دور: غزہ کے بچوں نے کیا کھویا؟
ماہرین کے مطابق تعلیمی نقصان صرف کتاب کے چند اسباق کا چھوٹ جانا نہیں ہے، بلکہ بچپن کا تحفظ، ذہنی امن اور باقاعدہ فکری تربیت کا تسلسل شدید متاثر ہوا ہے۔
📖 بنیادی خواندگی اور ریاضی کی صلاحیت
پہلی اور دوسری جماعت کے وہ بچے جو حروف اور بنیادی حساب سیکھنے کے مرحلے میں تھے، مسلسل تعطل کے باعث ابتدائی مہارتوں میں کئی سال پیچھے چلے گئے۔
🧠 ذہنی دباؤ اور گہرے نفسیاتی اثرات
مسلسل بمباری اور نقل مکانی کے خوف نے بچوں کی یادداشت اور توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت کو کمزور کیا، جس کی بحالی کے لیے اب سائیکو سوشل مدد دی جا رہی ہے۔
⚽ معمول کی سماجی زندگی اور کھیل
اسکول محض کمرۂ جماعت نہیں بلکہ دوستوں سے ملنے اور کھیلنے کا محفوظ ماحول ہوتا ہے؛ تین سال تک بچوں کو پناہ گاہوں کے قید و بند کی زندگی جھیلنا پڑی۔
🎓 مستقبل کے تعلیمی مدارج کا ضیاع
میٹرک اور انٹرمیڈیٹ سطح کے طلبہ کے اعلیٰ تعلیم کی طرف بڑھنے کے امتحانات معطل رہے، جس سے نوجوانوں کے تعلیمی و پیشہ ورانہ کیریئر میں سالوں کا خلا پیدا ہوا۔
خیمہ اسکول، جگہ بہت کم
غزہ شہر کے ایک عارضی اسکول میں، جسے یونیسیف وزارتِ تعلیم کے ساتھ مل کر چلا رہا ہے، تقریباً 3 ہزار طلبہ پہنچے، حالانکہ وہاں گنجائش صرف ایک ہزار کے قریب تھی۔
In-person classes resume in Gaza for the first time in three years of war, as UNRWA launches the 2026–2027 academic year on Saturday at Nuseirat Preparatory Boys’ School in central Gaza. pic.twitter.com/qtZ3ZZEVc8
— Eye on Palestine (@EyeonPalestine) September 19, 2026
اصل مسئلہ یہی ہے کہ بچے پڑھنا چاہتے ہیں، والدین انہیں بھیجنا چاہتے ہیں، لیکن کلاس روم موجود نہیں۔
بعض طلبہ بہت دور سے پیدل چل کر خیموں تک پہنچتے ہیں۔ کہیں کتاب نہیں، کہیں کاپی پنسل کم ہے، کہیں کرسی دستیاب نہیں۔ موسم بدلنے کے ساتھ گرمی، سردی اور بارش میں بھی یہی خیمے بچوں کا کلاس روم ہیں۔
🏫
4 لاکھ بچے واپس، مگر اسکول کہاں ہیں؟
بحران کے اعدادوشمار
4 لاکھ بچے واپس، مگر اسکول کہاں ہیں؟
⛺ خیمہ بستیوں کا سخت موسم
عارضی کپڑے کے خیمے موسمِ گرما کی جھلسا دینے والی دھوپ اور آنے والے موسمِ سرما کی بارش اور سردی سے محفوظ نہیں رکھ سکتے۔ نکاسی اور فرش نہ ہونے کی وجہ سے کیچڑ اور مٹی میں بیٹھ کر پڑھنا روز کا معمول بن چکا ہے۔
🧑🏫 اساتذہ پر غیر معمولی بوجھ
اساتذہ کو ایک ہی خیمے میں مختلف عمروں کے درجنوں بچوں کو سنبھالنا پڑتا ہے۔ تعلیمی عملے کے پاس نہ بلیک بورڈ ہے نہ تدریسی کٹس، جس کے باعث وہ طلبہ و طالبات کے دن الگ کر کے کلاسیز چلانے پر مجبور ہیں۔
ایک ہی خیمہ، مگر کلاسز الگ الگ
تعلیمی ماہرین کے مطابق غزہ کے بچوں کا 3 سال کا نقصان صرف نصاب میں پیچھے رہ جانے تک محدود نہیں ہے۔
کسی بچے نے جنگ کے دوران کبھی کبھار آن لائن پڑھا، کسی نے عارضی تعلیمی مرکز میں چند ماہ گزارے اور کسی کا پڑھائی سے تقریباً مکمل رابطہ ٹوٹ گیا۔
Palestinian children return to school after three years of cutout due to the Israeli genocide.
— Gaza Behind Scenes (@gazabehindscens) September 19, 2026
According to UNRWA, 90% of the educational facilities have been destroyed or damaged during the genocide. pic.twitter.com/WWmiATDJZb
نتیجہ یہ ہے کہ ایک ہی عمر کے بچوں کی پڑھنے، لکھنے اور حساب کی صلاحیت میں بہت فرق پیدا ہو چکا ہے۔ بعض بچے اپنی جماعت کے درجے تک تو پہنچ گئے، مگر بنیادی مہارتیں پیچھے رہ گئیں۔
اسی خلا کو کم کرنے کے لیے تیز رفتار تعلیمی پروگرام شروع کیے جا رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق جولائی میں 6 اسکولوں میں ایسا پروگرام آزمایا گیا جس کا مقصد بچوں کو عربی، ریاضی اور بنیادی تعلیمی مہارتوں میں دوبارہ مضبوط کرنا تھا۔
🌐
دنیا غزہ کے بچوں کی تعلیم بچانے کے لیے کیا کر رہی ہے؟
‹
دنیا غزہ کے بچوں کی تعلیم بچانے کے لیے کیا کر رہی ہے؟
یونیسیف اور اقوام متحدہ کے شراکت داروں نے اب تک ایک لاکھ 55 ہزار سے زیادہ اسکول بیگز اور 1,000 سے زائد تدریسی کٹس فراہم کی ہیں، مگر اصل چیلنج لاکھوں بچوں تک مستقل رسائی بنانا ہے۔
⚡ تیز رفتار تعلیمی ماڈل (Accelerated Learning)
پہلے مرحلے میں 6 پائلٹ اسکولوں میں عربی زبان، بنیادی حساب اور ضروری فہم کے خصوصی کریش کورسز شروع کیے گئے ہیں تاکہ تین سالہ تعلیمی خلا کو کم سے کم وقت میں پر کیا جا سکے۔
🧩 نفسیاتی بحالی اور تفریحی سیشنز
کلاس روم میں صرف کتاب نہیں بلکہ ڈرائنگ، اسپورٹس اور کونسلنگ کو شامل کیا گیا ہے تاکہ بچے جنگ کے خوف سے باہر نکل کر دوبارہ ایک نارمل سماجی ماحول میں سانس لے سکیں۔
⛺ عارضی تعلیمی مراکز کا قیام
وزارتِ تعلیم کے اشتراک سے 359 خیمہ اور شیلٹر اسکول فعال کیے گئے ہیں جہاں مقامی بے گھر اساتذہ کو دوبارہ تدریسی عمل میں رضاکارانہ طور پر شامل کیا جا رہا ہے۔
📦 تدریسی کٹس اور اسٹیشنری سپلائی
عالمی اداروں نے کاپیاں، پنسلیں اور کینوس بیگز تقسیم کیے ہیں تاکہ وسائل سے محروم خاندانوں کے لیے بچوں کو کلاس تک لانا معاشی بوجھ نہ بنے۔
سفر ابھی بہت طویل ہے
ستمبر میں نئے تعلیمی سال سے پہلے اقوام متحدہ کے تعلیمی شراکت دار غزہ بھر میں 359 عارضی تعلیمی مقامات چلا یا تیار کر رہے تھے۔ اگست کے اختتام تک ایک لاکھ 55 ہزار سے زیادہ اسکول بیگز اور ایک ہزار سے زائد تعلیمی کٹس بھی فراہم کی جا چکی تھیں۔
As a new school year begins, children in Gaza are returning to learning amid the devastation of the Israeli war. In makeshift classrooms set up in tents and metal shelters, they continue to pursue an education—holding on to hope and the possibility of a better future.…
— غزة 24 | التغطية مستمرة (@Gaza24Live) September 19, 2026
یہ اعداد و شمار اُمید افزا ضرور ہیں، مگر بحران کے سامنے دستیاب وسائل بہت کم اور ضرورت بہت زیادہ ہے۔
اساتذہ کو ایک ہی وقت میں بہت زیادہ بچوں، مختلف کلاسز اور محدود وسائل کا سامنا ہے۔ بعض مقامات پر روزانہ 3 شفٹیں چلانے اور طلبہ و طالبات کے دن الگ کرنے تک کی نوبت آ چکی ہے۔
اسکول واپسی کا مطلب صرف پڑھائی نہیں
غزہ کے بچوں کے لیے کلاس روم میں واپسی کا مطلب صرف کتاب کھولنا نہیں ہے، بلکہ یہ معمول کی زندگی، دوستوں، کھیل اور مستقبل سے دوبارہ جڑنے کی کوشش بھی ہے۔
یونیسیف کے حالیہ پروگراموں میں اسی لیے پڑھائی کے ساتھ کھیل، نفسیاتی مدد اور بچوں کو جنگ کے اثرات سے نکلنے میں مدد دینے والی سرگرمیاں بھی شامل ہیں۔
🔮
آگے کیا ہوگا؟ کیا غزہ کے بچے تعلیمی نقصان پورا کر پائیں گے؟
➔
آگے کیا ہوگا؟ کیا غزہ کے بچے تعلیمی نقصان پورا کر پائیں گے؟
نصاب کو مختصر اور عملی بنانا
ماہرین کے مطابق مکمل روایتی نصاب پڑھانا ممکن نہیں رہا؛ اب صرف عربی زبان، بنیادی سائنس اور ریاضی پر فوکس کر کے بچوں کو اگلی جماعتوں کے لیے اہل بنانا ہوگا۔
اسکول عمارتوں کی تعمیرِ نو
93 فیصد عمارتوں کی بحالی کے لیے اربوں ڈالر کی مستقل بین الاقوامی فنڈنگ اور تعمیراتی سامان کی بلارکاوٹ ترسیل کے بغیر تعلیمی بحران مستقل حل نہیں ہو سکتا۔
اسکول چھوڑنے کی شرح میں اضافہ
اگر خیمہ اسکولوں کو سردیوں میں محفوظ چھت اور پینے کا صاف پانی نہ ملا تو غربت کے ستائے خاندان بچوں کو تعلیم کے بجائے روزگار اور امداد کی تلاش میں لگا سکتے ہیں۔
بچوں اور اساتذہ کا غیر متزلزل عزم
وسائل کی سخت کمی کے باوجود لاکھوں بچوں کا قلم تھام کر خیموں کا رخ کرنا ثابت کرتا ہے کہ غزہ کا تعلیمی مستقبل تاریک نہیں اور یہ قوم اپنی شناخت علم سے جوڑے ہوئے ہے۔
⚖️ فیصلہ کن موڑ
غزہ میں خیمے اسکول ضرور بن گئے ہیں مگر یہ ایک ہنگامی بندوبست ہے۔ بچوں کا اصل مستقبل اس بات پر منحصر ہے کہ عالمی برادری کتنی جلدی ملبے کو ہٹا کر وہاں ایک بار پھر مضبوط اور پرامن کلاس روم تعمیر کرتی ہے۔
ستمبر میں تنظیم نے بتایا کہ غزہ اور مغربی کنارے میں لاکھوں بچوں نے موسمِ گرما کے دوران ایسی تعلیمی اور تفریحی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔
غزہ میں آج ایک خیمے میں بیٹھا بچہ شاید میز، کتاب یا کسی پرسکون کلاس روم سے محروم ہو، مگر اس کے ہاتھ میں دوبارہ پنسل آنا خود ایک بڑی تبدیلی ہے۔
جنگ نے اسکول چھین لیے، مگر تعلیم کی طرف واپسی یہ بتاتی ہے کہ غزہ کے بچوں کے لیے مستقبل کا دروازہ ابھی مکمل طور پر بند نہیں ہوا اور یہ معصوم علم کے حصول کے لیے پُرعزم ہیں۔