سیاہ پٹیوں کے پیچھے اصل کہانی کیا ہے؟
+
سیاہ پٹیوں کے پیچھے اصل کہانی کیا ہے؟
اسرائیلی ٹیم: ’7.10‘ کا مخصوص بیانیہ
اسرائیلی کھلاڑی 7 اکتوبر 2023 کے حملوں کو اجاگر کرنے کے لیے میدان میں اترے۔ اسرائیلی کپتان ڈور پیریٹز نے اپنے بازو پر ’7.10‘ کندہ سیاہ پٹی پہن رکھی تھی تاکہ عالمی میڈیا پر اسرائیلی ہلاکتوں کو مرکزی موضوع کے طور پر پیش کیا جا سکے۔
آئرش ٹیم: غزہ کے متاثرین کے لیے سوگ
دوسری طرف آئرش کھلاڑیوں نے غزہ پر جاری بمباری میں شہید ہونے والے دسیوں ہزار بے گناہ فلسطینیوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے سیاہ پٹیاں باندھیں، جس نے کھیل کے میدان کو بیک وقت دو متضاد عالمی بیانیوں کا اکھاڑا بنا دیا۔
یہ بظاہر کپڑے کی سادہ پٹیاں تھیں، لیکن 90 منٹ کے دوران دونوں ٹیموں نے ایک دوسرے سے بات کیے بغیر دنیا کو واضح کر دیا کہ جنگ اور سیاست کی لکیریں اب فٹ بال کی پچ پر بھی گہری کھنچ چکی ہیں۔
اسرائیل اور آئرلینڈ کے درمیان یوئیفا نیشنز لیگ کا مقابلہ بظاہر فٹ بال میچ تھا، لیکن سربیا کے شہر باچکا ٹوپولا میں بند دروازوں کے پیچھے کھیلے گئے اس میچ میں کھیل سے زیادہ توجہ کھلاڑیوں کے بازوؤں پر بندھی سیاہ پٹیوں اور میدان میں نظر آنے والے سیاسی تناؤ نے حاصل کی۔
مزید پڑھیں
اسرائیلی کھلاڑی 7 اکتوبر 2023 کے حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی یاد میں سیاہ پٹیاں باندھ کر میدان میں اترے۔ اسرائیلی کپتان ڈور پیریٹز کی پٹی پر ’7.10‘ بھی درج تھا۔
وہیں آئرش کھلاڑیوں نے غزہ متاثرین کے لیے سیاہ پٹیاں باندھیں۔
مصافحہ بھی نہیں، ترانے پر سر جھک گئے
میچ سے پہلے ہی واضح ہوگیا تھا کہ یہ معمول کا مقابلہ نہیں ہوگا۔
💬
7 اکتوبر سے غزہ تک؛ سوشل میڈیا پر کیا بحث چھڑی؟
◆
7 اکتوبر سے غزہ تک؛ سوشل میڈیا پر کیا بحث چھڑی؟
یکطرفہ ہمدردی پر عوامی تنقید کی لہر
جیسے ہی اسرائیلی ٹیم کی تصاویر سامنے آئیں، سوشل میڈیا صارفین نے سوال اٹھایا کہ اگر 7 اکتوبر کی ہلاکتوں پر سوگ جائز ہے تو غزہ میں شہید ہونے والے 21 ہزار سے زائد معصوم بچوں اور لاکھوں بے گھر شہریوں کی نسل کشی پر خاموشی کیوں؟
1948 سے 1994 تک: خونریز تاریخ کی یاد دہانی
صارفین نے تاریخی دستاویزی حوالے شیئر کرتے ہوئے دیر یاسین، طنطورہ، کفر قاسم، صبرا و شتیلا اور 1994 کے مسجد ابراہیمی قتل عام کا ذکر چھیڑ دیا کہ مسئلہ 7 اکتوبر سے نہیں بلکہ دہائیوں پرانے ریاستی جبر سے شروع ہوا تھا۔
دوہرا مغربی معیار اور کھیلوں کا پلیٹ فارم
سوشل میڈیا پر بحث اٹھی کہ جب روس کو یوکرین جنگ پر تمام بین الاقوامی کھیلوں سے فی الفور باہر کر دیا گیا تو اسرائیل کو نسل کشی کے سنگین الزامات کے باوجود یورپی ٹورنامنٹس میں شرکت کی کھلی چھوٹ کیوں ملی ہوئی ہے؟
لبنان پر فضائی حملوں کا بڑھتا تناظر
کئی مبصرین نے لبنان اور بیروت میں اسرائیلی کارروائیوں کا حوالہ دے کر کہا کہ اسرائیلی ریاست خطے میں جنگ کو وسعت دے رہی ہے، لہٰذا اسپورٹس فیڈریشنز کو سیاسی مظلومیت کا لبادہ اوڑھنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔
آئرش باضمیر موقف کی عالمی پذیرائی
سوشل میڈیا ٹرینڈز میں آئرش کھلاڑیوں کے مصافحہ نہ کرنے اور ترانے پر سر جھکا کر احتجاج درج کرانے کو سراہا گیا اور اسے تاریخی نوآبادیاتی جبر کے خلاف آئرلینڈ کی قدرتی اخلاقی فتح قرار دیا گیا۔
آئرش کھلاڑیوں نے اسرائیلی ٹیم کے ساتھ روایتی مصافحہ نہیں کیا، جبکہ اسرائیلی قومی ترانے کے دوران انہوں نے سر جھکائے رکھے۔
صرف یہی نہیں، کھیل کے دوران میدان میں بھی ماحول کشیدہ رہا۔
اسرائیل بمقابلہ آئرلینڈ: فٹ بال میچ میں غزہ کا پیغام
بند دروازوں کے پیچھے مقابلہ، مصافحے سے انکار اور سیاہ پٹیوں نے کھیل کو مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کی علامت بنا دیا۔
آئرش اور اسرائیلی ٹیموں کے درمیان نیشنز لیگ کا مقابلہ محض کھیل تک محدود نہ رہا بلکہ غزہ کے متاثرین کے حق میں علامتی احتجاج اور سفارتی تناؤ کا نیا محاذ بن گیا۔
🖤 سیاہ پٹیوں کا احتجاج
آئرش کھلاڑیوں نے غزہ جنگ کے متاثرین کی یاد میں سیاہ پٹیاں باندھیں جبکہ سوشل میڈیا پر نہتے فلسطینیوں کے جانی نقصان کی گونج سنائی دی۔
🗳️ معطلی کی قرارداد
آئرش فٹ بال ایسوسی ایشن نے صرف 7 ووٹوں کے مقابلے میں بھاری اکثریت سے اسرائیلی ٹیم کو یورپی مقابلوں سے باہر نکالنے کی توثیق کی۔
🏟️ غیر جانبدار اور بند میدان
سکیورٹی خدشات اور دباؤ کے باعث میچ آئرلینڈ کے بجائے سربیا منتقل ہوا جہاں دونوں حریف خالی اسٹیڈیم میں ایک دوسرے کے مدمقابل آئے۔
🤝 مصافحے سے گریز
آئرش کھلاڑیوں نے مخالف کھلاڑیوں سے ہاتھ ملانے سے پرہیز کیا اور ترانے کے دوران سر جھکا کر میدان میں واضح علامتی سرد مہری دکھائی۔
اوورسیز پوسٹ انٹرایکٹیو انفوگرافک سسٹم
ٹرائے پیروٹ نے پنالٹی پر آئرلینڈ کو برتری دلائی، مگر دوسرے ہاف کے آغاز میں ڈور پیریٹز نے اسرائیل کے لیے گول کرکے مقابلہ 1-1 سے برابر کردیا۔
@UEFA has approved the Israel Football Association’s request for the national team to wear black armbands in tonight’s match against @IrelandFootball in memory of those murdered in the October 7 massacre. May their memory be a blessing. https://t.co/nWyl32B4oP
— ISRAEL FA (@ISRAELFA) October 4, 2026
سیاہ پٹیوں نے پرانی تاریخ پھر کھول دی
اسرائیلی ٹیم کی جانب سے 7 اکتوبر کے متاثرین کی یاد منانے کے بعد سوشل میڈیا پر بحث نے نیا رخ اختیار کرلیا۔ صارفین نے سوال اٹھایا کہ اگر 7 اکتوبر کو یاد کیا جارہا ہے تو فلسطینیوں کی طویل تاریخ کے خونریز واقعات کو کیوں فراموش کیا جائے؟
آئرلینڈ کا احتجاج صرف ایک میچ تک محدود نہیں
▼
آئرلینڈ کا احتجاج صرف ایک میچ تک محدود نہیں
میدان میں سفارتی بائیکاٹ: مصافحے سے انکار
میچ کے آغاز پر روایتی مصافحہ نہ کرنا اور اسرائیلی ترانے کے دوران سر جھکا رکھنا محض وقتی غصہ نہیں تھا بلکہ آئرش کھلاڑیوں کا ایک منظم اور سوچا سمجھا علامتی احتجاج تھا جس نے کیمروں کے سامنے سب کو ہلا کر رکھ دیا۔
ہوم میچ ڈبلن سے سربیا منتقل کرنے کا فیصلہ
یہ میچ دراصل آئرلینڈ کا ہوم گراؤنڈ مقابلہ تھا، مگر آئرش عوام اور سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر آئرش فٹ بال ایسوسی ایشن نے اسے اپنے ملک میں کرانے سے انکار کیا اور یوئیفا کو مجبور کیا کہ وہ اسے غیر جانبدار ملک سربیا لے جائے۔
ایف اے آئی جنرل اسمبلی کی 74 بمقابلہ 7 تاریخی ووٹنگ
نومبر 2025 میں آئرش فٹ بال ایسوسی ایشن کے ارکان نے 7 کے مقابلے میں 74 کی بھاری اکثریت سے قرارداد منظور کی تھی کہ یوئیفا فوری طور پر اسرائیلی فٹ بال کو معطل کرے، جو یورپی کھیلوں میں اسرائیل کے خلاف سب سے بڑی باضابطہ مہم ہے۔
آئرش عوام کی تاریخی و نوآبادیاتی یکجہتی
آئرلینڈ برطانوی تسلط کی اپنی تلخ تاریخ کے باعث فلسطین پر اسرائیلی قبضے کو خالصتاً نوآبادیاتی جبر سمجھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آئرش پارلیمنٹ، عوام اور اب کھیلوں کے میدان بھی کھل کر فلسطین کے حق میں کھڑے ہیں۔
پوسٹس میں 1948 کے دیر یاسین اور طنطورہ سے لے کر ابو شوشہ، عیلبون اور الدوائمہ، پھر قبیہ، کفر قاسم، خان یونس اور رفح کے واقعات یاد کیے گئے۔ صبرا و شتیلا، 1990 کے مسجد اقصیٰ کے واقعات اور 1994 کے مسجد ابراہیمی قتل عام کا ذکر بھی دوبارہ سامنے آیا۔
21 ہزار بچے: غزہ پھر مرکزِ بحث
سوشل میڈیا پر سب سے زیادہ توجہ موجودہ غزہ جنگ پر رہی۔
ایک صارف نے ’21 ہزار‘ کا ہندسہ شیئر کرتے ہوئے اسے جنگ میں مارے جانے والے فلسطینی بچوں کی تعداد قرار دیا۔
متعدد پوسٹس کا مرکزی نکتہ یہی تھا کہ 7 اکتوبر کے اسرائیلی متاثرین کو یاد کرتے وقت غزہ کے فلسطینی شہریوں، بالخصوص بچوں اور خواتین کی ہلاکتوں کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ بعض صارفین نے لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے متاثرین کا ذکر بھی کیا۔
میچ آئرلینڈ میں ہونا تھا، سربیا پہنچ گیا
اس مقابلے کا پس منظر بھی غیر معمولی تھا۔
یہ دراصل آئرلینڈ کا ’ہوم میچ‘ تھا اور اسے آئرلینڈ ہی میں ہونا تھا، لیکن آئرش فٹ بال ایسوسی ایشن نے ’آپریشنل چیلنجز‘ کے باعث اسے غیر جانب دار مقام منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
🏟️
فٹ بال کے میدان میں اسرائیل تنہا کیوں دکھائی دیا؟
›
فٹ بال کے میدان میں اسرائیل تنہا کیوں دکھائی دیا؟
خالی اسٹیڈیم اور شائقین کی غیر موجودگی
سربیا کے ٹی ایس سی ایرینا میں میچ تماشائیوں کے بغیر کرایا گیا۔ کوئی بھی یورپی ملک عوامی احتجاج اور مظاہروں کے خوف سے اسرائیلی میچز کھلے میدان میں شائقین کی موجودگی میں منعقد کرانے پر تیار نہیں ہے۔
روایتی اسپورٹس مین شپ کا خاتمہ
کھیل کے روایتی آداب جیسے مصافحہ اور یادگاری علامات کا تبادلہ آئرش کھلاڑیوں نے مکمل مسترد کر دیا۔ حریف ٹیم کا یہ سرد رویہ اسرائیلی ٹیم کے لیے ایک کھلی بین الاقوامی بیگانگی بن گیا۔
یوئیفا اور فیفا میں معطلی کی لٹکتی تلوار
فلسطینی فٹ بال فیڈریشن اور اب آئرلینڈ کی باقاعدہ معطلی کی درخواستوں نے اسرائیل کی یورپی مقابلوں میں قانونی بقا پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جس سے فیفا پر دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔
سفارتی تنہائی کا کھیلوں میں عکس
غزہ جنگ نے عالمی رائے عامہ کو جس طرح بدلا ہے، اس نے اسرائیلی ریاست کو ثقافتی اور کھیلوں کے تمام فورمز پر اچھوت بنا دیا ہے جہاں کھلاڑی اب عام کھلاڑی نہیں بلکہ جنگی ریاست کے نمائندے سمجھے جا رہے ہیں۔
حتمی نتیجہ: 90 منٹ کا کھیل 1-1 پر برابر رہا، مگر اسٹیڈیم کی گونجتی خاموشی اور کٹے ہوئے رابطوں نے ثابت کیا کہ اسرائیل اخلاقی اور سفارتی میدان میں شدید تنہائی کا شکار ہو چکا ہے۔
اس طرح یوئیفا کی منظوری کے بعد سربیا کے ٹی ایس سی ایرینا میں میچ تماشائیوں کے بغیر کھیلا گیا۔
اسرائیل کی یورپی فٹ بال میں موجودگی پہلے ہی آئرلینڈ میں بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔ نومبر 2025 میں آئرش فٹ بال ایسوسی ایشن کی جنرل اسمبلی نے 74 کے مقابلے میں صرف 7 ووٹوں سے اسرائیلی فٹ بال ایسوسی ایشن کو یوئیفا مقابلوں سے معطل کرنے کی درخواست آگے بڑھانے کی حمایت کی تھی۔
90 منٹ کا کھیل بڑے تنازع کی علامت
دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں ٹیمیں صرف ایک ہفتے پہلے بھی آمنے سامنے آئی تھیں اور آئرلینڈ نے وہ مقابلہ 3-0 سے جیتا تھا۔
دونوں میچ سیاسی دباؤ اور غزہ جنگ کے سائے میں غیر جانب دار مقامات پر تماشائیوں کے بغیر کھیلے گئے۔
دوسرا مقابلہ 1-1 پر ختم ہوگیا، مگر اس کی اصل کہانی اسکور بورڈ سے کہیں بڑی بن گئی۔
ایک طرف ’7.10‘ والی سیاہ پٹی تھی، دوسری جانب غزہ کے لیے سیاہ پٹیاں، جھکے سر اور مصافحے سے انکار۔
اس طرح فٹ بال کے 90 منٹ ختم ہوگئے، لیکن میدان میں اٹھنے والی بحث نے ایک بار پھر دکھا دیا کہ اسرائیل اور فلسطین کا تنازع اب صرف سیاست اور جنگ کے میدان تک محدود نہیں، بلکہ کھیل کا میدان بھی اس سے الگ نہیں رہا۔