🛂
فیکٹ باکس: برطانیہ کے نئے ڈیجیٹل سفری نظام کے 5 اہم حقائق
+
برطانوی حکومت نے 6 اکتوبر 2026 کو باضابطہ اعلان کیا کہ ملک کے مرکزی ہوائی اڈوں پر مسافروں کے لیے پاسپورٹ ریڈر مشین پر دستاویز اسکین کیے بغیر محض چہرے کی بائیومیٹرک شناخت سے داخلے کا نیا مرحلہ وار نظام نافذ کیا جا رہا ہے۔
ابتدائی مرحلے میں یہ کانٹیکٹ لیس سروس صرف برطانوی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے مختص کی گئی ہے، جبکہ دیگر ممالک کے اہل مسافروں کو جائزے کے بعد مستقبل میں بتدریج اس دائرے میں لایا جائے گا۔
وزارتِ داخلہ کے اسٹریٹجک منصوبے کے مطابق 2027 کے آغاز تک لندن ہیتھرو، گیٹ وک اور مانچسٹر سمیت تمام برطانوی ایئرپورٹس کے ای گیٹس کو خودکار فیشل ریکگنیشن ٹیکنالوجی سے مکمل لیس کیا جائے گا۔
بغیر ویزا سفر کرنے والے مسافروں کو سفر سے قبل آن لائن ای ٹی اے حاصل کرنا ضروری ہے، تاکہ ان کا ڈیجیٹل ریکارڈ اور سفری اجازت ایئرپورٹ کے بائیومیٹرک سرور سے خودکار منسلک ہو سکے۔
چہرہ اسکین ہونے کے باوجود مسافروں کو اصل فزیکل پاسپورٹ ساتھ رکھنا لازمی ہے۔ کسی بھی تکنیکی خرابی، مس میچ یا اضافی سیکیورٹی جانچ کی صورت میں سرحدی اہلکار روایتی جانچ کا طریقہ اختیار کریں گے۔
تصور کریں کہ آپ بیرون ملک سے لندن پہنچتے ہیں، جہاز سے اترتے ہیں اور امیگریشن کاؤنٹر پر پاسپورٹ نکالنے یا مہر لگوانے کے بجائے صرف ایک کیمرے کے سامنے سے گزرتے ہیں۔
مزید پڑھیں
ایسا نظام، جہاں چند سیکنڈ میں آپ کی شناخت کی تصدیق ہوجاتی ہے اور پھر فوراً دروازہ کھل جاتا ہے۔
نہ طویل قطار، نہ بار بار دستاویزات دکھانے کی زحمت۔
برطانیہ اسی طرح کے ڈیجیٹل سفری نظام کی طرف بڑھ رہا ہے، جو آنے والے برسوں میں ہوائی سفر کا تجربہ بدل سکتا ہے۔
یہ تبدیلی محض سہولت تک محدود نہیں، بلکہ اس کے ساتھ ذاتی
معلومات کے تحفظ، نگرانی اور ٹیکنالوجی کی درستگی جیسے سوالات بھی جڑے ہیں۔
اصل معاملہ یہ ہے کہ جب انسان کا چہرہ ہی اس کی شناخت بن جائے تو سفر کتنا آسان اور کتنا محفوظ ہوگا؟
چہرہ ہی پاسپورٹ: برطانیہ میں ڈیجیٹل ہوائی سفر کا آغاز
کاغذی مہروں اور قطاروں کے خاتمے کے لیے جدید بائیومیٹرک اسکیننگ گیٹس کا تیز رفتار نفاذ
مرحلہ وار سرکاری نفاذ ✈️
برطانوی وزارت داخلہ نے پاسپورٹ ریڈر کے بغیر چہرے سے شناخت کرنے والی بائیومیٹرک ٹیکنالوجی کی تنصیب شروع کر دی۔
تمام ای گیٹس کی اپ گریڈیشن 🛂
ملک بھر کے تمام ہوائی اڈوں کے ڈیجیٹل دروازوں کو جدید کیمروں سے لیس کرنے کا مکمل ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
ابتدائی مرحلے میں شہریوں کی شمولیت 👥
پہلے مرحلے میں یہ سہولت مخصوص برطانوی شہریوں تک محدود ہے جبکہ دیگر غیر ملکی مسافروں کو بعد میں مرحلہ وار شامل کیا جائے گا۔
نجی ڈیٹا اور رازداری کے تحفظات 🔒
انسانی حقوق کے اداروں نے مسافروں کی تصاویر اور بائیومیٹرک ریکارڈ تک رسائی پر نجی زندگی کے ممکنہ زیاں پر انتباہ جاری کیا۔
اوورسیز پوسٹ انٹرایکٹیو انفوگرافک سسٹم
پاسپورٹ اسٹیمپ کا دور ختم؟
برطانوی وزارت داخلہ سرحدی نظام کو جدید بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس منصوبے میں چہرے کی شناخت کرنے والے جدید کیمرے اور بائیومیٹرک گیٹس اہم کردار ادا کریں گے۔
یہ ٹیکنالوجی مسافر کے چہرے کا موازنہ پہلے سے محفوظ ڈیجیٹل معلومات سے کرکے اس کی شناخت کی تصدیق کرسکتی ہے۔
برطانوی ہوائی اڈوں، خصوصاً ہیتھرو، گیٹ وک اور مانچسٹر پر اس نظام سے مصروف اوقات میں رش کم کرنے کی امید ہے۔
دستی جانچ کے مقابلے میں خودکار تصدیق تیز ہوسکتی ہے، تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر مسافر کے لیے انسانی افسر کی ضرورت مکمل طور پر ختم ہوجائے گی۔
📷
چہرہ اسکین ہوتے ہی کیا ہوگا؟ ایئرپورٹ پر سفر کا نیا طریقہ
مراحل
مسافر کو ای گیٹ پر رک کر پاسپورٹ بک لیٹ کھولنے یا مشین کے شیشے پر اسکین کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی، بلکہ وہ مقررہ لین سے گزرتے ہوئے سامنے نصب ہائی ریزولوشن کیمرے کی طرف محض چند سیکنڈ دیکھتا ہے۔
سسٹم چہرے کے خدوخال (Biometric Coordinates) کا موازنہ مسافر کے پاسپورٹ فوٹو، ویزا اور ای ٹی اے کے ڈیجیٹل ڈیٹا بیس سے ملاتا ہے تاکہ سیکیورٹی کلیئرنس اور سفری اجازت کی آن لائن تصدیق ہو سکے۔
شناخت کی مکمل تصدیق ہوتے ہی خودکار اسمارٹ بیریئر سیکنڈوں میں کھل جاتا ہے۔ اگر کیمرہ شناخت نہ کر سکے یا سسٹم کو اضافی تصدیق درکار ہو تو مسافر کو متبادل اسکیننگ یا امیگریشن کاؤنٹر کی جانب موڑ دیا جاتا ہے۔
موبائل فون سے امیگریشن تک
اس ڈیجیٹل نظام کا ایک اہم حصہ الیکٹرانک ٹریول اتھارائزیشن (ETA) ہے۔ یہ ان اہل غیر ملکی مسافروں کے لیے سفری اجازت کا نظام ہے، جنہیں مختصر دورے کے لیے روایتی ویزا درکار نہیں ہوتا۔
درخواست کے دوران مسافر اپنی معلومات اور پاسپورٹ کی تفصیلات فراہم کرتا ہے، جس کے بعد اس کی سفری اجازت کی جانچ کی جاتی ہے۔
ہوائی اڈے پر کیمرہ چہرے کو ڈیجیٹل ریکارڈ سے ملانے میں مدد دیتا ہے۔
UK to introduce contactless airport eGates, making entry faster for travellers https://t.co/X17G5CWWK2
— Economic Times (@EconomicTimes) October 16, 2026
برطانیہ میں رہائشی اجازت رکھنے والے افراد کی معلومات بھی متعلقہ ڈیجیٹل ریکارڈ سے منسلک ہوسکتی ہیں۔ اس طرح بار بار کاغذی دستاویزات دکھانے کی ضرورت کم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
البتہ فی الوقت ETA کو پاسپورٹ کا مکمل متبادل سمجھنا درست نہیں۔ سفری اجازت، پاسپورٹ اور سرحد پر شناخت کی تصدیق الگ الگ مراحل ہیں اور مسافروں کو متعلقہ سفری دستاویزات ساتھ رکھنے کی ضرورت پڑسکتی ہے۔
پاکستانی مسافروں کے لیے کتنی اہم ہے یہ نئی ٹیکنالوجی؟
سفری اثرات
پاکستانی شہری جو معمول کے اسٹینڈرڈ وزٹ، بزنس یا فیملی ویزے پر برطانیہ سفر کرتے ہیں، وہ ابتدائی مرحلے میں اس خودکار نظام کا حصہ نہیں ہوں گے۔ ان کے لیے کاغذی ویزا اسٹیکر یا روایتی کاؤنٹر پر بارڈر فورس کے عملے کے سامنے پاسپورٹ پیش کرنا بدستور لازمی رہے گا۔
دوہری شہریت رکھنے والے وہ برطانوی پاکستانی جن کے پاس برطانوی پاسپورٹ ہے، وہ اس کانٹیکٹ لیس سہولت سے فوری مستفید ہو کر قطاروں سے بچ سکیں گے۔ جبکہ برطانیہ کے رہائشی اجازت نامے (eVisa) کے حامل افراد کا ڈیٹا مستقبل کی توسیع میں منسلک ہونے کا امکان ہے۔
اکتوبر 2026 سے آغاز، مگر سب کے لیے نہیں
برطانوی حکومت نے 6 اکتوبر 2026 کو اعلان کیا کہ ہوائی اڈوں پر بغیر پاسپورٹ ریڈر استعمال کیے شناخت کی تصدیق کرنے والی ٹیکنالوجی مرحلہ وار متعارف کرائی جارہی ہے۔
منصوبے کے مطابق 2027 کے آغاز تک تمام برطانوی ہوائی اڈوں کے ای گیٹس کو اپ گریڈ کرنے کا ہدف ہے۔
تاہم ایک اہم بات یہ ہے کہ ابتدائی مرحلے میں یہ سہولت صرف برطانوی شہریوں کے لیے ہے اور دوسرے اہل مسافروں کو مستقبل میں اس نظام میں شامل کرنے پر غور کیا جارہا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ پاسپورٹ ساتھ رکھنا اب بھی لازمی ہے اور امیگریشن و سکیورٹی کی معمول کی جانچ بھی جاری رہے گی۔ اگر کیمرہ شناخت کی تصدیق نہ کرسکے تو مسافر کو پاسپورٹ اسکین کرنے یا سرحدی افسر سے رجوع کرنے کے لیے کہا جاسکتا ہے۔
⚠️
سہولت یا خطرہ؟ چہرے کی شناخت سے جڑے بڑے سوالات
▼
شہری آزادیوں کے تحفظ پر کام کرنے والی تنظیم 'بگ برادر واچ' نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ قومی پاسپورٹ امیجز اور لاکھوں مسافروں کے لائیو بائیو میٹرکس کا مسلسل استعمال ریاستی نگرانی کے نیٹ ورک کو وسعت دے سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق فیشل ریکگنیشن الگورتھمز میں بعض اوقات نسلی، جنسی یا داڑھی اور چشمے کی وجہ سے غلط مماثلت کا اندیشہ رہتا ہے، جس کی بدولت بے قصور مسافروں کو ناپسندیدہ تاخیر کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
کریڈٹ کارڈ یا پاسورڈ چوری ہو جائے تو اسے تبدیل کیا جا سکتا ہے، لیکن بائیومیٹرک چہرہ مستقل شناخت ہے۔ اگر مرکزی ڈیٹا بیس تک غیر مجاز رسائی ہو جائے تو مسافر کی مستقل نجی معلومات کے تحفظ پر سمجھوتہ ہو سکتا ہے۔
محض خودکار مشینوں پر مکمل انحصار کے بجائے سرحدی پروٹوکول میں انسانی افسران کی حتمی شمولیت لازم رکھی گئی ہے تاکہ سسٹم کی خرابی کی صورت میں ہنگامی اور منصفانہ متبادل موجود رہے۔
سہولت کے ساتھ رازداری بھی اہم
چہرے کی شناخت سے سفر آسان ہوسکتا ہے، لیکن اس ٹیکنالوجی کے استعمال پر تحفظات بھی موجود ہیں۔
انسانی حقوق کی تنظیم بگ برادر واچ نے خبردار کیا ہے کہ پاسپورٹ اور امیگریشن ریکارڈ میں موجود تصاویر تک رسائی اور چہرے کی شناخت کے بڑھتے ہوئے استعمال سے لوگوں کی نجی زندگی متاثر ہوسکتی ہے۔
UK introducing new contactless technology at airport eGates, allowing eligible travellers to pass through immigration checks without presenting their passports. The phased rollout began on October 6, with all eGates expected to be upgraded by early 2027. https://t.co/VFE67x4E2y
— TAG Travel Assignment Group (@TAGTravel_Za) October 13, 2026
اس کے علاوہ غلط شناخت، تکنیکی خرابی اور مختلف افراد کے چہروں کو درست طور پر پہچاننے کی صلاحیت بھی اہم معاملات ہیں۔
اسی لیے ڈیٹا کے تحفظ، واضح قوانین اور غلطی کی صورت میں انسانی مداخلت کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔
🔭
اگلا قدم کیا ہوگا؟ کیا پاسپورٹ اور بورڈنگ پاس ماضی بن جائیں گے؟
+
طویل مدتی وژن میں ایئرپورٹ کی حدود میں داخلے سے لے کر سامان جمع کرانے (Baggage Drop)، سیکیورٹی گیٹ، لاؤنج اور فلائٹ بورڈنگ تک ہر مرحلے کو صرف چہرے کے اسکین سے منسلک کرنے کی کوششیں جاری ہیں، تاہم اس کا انحصار متعلقہ ایئرلائنز کے اپنے سسٹمز پر ہوگا۔
کاغذی پاسپورٹ کا مکمل خاتمہ فی الحال ناممکن دکھائی دیتا ہے۔ بین الاقوامی سول ایوی ایشن آرگنائزیشن (ICAO) کے معاہدوں، مختلف ممالک کے الگ الگ سیکیورٹی معیارات اور تکنیکی بلیک آؤٹ کے خطرات کے پیش نظر کاغذی دستاویز طویل عرصے تک ایک بنیادی شناخت رہے گی۔
آنے والے برسوں میں دنیا بھر کی حکومتوں کو چہرے کی شناخت کے استعمال کو باقاعدہ بنانے کے لیے نئے بین الاقوامی ضابطے وضع کرنا ہوں گے، تاکہ مسافروں کی سہولت کے ساتھ ساتھ ان کے ذاتی ڈیٹا، سفری آزادی اور پرائیویسی کا قانونی تحفظ ممکن ہو سکے۔
کیا ٹکٹ کی ضرورت ختم ہوگی؟
دنیا بھر میں فضائی سفر کو ڈیجیٹل بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔
مستقبل میں چہرے کی شناخت کے ذریعے سامان جمع کرانے، لاؤنج میں داخلے اور جہاز میں سوار ہونے جیسے مراحل بھی آسان ہوسکتے ہیں، بشرطیکہ متعلقہ ایئرلائن اور ہوائی اڈے یہ سہولت فراہم کریں۔
فی الحال برطانیہ کا نیا نظام بنیادی طور پر سرحدی شناخت اور امیگریشن کلیئرنس کو تیز بنانے کے لیے ہے۔ اس لیے یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ مسافروں کو ہر جگہ ٹکٹ، بورڈنگ پاس یا پاسپورٹ کی ضرورت ختم ہوجائے گی۔
اصل تبدیلی یہ ہے کہ مستقبل کے ہوائی سفر میں دستاویزات کے بجائے ڈیجیٹل شناخت کا کردار بڑھتا جائے گا۔
مسافر کے لیے یہ وقت کی بچت اور آسانی کا سبب بن سکتا ہے، لیکن اس سہولت کی کامیابی کا انحصار اس بات پر بھی ہوگا کہ ٹیکنالوجی کتنی قابل اعتماد اور لوگوں کی نجی معلومات کتنی محفوظ رہتی ہیں۔