⚓
فیکٹ باکس: چین، شمالی کوریا اور جاپان کے پاس کیا ہے؟
+
طیارہ بردار جہاز لیاؤننگ کے ہمراہ جدید ٹائپ 055 اور 052 ڈی گائیڈڈ میزائل تباہ کن جہاز شامل ہیں، جو مغربی بحرالکاہل میں دور تک مربوط فضائی تحفظ اور طوفانی حالات میں مشترکہ بحری حملے کی صلاحیت فراہم کرتے ہیں۔
تقریباً 3 ہزار ٹن وزنی آبدوز 'ہیرو کم کون اوک' سے عمودی اور تارپیڈو ٹیوبز کے ذریعے داغے جانے والے نئے اسٹریٹجک کروز میزائل، جن کی ممکنہ رینج لگ بھگ 2 ہزار کلومیٹر اور چھوٹے جوہری وارہیڈ لے جانے کے تخمینے ہیں۔
پڑوسی ممالک کی سرگرمیوں کے پیش نظر وزیراعظم سانائے تاکائیچی نے جوہری توانائی سے چلنے والی آبدوزوں کے آپشن کا جائزہ لینے کا اعلان کیا ہے، تاکہ طویل زیرِ آب گشت اور بحرالکاہل میں نگرانی کو مضبوط بنایا جا سکے۔
مشرقی ایشیا میں طاقت کا کھیل اب صرف جنگی طیاروں اور فوجی اڈوں تک محدود نہیں رہا، بلکہ سمندر میں طیارہ بردار بحری جہازوں کی نقل و حرکت، پانی کے نیچے سے میزائل داغنے کی صلاحیت اور جوہری توانائی سے چلنے والی آبدوزوں پر بحث نے خطے کی سیکیورٹی کو ایک نئے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔
مزید پڑھیں
چین اس وقت اپنی بحری قوت کی پہنچ مزید بڑھا رہا ہے، شمالی کوریا میزائلوں کے نئے طریقے آزما رہا ہے اور جاپان اپنی دفاعی پالیسی کی حدود پر دوبارہ غور کر رہا ہے۔
ان تمام سرگرمیوں کا مطلب یہ نہیں کہ خطے میں جنگ ناگزیر ہوچکی ہے، لیکن اتنا ضرور ہے کہ ہر ملک کو اب اپنے مخالف کی اگلی چال کا اندازہ لگانا پہلے سے زیادہ مشکل دکھائی دیتا ہے۔
چین کی طاقت اور دور تک رسائی
چینی طیارہ بردار بحری جہاز لیاؤننگ رواں سال دوسری مرتبہ مغربی بحرالکاہل کی جانب گیا۔
چینی اخبار ہوان چیو کی رپورٹ کے مطابق 13 اکتوبر کو اس کا بحری دستہ جاپان کے اوکیناوا اور میاکو جزیروں کے درمیان سے گزرا۔
مشرقی ایشیا میں زیرِ سمندر عسکری دوڑ
طیارہ بردار جہازوں کی گشت، زیرِ آب کروز میزائلوں کے تجربات اور جوہری آبدوزوں پر نئی بحث
چین کا بحری بیڑا 🚢
2چینی طیارہ بردار جہاز لیاؤننگ نے جدید گائیڈڈ ڈسٹرائرز کے ہمراہ مغربی بحرالکاہل میں رواں سال دوسری بار گشت مکمل کی۔
شمالی کوریا کے میزائل 🚀
2,000آبدوز سے داغے جانے والے نئے اسٹریٹجک کروز میزائلوں کی ممکنہ مار 2 ہزار کلومیٹر تک ہے جو جوہری وار ہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
جاپانی دفاعی نظرثانی ⚓
3ٹوکیو نے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر 3 روایتی غیر جوہری اصولوں کے برعکس جوہری توانائی سے چلنے والی آبدوزوں کے آپشن پر غور شروع کیا۔
زیرِ آب مخفی صلاحیت 🌊
3,000تین ہزار ٹن وزنی نئی آبدوزوں کی زیرِ آب نقل و حرکت کی سراغ رسانی مشکل ترین چیلنج بن چکی ہے جس سے اچانک حملوں کا خطرہ بڑھ گیا۔
اوورسیز پوسٹ انٹرایکٹیو انفوگرافک سسٹم
اس کے ساتھ 2 جدید ’055‘ طرز کے تباہ کن جنگی جہاز، آن شان اور وو شی، اور ’052 ڈی‘ طرز کا ہوائی نان بھی موجود تھا۔
چین کی حکمت عملی میں طیارہ بردار جہاز محض ایک بڑا جنگی پلیٹ فارم نہیں، بلکہ سمندر میں دور تک فضائی طاقت پہنچانے کا ذریعہ ہے۔
اس کے جنگی طیارے اور ساتھ چلنے والے بحری جہاز مل کر فضائی تحفظ، میزائل دفاع اور حملے کی صلاحیت فراہم کرتے ہیں۔
چین نے مغربی بحرالکاہل میں طیارہ بردار جہاز کے ساتھ مشقوں کا آغاز دسمبر 2016 میں کیا تھا۔
علاقائی کشیدگی
اہم نکات: ایشیا میں ہتھیاروں کی دوڑ کیوں تیز ہو رہی ہے؟
▼
جب ایک ملک اپنی سیکیورٹی کے نام پر نئی بحری یا میزائل ٹیکنالوجی شامل کرتا ہے تو پڑوسی ریاستیں اسے اپنے دفاع کے لیے خطرہ سمجھ کر جواباً ہتھیاروں میں اضافہ کرتی ہیں، جس سے ردعمل کا یہ تسلسل لامحدود ہو جاتا ہے۔
چین اپنے ساحلی راڈاروں اور فضائی دفاع سے پرے کھلے سمندروں میں طیارہ بردار بیڑوں کو متحرک کر رہا ہے، جس سے روایتی دفاعی لائنیں تبدیل ہو رہی ہیں اور مخالفین کو نئے اسٹریٹجک چیلنجز کا سامنا ہے۔
شمالی کوریا کے زمینی لانچرز کی سیٹلائٹ کے ذریعے مسلسل نگرانی کی جا سکتی تھی، لیکن زیرِ آب لانچنگ پلیٹ فارمز کے اضافے نے پیشگی انتباہ کے وقت کو کم ترین سطح پر لا کھڑا کیا ہے۔
جاپان کی جنگ کے بعد اختیار کی گئی سخت دفاعی پالیسیوں پر دوبارہ غوروخوض اور مہلک ہتھیاروں کی برآمد یا جدید پروپلشن کے مطالبات اس بات کا ثبوت ہیں کہ خطے میں سفارتی مفاہمت کی گنجائش سمٹ رہی ہے۔
فوجی ماہرین کے مطابق چین کی توجہ اب صرف دور تک پہنچنے پر نہیں بلکہ رات کے وقت، خراب موسم اور پیچیدہ حالات میں مختلف جنگی نظاموں کو ایک ساتھ چلانے پر بھی ہے۔
اس پیش رفت کی اہمیت اس لیے بھی ہے کہ ساحلی دفاعی نظام سے دور کارروائی کرنے والا بحری دستہ مخالف کے لیے نگرانی اور ردعمل کے نئے مسائل پیدا کرسکتا ہے۔
شمالی کوریائی میزائل، خطرہ کہاں ہے؟
14 اکتوبر کو شمالی کوریا نے 2 اقسام کے اسٹریٹجک کروز میزائلوں کے تجربات کیے۔
سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق ان کا مقصد زیر آب جنگی نظاموں کی تیاری اور بحریہ کی صلاحیت جانچنا تھا۔ خبر رساں ادارے رائٹرز اور جنوبی کوریا کی یونہاپ نیوز ایجنسی نے بھی ان تجربات کی اطلاع دی۔
🚨🇨🇳⚓ DEVELOPING | China’s Liaoning aircraft carrier is conducting training in the western Pacific as U.S. and Japanese forces prepare for regional drills. 🌊 https://t.co/ZAGMxdSTOg
— China V (@China_V7) October 15, 2026
توجہ کا مرکز تقریباً 3 ہزار ٹن وزنی آبدوز ’ہیرو کم کون اوک‘ ہے، جسے شمالی کوریا نے 2023 میں متعارف کرایا۔
جنوبی کوریا کے مطابق میزائلوں میں سے ایک عمودی لانچ سسٹم اور دوسرا تارپیڈو ٹیوب کے ذریعے داغا گیا، تاہم ان تجربات سے آبدوز کی تمام عملی صلاحیتیں ثابت نہیں ہوتیں۔
اصل خطرہ میزائلوں کی تعداد سے زیادہ ان کے داغنے کے مقام اور طریقے میں ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق زمین پر نصب لانچروں کی نگرانی نسبتاً آسان ہوسکتی ہے، لیکن سمندر میں موجود آبدوز کی جگہ معلوم کرنا مشکل ہوتا ہے۔
🌊
سمندر کے نیچے چھپا خطرہ: آبدوزیں جنگ کا نقشہ کیسے بدلتی ہیں؟
+
سطحِ آب پر تیرتے جنگی بحری بیڑوں یا فضائی اڈوں کو سیٹلائٹ اور طویل فاصلے کے راڈار سسٹمز مسلسل ٹریک کر سکتے ہیں۔ اس کے برعکس گہرے سمندر میں موجود آبدوز صوتی لہروں (Sonar) اور درجہ حرارت کے تہوں میں چھپ کر اپنے ہدف کے انتہائی قریب پہنچ سکتی ہے، جس سے دفاعی سسٹمز کو ردعمل کا وقت تقریباً نہ ہونے کے برابر ملتا ہے۔
اگر کسی ملک کے تمام زمینی لانچرز اور فضائی اڈے ابتدائی حملے میں تباہ بھی کر دیے جائیں، تب بھی سمندر میں گشت کرتی پوشیدہ آبدوزیں جوابی کارروائی کی غیر متزلزل صلاحیت برقرار رکھتی ہیں، جس سے جنگ کے نتائج یکسر تبدیل ہو جاتے ہیں۔
زیرِ آب داغے جانے والے میزائل کے لانچ پوائنٹ کا پیشگی تعین نہ ہونے کی وجہ سے مخالف کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم انتہائی دباؤ کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس غیریقینی صورتحال میں کسی تکنیکی خرابی یا غلط فہمی کو ایٹمی جنگ میں بدلنے کا خطرہ بے حد بڑھ جاتا ہے۔
اگر ایسی آبدوز طویل وقت تک زیر آب رہ کر کارروائی کرنے کے قابل ہوجائے تو مخالف کے لیے حملے کا پیشگی اندازہ لگانا مزید مشکل ہوسکتا ہے۔
ماہرین نے ایک ممکنہ میزائل کی رینج تقریباً 2 ہزار کلومیٹر بتائی ہے، جب کہ چھوٹے جوہری وارہیڈ لے جانے کی صلاحیت کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
تاہم یہ صرف اندازے ہیں، تصدیق شدہ تکنیکی تفصیلات نہیں۔ حقیقت میں زیر آب میزائل داغنے اور طویل گشت کی مکمل صلاحیت کے بارے میں بھی سوالات باقی ہیں۔
📍North Korea tests two types of submarine-launched strategic cruise missiles, two days after 900 km ballistic launches https://t.co/SGXeAlG2Cs
— GEOPOLITIKI (@geopolitiki) October 16, 2026
جاپان جوہری آبدوزوں کی طرف
جاپانی وزیراعظم سانائے تاکائیچی نے بھی دفاعی حکمت عملی میں بڑی تبدیلی کے امکان پر بات کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پڑوسی ممالک کی بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیوں اور بحرالکاہل میں نگرانی کی محدود صلاحیتوں کے باعث جوہری توانائی سے چلنے والی آبدوزوں کے آپشن پر سنجیدگی سے غور کیا جائے گا۔
⚛️
جوہری آبدوز بمقابلہ جوہری ہتھیار: دونوں میں کیا فرق ہے؟
تکنیکی و قانونی موازنہ
اس کا تعلق آبدوز کے انجن سے ہوتا ہے جس میں ایک چھوٹا نیوکلیئر ری ایکٹر نصب ہوتا ہے۔ اس کی بدولت آبدوز کو آکسیجن یا ڈیزل ایندھن لینے کے لیے بار بار سطح پر نہیں آنا پڑتا اور وہ بغیر رکے مہینوں تک سمندر میں انتہائی تیز رفتاری سے گشت کر سکتی ہے۔ یہ بذاتِ خود کوئی ایٹم بم نہیں ہوتی۔
اس کا تعلق تباہ کن بارود سے ہے جو میزائل کے دہانے پر نصب کیا جاتا ہے تاکہ بڑے پیمانے پر تباہی پھیلائی جا سکے۔ روایتی ڈیزل آبدوز بھی جوہری میزائل داغ سکتی ہے اور جوہری انجن والی آبدوز محض روایتی بارود بھی لے جا سکتی ہے۔ جاپان کی قانونی بحث پروپلشن کے گرد گھومتی ہے، نہ کہ ایٹمی ہتھیاروں کے حصول پر۔
اسی طرح جاپان کی دفاعی دستاویزات پر رواں سال کے اختتام تک نظرثانی بھی متوقع ہے۔
ماہرین کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ایسی آبدوزوں کا اہم فائدہ یہ ہے کہ انہیں بار بار سطح پر آئے بغیر طویل عرصے تک زیر آب رکھا جاسکتا ہے۔
ان کی رفتار اور طویل فاصلے تک سفر کرنے کی صلاحیت بھی روایتی آبدوزوں سے زیادہ ہوسکتی ہے، لیکن ان کی تیاری، دیکھ بھال اور عملے کی خصوصی تربیت پر بھاری اخراجات آتے ہیں۔
جاپان کے لیے معاملہ صرف ٹیکنالوجی کا نہیں۔ کیونکہ ملک کا بنیادی قانون برائے جوہری توانائی اس کے پُرامن استعمال پر زور دیتا ہے، جب کہ جاپان کے 3 غیر جوہری اصول جوہری ہتھیار رکھنے، بنانے اور ملک میں لانے کی مخالفت کرتے ہیں۔
🌐
عالمی نقطہ نظر: چین کی بحری طاقت سے کن ممالک کو تشویش ہے؟
▼
لیاؤننگ کیٹپلٹ سٹرائیک گروپ کا میاکو اور اوکیناوا کے درمیان سے گزرنا جاپان کے فرسٹ آئی لینڈ چین کو براہِ راست چیلنج کرتا ہے، جس سے اس کے جنوبی جزیروں کے دفاع اور فضائی نگرانی پر شدید دباؤ بڑھ گیا ہے۔
واشنگٹن گہرے بحرالکاہل میں چینی نیوی کی مسلسل پیش قدمی کو اپنے جزیرے گوام اور تائیوان کے گرد موجود امریکی بحری برتری اور اتحادیوں کے دفاعی حصار کے لیے براہِ راست خطرہ تصور کرتا ہے۔
سیول اور جنوب مشرقی ایشیائی ریاستوں کے لیے آبنائے ملحقہ بین الاقوامی تجارتی راستوں پر چین کے بڑھتے ہوئے فوجی کنٹرول اور شمالی کوریا کی سرگرمیوں سے توانائی و سپلائی چین کے تعطل کے سنگین خدشات پیدا ہو رہے ہیں۔
جوہری توانائی سے چلنے والی آبدوز اور جوہری ہتھیار ایک چیز نہیں، تاہم اس اقدام کے قانونی اور سیاسی اثرات پر بحث لازمی ہوگی اور جاپان میں اس منصوبے کی مخالفت بھی موجود ہے۔
ناقدین کو خدشہ ہے کہ مہلک ہتھیاروں کی برآمدات پر پابندیاں نرم کرنے اور دفاعی پالیسیوں میں تبدیلی سے ملک مزید عسکری راستے پر جاسکتا ہے۔
جاپانی حکومت کے لیے چیلنج یہ ہوگا کہ وہ دفاعی ضروریات اور جنگ کے بعد قائم ہونے والی پالیسی روایات کے درمیان توازن کیسے برقرار رکھتی ہے۔
کیا ایشیا کسی نئی جنگ کی طرف جا رہا ہے؟
چین کی بحری سرگرمیاں، شمالی کوریا کے میزائل تجربات اور جاپان کی دفاعی پالیسی پر نظرثانی 3 الگ پیش رفتیں ہیں، لیکن ان کے اثرات ایک دوسرے سے جڑتے ہیں۔
🔭
آگے کیا ہوگا؟ کیا مشرقی ایشیا میں اسلحے کی دوڑ مزید بڑھے گی؟
+
سال کے اختتام پر قومی دفاعی حکمت عملی پر متوقع نظرثانی کے نتیجے میں جاپان روایتی پابندیوں میں نرمی اور جدید آبدوز ٹیکنالوجی کے حصول کی جانب بڑھ سکتا ہے، تاہم ملکی آئین اور اپوزیشن کی مخالفت اسے طویل پارلیمانی بحث سے گزارے گی۔
شمالی کوریا اپنی نئی آبدوز کے مختلف زاویوں سے مزید کروز اور بیلسٹک میزائل ٹیسٹ کرے گا تاکہ اپنی سیکنڈ اسٹرائیک صلاحیت کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کروا سکے، جس کے جواب میں امریکا، جاپان اور جنوبی کوریا مشترکہ اینٹی سب میرین مشقوں کو وسعت دیں گے۔
جیسے جیسے چینی طیارہ بردار بیڑے گہرے سمندر میں مستقل موجودگی بڑھائیں گے، اتحادی ممالک کی نگرانی پر مامور جہازوں اور طیاروں کے ساتھ ناموافق حالات میں تصادم یا غلط فہمی کا خطرہ سنگین ہوتا جائے گا، جس پر قابو پانے کے لیے ہنگامی ملٹری ہاٹ لائنز ناگزیر ہوں گی۔
ایک ملک اپنی دفاعی صلاحیت بڑھاتا ہے تو پڑوسی ممالک اسے ممکنہ خطرہ سمجھ کر اپنی تیاریوں میں اضافہ کرسکتے ہیں۔ اس طرح دفاع کے نام پر اٹھایا گیا قدم دوسرے ملک کے لیے دباؤ بن سکتا ہے۔
فی الحال ان سرگرمیوں سے یہ نتیجہ اخذ کرنا درست نہیں کہ جنگ قریب ہے، تاہم جب ہتھیار زیادہ پیچیدہ، حملے کے مقامات زیادہ غیر یقینی اور دفاعی پالیسیوں کی حدود متنازع ہوجائیں تو غلط اندازے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
مشرقی ایشیا کا مستقبل صرف اس بات سے طے نہیں ہوگا کہ کس کے پاس زیادہ میزائل یا بڑے بحری جہاز ہیں، بلکہ اس سے بھی کہ ممالک اپنی عسکری سرگرمیوں کی حدود کتنی واضح رکھتے ہیں اور اختلافات کو تصادم میں بدلنے سے کیسے روکتے ہیں۔
سمندر کی سطح پر دکھائی دینے والے جہاز شاید اس مقابلے کا نمایاں چہرہ ہیں، لیکن اس کی اصل پیچیدگی پانی کے نیچے موجود ان صلاحیتوں میں چھپی ہے جن کی نگرانی اور پیش گوئی کرنا کہیں زیادہ مشکل ہے۔