اگلی جنگ کا نیا نقشہ: کون سے خطرات امریکا کو گھیر رہے ہیں؟
+
ماضی میں بحرِ اوقیانوس اور بحرِ الکاہل کے محفوظ فاصلے کے باعث امریکی سرزمین پر جنگی خطرات کا تصور تک محال تھا۔ تاہم جدید ہائبرڈ وارفیئر، ڈرون نیٹ ورکس اور طویل فاصلے تک وار کرنے والے نظاموں نے اب امریکی داخلی دفاعی تنصیبات کو براہِ راست ممکنہ اہداف کی صف میں لا کھڑا کیا ہے۔
امریکی قائم مقام چیف آف اسٹاف کے مطابق دشمن اب فوجیوں کو بیرونی محاذوں پر بھیجے جانے سے پہلے ہی امریکی ایئرپورٹس، بندرگاہوں اور ریلوے نیٹ ورکس کو مفلوج کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
پینٹاگون کی رپورٹس کے مطابق حساس گرڈز، پاور پلانٹس اور ٹیلی کام نظام میں دراندازی کے ذریعے کسی بحران کے وقت پورے ملک کا مواصلاتی کنٹرول جام کیا جا سکتا ہے۔
فوجی اڈوں کی ریکی اور حفاظتی کمزوریوں کو جانچنے کے لیے چھوٹی جسامت کے کمرشل و خودکار ڈرونز کے خفیہ گشت نے اندرونی بیسز کے سیکیورٹی دائرے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
حریف ریاستوں کی برتر مانیٹرنگ کی بدولت امریکی سرزمین پر فوجیوں کا خفیہ اجتماع ناممکن ہو رہا ہے، جس سے روایتی پیشگی تیاریاں اچانک حملے کی زد میں آ سکتی ہیں۔
زمین ہو یا خلا، دنیا بھر میں جنگ کا تصور بہت تیزی کے ساتھ تبدیل ہو رہا ہے۔
مزید پڑھیں
آئندہ کی جنگوں کا خطرہ صرف میزائلوں، ٹینکوں اور جنگی طیاروں تک محدود نہیں رہا، بلکہ صرف ایک ڈرون، کمپیوٹر نیٹ ورک پر سائبر حملہ یا کسی فوجی نقل و حرکت کی نگرانی بھی بڑے ملک کی جنگی صلاحیت کو متاثر کر سکتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ امریکہ اپنی فوجی و دفاعی حکمت عملی پر نظرثانی کرنے پر مجبور ہو رہا ہے۔
امریکہ کو گھر میں خطرہ کیوں محسوس ہو رہا ہے؟
امریکی فوج کے نائب سربراہ اور قائم مقام چیف آف اسٹاف جنرل کرسٹوفر لینیو نے خبردار کیا ہے کہ مستقبل کی جنگ میں امریکی سرزمین بھی براہ راست خطرات کی زد میں آ سکتی ہے۔
مستقبل کی جنگ اور امریکی سرزمین: نئی دفاعی حکمت عملی
سائبر حملوں، ڈرونز کے پھیلاؤ اور اندرونی بنیادی ڈھانچے کے خطرات پر پینٹاگون کے نئے تحفظات
نئی جنگی حکمت عملی کا نفاذ 📜
امریکی فوج نے غیر محفوظ اڈوں اور منقطع مواصلاتی نظام میں بھی جنگ لڑنے اور فیصلے کرنے کی نئی ہدایات باضابطہ جاری کر دیں۔
اندرونی اڈوں پر ڈرون خطرات 🛸
ورجینیا اور نیوجرسی کی حساس عسکری تنصیبات کے اوپر نامعلوم ڈرونز کی مشتبہ پروازوں نے فضائی دفاع پر سنجیدہ سوالات اٹھا دیے۔
بنیادی ڈھانچے پر سائبر وارفیئر 💻
بجلی، ترسیل اور مواصلاتی نیٹ ورکس میں رخنہ ڈال کر فوج کی بیرونی نقل و حرکت کو روانگی سے قبل ہی مفلوج کرنے کی صلاحیت کا انکشاف۔
فوجی دستوں کی مستقل نگرانی 🛰️
سیٹلائٹ اور جدید ٹیکنالوجی کے باعث کسی ایک مقام پر فوجیوں کو زیادہ دیر محفوظ رکھنا ناممکن ہو چکا ہے، جس سے طویل مار کے حملوں کا خطرہ بڑھ گیا۔
اوورسیز پوسٹ انٹرایکٹیو انفوگرافک سسٹم
انہوں نے کہا کہ جدید ڈرونز، سائبر حملوں اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں کی مدد سے دشمن امریکی فوج کو بیرون ملک محاذ تک پہنچنے سے پہلے ہی مشکلات سے دوچار کر سکتا ہے۔
ماضی میں امریکہ نسبتاً محفوظ فوجی اڈوں اور مستحکم رسدی نظام کے سہارے عراق اور افغانستان جیسے محاذوں پر اپنی افواج بھیجتا رہا، لیکن اب یہ تصور بدل رہا ہے۔
اگر فوجی اڈوں، مواصلاتی نظام یا نقل و حمل کے راستوں کو نشانہ بنایا جائے تو فوجیوں اور اسلحے کی بروقت ترسیل متاثر ہو سکتی ہے۔
⚔️
ڈرون سے سائبر حملے تک: مستقبل کی جنگ کے 5 بڑے ہتھیار
▼
سستے اور چھوٹے کواڈ کاپٹرز جو ریڈار کی پکڑ میں آئے بغیر حساس اسلحہ ڈپو، ریڈاروں اور مواصلاتی ٹاورز پر اچانک حملہ آور ہو کر اربوں ڈالر کے اثاثے تباہ کر دیتے ہیں۔
فوجی ہیڈکوارٹرز کے کمپیوٹر سسٹمز، بجلی کی نیشنل گرڈز اور ٹرانسپورٹ کنٹرول رومز میں ڈیجیٹل وائرس گھسا کر بغیر کوئی گولی چلائے ملکی نظم و نسق جام کرنا۔
ہائی ریزولیوشن سیٹلائٹ کیمرے اور الگورتھمز جو دشمن کے فوجیوں کی ذرا سی حرکت، مورچوں کی تعمیر اور رسدی کانوائے کا فوراً پتا لگا کر نشانے پر لا کھڑا کرتے ہیں۔
جی پی ایس فریکوئنسیز اور ریڈیو لہروں کو جیم کرنے والے نظام، جو جنگی یونٹس کا اپنے کمانڈ سینٹر سے لائیو رابطہ کاٹ کر انہیں فیلڈ میں بے بس بنا دیتے ہیں۔
لیبارٹریوں میں تیار کردہ غیر روایتی وبائیں یا پیتھوجنز جو سپاہیوں کی جسمانی صلاحیت اور چھاؤنیوں میں سرگرمیوں کو مفلوج کرنے کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
چین کا خطرہ صرف میزائل نہیں
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی خدشات کا ایک اہم پہلو چین کی سائبر صلاحیتیں بھی ہیں۔
امریکی محکمہ دفاع کی چین سے متعلق رپورٹ کے مطابق چینی ہیکرز اہم امریکی بنیادی ڈھانچے کے نیٹ ورکس تک رسائی حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
کسی ممکنہ بحران یا جنگ کی صورت میں بجلی، مواصلات اور نقل و حمل جیسے نظاموں میں خلل ڈالنے سے امریکی فوج کی تیاری اور نقل و حرکت متاثر ہو سکتی ہے۔
یاد رہے کہ امریکی حکام ماضی میں بھی چینی سائبر سرگرمیوں پر تشویش ظاہر کر چکے ہیں، تاہم ان خدشات کو چین کی جانب سے کسی آئندہ حملے کا حتمی ثبوت نہیں سمجھنا چاہیے۔
🛡️
کیا امریکی فوجی اڈے اب محفوظ نہیں رہے؟
◀
ورجینیا کے جوائنٹ بیس لینگلی یوسٹس (دسمبر 2023) اور نیوجرسی کے پیکاٹنی آرسنل (دسمبر 2024) کے اوپر مشتبہ نامعلوم ڈرونز کے طویل گشت نے عسکری قیادت کو ہلا کر رکھ دیا، جس سے ثابت ہوا کہ فضائی دفاعی باڑ میں باریک چور دروازے موجود ہیں۔
امریکی فوج نے ’ہاؤ دی آرمی فائٹس‘ (How the Army Fights) مینوئل جاری کرتے ہوئے یہ تسلیم کر لیا ہے کہ مستقبل کی جنگ میں چھاؤنیاں اور لاجسٹک روٹس اب غیر محفوظ ہوں گے، اور فوجیوں کو بیس کی پناہ کے بغیر ہی کارروائی کی مشق کرنی ہوگی۔
فوجی اڈے ڈرون کا نشانہ، تشویش کی بڑی وجہ
امریکہ میں فوجی تنصیبات کے قریب ڈرونز کی پروازوں نے بھی سکیورٹی کے سوالات اٹھائے ہیں۔
دسمبر 2023 میں ورجینیا کے مشترکہ فوجی اڈے لینگلی یوسٹس کے قریب نامعلوم ڈرون دیکھے گئے، جبکہ دسمبر 2024 میں نیوجرسی کے پیکاٹنی آرسنل سمیت دیگر مقامات پر بھی ڈرونز کی موجودگی رپورٹ ہوئی۔
Liberation Times obtained 67 NRC reports of "drone" activity near 28 U.S. nuclear sites between February 2024 and March 2026, including sightings of unidentified craft estimated to be the size of small cars and others described as triangular or V-shaped. The U.S. military has lost control of airspace over our most critical national security facilities. The reports have no explanation of who (or what) was responsible. It's difficult to believe this is the work of foreign adversaries. https://t.co/Tu18gKnoxM
— Disclosure Party (@disclosureorg) October 8, 2026
امریکی محکمہ دفاع نے بعد میں کہا کہ ایسے خطرات سے نمٹنے کے لیے اس کی صلاحیت بہتر ہوئی ہے، تاہم ان واقعات کو عوامی طور پر چین سے منسوب نہیں کیا گیا۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ نسبتاً سستے اور چھوٹے ڈرون بھی حساس تنصیبات کی نگرانی یا دفاعی نظام کو آزمانے کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔
پاکستان کے لیے کیا سبق ہے؟ بدلتی جنگ کے نئے تقاضے
◀
پاکستان کے لیے روایتی مورچہ بندی کے ساتھ ساتھ ایٹمی، مالیاتی، پاور گرڈز اور ٹیلی کام انفراسٹرکچر کو جدید ترین سائبر سیکیورٹی اور ڈیجیٹل فائر والز سے لیس کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔
لاکھوں ڈالر کے میزائلوں کے ذریعے چند ہزار روپے کے ڈرونز کو گرانا معاشی دیوالیہ پن کا سبب بنتا ہے؛ اس لیے الیکٹرانک جیمرز، لیزر بیمز اور اینٹی کواڈ کاپٹر ٹیکنالوجی کی مقامی تیاری ترجیح ہونی چاہیے۔
اگر جنگ کے دوران مرکزی جی ایچ کیو سے الیکٹرانک سگنلز کٹ جائیں تو اگلے مورچوں پر موجود فیلڈ آفیسرز کو خود مختار فیصلے کرنے اور بنیادی جنگی مہارتوں سے دشمن کو روکنے کی تربیت دینا لازم ہے۔
داخلی رسد کے روٹس اور پاور بریک ڈاؤن کے خطرے کے پیش نظر آف گرڈ دفاعی توانائی اور ایندھن کے خفیہ و محفوظ اسٹوریج سسٹم کو ترجیحی بنیادوں پر محفوظ بنانا چاہیے۔
جب دشمن کو فوج کا مقام معلوم ہو جائے
مستقبل کی جنگ میں فوجیوں کو چھپانا یا محفوظ مقام پر رکھنا بھی ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔
امریکی فضائیہ کے وزیر ٹرائے مینک کے مطابق نگرانی کی تیزی سے بہتر ہوتی ٹیکنالوجی حریفوں کو فوجی دستوں کے مقامات اور نقل و حرکت کا اندازہ لگانے میں مدد دے سکتی ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ فوجی دستے اگر ایک مقام پر زیادہ دیر ٹھہریں یا ان کی نقل و حرکت کا سراغ مل جائے تو انہیں طویل فاصلے کے ہتھیاروں اور ڈرون حملوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
یوکرین کی جنگ نے بھی دکھایا ہے کہ ڈرونز اور جدید ہتھیار میدانِ جنگ میں نقل و حرکت کو کس طرح مشکل بنا سکتے ہیں۔
🤖
اگلی جنگ میں کون جیتے گا؟ ٹیکنالوجی یا انسانی سپاہی؟
حتمی فیصلہ
• فوری ردعمل اور الگورتھم: اہداف کی تیزی سے شناخت، خودکار دفاعی بیٹریاں اور ریڈار مانیٹرنگ انسان کے اعصابی ردعمل سے کہیں تیز ہیں اور ابتدائی جھٹکا روکنے کے لیے ناگزیر ہیں۔
• تیکنیکی نزاکت: الیکٹرانک جنگ میں ایک مختصر سگنل جیمنگ پورے ہائی ٹیک بیڑے کو اندھا اور بے اثر بنا سکتی ہے۔
• سسٹم بلیک آؤٹ پر انحصار: پینٹاگون کے حکام کے مطابق جب سیٹلائٹ اور اے آئی فیل ہو جائیں تو صرف تربیت یافتہ سپاہی کا فیصلہ، دلیری اور بنیادی جنگی مہارتیں ہی محاذ کو بچا سکتی ہیں۔
• پائیدار بقا کی صلاحیت: اصل فاتح وہ ملک نہیں ہوگا جس کے پاس مہنگے ترین ہتھیار ہوں بلکہ وہ ہوگا جس کی فوج حملوں اور مواصلاتی تباہی کے باوجود اپنے سسٹم کو زیادہ دیر تک فعال رکھ سکے۔
امریکی فوج کی نئی حکمت عملی؟
امریکی فوج نے 7 اکتوبر 2026 کو ’ہاؤ دی آرمی فائٹس‘ کے نام سے نئی جنگی رہنمائی جاری کی ہے۔
اس میں ایسے حالات میں لڑنے کی تیاری پر زور دیا گیا ہے جہاں فوجی اڈے، مواصلات اور رسدی راستے محفوظ نہ ہوں۔
Surry security described a triangular-looking 'drone' and two smaller drones zigzagging around a larger craft before all three disappeared from view.
— Christopher Sharp (@ChrisUKSharp) October 7, 2026
اس سلسلے میں فوجی یونٹوں کو رابطے منقطع ہونے کے باوجود کارروائیاں جاری رکھنے اور موقع ملنے پر دوبارہ رابطہ بحال کرنے کی تربیت دی جا رہی ہے۔
امریکہ ڈرون مخالف نظاموں، خودکار ٹیکنالوجی اور مشکل حالات میں کام کرنے والے مواصلاتی ذرائع پر بھی توجہ دے رہا ہے۔ اس کے علاوہ بیماریوں کے پھیلاؤ یا ممکنہ حیاتیاتی حملوں جیسے خطرات کو بھی فوجی مشقوں میں شامل کیا جا رہا ہے۔
کیا جدید ٹیکنالوجی سپاہی کی جگہ لے گی؟
امریکی حکام کے مطابق جدید ٹیکنالوجی اہم ضرور ہے، لیکن جنگ جیتنے کے لیے صرف مصنوعی ذہانت، ڈرونز یا ڈیجیٹل نظام کافی نہیں۔ اگر مواصلاتی نیٹ ورک ناکام ہو جائے تو فوجیوں کو اپنے فیصلوں، تربیت اور بنیادی جنگی مہارتوں پر انحصار کرنا پڑ سکتا ہے۔
یہی مستقبل کی جنگ کا اہم ترین سبق ہے کہ اب کسی ملک کی دفاعی طاقت کا اندازہ صرف ہتھیاروں سے نہیں ہوگا، بلکہ اس بات سے بھی لگایا جائے گا کہ وہ حملوں کے باوجود اپنے نظام کو کتنی دیر فعال رکھ سکتا ہے۔
پاکستان سمیت دنیا کے دیگر ممالک کے لیے بھی یہ تبدیلی نہایت اہم ہے۔
جدید جنگ میں فضائی نگرانی، سائبر سکیورٹی، ڈرون مخالف دفاع اور متبادل مواصلاتی نظام کی تیاری قومی سلامتی کا بنیادی حصہ بنتی جا رہی ہے۔