سعودی عرب کے ابہا ایئرپورٹ پر حوثی ڈرون حملے میں 25 سالہ مراکشی لڑکی احلام بوکن جاں بحق ہوگئیں۔
وہ اپنی سالگرہ کے موقع پر وطن واپسی کی منتظر تھیں۔
ان کی تدفین مکہ مکرمہ کے المعلاۃ قبرستان میں کی گئی۔
سعودی عرب کے ابہا انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہونے والے حملے میں جاں بحق ہونے والی 25 سالہ مراکشی لڑکی احلام بوکن کی کہانی نے انسانی المیے کو اجاگر کیا ہے۔
احلام اپنے وطن مراکش واپس جانے کی تیاری کر رہی تھیں، لیکن طیارے میں سوار ہونے سے پہلے ہی ان کی زندگی کا سفر ختم ہوگیا۔
✈️ وطن واپسی کا سفر کیوں ادھورا رہ گیا؟
منزل: احلام کا تعلق مراکش کے شہر سیدی قاسم سے تھا اور وہ وطن لوٹنے کی تیاری کر رہی تھیں۔
روٹ: ابہا → جدہ → کاسابلانکا: یہی ان کے فضائی سفر کا منصوبہ تھا۔
آخری لمحات: رپورٹس کے مطابق وہ طیارے میں سوار ہونے سے پہلے انتظار گاہ میں تھیں جب حملہ ہوا۔
العربیہ کی 11 اکتوبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق احلام کا تعلق مراکش کے شہر سیدی قاسم سے تھا۔
وہ ابہا سے جدہ اور پھر کاسابلانکا جانے والی تھیں۔
ان کے اہل خانہ وطن واپسی کے منتظر تھے، مگر 7 اکتوبر کو ایئرپورٹ پر ہونے والے ڈرون حملے نے تمام امیدیں ختم کردیں۔
انتظار گاہ میں موت نے آ لیا
مراکشی ذرائع ابلاغ کے مطابق احلام ایئرپورٹ کی انتظار گاہ میں موجود تھیں اور اپنی پرواز کے لیے سوار ہونے کی منتظر تھیں کہ اچانک حملہ ہوگیا۔
ڈرون حملے کے نتیجے میں اڑنے والے دھاتی ٹکڑوں میں سے ایک انہیں لگا، جس سے وہ جانبر نہ ہوسکیں۔
اس سانحے کا سب سے دردناک پہلو ان کی عمر اور سالگرہ کا وقت تھا۔
مراکش کے اخبار انفاس پریس کے مطابق احلام نے 6 اکتوبر کو اپنی 25ویں سالگرہ منائی تھی اور اگلے ہی دن حملے میں جاں بحق ہوگئیں۔
تاہم العربیہ نے ایک ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ ان کی وفات سالگرہ کے دن ہوئی۔
دونوں رپورٹس میں سالگرہ کی تاریخ سے متعلق معمولی اختلاف موجود ہے۔
مسجد الحرام میں نمازِ جنازہ
العربیہ کے مطابق اتوار 11 اکتوبر کو احلام کی نمازِ جنازہ مسجد الحرام میں ادا کی گئی، جس کے بعد انہیں مکہ مکرمہ کے تاریخی قبرستان المعلاۃ میں سپرد خاک کردیا گیا۔
تدفین کی کارروائی میں مراکش کے قونصل خانے کے اہلکاروں کی شرکت کی بھی اطلاع دی گئی۔
🎂 25ویں سالگرہ کا دن
دردناک اتفاق: مراکشی اخبار ہسپریس کے ایک ذریعے کے مطابق احلام کی وفات کا دن ان کی 25ویں سالگرہ بھی تھا۔
اہم وضاحت: سالگرہ اور حملے کی قطعی تاریخ کے بارے میں بعض میڈیا رپورٹس میں فرق ہے؛ اسی لیے یہاں کسی غیرمصدقہ تاریخ کو حتمی نہیں بتایا گیا۔
انسانی کہانی: گھر واپس جانے کی امید ایک لمحے میں ایک خاندان کے لیے صدمے میں بدل گئی۔
حملے میں دو خواتین ہلاک، 28 افراد زخمی
سعودی عرب کی جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن کے 7 اکتوبر کے بیان کے مطابق ابہا ایئرپورٹ پر حملے میں مراکش اور الجزائر سے تعلق رکھنے والی دو مقیم خواتین ہلاک ہوئیں جبکہ 28 افراد زخمی ہوئے۔
⚠️ ابہا ایئرپورٹ حملہ — جانی نقصان
2 اموات: سعودی شہری ہوا بازی کی اتھارٹی کے مطابق مراکش اور الجزائر سے تعلق رکھنے والی دو مقیم خواتین ہلاک ہوئیں۔
28 زخمی: بیان کے مطابق مختلف قومیتوں کے 28 افراد زخمی ہوئے؛ بعض کی حالت سنگین تھی۔
سرکاری بیان: یہ اعداد 7 اکتوبر 2026 کو سامنے آنے والے ابتدائی سرکاری بیان کے مطابق ہیں۔
ذمہ داری: میڈیا رپورٹس کے مطابق حوثی گروہ نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی۔
زخمیوں میں بنگلہ دیش اور فلپائن کے شہری بھی شامل تھے۔
بعض افراد کو شدید جبکہ دیگر کو معمولی زخم آئے۔
ایک ادھورا سفر، ایک دردناک یاد
احلام کی موت اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ جنگ اور مسلح حملوں کے اثرات صرف فوجی تنصیبات یا سیاسی فیصلوں تک محدود نہیں رہتے۔
ان کی زد میں وہ عام لوگ بھی آجاتے ہیں جو روزگار، تعلیم، خاندان سے ملاقات یا وطن واپسی کے لیے سفر کر رہے ہوتے ہیں۔
احلام بھی انہی مسافروں میں شامل تھیں۔
ان کے سفر کی منزل مراکش تھی، لیکن ان کی آخری آرام گاہ مکہ مکرمہ بنی۔
🔗 اصل ذرائع اور مزید مطالعہ
العربیہ / الحدث — 11 اکتوبر 2026
احلام بوکن کی روداد، سفر کی تفصیلات، حملے میں جانی نقصان اور تدفین کی خبر۔
اصل خبر کھولیں
Hespress English — 11 October 2026
جنازے کی تفصیلات، احلام کی بہن ایمان کا بیان اور مراکشی قونصل خانے کا کردار۔
اصل خبر کھولیں
ہسپریس — 10 اکتوبر 2026
احلام کے سفر اور سالگرہ کے موقع پر پیش آنے والے سانحے کی ابتدائی تفصیلات۔
اصل خبر کھولیں