فیکٹ باکس: سعودی عرب کی نئی بکتر بند گاڑیاں کتنی طاقتور ہیں؟
+
فیکٹ باکس: سعودی عرب کی نئی بکتر بند گاڑیاں کتنی طاقتور ہیں؟
🛡️ عُبیہ: رفتار اور بیلسٹک تحفظ
9.8 ٹن وزنی باڈی اور 330 ہارس پاور ڈیزل انجن کے ساتھ سڑک پر 120 کلومیٹر فی گھنٹہ دوڑ سکتی ہے، جبکہ 40 ملی میٹر بلٹ پروف شیشے اور فولادی ڈھانچہ شدید فائرنگ سے بچاتے ہیں۔
💥 ہیت: 105 ملی میٹر بھاری توپ
8 پہیوں والے فریم پر نصب بھاری توپ اور ریموٹ کنٹرول ’رؤیہ‘ سسٹم فوجیوں کو اندر محفوظ رہ کر دور فاصلے پر دشمن کے ٹھکانوں اور بکتر کو تباہ کرنے کی صلاحیت دیتے ہیں۔
🔄 ماڈیولر ملٹی رول ڈیزائن
ایک ہی بنیادی چیسس کو ٹروپ کیریئر، متحرک کمانڈ سینٹر، لاجسٹک مدد یا ایمبولینس میں ڈھالا جا سکتا ہے، جس سے اسپیئر پارٹس اور آپریشنل اخراجات میں نمایاں کمی آئے گی۔
🏭 سامی انڈسٹریل کمپلیکس کی صلاحیت
الخرج میں 82 ہزار مربع میٹر رقبے پر پھیلی فیکٹری جدید روبوٹس اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے سالانہ 1500 عسکری گاڑیاں تیار اور ٹیسٹ کرنے کے قابل بنائی جا رہی ہے۔
صحرا کی ریت پر تیزی سے دوڑتی بکتر بند گاڑی، گولیوں سے بچانے والے (بلٹ پروف) شیشے، اندر محفوظ بیٹھے فوجی اور چھت پر نصب طاقتور مشین گن۔
مزید پڑھیں
یہ کسی ہالی ووڈ فلم کا منظر نہیں بلکہ سعودی عرب کی مقامی دفاعی صنعت میں ہونے والی نئی پیش رفت کی جھلک ہے۔
تیل کی دولت سے پہچانے جانے والے سعودی عرب نے اب جدید فوجی گاڑیوں کی تیاری میں بھی اپنی صلاحیتیں بڑھانا شروع کردی ہیں۔
اس کوشش میں سب سے زیادہ توجہ 2 ناموں نے حاصل کی ہے۔
’’عُبیہ‘ اور ’ہیت‘۔
جن کے ذریعے سعودی عرب دفاعی سازوسامان کے لیے بیرونی ممالک پر انحصار کم کرنا چاہتا ہے۔
’عُبیہ‘ کتنی طاقتور ہے؟
عُبیہ کا وزن تقریباً 9.8 ٹن ہے، لیکن اس کے باوجود یہ پختہ سڑک پر 120 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کرسکتی ہے۔
اس میں 330 ہارس پاور کا طاقتور ڈیزل انجن نصب ہے، جبکہ گاڑی تقریباً 6 میٹر لمبی اور 2.6 میٹر چوڑی ہے۔
تمثّل عربة عبية إنجازًا وطنيًا يجسّد توظيف الخبرات الهندسية السعودية في التصميم والتصنيع، بما يعكس تطور القدرات الوطنية ويدعم الجاهزية التشغيلية Ubbayah represents a national achievement that demonstrates the application of Saudi engineering expertise in design and manufacturing, reflecting the advancement of national capabilities and supporting operational readiness
— سامي للأنظمة الأرضية (@SAMILand_sa) September 17, 2026
اس کے شیشے 40 ملی میٹر موٹے ہیں، جنہیں گولیوں سے بچانے کے لیے خصوصی تہوں سے تیار کیا گیا ہے۔
مضبوط فولادی باڈی، جھٹکے جذب کرنے والی نشستیں، آگ بجھانے کا نظام اور رات میں دیکھنے کے آلات اس کی اہم خصوصیات ہیں۔
تکنیکی موازنہ
طاقت کا موازنہ: 4 پہیے یا 8 پہیے، میدان جنگ میں کون زیادہ خطرناک؟
▼
طاقت کا موازنہ: 4 پہیے یا 8 پہیے، میدان جنگ میں کون زیادہ خطرناک؟
⚡ 4 پہیوں والی بکتر بند (تیز رفتار اسکاؤٹ)
💥 8 پہیوں والی بکتر بند (متحرک فائر پاور)
8 پہیے اور 105 ملی میٹر توپ کا راز
فروری 2026 میں عالمی دفاعی نمائش میں متعارف کرائی گئی ’ہیت‘ گاڑیاں اس منصوبے کا زیادہ اہم حصہ ہیں۔
ان میں 4، 6اور 8 پہیوں والے ماڈل شامل ہیں۔ 4 پہیوں والی گاڑی میں 12.7 ملی میٹر مشین گن لگائی جاسکتی ہے، جبکہ 8 پہیوں والے ماڈل کو 105 ملی میٹر توپ کے ساتھ پیش کیا گیا۔
8 پہیوں کا فائدہ یہ ہے کہ بھاری بکتر، توپ اور گولہ بارود کا وزن بہتر انداز میں تقسیم ہوتا ہے۔ اس سے گاڑی کو ریت اور ناہموار راستوں پر چلنے میں مدد ملتی ہے۔
ان گاڑیوں میں ’رؤیہ‘ نامی ریموٹ کنٹرول ہتھیاروں کا نظام بھی نصب کیا جاسکتا ہے، جس سے فوجی گاڑی کے اندر محفوظ رہ کر مشین گن چلا سکتا ہے۔
پاکستان کے لیے کیا سبق؟ سعودی دفاعی صنعت سے کیا سیکھا جاسکتا ہے؟
◀
پاکستان کے لیے کیا سبق؟ سعودی دفاعی صنعت سے کیا سیکھا جاسکتا ہے؟
سعودی عرب کا صرف تیار ہتھیار خریدنے کے بجائے اپنے ملک میں مکمل مینوفیکچرنگ اور ٹیکنالوجی ٹرانسفر پر سرمایہ کاری کرنا دفاعی خود انحصاری کا جدید نمونہ ہے۔
🎯 ٹیکنالوجی کی منتقلی پر سخت اصرار
سعودی عرب نے ترک اور مغربی کمپنیوں کے ساتھ صرف خریداری نہیں کی بلکہ مقامی فیکٹریوں میں حقوقِ پیداوار حاصل کیے۔ پاکستان بھی اپنے عسکری معاہدوں میں مکمل ٹیکنالوجی ٹرانسفر لازم کر سکتا ہے۔
⚙️ مشترکہ پیداوار کے وسیع مواقع
پاکستان کے ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا (HIT) کے پاس ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں کا دہائیوں کا عملی تجربہ ہے۔ ریاض اور اسلام آباد مشترکہ ریسرچ و پروڈکشن سے خطے میں لاگت کم کر سکتے ہیں۔
ایک گاڑی، کئی فوجی کام
’ہیت‘ منصوبے کی اصل خوبی صرف طاقتور ہتھیار نہیں بلکہ اس کا ایسا بنیادی ڈیزائن ہے جسے مختلف ضرورتوں کے مطابق بدلا جاسکتا ہے۔

ایک ہی ڈھانچے پر فوجیوں کو لے جانے والی گاڑی، کمانڈ سینٹر، جاسوسی گاڑی یا توپ سے مدد فراہم کرنے والا ماڈل تیار ہوسکتا ہے۔
اس طریقے سے اسپیئر پارٹس، تربیت اور مرمت کے اخراجات کم ہوسکتے ہیں۔ یہ گاڑیاں سرحدی نگرانی، فوری فوجی کارروائیوں اور دشوار گزار علاقوں میں استعمال کے لیے تیار کی جارہی ہیں۔
پردے کے پیچھے: سعودی عرب کی جنگی ٹیکنالوجی میں ترکی کا کیا کردار ہے؟
◀
پردے کے پیچھے: سعودی عرب کی جنگی ٹیکنالوجی میں ترکی کا کیا کردار ہے؟
معاہدہ اور مشترکہ پروڈکشن الائنس
جولائی 2025 میں سعودی کمپنی ’سامی‘ نے ترکیہ کی دفاعی کمپنیوں (نورول ماکینا، ایف این ایس ایس اور اسیلسان) کے ساتھ مقامی مینوفیکچرنگ اور لائسنسنگ کے تاریخی معاہدے کیے۔
جدید الیکٹرانکس اور ہتھیاروں کے ٹاور
ترک کمپنیوں کے تعاون سے گاڑیوں پر ریموٹ ویپن اسٹیشنز (رؤیہ)، سینسرز اور جنگی برج نصب کیے جا رہے ہیں، جو ترکیہ نے مختلف تنازعات میں پہلے ہی کامیابی سے آزمائے ہیں۔
مغربی پابندیوں سے آزاد اسٹریٹجک تعاون
ترکیہ کے ساتھ دفاعی پارٹنرشپ سے سعودی عرب کو یہ فائدہ ہوا ہے کہ وہ کسی بھی ممکنہ مغربی ہتھیاروں کی پابندی کے خدشے کے بغیر اپنا جدید فوجی بیڑا خود تیار کرنے کے قابل ہو رہا ہے۔
جدید فیکٹری، روبوٹ اور مصنوعی ذہانت
سعودی عرب کے شہر الخرج میں قائم سامی کا صنعتی کمپلیکس 82 ہزار مربع میٹر پر پھیلا ہوا ہے۔
کمپنی کے مطابق اس کی پیداواری صلاحیت سالانہ 1500 فوجی گاڑیوں تک پہنچ سکتی ہے، جبکہ یہاں ایک ہزار سے زیادہ ملازمتوں کے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔
فیکٹری میں روبوٹ، مصنوعی ذہانت اور جدید کمپیوٹر نظام استعمال کیے جائیں گے، جو گاڑیوں کی تیاری، معیار کی جانچ اور خرابیوں کی بروقت نشاندہی میں مدد دیں گے۔
🔭
مستقبل کی جنگیں: کیا سعودی عرب دفاعی ہتھیاروں کا بڑا برآمد کنندہ بن سکے گا؟
+
مستقبل کی جنگیں: کیا سعودی عرب دفاعی ہتھیاروں کا بڑا برآمد کنندہ بن سکے گا؟
پچاس فیصد دفاعی اخراجات کی مقامی کھپت
ریاض کا فوری ہدف برآمدات سے پہلے ملکی افواج کی ضروریات کا نصف حصہ خود بنانا ہے، جس سے اربوں ڈالر کا بیرونی زرِمبادلہ بچے گا اور داخلی اسلحہ سازی کی بنیاد مستحکم ہوگی۔
خلیجی، افریقی اور عرب منڈیوں میں داخلہ
اگر الخرج پلانٹ اپنی سالانہ 1500 گاڑیوں کی صلاحیت کو پہنچتا ہے، تو سعودی عرب خلیجی اتحادیوں اور افریقی ممالک کو صحرائی جنگ کے لیے کم قیمت اور قابلِ بھروسہ بکتر بند گاڑیاں برآمد کرنے کی پوزیشن میں آ سکتا ہے۔
جنگی میدان کی سخت آزمائشیں اور بین الاقوامی ساکھ
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق نمائش میں ماڈل پیش کرنا ایک قدم ہے، مگر عالمی مارکیٹ میں کامیاب برآمد کنندہ بننے کے لیے گاڑیوں کو حقیقی جنگی حالات میں مسلسل اور بے عیب کارکردگی ثابت کرنا ہو گی۔
ترکی کی مدد سے دفاعی صنعت کی ترقی
اس منصوبے کا ایک نہایت اہم اور دلچسپ پہلو ترکی کے ساتھ دفاعی تعاون بھی ہے۔
جولائی 2025 میں سامی نے ترک کمپنیوں نورول ماکینا، ایف این ایس ایس اور اسیلسان کے ساتھ ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مقامی پیداوار کے معاہدے کیے تھے۔
ان اہم عسکری معاہدوں میں بکتر بند گاڑیوں، جنگی برجوں اور ان کے نظام کی تیاری شامل ہے۔
تاہم ایک اہم بات یہ ہے کہ دفاعی جریدے Janes کے مطابق فروری کی نمائش میں پیش کی گئی 105 ملی میٹر توپ نمائشی ماڈل تھی۔
کمپنی نے گاڑیوں کی بعض تکنیکی تفصیلات بھی جاری نہیں کی تھیں، اس لیے انہیں مکمل طور پر آزمودہ جنگی گاڑیاں قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔

سعودی عرب کا اصل ہدف کیا ہے؟
سعودی حکومت کے سرکاری اعدادوشمار کے مطابق 2024 کے اختتام تک فوجی اخراجات میں مقامی صنعت کا حصہ 24.89 فیصد تک پہنچ چکا تھا۔
ہدف ہے کہ 2030 تک دفاعی سازوسامان اور خدمات پر ہونے والے اخراجات کا 50 فیصد سے زیادہ حصہ مقامی سطح پر خرچ ہو۔
یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب صرف نئی جنگی گاڑیاں نہیں بنانا چاہتا، بلکہ ان کے پرزوں، مرمت، جدید ٹیکنالوجی اور تربیت کا پورا نظام اپنے ملک میں قائم کرنے کی کوشش کررہا ہے۔
اصل امتحان اب یہ ہوگا کہ یہ گاڑیاں بڑے پیمانے پر پیداوار، سخت فوجی آزمائشوں اور عملی استعمال میں کس حد تک کامیاب ہوتی ہیں، کیونکہ جدید جنگی گاڑی کی اصل طاقت صرف اس کی توپ یا رفتار نہیں، بلکہ مشکل ترین حالات میں مسلسل قابلِ اعتماد کارکردگی ہے۔