امریکا میں ایک شخص نے اسٹیٹ سیل سے محض 30 ڈالر میں ایک پرانی پینٹنگ خریدی۔
بعد میں معلوم ہوا کہ یہ معروف امریکی مصورہ گرٹروڈ ایبرکرومبی کی 1951 کی اصل تخلیق Alderman Merriam’s Shells ہے۔
تقریباً 75 برس تک نظروں سے اوجھل رہنے والی یہ پینٹنگ یکم اکتوبر 2026 کو Freeman’s کی نیلامی میں 1.3526 ملین ڈالر میں فروخت ہوئی۔
فری مینز کے مطابق یہ مصورہ کا پہلا ایسا فن پارہ تھا جس کی نیلامی کی بولی 10 لاکھ ڈالر سے اوپر گئی۔
Alderman Merriam’s Shells میں نو سمندری سیپیاں ایک سرمئی سطح پر رکھی دکھائی گئی ہیں جبکہ ایک مخروطی سیپی دھاگے سے سیاہ پس منظر کے سامنے معلق نظر آتی ہے۔
فری مینز کے مطابق یہ سیپیاں شکاگو کے ہائیڈ پارک سے تعلق رکھنے والے رابرٹ میریم کی تھیں، جہاں ایبرکرومبی خود بھی رہتی اور کام کرتی تھیں۔
اس پینٹنگ کی تاریخی کہانی بھی کم دلچسپ نہیں۔
1952 کے اوائل میں ایبرکرومبی نے اسے مشی گن کے ڈاکٹر جان رینالڈز کو طبی خدمات کے عوض دے دیا تھا۔
بعد میں یہ ان کے خاندان میں منتقل ہوتی رہی اور کئی دہائیوں تک عوامی منظر سے غائب رہی۔
1952 اور 1953 میں یہ فن پارہ ایبرکرومبی کی 6 انفرادی نمائشوں میں بھی پیش کیا گیا تھا۔