براہ راست نشریات

30 ڈالر میں خریدی پینٹنگ 75 سال بعد 13 لاکھ ڈالر میں فروخت

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
$30 Painting Sold for $1.35 Million

امریکا میں ایک شخص نے اسٹیٹ سیل سے محض 30 ڈالر میں ایک پرانی پینٹنگ خریدی۔
بعد میں معلوم ہوا کہ یہ معروف امریکی مصورہ گرٹروڈ ایبرکرومبی کی 1951 کی اصل تخلیق Alderman Merriam’s Shells ہے۔
تقریباً 75 برس تک نظروں سے اوجھل رہنے والی یہ پینٹنگ یکم اکتوبر 2026 کو Freeman’s کی نیلامی میں 1.3526 ملین ڈالر میں فروخت ہوئی۔

امریکا میں ایک ایسی پینٹنگ نے فن کی دنیا میں غیر معمولی توجہ حاصل کی ہے جسے چند ماہ قبل صرف 30 ڈالر میں خریدا گیا تھا، مگر بعد میں وہی فن پارہ نیویارک میں ہونے والی نیلامی میں 13 لاکھ 52 ہزار 600 ڈالر میں فروخت ہوگیا۔ 

امریکی نیلام گھر Freeman’s کے مطابق یہ پینٹنگ معروف امریکی سریئلسٹ مصورہ گرٹروڈ ایبرکرومبی کی 1951 میں بنائی گئی تخلیق Alderman Merriam’s Shells ہے، جو تقریباً 75 سال تک عوامی نگاہوں سے اوجھل رہی۔

📊 30 ڈالر سے 13 لاکھ ڈالر — اہم اعداد

30 ڈالر: اسٹیٹ سیل میں خریداری کی قیمت۔

150,000 تا 250,000 ڈالر: نیلامی سے پہلے Freeman’s کا تخمینہ۔

80,000 ڈالر: نیلامی میں ابتدائی بولی۔

1,352,600 ڈالر: حتمی قیمت، خریدار کے پریمیم سمیت۔

75 سال: وہ مدت جس میں پینٹنگ عوامی منظر سے غائب رہی۔

فری مینز کے مطابق پینٹنگ رواں موسم گرما میں امریکی ریاست مشی گن میں ایک اسٹیٹ سیل کے دوران دوبارہ سامنے آئی۔ 

اسے دریافت کرنے والا شخص پرانے ریکارڈز اور بیسویں صدی کے وسط کے فرنیچر کا شوقین تھا۔ 

وہ فروخت کے مقام پر نسبتاً دیر سے پہنچا، جہاں زیادہ تر قابل توجہ سامان پہلے ہی خریدا جا چکا تھا۔

مزید پڑھیں

اسی دوران اس کی نظر گیراج کی طرف جانے والی ایک تاریک راہداری میں لٹکی ہوئی پینٹنگ پر پڑی۔ 

تصویر میں سمندری سیپیاں بنی تھیں اور ایک کونے میں Abercrombie ’51 کا دستخط موجود تھا۔ 

خریدار کو یقین نہیں تھا کہ یہ واقعی ایبرکرومبی کی اصل پینٹنگ ہے، لیکن اس نے صرف 30 ڈالر میں اسے خریدنے کا فیصلہ کیا۔

بعد میں نئے مالک نے اپنے خاندانی سفر کا پروگرام تبدیل کیا اور ملواکی آرٹ میوزیم میں گرٹروڈ ایبرکرومبی کی نمائش The Whole World Is a Mystery دیکھنے پہنچا۔ 

وہاں نمائش کے کیٹلاگ میں اسے 1952 کے شکاگو ٹریبیون کی ایک پرانی تصویر ملی، جس میں یہی پینٹنگ اپنے اصل فریم کے ساتھ دکھائی گئی تھی۔

🖼️ تاریک راہداری میں چھپی قسمت

خریدار جولائی میں مشی گن کی ایک اسٹیٹ سیل پر نسبتاً دیر سے پہنچا، جہاں زیادہ تر قابلِ توجہ سامان پہلے ہی خریدا جا چکا تھا۔

گیراج کی طرف جانے والی ایک تاریک راہداری کے کونے میں اسے سیپیوں کی ایک خاموش سی پینٹنگ دکھائی دی جسے دوسرے خریدار نظرانداز کر چکے تھے۔

قریب جا کر اس نے “Abercrombie” کا دستخط دیکھا۔ اسے یقین نہیں تھا کہ فن پارہ اصل ہے، مگر تجسس نے اسے صرف 30 ڈالر ادا کرنے پر آمادہ کردیا۔

یہاں سے معاملہ مزید دلچسپ ہوگیا۔ 

ایبرکرومبی کے فن کی ممتاز ماہر ڈاکٹر سوزن وائننگر سے رابطہ کیا گیا اور انہوں نے پینٹنگ کی اصلیت کی تصدیق کردی۔ 

یوں تقریباً 75 برس سے نظروں سے اوجھل اس فن پارے کی شناخت ہوگئی اور اسے فری مینز کے حوالے کیا گیا تاکہ نیلامی کے لیے پیش کیا جا سکے۔

پینٹنگ کی ابتدائی تخمینی قیمت ڈیڑھ لاکھ سے ڈھائی لاکھ ڈالر مقرر کی گئی تھی۔ یکم اکتوبر کو نیویارک میں ہونے والی نیلامی میں بولی 80 ہزار ڈالر سے شروع ہوئی، مگر فون اور آن لائن خریداروں کے درمیان مقابلہ تیزی سے بڑھتا گیا۔

🔍 کیسے ثابت ہوا کہ پینٹنگ اصلی ہے؟

نئے مالک نے اپنے خاندانی سفر کا پروگرام بدل کر Milwaukee Art Museum میں گرٹروڈ ایبرکرومبی کی نمائش The Whole World Is a Mystery دیکھی۔

نمائش کے کیٹلاگ میں اسے 1952 کے Chicago Tribune کی ایک آرکائیو تصویر ملی، جس میں یہی پینٹنگ اپنے اصل فریم کے ساتھ موجود تھی۔

بعد ازاں ایبرکرومبی کی ممتاز ماہر ڈاکٹر سوزن وائننگر نے فن پارے کی اصلیت کی تصدیق کردی۔ یہی وہ مرحلہ تھا جس نے 30 ڈالر کی خریداری کو ایک بڑی آرٹ دریافت میں بدل دیا۔

بالآخر پینٹنگ 1,352,600 ڈالر میں فروخت ہوئی، جس میں خریدار کی جانب سے ادا کیا گیا پریمیم بھی شامل تھا۔ 

یہ قیمت ابتدائی بلند ترین تخمینے سے پانچ گنا سے بھی زیادہ نکلی اور اس نے گرٹروڈ ایبرکرومبی کے فن پاروں کی نیلامی کا نیا عالمی ریکارڈ قائم کردیا۔ 

اصل تاریخ
سامنے آنے کے بعد
اس کی قیمت
ہزاروں گنا بڑھ گئی

فری مینز کے مطابق یہ مصورہ کا پہلا ایسا فن پارہ تھا جس کی نیلامی کی بولی 10 لاکھ ڈالر سے اوپر گئی۔
Alderman Merriam’s Shells میں نو سمندری سیپیاں ایک سرمئی سطح پر رکھی دکھائی گئی ہیں جبکہ ایک مخروطی سیپی دھاگے سے سیاہ پس منظر کے سامنے معلق نظر آتی ہے۔
فری مینز کے مطابق یہ سیپیاں شکاگو کے ہائیڈ پارک سے تعلق رکھنے والے رابرٹ میریم کی تھیں، جہاں ایبرکرومبی خود بھی رہتی اور کام کرتی تھیں۔
اس پینٹنگ کی تاریخی کہانی بھی کم دلچسپ نہیں۔
1952 کے اوائل میں ایبرکرومبی نے اسے مشی گن کے ڈاکٹر جان رینالڈز کو طبی خدمات کے عوض دے دیا تھا۔
بعد میں یہ ان کے خاندان میں منتقل ہوتی رہی اور کئی دہائیوں تک عوامی منظر سے غائب رہی۔
1952 اور 1953 میں یہ فن پارہ ایبرکرومبی کی 6 انفرادی نمائشوں میں بھی پیش کیا گیا تھا۔

🐚 پینٹنگ میں آخر ہے کیا؟

Alderman Merriam’s Shells سن 1951 کی تخلیق ہے۔ اس میں سرمئی سطح پر نو سمندری سیپیاں رکھی گئی ہیں جبکہ ایک مخروطی سیپی دھاگے سے سیاہ پس منظر کے سامنے معلق دکھائی دیتی ہے۔

یہ سیپیاں شکاگو کے Hyde Park سے تعلق رکھنے والے رابرٹ میریم کی تھیں، جہاں ایبرکرومبی خود بھی رہتی اور کام کرتی تھیں۔

Freeman’s کے مطابق یہ ایبرکرومبی کے ان نایاب کاموں میں شامل ہے جنہیں انہوں نے براہِ راست حقیقی اشیا کو سامنے رکھ کر بنایا۔

اس پوری کہانی کا سب سے حیران کن پہلو قیمت کا فرق ہے۔ 

ایک تاریک راہداری میں نظرانداز ہونے والی اور صرف 30 ڈالر میں خریدی گئی پینٹنگ چند ہی ماہ بعد 13 لاکھ ڈالر سے زیادہ میں فروخت ہوگئی۔

یہ واقعہ ایک بار پھر ثابت کرتا ہے کہ کبھی کسی پرانے گھر، اسٹور یا معمولی نیلامی میں پڑی بظاہر عام چیز کے پیچھے غیر معمولی تاریخ چھپی ہوسکتی ہے، اور بعض اوقات صرف ایک دستخط، ایک پرانی تصویر اور درست تحقیق کسی عام خریداری کو لاکھوں ڈالر کی دریافت میں بدل دیتی ہے۔

🔗 اصل ذرائع اور مزید مطالعہ

Freeman’s — 1 October 2026:
30 ڈالر میں ملنے والی پینٹنگ کی 1.3526 ملین ڈالر میں فروخت، نیلامی ریکارڈ اور بولی کی مکمل تفصیل۔
اصل رپورٹ کھولیں


Freeman’s — 11 September 2026:
پینٹنگ کی دریافت، 75 سالہ گمشدگی، آرکائیو تصویر اور اصلیت کی تصدیق کی تفصیل۔
اصل رپورٹ کھولیں


Milwaukee Art Museum:
Gertrude Abercrombie: The Whole World Is a Mystery — وہ نمائش جس کے کیٹلاگ سے پینٹنگ کی شناخت میں اہم سراغ ملا۔
میوزیم کا صفحہ کھولیں