براہ راست نشریات

کمپنی نے میرا انشورنس کرایا، بیوی بچوں کا نہیں— قانون کیا کہتا ہے؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
Saudi Family Health Insurance

سعودی عرب میں نجی شعبے کے غیر ملکی کارکنوں کے لیے ہیلتھ انشورنس اہم قانونی حق ہے۔
اگر پاکستانی ملازم کی اہلیہ اور بچے اس کے زیر کفالت اور لازمی انشورنس کے دائرے میں ہوں تو آجر پر ان کی کوریج کی ذمہ داری بھی عائد ہوسکتی ہے۔
انشورنس فراہم نہ کرنے یا ملازم سے پریمیم ادا کرنے کا مطالبہ کرنے کی صورت میں مجلس الضمان الصحي میں خفیہ شکایت درج کرائی جاسکتی ہے۔

میں ایک پاکستانی ہوں اور سعودی عرب میں نجی کمپنی میں ملازمت کرتا ہوں۔ 

کمپنی نے میرا میڈیکل انشورنس تو کرایا ہوا ہے، لیکن میری اہلیہ اور بچے بھی سعودی عرب میں میرے ساتھ مقیم ہیں اور ان کے پاس اقامے ہیں، اس کے باوجود کمپنی ان کا میڈیکل انشورنس کرانے سے انکار کر رہی ہے۔ 

کمپنی کہتی ہے کہ فیملی کا انشورنس ملازم کو اپنی جیب سے کرانا ہوگا۔ 

کیا سعودی قانون کے مطابق کمپنی کا یہ موقف درست ہے؟ 

اور اگر کمپنی انشورنس نہ کرائے تو میں کیا کرسکتا ہوں؟

جواب

اگر آپ سعودی عرب کے نجی شعبے میں ملازمت کرنے والے غیر سعودی کارکن ہیں اور آپ کی اہلیہ اور بچے آپ کے زیر کفالت سعودی عرب میں قانونی اقامے پر موجود ہیں، تو معاملہ صرف کمپنی کی داخلی پالیسی کا نہیں بلکہ سعودی عرب کے لازمی صحت انشورنس کے ضوابط سے متعلق ہے۔

1′ — ایک منٹ میں پوری کہانی

1. سعودی عرب میں نجی شعبے کے غیر سعودی ملازم کا ہیلتھ انشورنس لازمی نظام کے تحت آتا ہے۔

2. اگر اس کے اہلِ خانہ بھی نظام کے تحت مشمول اور اس کی کفالت پر مقیم ہوں تو ان کی کوریج کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

3. آجر ملازم سے لازمی ہیلتھ انشورنس پریمیم میں حصہ ڈالنے کا مطالبہ کرے تو شکایت کی جاسکتی ہے۔

4. شکایت مجلس الضمان الصحي کے ذریعے خفیہ طور پر آن لائن درج کی جاسکتی ہے۔

مجلس الضمان الصحي کی موجودہ ایگزیکٹو ریگولیشن کے مطابق ایسے افراد کے زیر کفالت خاندان کے وہ افراد جو سعودی عرب کا اقامہ رکھتے ہوں، لازمی صحت انشورنس کے دائرے میں آتے ہیں۔ 

ضوابط میں آجر کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ اپنے ان تمام ملازمین اور ان کے مشمولہ اہل خانہ کے لیے منظور شدہ ہیلتھ انشورنس کمپنی کے ذریعے صحت انشورنس فراہم کرے جو نظام کے تحت آتے ہیں۔

اس لیے اگر آپ کی اہلیہ اور بچے آپ کے زیر کفالت ہیں، سعودی عرب میں قانونی طور پر مقیم ہیں اور لازمی انشورنس کی شرائط میں آتے ہیں تو کمپنی صرف یہ کہہ کر ذمہ داری سے بری نہیں ہوسکتی کہ وہ صرف ملازم کا انشورنس فراہم کرتی ہے۔

مزید پڑھیں

انشورنس کی رقم ملازم سے وصول

یہ بھی ایک اہم سوال ہے کیونکہ بعض کارکنوں کو بتایا جاتا ہے کہ کمپنی انشورنس تو کرا دے گی لیکن اس کی رقم تنخواہ سے کاٹی جائے گی۔

مجلس الضمان الصحي نے اس مسئلے کے لیے باقاعدہ شکایت کی سہولت فراہم کی ہے۔ 

سرکاری ویب سائٹ کے مطابق اگر کسی ملازم یا اس کے اہل خانہ کا 

انشورنس نہ کیا گیا ہو یا ملازم سے ہیلتھ انشورنس کے پریمیم میں حصہ ڈالنے کا مطالبہ کیا جائے تو وہ اپنے آجر کے خلاف شکایت کرسکتا ہے۔

یعنی ایسے حالات میں محض کمپنی کی زبانی بات کو حتمی قانون نہ سمجھیں۔ 

پہلے یہ دیکھا جائے گا کہ آپ اور آپ کے اہل خانہ لازمی انشورنس کے تحت آتے ہیں یا نہیں۔

⚖️ اصل قانون کیا کہتا ہے؟

سعودی نظام الضمان الصحي التعاوني کا مقصد غیر سعودی مقیم افراد کے لیے صحت کی دیکھ بھال کو منظم کرنا ہے۔

قانون میں ان افراد کے ساتھ ان کے ان اہلِ خانہ کو بھی کوریج کے دائرے میں رکھا گیا ہے جو متعلقہ ضوابط کے مطابق نظام کے تحت آتے ہیں۔

اسی لیے معاملہ صرف کمپنی کی داخلی پالیسی نہیں بلکہ لازمی صحت انشورنس کے قواعد سے بھی متعلق ہے۔

اگر بیوی بچے وزٹ ویزے پر ہوں تو؟

یہاں ایک اہم فرق سمجھنا ضروری ہے۔

اگر اہلیہ یا بچے سعودی عرب میں اقامہ رکھنے والے زیر کفالت افراد نہیں بلکہ وزٹ ویزے پر آئے ہوئے ہیں، تو ان پر مقیم خاندان کے لازمی ملازم انشورنس والے ضوابط اسی انداز میں لاگو نہیں ہوتے۔ 

وزیٹر کے لیے الگ قسم کا انشورنس موجود ہوتا ہے۔

لہٰذا شکایت کرنے سے پہلے یہ ضرور دیکھیں کہ بیوی بچوں کی سعودی عرب میں قانونی حیثیت کیا ہے۔

اگر کمپنی صاف انکار کردے تو کیا کریں؟

اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کی اہلیہ اور بچے لازمی صحت انشورنس کے مستحق ہیں لیکن کمپنی ان کا انشورنس نہیں کرا رہی تو سب سے پہلے HR یا کمپنی انتظامیہ سے تحریری طور پر وضاحت طلب کریں۔

👨‍👩‍👧‍👦 بیوی بچوں کا انشورنس کس کی ذمہ داری؟

اگر اہلیہ اور بچے سعودی عرب میں ملازم کے زیر کفالت مقیم ہوں اور لازمی ہیلتھ انشورنس کی شرائط میں آتے ہوں تو آجر کو ان کی کوریج بھی یقینی بنانی ہوتی ہے۔

کمپنی صرف یہ کہہ کر ذمہ داری ختم نہیں کرسکتی کہ اس کی پالیسی صرف ملازم کا انشورنس کراتی ہے۔

البتہ ہر فرد کی اقامتی، کفالت اور پالیسی کے تحت اہلیت دیکھی جائے گی۔

بہتر ہوگا کہ ای میل، خط یا کمپنی پورٹل کے ذریعے درخواست دیں تاکہ آپ کے پاس اس بات کا ریکارڈ موجود رہے کہ آپ نے کمپنی سے انشورنس فراہم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

اگر مسئلہ حل نہ ہو تو آپ مجلس الضمان الصحي کے ذریعے آجر کے خلاف الیکٹرانک شکایت درج کرسکتے ہیں۔

مجلس کے مطابق مقیم کارکن کی شکایت کے لیے اقامہ نمبر، ادارے کا یونیفائیڈ نمبر اور زیر کفالت اہل خانہ کے شناختی یا اقامہ نمبرز درکار ہوسکتے ہیں۔ 

شکایت خود متاثرہ شخص کو جمع کرانی ہوتی ہے۔

کیا کمپنی کو معلوم ہوگا کہ میں نے شکایت کی ہے؟

یہ سوال خصوصاً غیر ملکی کارکنوں کے لیے بہت اہم ہے کیونکہ بعض لوگ ملازمت متاثر ہونے کے خوف سے شکایت نہیں کرتے۔

مجلس الضمان الصحي کا کہنا ہے کہ آجر کے خلاف اس نوعیت کی شکایت مکمل رازداری کے ساتھ نمٹائی جاتی ہے اور آجر سے رابطہ کرتے وقت شکایت کنندہ کی شناخت ظاہر نہیں کی جاتی۔ 

💳 کیا کمپنی پریمیم ملازم سے لے سکتی ہے؟

مجلس الضمان الصحي کی شکایتی سروس واضح کرتی ہے کہ اگر آجر ملازم سے ہیلتھ انشورنس کے پریمیم میں حصہ ڈالنے کا مطالبہ کرے تو ملازم شکایت درج کرسکتا ہے۔

اس لیے اگر کمپنی کہے کہ “فیملی انشورنس کرادیں گے، مگر پوری رقم آپ دیں” تو اسے حتمی قانونی موقف نہ سمجھیں۔

پہلے اپنی اور اہلِ خانہ کی اہلیت چیک کریں، پھر ضرورت پڑنے پر سرکاری شکایتی نظام استعمال کریں۔

سرکاری صفحے کے مطابق مکمل دستاویزات فراہم ہونے کی صورت میں اس سروس کے لیے متوقع کارروائی کا وقت 15 کاروباری دن ہے۔

کمپنی قانون کی خلاف ورزی کرے تو کیا ہوسکتا ہے؟

سعودی نظام میں آجر کے لیے صحت انشورنس کو نظر انداز کرنا معمولی معاملہ نہیں۔

مجلس الضمان الصحي کے مطابق اگر آجر ایسے ملازم یا اس کے مشمولہ اہل خانہ کے انشورنس کے واجب پریمیم ادا نہ کرے تو اسے واجب الادا پریمیم ادا کرنے کا پابند کیا جاسکتا ہے۔ 

🛂 اگر بیوی بچے وزٹ ویزے پر ہوں؟

اقامہ رکھنے والے زیر کفالت اہلِ خانہ اور وزٹ ویزے پر آنے والے افراد کا معاملہ ایک جیسا نہیں ہے۔

وزیٹرز کے لیے الگ انشورنس انتظامات ہوتے ہیں، اس لیے ملازم کی فیملی پالیسی سے متعلق قواعد انہیں اسی صورت میں لاگو نہیں کئے جا سکتے۔

شکایت سے پہلے خاندان کے ہر فرد کی سعودی عرب میں قانونی حیثیت ضرور دیکھیں۔

اس کے علاوہ فی فرد سالانہ انشورنس کی مالیت تک جرمانہ عائد کرنے اور بعض حالات میں غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی پر عارضی یا مستقل پابندی لگانے کی بھی گنجائش موجود ہے۔

پاکستانی کارکن کیا کرے؟

اگر آپ کے ساتھ ایسا مسئلہ ہے تو پہلے یہ 3 چیزیں چیک کریں: 

آپ نجی شعبے میں ملازم ہیں، آپ کی اہلیہ اور بچے آپ کے زیر کفالت ہیں، اور ان کے سعودی اقامے موجود ہیں۔

اس کے بعد اپنے HR سے تحریری جواب لیں اور اپنے اور اہل خانہ کے اقاموں کی تفصیلات محفوظ رکھیں۔

📝 کمپنی انکار کرے تو پہلا قدم کیا؟

سب سے پہلے کمپنی کے HR یا انتظامیہ سے تحریری وضاحت مانگیں کہ اہلِ خانہ کو انشورنس میں کیوں شامل نہیں کیا گیا۔

ای میل، کمپنی پورٹل یا تحریری درخواست استعمال کریں تاکہ آپ کے پاس درخواست اور جواب کا ریکارڈ موجود رہے۔

اپنے اور اہلِ خانہ کے اقامہ نمبرز اور موجودہ انشورنس کی تفصیلات بھی محفوظ رکھیں۔

اگر کمپنی اس کے باوجود اہل خاندان کا انشورنس فراہم نہیں کرتی یا اس کی پوری رقم آپ سے ادا کرنے کا مطالبہ کرتی ہے تو مجلس الضمان الصحي کے سرکاری شکایتی نظام سے رجوع کیا جاسکتا ہے۔

مختصر جواب:
صرف ملازم کا انشورنس کرکے اہل اور زیر کفالت مقیم خاندان کو بلاجواز نظر انداز کرنا درست نہیں۔ 

اصل فیصلہ خاندان کی اقامتی حیثیت اور لازمی انشورنس کی شرائط کے مطابق ہوگا، اس لیے کسی تنازع کی صورت میں مجلس الضمان الصحي ہی متعلقہ سرکاری ادارہ ہے۔

🔗 اصل ذرائع اور مزید مطالعہ

مجلس الضمان الصحي — صاحبِ عمل کے خلاف شکایت:
ملازم یا اہلِ خانہ کا انشورنس نہ ہونے، یا ملازم سے پریمیم میں حصہ مانگنے کی صورت میں خفیہ شکایت کی سرکاری سروس۔
اصل سرکاری صفحہ کھولیں


نظام الضمان الصحي التعاوني:
غیر سعودی مقیم اور نظام کے تحت آنے والے اہلِ خانہ کی کوریج سے متعلق بنیادی قانون۔
قانون کی PDF کھولیں


مجلس الضمان الصحي — آرٹیکل 14:
انشورنس فراہم نہ کرنے یا واجب پریمیم ادا نہ کرنے پر آجر کی ذمہ داری اور ممکنہ جرمانوں کی وضاحت۔
اصل سرکاری وضاحت کھولیں