براہ راست نشریات

کارکن کا انتقال: خاندان کو کون سے مالی حقوق ملتے ہیں؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
Expat worker rights Saudi Arabia

سعودی عرب میں کسی غیر ملکی کارکن کے انتقال کے بعد اس کے مالی حقوق ختم نہیں ہوتے۔
خاندان کو اینڈ آف سروس، بقایا تنخواہ، غیر استعمال شدہ چھٹیوں کا معاوضہ اور دیگر واجبات مل سکتے ہیں۔
اگر وفات کام سے متعلق حادثے کے نتیجے میں ہوئی ہو تو سوشل انشورنس کے تحت اضافی معاوضہ بھی ممکن ہے۔

سعودی عرب میں کسی غیر ملکی کارکن کے انتقال کے بعد اس کے خاندان کے سامنے کئی سوال پیدا ہوتے ہیں۔ 

آخری تنخواہ کا کیا ہوگا؟ 

اینڈ آف سروس بینیفٹ کون وصول کرے گا؟ 

غیر استعمال شدہ چھٹیوں کے پیسے ملیں گے یا نہیں؟ 

میت کو وطن بھیجنے کا خرچ کون برداشت کرے گا؟ 

اور اگر موت کام کے دوران کسی حادثے کی وجہ سے ہوئی ہو تو کیا اضافی معاوضہ بھی مل سکتا ہے؟

1′ — ایک منٹ میں پوری کہانی

1. سعودی عرب میں غیر ملکی کارکن کی وفات سے ملازمت ختم ہوتی ہے، مگر اس کے واجب مالی حقوق ختم نہیں ہوتے۔

2. خاندان اینڈ آف سروس، بقایا تنخواہ، غیر استعمال شدہ چھٹیوں اور دیگر ثابت شدہ واجبات کا مطالبہ کرسکتا ہے۔

3. اگر موت ورک انجری کی وجہ سے ہو تو غیر سعودی کارکن کے اہلِ خانہ کو قواعد کے مطابق 3 لاکھ 30 ہزار ریال تک یکمشت معاوضہ مل سکتا ہے۔

4. تمام حقوق کی جانچ سے پہلے حتمی مخالصة پر دستخط نہیں کرنے چاہئیں۔

سعودی قانون کے مطابق کارکن کی وفات سے ملازمت کا معاہدہ ختم ہوجاتا ہے، لیکن اس کے پہلے سے واجب مالی حقوق ختم نہیں ہوتے۔ 

یہ رقم متوفی کے ترکے کا حصہ بن سکتی ہے اور قانونی ورثا مقررہ طریقہ کار کے مطابق اسے حاصل کرسکتے ہیں۔

مزید پڑھیں

کمپنی کے ذمے کون سے واجبات ہوسکتے ہیں؟

خاندان کو صرف اینڈ آف سروس بینیفٹ دیکھ کر معاملہ ختم نہیں کرنا چاہئے۔ 

کارکن کے نام پر کئی دوسری رقوم بھی واجب ہوسکتی ہیں، مثلاً آخری یا بقایا تنخواہ، اینڈ آف سروس بینیفٹ، سالانہ چھٹیوں کا بقایا، کنٹریکٹ میں درج واجب الاؤنس، کمیشن یا دوسری ثابت شدہ مالی رقوم۔

اسی لیے خاندان یا اس کا قانونی نمائندہ کمپنی سے تحریری حساب طلب کرے جس میں ملازمت کی مدت، آخری تنخواہ، اینڈ آف سروس، بقایا تنخواہ اور باقی واجبات واضح طور پر درج ہوں۔

💰 خاندان کن مالی حقوق کا مطالبہ کرسکتا ہے؟

کارکن کے انتقال کے بعد صرف ایک رقم نہیں دیکھی جاتی۔ اس کے نام پر کئی واجبات باقی ہوسکتے ہیں۔

ممکنہ حقوق: بقایا تنخواہ، اینڈ آف سروس، غیر استعمال شدہ سالانہ چھٹیوں کا معاوضہ، واجب الاؤنس یا کمیشن اور دوسری ثابت شدہ مالی رقوم۔

خاندان یا قانونی نمائندے کو کمپنی سے مکمل تحریری حساب مانگنا چاہئے۔

اینڈ آف سروس کیسے شمار ہوگا؟

سعودی نظامِ محنت کے مطابق پہلے 5 سال کے لیے ہر سال آدھی ماہانہ تنخواہ، جبکہ اس کے بعد ہر سال ایک ماہ کی تنخواہ اینڈ آف سروس بینیفٹ کے طور پر شمار کی جاتی ہے۔ 

حساب عام طور پر آخری قابلِ شمار اجرت کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔

مثال کے طور پر اگر کسی کارکن کی آخری تنخواہ 5 ہزار ریال ہو اور اس نے 10 سال کام کیا ہو تو:

پہلے 5 سال:
2,500 ریال × 5 = 12,500 ریال

اگلے 5 سال:
5,000 ریال × 5 = 25,000 ریال

کل اینڈ آف سروس: 37,500 ریال

🧮 اینڈ آف سروس کیسے شمار ہوگا؟

سعودی نظامِ محنت کے مطابق پہلے 5 سال کے لیے ہر سال نصف ماہ کی اجرت اور اس کے بعد ہر سال ایک ماہ کی اجرت بنیادی حساب ہے۔

حساب کی بنیاد: آخری قابلِ شمار اجرت۔

سال کے کسی حصے کی خدمت بھی اسی تناسب سے شامل کی جاتی ہے۔

اگر آخری تنخواہ 7 ہزار ریال ہو اور ملازمت کی مدت 10 سال ہو تو کل بنیادی اینڈ آف سروس تقریباً 52,500 ریال بنتا ہے۔

یہ رقم صرف اینڈ آف سروس کی مثال ہے، اس میں بقایا تنخواہ، چھٹیوں کا معاوضہ یا دوسرے حقوق شامل نہیں۔

اگر موت کام کے دوران حادثے کی وجہ سے ہو؟

یہ صورتحال زیادہ اہم ہوجاتی ہے کیونکہ اس صورت میں جنرل آرگنائزیشن فار سوشل انشورنس یعنی GOSI کے تحت الگ حقوق پیدا ہوسکتے ہیں۔

پیشہ ورانہ حادثہ صرف فیکٹری یا دفتر کے اندر ہونے والا حادثہ نہیں ہوتا۔ 

بعض شرائط کے تحت گھر سے کام پر جاتے یا واپس آتے ہوئے حادثہ، یا کمپنی کی طرف سے سونپی گئی ذمہ داری انجام دیتے وقت پیش آنے والا حادثہ بھی ورک انجری میں شامل ہوسکتا ہے۔

📊 مثال — 5 ہزار اور 7 ہزار ریال تنخواہ

5,000 ریال تنخواہ + 10 سال سروس:
پہلے 5 سال = 12,500 ریال
اگلے 5 سال = 25,000 ریال
کل بنیادی اینڈ آف سروس: 37,500 ریال

7,000 ریال تنخواہ + 10 سال سروس:
کل بنیادی اینڈ آف سروس تقریباً 52,500 ریال

اس میں بقایا تنخواہ، چھٹیوں یا دیگر ممکنہ واجبات شامل نہیں۔

اگر غیر سعودی کارکن کی موت کام سے متعلق حادثے کے نتیجے میں ہو تو اس کے اہلِ خانہ کو قواعد کے مطابق 84 ماہ کی عائدہ کے برابر یکمشت معاوضہ مل سکتا ہے، تاہم اس کی زیادہ سے زیادہ حد 3 لاکھ 30 ہزار ریال ہے۔

مثلاً اگر قابلِ شمار ماہانہ عائدہ 4 ہزار ریال ہو تو 84 ماہ کا حساب 3 لاکھ 36 ہزار ریال بنتا ہے، لیکن مقررہ حد کے باعث زیادہ سے زیادہ 3 لاکھ 30 ہزار ریال ہی ادا کیے جائیں گے۔

یہ معاوضہ کمپنی کے اینڈ آف سروس سے الگ حق ہوسکتا ہے، اس لیے خاندان کو صرف کمپنی کی پیشکش پر اکتفا نہیں کرنا چاہئے۔

میت کو وطن بھیجنے کا خرچ کون دے گا؟

سعودی نظامِ محنت کے مطابق غیر سعودی کارکن کی میت کی تیاری اور اسے اس جگہ یا ملک تک پہنچانے کے اخراجات جہاں سے اسے ملازمت کے لیے لایا گیا تھا، اصولاً آجر کے ذمے ہوتے ہیں، الا یہ کہ خاندان سعودی عرب میں تدفین پر رضامند ہو۔

کچھ حالات میں اگر موت ورک انجری کی وجہ سے ہوئی ہو تو متعلقہ اخراجات سوشل انشورنس کے ذریعے بھی کور ہوسکتے ہیں۔

⚠️ اگر موت ورک انجری سے ہوئی ہو؟

اگر وفات کام کے دوران یا کام سے متعلق حادثے کی وجہ سے ہوئی ہو تو معاملہ صرف کمپنی کے واجبات تک محدود نہیں رہتا۔

بعض حالات میں کام پر جاتے یا واپس آتے ہوئے پیش آنے والا حادثہ بھی قواعد کے تحت ورک انجری شمار ہوسکتا ہے۔

اس لیے حادثے کی سرکاری رپورٹ اور اس کے کام سے تعلق کی نوعیت کی تصدیق بہت اہم ہے۔

خاندان کو کیا کرنا چاہئے؟

سب سے پہلے متوفی کارکن کی وفات کے سرکاری کاغذات حاصل کیے جائیں۔ 

اس کے بعد قانونی ورثا کی حیثیت ثابت کرنے کے لیے ضروری دستاویزات تیار کی جائیں اور اگر ضرورت ہو تو کسی ایک شخص کو باقاعدہ نمائندہ بنایا جائے۔

اس کے بعد کمپنی سے مکمل مالی اسٹیٹمنٹ مانگی جائے اور ساتھ ہی یہ بھی دیکھا جائے کہ کارکن GOSI میں کس حیثیت سے رجسٹرڈ تھا اور آیا موت کسی ورک انجری کے زمرے میں آتی ہے یا نہیں۔

اگر وفات حادثے کی وجہ سے ہوئی ہو تو اس حادثے کی سرکاری رپورٹ اور کام سے تعلق کی نوعیت جانچنا بہت اہم ہے۔

کیا فوراً مخالصة پر دستخط کردینے چاہئیں؟

نہیں۔ 

خاندان کو کسی ایسی تحریر پر جلدی دستخط نہیں کرنے چاہئیں جس میں لکھا ہو کہ تمام واجبات وصول ہوگئے ہیں، جب تک تنخواہ، اینڈ آف سروس، چھٹیوں، ممکنہ انشورنس معاوضے اور دوسرے مالی حقوق کی مکمل جانچ نہ کرلی جائے۔

🛡️ 3 لاکھ 30 ہزار ریال تک معاوضہ کب؟

GOSI کے مطابق اگر غیر سعودی کارکن کی وفات ورک انجری کی وجہ سے ہو تو اہلِ خانہ کو یکمشت معاوضہ دیا جاسکتا ہے۔

یہ معاوضہ سات سال، یعنی 84 ماہ کی عائدہ کے برابر شمار ہوتا ہے۔

زیادہ سے زیادہ حد: 330,000 ریال

یہ حق کمپنی سے ملنے والے اینڈ آف سروس اور دوسرے واجبات سے الگ نوعیت رکھتا ہے۔

خاص طور پر اگر موت کام سے متعلق حادثے کی وجہ سے ہوئی ہو تو پہلے یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ آیا خاندان GOSI کے اضافی معاوضے کا مستحق ہے یا نہیں۔

خلاصہ

سعودی عرب میں غیر ملکی کارکن کی وفات کے بعد اس کے مالی حقوق ختم نہیں ہوتے۔ خاندان کو کمپنی سے اینڈ آف سروس، بقایا تنخواہ، چھٹیوں اور دیگر واجبات مل سکتے ہیں، جبکہ کام سے متعلق حادثے کی صورت میں سوشل انشورنس کے تحت 3 لاکھ 30 ہزار ریال تک الگ معاوضہ بھی ممکن ہے۔

اس لیے سب سے اہم اصول یہ ہے کہ کوئی حتمی مخالصة سائن کرنے سے پہلے تمام حقوق، موت کی وجہ اور متعلقہ سرکاری ریکارڈ کی مکمل تصدیق کی جائے۔

🔗 اصل ذرائع اور مزید مطالعہ

سعودی وزارت افرادی قوت و سماجی ترقی — نظام العمل / علاقات العمل:
اینڈ آف سروس کے بنیادی حساب اور ملازمت ختم ہونے کے بعد واجبات سے متعلق سرکاری مواد۔
اصل صفحہ کھولیں


وزارت افرادی قوت — دفعہ 40:
غیر سعودی کارکن کی میت کی تیاری اور منتقلی کے اخراجات سے متعلق حکم۔
اصل صفحہ کھولیں


GOSI — Occupational Hazards:
ورک انجری سے غیر سعودی کارکن کی وفات پر یکمشت معاوضے اور 330,000 ریال کی زیادہ سے زیادہ حد کی تفصیل۔
اصل صفحہ کھولیں

رائے دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے