براہ راست نشریات

موبائل کی قسطیں باقی ہیں، کیا ایئرپورٹ پر روک لیا جائے گا؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes

سعودی عرب میں موبائل قسطوں پر لینے کے بعد بقایا رقم چھوڑ کر خروج نہائی پر پاکستان جانے والے شخص کو دو سال بعد نیا ویزا مل جائے تو صرف بقایا قسط کی وجہ سے سعودی عرب میں داخلے پر خودکار پابندی نہیں لگتی۔
تاہم اگر کمپنی نے معاملہ عدالت یا محکمۂ تنفیذ تک پہنچا دیا ہو تو سفر سے پہلے ناجز میں کیس اور جاری احکامات کی جانچ ضروری ہے۔

سعودی عرب میں مقیم بہت سے تارکین وطن موبائل، گاڑی یا دوسری اشیا قسطوں پر خریدتے ہیں۔ 

بعض اوقات اچانک گھریلو حالات، ملازمت ختم ہونے یا خروج نہائی پر وطن واپسی کی وجہ سے اقساط باقی رہ جاتی ہیں۔ 

ایسی صورت میں اصل پریشانی اس وقت سامنے آتی ہے جب کچھ عرصے بعد دوبارہ سعودی عرب کا ویزا مل جائے اور یہ خدشہ پیدا ہو کہ پرانے قرض کی وجہ سے ایئرپورٹ پر روک تو نہیں لیا جائے گا۔

ایک قاری کا سوال بھی اسی نوعیت کا ہے۔ 

انہوں نے سعودی عرب میں رہتے ہوئے ایک کمپنی سے موبائل قسطوں پر خریدا اور ایک ماہ کی قسط ادا کرنے کے بعد گھریلو حالات کے باعث خروج نہائی پر پاکستان واپس چلے گئے۔ بعد میں بقایا اقساط یاد آئیں، مگر اس وقت ادائیگی نہ ہوسکی۔ اب دو سال بعد انہیں نیا سعودی ویزا ملا ہے اور وہ جاننا چاہتے ہیں کہ کیا پرانی موبائل اقساط سعودی عرب میں دوبارہ داخلے میں رکاوٹ بن سکتی ہیں؟