سعودی فوڈ بینک ’اطعام‘ نے غیر منافع بخش سپرمارکیٹ کا ایسا ماڈل متعارف کرایا ہے جہاں مستحق خاندان اپنی ضرورت کے مطابق غذائی اشیا خود منتخب کرسکتے ہیں۔
منصوبے کا مقصد امداد لینے والوں کا وقار اور حقِ انتخاب برقرار رکھنے کے ساتھ خوراک کا ضیاع کم کرنا اور عام خریداروں کو بھی سماجی خدمت میں شریک کرنا ہے۔
سعودی عرب میں خوراکی امداد کے روایتی طریقے کو بدلنے کی ایک منفرد کوشش سامنے آئی ہے۔
سعودی فوڈ بینک ’اطعام‘ نے ’اطعام مارکٹ ایکسپریس‘ کے نام سے ایسا غیر منافع بخش سپرمارکیٹ ماڈل متعارف کرایا ہے جہاں مقصد صرف اشیائے خورونوش فراہم کرنا نہیں بلکہ مستحق افراد کو یہ حق دینا بھی ہے کہ وہ اپنی ضرورت کے مطابق سامان خود منتخب کریں۔
سبق ویب سائٹ کے مطابق نئے منصوبے کی تقریب میں نیشنل سینٹر فار نان پرافٹ سیکٹر ڈویلپمنٹ کے چیف ایگزیکٹو احمد بن علی السویلم نے بھی شرکت کی۔
رپورٹ میں اسے مشرقِ وسطیٰ میں اپنی نوعیت کا پہلا غیر منافع بخش سپرمارکیٹ قرار دیا گیا ہے۔
⌚ OVERSEAS POST | TIMELINE منصوبے کی ٹائم لائن ⌄
راشن کا تیار ڈبہ نہیں، اپنی ضرورت کا انتخاب
عام طور پر خوراکی امداد میں مستحق خاندانوں کو پہلے سے تیار شدہ فوڈ باسکٹ یا راشن پیکج دیا جاتا ہے۔
اس طریقے میں ایک خاندان کو بعض ایسی اشیا بھی مل سکتی ہیں جن کی اسے فوری ضرورت نہ ہو، جبکہ دوسری ضروری چیز پیکج میں شامل نہ ہو۔
’اطعام مارکٹ ایکسپریس‘ کا تصور اس سے مختلف ہے۔
یہاں مستحق شخص کو زیادہ اختیار دیا جاتا ہے کہ وہ اپنی گھریلو ضروریات اور ترجیحات کے مطابق غذائی اشیا منتخب کرے۔
’اطعام‘ کا کہنا ہے کہ ہر خاندان کی ضرورت ایک جیسی نہیں ہوتی، اس لیے امداد کے لیے ایک ہی فہرست یا ایک ہی پیکج سب پر لاگو کرنا ضروری نہیں۔
اس تصور کا ایک اہم پہلو وقار اور حقِ انتخاب ہے۔
مستحق فرد صرف امداد وصول کرنے والا نہیں رہتا بلکہ وہ خود فیصلہ کرتا ہے کہ اس کے گھر کے لیے کس چیز کی زیادہ ضرورت ہے۔
◆ OVERSEAS POST | HIGHLIGHTS اہم نکات ⌄
مزید پڑھیں
عام لوگ بھی خریداری کرسکیں گے
منصوبے کی دوسری نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ ’اطعام مارکٹ ایکسپریس‘ کو صرف مستحق خاندانوں تک محدود نہیں رکھا گیا۔
سبق کے مطابق یہاں عام لوگوں کے لیے بھی خریداری کی سہولت ہوگی۔
یعنی کوئی شخص اپنی ضرورت کی اشیا خریدتے ہوئے ایک ایسے نظام
میں شریک ہوسکے گا جس کا مقصد غذائی امداد، خوراک کے بہتر استعمال اور سماجی اثر کو مضبوط بنانا ہے۔
اطعام کے چیف ایگزیکٹو فیصل الشوشان کے مطابق تصور یہ ہے کہ خریداری اور سماجی خدمت کو ایک دوسرے سے جوڑ دیا جائے، تاکہ معاشرے کا ہر فرد اس نظام میں کسی نہ کسی صورت شریک ہوسکے۔
اس طرح سپرمارکیٹ صرف سامان فروخت کرنے کی جگہ نہیں رہتا بلکہ خریداری، عطیات، غذائی استحکام اور سماجی خدمت کو ایک ہی نظام سے جوڑنے کی کوشش بن جاتا ہے۔
i OVERSEAS POST | FACT BOX فیکٹ باکس ⌄
خوراک کا ضیاع بھی ایک بڑا ہدف
منصوبے کا ایک اور اہم مقصد خوراک کے ضیاع کو کم کرنا ہے۔
’اطعام‘ طویل عرصے سے اضافی اور قابلِ استعمال خوراک کو ضائع ہونے سے بچانے اور اسے ضرورت مند افراد تک پہنچانے کے شعبے میں کام کررہا ہے۔
نئے ماڈل کے ذریعے دستیاب غذائی وسائل اور عطیات سے زیادہ مؤثر انداز میں فائدہ اٹھانے کی کوشش کی جارہی ہے۔
منصوبہ اضافی خوراک کو ضائع ہونے دینے کے بجائے اسے سماجی قدر میں تبدیل کرنے، وسائل کے استعمال کو بہتر بنانے اور غذائی استحکام کو مضبوط کرنے پر بھی توجہ دیتا ہے۔
منصوبہ اچانک شروع نہیں ہوا
’اطعام ایکسپریس‘ کا بنیادی تصور 2026 میں اچانک سامنے نہیں آیا۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق 13 فروری 2025 کو مشرقی صوبے کے گورنر شہزادہ سعود بن نایف بن عبدالعزیز نے ’اطعام ایکسپریس‘ منصوبے کا افتتاح کیا تھا۔
↻ OVERSEAS POST | EXPLAINER یہ نظام کیسے کام کرتا ہے؟ ⌄
اس وقت سرکاری خبر میں اسے غیر منافع بخش سپرمارکیٹس کی ایک سلسلہ وار اسکیم قرار دیا گیا تھا، جس کا مقصد خوراکی امداد کی تقسیم کے طریقے کو جدید بنانا، اطعام کی آپریشنل کارکردگی بہتر کرنا اور مستحق افراد تک امداد زیادہ مؤثر انداز میں پہنچانا تھا۔
اس لحاظ سے موجودہ ’اطعام مارکٹ ایکسپریس‘ کو اسی منصوبے کے زیادہ واضح اور ترقی یافتہ عملی ماڈل کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے، جس میں اب مستحق کے حقِ انتخاب اور عام معاشرے کی شرکت پر زیادہ زور دیا گیا ہے۔
لیکن چند سوالات ابھی باقی ہیں
شائع شدہ معلومات میں ابھی یہ تفصیل واضح نہیں کی گئی کہ مستحق خاندانوں کو کتنی مالیت کی اشیا لینے کی اجازت ہوگی، ان کی شناخت کس نظام کے تحت ہوگی، انہیں خصوصی کارڈ یا ڈیجیٹل کریڈٹ دیا جائے گا یا کوئی اور طریقہ استعمال کیا جائے گا۔
⇄ OVERSEAS POST | COMPARISON روایتی راشن سے کیا فرق ہے؟ ⌄
اسی طرح عام خریدار کی خریداری سے کتنی رقم یا کس تناسب سے اطعام کے سماجی منصوبوں کو فائدہ پہنچے گا، اس کی مکمل مالی تفصیلات بھی جاری نہیں کی گئیں۔
اس لیے اسے عام کمرشل سپرمارکیٹ کے مساوی سمجھنے کے بجائے خوراکی امداد اور سماجی خریداری کے ایک نئے غیر منافع بخش ماڈل کے طور پر دیکھنا زیادہ درست ہوگا۔
یہ منصوبہ کیوں اہم ہے؟
🛒 OVERSEAS POST | SHOPPER عام خریدار کے لیے کیا ہے؟ ⌄
اس منصوبے کی اصل تبدیلی صرف سپرمارکیٹ کھولنا نہیں بلکہ امداد دینے کے انداز کو بدلنا ہے۔
روایتی نظام کہتا ہے: ’ہم نے آپ کے لیے یہ راشن منتخب کیا ہے۔‘
نیا ماڈل کہتا ہے: ’آپ بتائیں، آپ کے گھر کو کیا چاہئے۔‘
اگر یہ تجربہ کامیاب رہتا ہے اور مزید شہروں تک پھیلتا ہے تو سعودی عرب میں خوراکی امداد کا ایسا نظام مضبوط ہوسکتا ہے جس میں ایک طرف ضرورت مند خاندان کا وقار اور اختیار برقرار رہے، دوسری طرف خوراک کا ضیاع کم ہو اور عام شہری بھی روزمرہ خریداری کے ذریعے سماجی خدمت کا حصہ بن سکیں۔
اسی وجہ سے ’اطعام مارکٹ ایکسپریس‘ کو محض ایک دکان نہیں بلکہ سعودی غیر منافع بخش شعبے میں امداد، خریداری اور غذائی استحکام کو جوڑنے کی ایک نئی کوشش قرار دیا جاسکتا ہے۔