فیکٹ شیٹ
فیکٹ باکس: تیونس کے چیمپئن آخر کیوں بھاگ رہے ہیں؟
+
فیکٹ باکس: تیونس کے چیمپئن آخر کیوں بھاگ رہے ہیں؟
تیونس کے قومی کھلاڑیوں کی بیرونِ ملک روانگی اب وقتی واقعہ نہیں بلکہ 25 برسوں پر پھیلا بحران بن چکی ہے، جہاں سونے کے تمغے بھی معاشی استحکام نہیں لا پا رہے۔
💸 قلیل ترین ماہانہ وظیفہ
افریقی اور بین الاقوامی چیمپئنز کو ماہانہ صرف 250 تیونسی دینار (تقریباً 85 ڈالر) ملتے ہیں، اور یہ قلیل رقم بھی اکثر کئی کئی ماہ کی تاخیر سے فراہم کی جاتی ہے۔
📉 قومی بجٹ میں عدم ترجیح
2026 میں کھیلوں اور نوجوانوں کے لیے مختص کردہ 1.02 ارب دینار ملکی مجموعی ریاستی بجٹ کا بمشکل 1.6 فیصد بنتے ہیں، جس کا بڑا حصہ صرف انتظامی اخراجات میں چلا جاتا ہے۔
👥 نوجوانوں میں 35.4% بے روزگاری
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں 15 تا 24 سال کے نوجوانوں میں 35 فیصد سے زائد بے روزگاری ہے، جس کی لپیٹ میں بین الاقوامی سطح پر ٹریننگ لینے والے ایتھلیٹس بھی شامل ہیں۔
🚪 محفوظ مستقبل کا فقدان
کھلاڑیوں کے لیے چوٹ لگنے کی صورت میں طبی بیمہ، ریٹائرمنٹ پنشن اور ملازمت کا کوئی نظام موجود نہیں، جس سے بچنے کے لیے وہ ہجرت یا دوسری شہریت کا راستہ چنتے ہیں۔
ایک قومی کھلاڑی، جس کے سینے پر ملک کا نشان ہو، بیرونِ ملک مقابلے کے دوران اچانک غائب ہو جائے تو پہلا سوال یہی بنتا ہے کہ آخر کیوں؟
مزید پڑھیں
تیونس میں یہ سوال اب صرف ایک واقعے تک محدود نہیں رہا بلکہ کھیلوں کے پورے نظام کے لیے خطرے کی گھنٹی بن چکا ہے۔
اگست 2026 میں اٹلی کے شہر تارانتو میں ہونے والے بحیرۂ روم کھیلوں میں تیونس کے 128 کھلاڑی شریک تھے۔
ان کھلاڑیوں میں سے 4 نے وفد کو اچانک چھوڑ دیا۔
سب سے زیادہ توجہ ریسلر شہد الجلجلی نے حاصل کی، جنہوں نے بعد
میں واضح کیا کہ وہ اغوا نہیں ہوئیں بلکہ انہوں نے خود ہجرت کا فیصلہ کیا تھا۔
بین الاقوامی تمغے جیتنے کے باوجود ناکافی مالی معاونت اور شدید معاشی بحران تیونس کے باصلاحیت ایتھلیٹس کو ملک چھوڑنے پر مجبور کر رہا ہے۔
ملک میں پندرہ سے چوبیس سال کے نوجوانوں کا بڑا حصہ ملازمتوں سے محروم ہے، جس نے ابھرتے ہوئے ایتھلیٹس کو مایوسی اور متبادل راستوں پر دھکیل دیا۔
افریقی چیمپئن ریسلر شہد الجلجلی کو ماہانہ پچاسی ڈالر کے برابر رقم بھی باقاعدگی سے نہ مل سکی، جس سے روزمرہ اخراجات چلانا ناممکن ہو گیا۔
مجموعی قومی بجٹ میں کھیلوں کا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے، جس کے سبب فٹبال کے علاوہ دیگر کھیلوں کے کھلاڑی بین الاقوامی معیار کی سہولیات سے محروم ہیں۔
پچھلی اڑھائی دہائیوں میں سیکڑوں ایتھلیٹس نے مستقل روزگار، جدید ٹریننگ اور مالی تحفظ کی خاطر جرمنی اور سعودی عرب سمیت دیگر ممالک کا رخ کیا۔
چیمپئن، مگر جیب تقریباً خالی
شہد الجلجلی کوئی عام کھلاڑی نہیں ہیں۔ وہ افریقی سطح پر تمغے جیت چکی ہیں، مگر ان کے مطابق انہیں ماہانہ صرف 250 تیونسی دینار، یعنی تقریباً 85 ڈالر ملتے تھے اور وہ رقم بھی باقاعدگی سے نہیں پہنچتی تھی۔
انہوں نے کہا کہ مسلسل ٹریننگ کے باوجود بعض اوقات روزمرہ ضروریات پوری کرنا مشکل ہوجاتا تھا۔
🎖️
اہم نکات: تمغے ہیں، مگر کھلاڑیوں کے پاس مستقبل نہیں
▼
اہم نکات: تمغے ہیں، مگر کھلاڑیوں کے پاس مستقبل نہیں
🌟 تمغے قومی فخر ہیں مگر روزگار کی ضمانت نہیں
شہد الجلجلی جیسی افریقی چیمپئن کا وفد چھوڑ کر ہجرت کرنا یہ ثابت کرتا ہے کہ تمغوں کی چمک کھلاڑیوں کی روزمرہ معاشی ضرورتیں پوری نہیں کر سکتی۔ عزت اور پرچم کی محبت ایک طرف، مگر بقا اور باوقار روزگار کی جنگ دوسری طرف ہے۔
⚽ فٹبال بمقابلہ انفرادی کھیل
تیونس میں فنڈنگ کا بڑا حصہ فٹبال پر خرچ ہوتا ہے، جبکہ ویٹ لفٹنگ، ریسلنگ، ایتھلیٹکس اور جمناسٹکس جیسے عالمی میڈل لانے والے کھیلوں کے ایتھلیٹس بنیادی کٹس اور سپلیمنٹس تک کے لیے ترستے ہیں۔
🛡️ ریٹائرمنٹ اور چوٹ کا خوف
کھلاڑی کی عمر اور کارکردگی کا دورانیہ محدود ہوتا ہے۔ جب تک وہ میڈل جیتتا ہے اسے سراہا جاتا ہے، مگر شدید چوٹ یا ریٹائرمنٹ کے فوراً بعد اسے کسی پنشن یا طبی سہولت کے بغیر بے آسرا چھوڑ دیا جاتا ہے۔
حیران کن بات ہے کہ یہ صرف ایک کھلاڑی کی شکایت نہیں، بلکہ تیونس میں خاص طور پر فٹبال سے ہٹ کر ریسلنگ، ویٹ لفٹنگ، جمناسٹکس اور دوسرے کھیلوں کے ایتھلیٹس محدود مالی مدد، غیر یقینی مستقبل اور ریٹائرمنٹ کے بعد تحفظ نہ ہونے کی شکایت کرتے رہے ہیں۔
ایک عالمی چیمپئن بھی واپس نہ آئی
2025ء میں عالمی ویٹ لفٹنگ چیمپئن غفران بلخیر ناروے میں ورلڈ چیمپئن شپ کے لیے پہنچیں، مگر اوسلو ایئرپورٹ سے اچانک وفد چھوڑ گئیں۔
💵
بڑا سوال: 85 ڈالر میں ایک چیمپئن کیسے گزارا کرے؟
حقیقی تقابل
بڑا سوال: 85 ڈالر میں ایک چیمپئن کیسے گزارا کرے؟
🏋️ ایک چیمپئن کے حقیقی اخراجات
ریسلنگ یا ویٹ لفٹنگ کے ایتھلیٹ کو روزانہ 3500 سے 4500 کیلوریز، مستند فزیوتھراپسٹ، خصوصی جوتے اور طبی معائنے درکار ہوتے ہیں۔ 85 ڈالر میں صرف چند دنوں کی مطلوبہ خوراک بھی بمشکل خریدی جا سکتی ہے۔
🛒 تیونس میں روزمرہ معاشی دباؤ
تیونس میں افراطِ زر، ملکی کرنسی کی گراوٹ اور عام اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافے نے عام شہریوں کے ساتھ کھلاڑیوں کے خاندانوں کو بھی مقروض کر رکھا ہے، جس سے ذہنی سکون سے ٹریننگ ناممکن ہو جاتی ہے۔
اس پراسرار واقعے کے چند ماہ بعد انہوں نے جرمنی کی قومی ٹیم سے وابستگی کا اعلان کردیا۔
دوسری طرف نوجوان تیراک رامی الرحمونی نے سمندری یا خفیہ راستہ اختیار نہیں کیا، بلکہ فروری 2026 میں تیونسی سوئمنگ فیڈریشن نے تصدیق کی کہ وہ سعودی شہریت حاصل کرکے سعودی عرب کی نمائندگی کریں گے۔
فیڈریشن کے مطابق انہیں تیونس میں 165 ہزار دینار کا اہدافی معاہدہ بھی دیا گیا تھا۔
اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مسئلہ صرف غربت نہیں، بلکہ بہتر تربیت، مستقبل، سہولیات اور پیشہ ورانہ ماحول بھی کھلاڑی کے فیصلے میں وزن رکھتے ہیں۔
🌐
عالمی زاویہ: کھلاڑی ملک کیوں بدلتے ہیں؟
‹
عالمی زاویہ: کھلاڑی ملک کیوں بدلتے ہیں؟
غفران بلخیر (ویٹ لفٹنگ چیمپئن)
ناروے میں ورلڈ چیمپئن شپ کے دوران ٹیم چھوڑنے کے بعد جرمنی کا رخ کیا۔ مقصد جدید ترین تربیتی سہولیات اور تاحیات معاشی و سماجی تحفظ حاصل کرنا تھا۔
رامی الرحمونی (تیراک)
تیونس نے 165 ہزار دینار کا معاہدہ پیش کیا مگر انہوں نے سعودی شہریت چنی، کیونکہ مسئلہ صرف نقد رقم کا نہیں بلکہ ورلڈ کلاس اولمپک انفراسٹرکچر کا تھا۔
شہد الجلجلی و دیگر ایتھلیٹس
تارانتو گیمز میں شریک 128 میں سے 4 کھلاڑی وفد سے غائب ہو گئے۔ ان کا ماننا ہے کہ یورپ میں غیر یقینی پناہ کا خطرہ وطن میں مسلسل محرومی سے زیادہ پرامید ہے۔
کھیلوں سے بڑا مسئلہ معیشت ہے
اس تصویر کا ایک پس منظر تیونس کی معیشت بھی ہے، جہاں سرکاری ادارۂ شماریات کے مطابق 2026 کی دوسری سہ ماہی میں مجموعی بے روزگاری 14.9 فیصد جبکہ 15 سے 24 سال کے نوجوانوں میں یہ شرح 35.4 فیصد تھی۔
اسی طرح تیونس میں کھیلوں کا بجٹ بھی بحث کا مرکز ہے۔ 2026 میں نوجوانوں اور کھیلوں کے شعبے کے لیے تقریباً 1.02 ارب تیونسی دینار مختص کیے گئے، جو مجموعی ریاستی بجٹ کا تقریباً 1.6 فیصد بنتا ہے۔
🔮
آگے کیا ہوگا؟ کیا تیونس اپنے چیمپئن روک پائے گا؟
➔
آگے کیا ہوگا؟ کیا تیونس اپنے چیمپئن روک پائے گا؟
ٹیلنٹ ڈرین میں مزید تیزی
اگر ماہانہ وظائف اور بنیادی کفالت میں فوری اضافہ نہ کیا گیا تو آئندہ بین الاقوامی ایونٹس کے دوران مزید نوجوان چیمپئنز کے غائب ہونے یا غیر ملکی کلبز کا رخ کرنے کا خدشہ ہے۔
نجی اسپانسرشپ اور پبلک پارٹنرشپ
ماہرین کے مطابق ریاستی بجٹ کی کمزوری کا واحد حل ملکی کارپوریٹ سیکٹر اور بینکوں کو کھیلوں کے لیے ٹیکس رعایت کے ساتھ ترغیب دینا ہے تاکہ ایتھلیٹس کے لیے براہِ راست وظائف نکل سکیں۔
پیشہ ورانہ کنٹریکٹ اور پنشن
فیڈریشنز کو روایتی اعزازی نظام ختم کر کے یورپی طرز پر قانونی معاہدے متعارف کرانے ہوں گے، جس میں ریٹائرمنٹ کے بعد کوچنگ یا فیڈریشن میں مستقل ملازمت کی ضمانت دی جائے۔
بین الاقوامی سطح پر ساکھ کا امتحان
کھلاڑیوں کے مسلسل انخلا سے یورپی ممالک کی جانب سے تیونسی اسپورٹس وفود کے لیے ویزا شرائط سخت ہونے کا خدشہ ہے، جس کے اثرات مستقبل کے ابھرتے ہوئے ٹیلنٹ پر پڑیں گے۔
اصل معاملہ ہے کیا؟
غیرسرکاری اندازوں کے مطابق گزشتہ تقریباً 25 برس میں سیکڑوں تیونسی کھلاڑی بین الاقوامی مقابلوں کے دوران واپس نہ لوٹنے کا راستہ اختیار کرچکے ہیں۔
بعض نے غیرقانونی سمندری سفر کیا، کچھ بیرون ملک غائب ہوئے اور بعض نے قانونی طور پر دوسری قومی ٹیم چن لی۔
مبصرین کے مطابق اصل سوال یہ نہیں کہ ایک چیمپئن کیوں بھاگا، بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ برسوں کی محنت، قومی پرچم اور تمغوں کے باوجود اسے رُکنے کی خاطر خواہ وجہ کیوں نہیں ملی؟