سعودی کیپٹل مارکیٹ اتھارٹی نے منی مارکیٹ فنڈز کی بیرونِ ملک سرمایہ کاری خالص اثاثوں کے 5 فیصد تک محدود کردی ہے۔
مالیاتی اداروں کے اندازوں کے مطابق اس اقدام سے آنے والے دو سال میں اربوں ریال مقامی اثاثوں کی طرف منتقل ہوسکتے ہیں، تاہم پوری رقم لازماً فوراً واپس نہیں آئے گی۔
سعودی عرب نے منی مارکیٹ فنڈز کی بیرونِ ملک سرمایہ کاری کے لیے نئی حد مقرر کردی ہے، جس کے بعد اہم سوال یہ ہے کہ کیا اربوں ریال دوبارہ سعودی مالیاتی نظام کی طرف منتقل ہوں گے اور اس کا عام سرمایہ کار، بینکوں اور مقامی منڈی پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
سعودی کیپٹل مارکیٹ اتھارٹی نے عوامی منی مارکیٹ فنڈز کے منتظمین کو ہدایت دی ہے کہ کسی بھی فنڈ کی بیرونِ مملکت سرمایہ کاری اس کے خالص اثاثوں کے 5 فیصد سے زیادہ نہ ہو۔ بیرونِ ملک سرمایہ کاری صرف ایسے فریقوں کے ساتھ ہوسکے گی جن کی کریڈٹ ریٹنگ سرمایہ کاری کے قابل درجے کی ہو اور یہ درجہ بندی کسی مجاز ریٹنگ ایجنسی نے جاری کی ہو۔
◆ OVERSEAS POST | HIGHLIGHTSاہم نکات ⌄
- ✓سعودی کیپٹل مارکیٹ اتھارٹی نے عوامی منی مارکیٹ فنڈز کی بیرونِ مملکت سرمایہ کاری کو خالص اثاثوں کے 5 فیصد تک محدود کردیا ہے۔
- ✓5 فیصد سے زیادہ بیرونی سرمایہ کاری والے فنڈز کو اپنی پوزیشن درست کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ دو سال دیے گئے ہیں۔
- ✓20 فیصد سے زیادہ بیرونی سرمایہ کاری والے فنڈز کو پہلے 6 ماہ میں 20 فیصد سے نیچے آنا ہوگا۔
- ✓بیرونی سرمایہ کاری ایسے فریقوں کے ساتھ ہونی چاہئے جن کی کریڈٹ ریٹنگ investment grade ہو۔
- ✓تازہ دستیاب اعداد کے مطابق عوامی منی مارکیٹ فنڈز کے مجموعی اثاثے تقریباً 136.5 ارب ریال ہیں۔
- ✓بینک آف امریکا کے مطابق نئی حد سے دو سال میں تقریباً 27 ارب ریال مقامی اثاثوں کی طرف منتقل ہوسکتے ہیں، تاہم یہ ایک تخمینہ ہے۔
جن فنڈز کی بیرونی سرمایہ کاری پہلے ہی 5 فیصد سے زیادہ ہے، انہیں اپنی پوزیشن نئی حد کے مطابق کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ دو سال کا وقت دیا گیا ہے۔
تاہم جن فنڈز کا بیرونی حصہ 20 فیصد سے بھی زیادہ ہے، انہیں پہلے 6 ماہ میں یہ تناسب 20 فیصد سے نیچے لانا ہوگا اور پھر مرحلہ وار 5 فیصد کی حد پوری کرنا ہوگی۔
مزید پڑھیں
136 ارب ریال سے بڑی مارکیٹ
یہ فیصلہ اس لیے اہم ہے کہ سعودی عرب میں منی مارکیٹ فنڈز کا حجم تیزی سے بڑھا ہے۔
تازہ دستیاب اعداد کے مطابق عوامی منی مارکیٹ فنڈز کے اثاثے تقریباً 136.5 ارب ریال تک پہنچ چکے ہیں۔
صرف تین بڑے فنڈز کے اثاثے تقریباً 80.5 ارب ریال ہیں، یعنی مجموعی
اثاثوں کا لگ بھگ 61 فیصد، جبکہ 10 بڑے فنڈز کے پاس مجموعی اثاثوں کا بہت بڑا حصہ موجود ہے۔
منی مارکیٹ فنڈ کیا ہوتا ہے؟
منی مارکیٹ فنڈ عام طور پر حصص میں بڑے اتار چڑھاؤ سے فائدہ اٹھانے کے لیے نہیں بنائے جاتے۔ یہ عموماً نسبتاً کم خطرے، مختصر مدت اور زیادہ لیکویڈیٹی والی سرمایہ کاری کرتے ہیں، مثلاً مرابحہ، مختصر مدتی قرضی آلات، بینک ڈپازٹس اور اسی نوعیت کی مالیاتی مصنوعات۔
i OVERSEAS POST | FACT BOXفیصلے کا فیکٹ باکس ⌄
اسی لیے نئی پابندی کا فوری مطلب یہ نہیں کہ فنڈز اب اربوں ریال لے کر سعودی اسٹاک مارکیٹ میں حصص خریدنا شروع کردیں گے۔
زیادہ ممکنہ اثر مقامی بینکنگ اور مختصر مدتی مالیاتی آلات پر ہوگا۔
اگر فنڈز بیرونِ ملک موجود سرمایہ کم کرتے ہیں تو مقامی مرابحہ، ڈپازٹس، صکوک اور دیگر کم مدت والے ریالی آلات کی مانگ بڑھ سکتی ہے۔
اس سے سعودی مالیاتی نظام کے اندر لیکویڈیٹی بہتر ہوسکتی ہے، لیکن اس کی رفتار اور حجم فنڈ مینیجرز کے عملی فیصلوں پر منحصر ہوگا۔
15 ارب یا 27 ارب ریال؟
یہاں ایک اہم فرق سمجھنا ضروری ہے۔
ایک تجزیے میں بڑے فنڈز کے موجودہ بیرونی اثاثوں اور نئی 5 فیصد حد کے درمیان تقریباً 15.5 ارب ریال کا فرق بتایا گیا ہے۔
5% OVERSEAS POST | EXPLAINER5 فیصد کی حد کیسے کام کرے گی؟ ⌄
دوسری طرف بینک آف امریکا کے ایک اندازے کے مطابق نئی پالیسی اگلے دو سال کے دوران تقریباً 27 ارب ریال، یعنی 7.2 ارب ڈالر تک سرمایہ سعودی اثاثوں کی طرف موڑ سکتی ہے۔
اس اندازے کے مطابق تقریباً 40 ارب ریال اس وقت بیرونی سرمایہ کاری میں موجود ہوسکتے ہیں۔
دونوں اعداد مختلف ہیں کیونکہ ان کے حساب کا دائرہ اور مفروضے مختلف ہوسکتے ہیں، اس لیے انہیں کسی حتمی رقم کے بجائے ممکنہ اثر کے اندازوں کے طور پر دیکھنا زیادہ مناسب ہے۔
کیا پوری رقم فوراً واپس آئے گی؟
ضروری نہیں۔
5 فیصد سے زائد ہر ریال لازماً فوری طور پر سعودی عرب واپس نہیں آئے گا۔ فنڈز بیرونی سرمایہ کاری کی مدت پوری ہونے کا انتظار کرسکتے ہیں، اسے دوبارہ بیرونِ ملک نہ لگا کر نئی رقوم مقامی مارکیٹ میں رکھ سکتے ہیں، یا فنڈ کے مجموعی اثاثے بڑھنے سے بیرونی سرمایہ کاری کا تناسب خود بخود کم ہوسکتا ہے۔
دو سال کی مہلت بھی اسی لیے اہم ہے تاکہ تبدیلی اچانک فروخت کے بجائے مرحلہ وار ہوسکے۔
27 OVERSEAS POST | ANALYSIS27 ارب ریال: یقینی واپسی یا تخمینہ؟ ⌄
- 127 ارب ریال بینک آف امریکا کا تخمینہ ہے کہ نئی پالیسی دو سال کے دوران اتنی بیرونی سرمایہ کاری سعودی اثاثوں کی طرف موڑ سکتی ہے۔
- 2یہ رقم حکومت یا ریگولیٹر کی جانب سے گارنٹی شدہ واپسی نہیں ہے۔
- 3فنڈز کے اثاثے بڑھنے سے بیرونی سرمایہ کاری کی موجودہ رقم برقرار رہتے ہوئے بھی اس کا فیصد کم ہوسکتا ہے۔
- 4بیرونی مرابحہ، ڈپازٹ یا دوسرے مختصر مدتی آلات میچور ہونے پر انہیں دوبارہ بیرونِ ملک نہ لگایا جائے تو رقم بتدریج مقامی مارکیٹ میں آسکتی ہے۔
سرمایہ کار کا منافع متاثر ہوگا؟
عام سرمایہ کار کے لیے اہم سوال یہ ہے کہ کیا اس فیصلے کے بعد منی مارکیٹ فنڈز کا منافع کم ہوسکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق لازمی نہیں کہ منافع میں کوئی بڑا فرق آئے، کیونکہ سعودی مارکیٹ کے اندر بھی مختصر مدتی اور نسبتاً کم خطرے والے متعدد سرمایہ کاری کے متبادل دستیاب ہیں۔
تاہم ہر فنڈ کی حکمت عملی، انتظامی اخراجات اور دستیاب شرح منافع الگ ہونے کی وجہ سے تمام فنڈز کے نتائج ایک جیسے نہیں ہوں گے۔
اصل مقصد کیا ہوسکتا ہے؟
اس اقدام کا ایک اہم پہلو خطرے کا انتظام بھی ہے۔
بیرونی سرمایہ کاری محدود ہونے سے غیرملکی اداروں، بیرونی مارکیٹوں اور بعض مالیاتی خطرات سے منی مارکیٹ فنڈز کا انکشاف محدود ہوسکتا ہے۔
بیرونِ ملک سرمایہ کاری کے لیے سرمایہ کاری کے قابل کریڈٹ ریٹنگ کی شرط بھی اسی سمت میں ایک اضافی حفاظتی قدم ہے۔
دوسری جانب سعودی مالیاتی نظام میں زیادہ سرمایہ برقرار رہنے سے مقامی بینکوں اور مختصر مدتی مالیاتی آلات کے لیے اضافی لیکویڈیٹی دستیاب ہوسکتی ہے۔
↘ OVERSEAS POST | MONEY FLOWرقم سعودی عرب میں کہاں جاسکتی ہے؟ ⌄
نتیجہ
نئی 5 فیصد حد کو صرف ’اربوں ریال سعودی عرب واپس آرہے ہیں‘ کے زاویے سے دیکھنا مکمل تصویر نہیں۔
اصل تبدیلی یہ ہے کہ منی مارکیٹ فنڈز کی نئی رقوم اور موجودہ بیرونی اثاثوں کا نسبتاً بڑا حصہ آنے والے دو سال میں مقامی مالیاتی آلات کی طرف منتقل ہوسکتا ہے۔
اس کا بڑا فائدہ براہِ راست اسٹاک مارکیٹ کے بجائے بینکوں، مرابحہ، صکوک اور مختصر مدتی مالیاتی مصنوعات کو پہنچنے کا امکان زیادہ ہے، جبکہ منی مارکیٹ فنڈز کا بیرونی خطرہ بھی محدود ہوسکتا ہے۔