براہ راست نشریات

ڈیموکریٹس اختلافات میں الجھ گئے.. کانگریس کی واپسی خطرے میں؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
Democrats Divisions

امریکا کے وسط مدتی انتخابات سے چند ہفتے پہلے ڈیموکریٹک پارٹی قومی سطح پر نسبتاً بہتر پوزیشن میں دکھائی دیتی ہے، مگر اہم ریاستوں میں اس کے اپنے دھڑوں کے درمیان اختلافات سامنے آ رہے ہیں۔
مین میں امیدوار کی توثیق کا مسئلہ، ٹیکساس میں سابق حریفوں کے درمیان فاصلہ، مشی گن میں نظریاتی اختلاف، نیویارک میں سوشلزم پر کشمکش اور فلوریڈا میں پارٹی حمایت سے متعلق سوالات نے ایک بنیادی مسئلہ کھڑا کردیا ہے:
کیا ڈیموکریٹس سیاسی اختلاف برقرار رکھتے ہوئے بھی انتخابی میدان میں متحد رہ سکیں گے؟

امریکا کے وسط مدتی انتخابات میں اب زیادہ وقت باقی نہیں۔ 

ڈیموکریٹک پارٹی کی نگاہ کانگریس میں اپنی طاقت بڑھانے پر ہے اور حالیہ قومی رائے عامہ بھی اسے کچھ حوصلہ دے رہی ہے، مگر انتخابی میدان میں ایک ایسی کمزوری مسلسل سامنے آ رہی ہے جس کا تعلق ریپبلکن حریفوں سے نہیں بلکہ خود ڈیموکریٹس کے اندر موجود اختلافات سے ہے۔

مین، ٹیکساس، مشی گن، نیویارک اور فلوریڈا میں حالات مختلف ہیں، لیکن ایک بات تقریباً مشترک دکھائی دیتی ہے: 

پرائمری انتخابات میں سخت مقابلوں کے بعد پارٹی کے بعض بااثر رہنما ابھی تک کامیاب امیدواروں کے ساتھ مکمل طور پر کھڑے دکھائی نہیں دے رہے۔

OVERSEAS POST | SPECIAL REPORTاہم نکات
3 نومبر 2026 کے وسط مدتی انتخابات سے پہلے ڈیموکریٹس کے اندر پرائمری کے بعد کے اختلافات دوبارہ نمایاں ہوئے ہیں۔
رائٹرز نے مین، ٹیکساس، مشی گن، نیویارک اور فلوریڈا کو ان ریاستوں میں شمار کیا جہاں پارٹی اتحاد پر سوال اٹھ رہے ہیں۔
بعض مقامات پر مسئلہ توثیق کا ہے، کہیں سابق حریف مشترکہ مہم سے دور ہیں اور کہیں نظریاتی اختلاف سامنے آیا ہے۔
قومی Reuters/Ipsos سروے میں ڈیموکریٹس 44 فیصد اور ریپبلکنز 37 فیصد پر تھے، مگر قومی سروے حلقہ وار نتیجے کی ضمانت نہیں۔
اصل امتحان یہ ہے کہ مختلف دھڑے اختلاف برقرار رکھتے ہوئے ووٹرز کو متحرک کرنے میں کس حد تک ساتھ کام کرتے ہیں۔
overseaspost.net

کہیں توثیق نہیں کی گئی، کہیں رسمی حمایت موجود ہے مگر مشترکہ انتخابی مہم نہیں، اور کہیں ترقی پسند اور معتدل دھڑے پارٹی کی مستقبل کی سمت پر کھل کر ایک دوسرے سے اختلاف کر رہے ہیں۔

3 نومبر کو امریکی ووٹر ایوان نمائندگان کی تمام نشستوں اور سینیٹ کی متعدد نشستوں کے لیے ووٹ دیں گے۔ 

ایسے میں چند اہم مقابلے دونوں بڑی جماعتوں کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ 

اسی لیے ڈیموکریٹس کے سامنے سوال صرف یہ نہیں کہ ان کے امیدوار ریپبلکنز کے مقابلے میں کتنے مضبوط ہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ انتخابی دن سے پہلے پارٹی اپنے مختلف دھڑوں کو عملی طور پر کس حد تک ایک ساتھ لا سکتی ہے۔

مزید پڑھیں

مین: ایک توثیق جو ابھی تک نہیں آئی

مین میں ڈیموکریٹس کے لیے سینیٹ کا مقابلہ خاص اہمیت رکھتا ہے۔

ڈیموکریٹ امیدوار ٹرائے جیکسن ریپبلکن سینیٹر سوزن کولنز کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ 

جیکسن مین کی ریاستی سینیٹ کے سابق صدر ہیں، لیکن ریاست کی 

ڈیموکریٹ گورنر جینٹ ملز نے اب تک ان کی باقاعدہ حمایت کا اعلان نہیں کیا۔

یہ معاملہ اس لیے بھی توجہ حاصل کر رہا ہے کہ ملز خود بھی سینیٹ کی نشست کے لیے امیدوار بننا چاہتی تھیں۔

iOVERSEAS POST | FACT BOXفیکٹ باکس
انتخابات: امریکی وسط مدتی انتخابات
تاریخ: 3 نومبر 2026
مرکزی موضوع: ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر پرائمری کے بعد اتحاد
اہم ریاستیں: مین، ٹیکساس، مشی گن، نیویارک، فلوریڈا
Reuters/Ipsos جنیرک بیلٹ: ڈیموکریٹس 44٪، ریپبلکنز 37٪
ٹرمپ کی مجموعی منظوری: 35٪
overseaspost.net

یونیورسٹی آف مین ایٹ فارمنگٹن کے سیاسیات کے پروفیسر جم میلچر کے مطابق ریاست میں ڈیموکریٹس بڑی حد تک متحد دکھائی دیتے ہیں، مگر ملز کی جانب سے جیکسن کی توثیق نہ کرنا نمایاں استثنا ہے۔

ریاستی ڈیموکریٹک پارٹی اس بات پر زور دیتی ہے کہ کارکن متحد ہیں اور جیکسن کی مہم کے لیے زمینی سطح پر خاصا جوش موجود ہے۔

یوں مسئلہ کھلی بغاوت کا نہیں بلکہ اس علامتی حمایت کا ہے جو ایک سخت انتخابی مقابلے میں اہم تصور کی جاتی ہے۔

ٹیکساس: حمایت موجود، ساتھ مہم نہیں

ٹیکساس میں اختلاف کی شکل کچھ اور ہے۔

کانگریس کی رکن جیسمین کروکیٹ سینیٹ کی ڈیموکریٹک نامزدگی حاصل نہیں کر سکیں اور ریاستی نمائندے جیمز ٹالاریکو نے پرائمری میں انہیں شکست دے دی۔

5OVERSEAS POST | MAP OF THE STORYپانچ ریاستیں، ایک مشترک مسئلہ
مین: ڈیموکریٹ گورنر جینٹ ملز نے سینیٹ امیدوار ٹرائے جیکسن کی توثیق نہیں کی۔
ٹیکساس: جیسمین کروکیٹ نے جیمز ٹالاریکو کی حمایت کی، مگر مشترکہ مہم سے فاصلہ رکھا۔
مشی گن: ترقی پسند امیدوار عبد ال سید کو بعض معتدل حلقوں کے تحفظات کا سامنا ہے۔
نیویارک: سوشلزم کی مذمت کرنے والی قرارداد نے پارٹی کے نظریاتی اختلاف کو نمایاں کیا۔
فلوریڈا: سینیٹ امیدوار کے پیچھے ریاستی پارٹی کے مکمل طور پر متحد ہونے پر سوال اٹھے۔
overseaspost.net

کروکیٹ نے ٹالاریکو کی حمایت کا اعلان کیا ہے، لیکن متعدد درخواستوں کے باوجود ان کے ساتھ انتخابی مہم چلانے سے گریز کیا۔ 

جون میں ٹیکساس ڈیموکریٹس کے ریاستی کنونشن میں بھی انہوں نے ٹالاریکو کو متعارف کرانے سے انکار کیا تھا۔

ٹالاریکو اب ریپبلکن امیدوار کین پیکسٹن کا مقابلہ کر رہے ہیں۔

کروکیٹ کا مؤقف ہے کہ وہ ان نسبتاً چھوٹے حلقوں پر توجہ دینا چاہتی ہیں جہاں ان کی موجودگی زیادہ فرق ڈال سکتی ہے، اور ان کے مطابق وہاں ڈیموکریٹ ووٹرز کو متحرک کرنے سے سینیٹ امیدوار کو بھی فائدہ ہوگا۔

یعنی دونوں جانب سے کھلی سیاسی جنگ نہیں، لیکن پرائمری کی تلخی بھی مکمل طور پر ختم ہوتی دکھائی نہیں دیتی۔

مشی گن: اصل اختلاف نظریاتی

مشی گن شاید ڈیموکریٹس کے اندر نظریاتی تقسیم کی سب سے واضح مثال ہے۔

سینیٹ کے امیدوار عبد ال سید پارٹی کے ترقی پسند حلقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ 

پرائمری کے بعد ان کی سابق حریف ہیلی اسٹیونز نے انہیں اپنی ’مکمل حمایت‘ دینے کا اعلان کیا اور دونوں ایک اتحاد کی تقریب میں بھی ساتھ نظر آئے۔

عبد ال سید کی مہم کے مطابق دونوں کی ٹیمیں مسلسل رابطے میں ہیں۔

MOVERSEAS POST | MAINEمین: ایک توثیق جو نہیں آئی
رائٹرز کے مطابق مین کے ڈیموکریٹ سینیٹ امیدوار ٹرائے جیکسن ریپبلکن سینیٹر سوزن کولنز کا مقابلہ کر رہے ہیں۔
ڈیموکریٹ گورنر جینٹ ملز نے اب تک جیکسن کی رسمی توثیق نہیں کی۔
مقامی پارٹی قیادت نے اس کے باوجود زمینی سطح پر اتحاد اور انتخابی سرگرمی کا دعویٰ کیا ہے۔
اس ریاست میں بحث کھلی بغاوت سے زیادہ اس علامتی سیاسی حمایت کی ہے جو سخت مقابلے میں اہم ہوسکتی ہے۔
overseaspost.net

اس کے باوجود پارٹی کے کچھ معتدل رہنما اب تک ان کی توثیق نہیں کر سکے۔ 

ان کے بعض ناقدین نے اسرائیل سے متعلق ان کے بیانات اور متنازع اسٹریمر حسن پائیکر کے ساتھ ان کے تعلق پر اعتراضات اٹھائے ہیں۔

عبد ال سید نومبر میں ریپبلکن مائیک راجرز کا مقابلہ کر رہے ہیں۔

یہ معاملہ صرف ایک امیدوار تک محدود نہیں بلکہ ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر طویل عرصے سے جاری اس بحث کو بھی نمایاں کرتا ہے کہ پارٹی کی مستقبل کی سمت کتنی ترقی پسند اور کتنی معتدل ہونی چاہئے۔

نیویارک: سوشلزم پر پارٹی کے اندر نئی بحث

یہی اختلاف واشنگٹن اور نیویارک میں ایک اور شکل میں سامنے آیا۔

کانگریس میں آٹھ معتدل ڈیموکریٹ ارکان نے ریپبلکنز کے ساتھ مل کر سوشلزم کی مذمت کرنے والی قرارداد کی حمایت کی۔

TOVERSEAS POST | TEXASٹیکساس: حمایت ہے، مشترکہ مہم نہیں
جیمز ٹالاریکو نے سینیٹ پرائمری میں جیسمین کروکیٹ کو شکست دی اور اب ریپبلکن کین پیکسٹن کا مقابلہ کر رہے ہیں۔
کروکیٹ نے ٹالاریکو کی حمایت کا اعلان کیا، مگر رائٹرز کے مطابق ان کے ساتھ مشترکہ انتخابی مہم چلانے سے گریز کیا۔
کروکیٹ کا مؤقف ہے کہ وہ ایسے چھوٹے مقابلوں پر توجہ دینا چاہتی ہیں جہاں ان کی موجودگی زیادہ فرق ڈال سکتی ہے۔
یہ معاملہ رسمی حمایت اور عملی انتخابی تعاون کے درمیان فرق کو نمایاں کرتا ہے۔
overseaspost.net

اس پر نیویارک میں ڈیموکریٹک پرائمری جیتنے والی جمہوری سوشلسٹ امیدوار ڈریالیزا اویلا شیوالیئر اور کلیئر والڈیز نے تنقید کی۔

شیوالیئر نے کہا کہ قرارداد کا ہدف ان جیسے جمہوری سوشلسٹ تھے اور پارٹی کو اپنے اندر دائرہ محدود کرنے کے بجائے مختلف سیاسی حلقوں کو ساتھ لے کر چلنا چاہئے۔

یہ اختلاف ظاہر کرتا ہے کہ ڈیموکریٹس کے اندر بحث صرف انتخابی حکمت عملی پر نہیں بلکہ پارٹی کی سیاسی شناخت پر بھی جاری ہے۔

فلوریڈا: امیدوار جیت گئی، مگر اتحاد پر سوال برقرار

فلوریڈا میں ڈیموکریٹک سینیٹ امیدوار اینجی نکسن نے اگست کی پرائمری میں سابق لیفٹیننٹ کرنل الیکس ونڈمین کو دوہرے ہندسے کے فرق سے شکست دی۔

ونڈمین نے نتیجہ قبول کرتے ہوئے نکسن کی حمایت کا اعلان کیا اور ڈیموکریٹ امیدواروں کی مدد کے لیے 825,000 ڈالر فراہم کیے، جن میں 400,000 ڈالر فلوریڈا ڈیموکریٹک پارٹی کو دیے گئے۔

MIOVERSEAS POST | MICHIGANمشی گن: نظریاتی فاصلے کا امتحان
مشی گن میں ترقی پسند سینیٹ امیدوار عبد ال سید پارٹی کے مختلف دھڑوں کے درمیان بحث کے مرکز میں ہیں۔
رائٹرز کے مطابق بعض معتدل اور اسٹیبلشمنٹ ڈیموکریٹس نے ان کی امیدواری سے فاصلہ رکھا یا فوری توثیق نہیں کی۔
یہ اختلاف پارٹی کے اندر اس وسیع سوال کی عکاسی کرتا ہے کہ انتخابی حکمت عملی میں ترقی پسند اور معتدل مؤقف کے درمیان توازن کیسے رکھا جائے۔
مشی گن کا مقابلہ اس لیے بھی اہم ہے کہ سخت ریاستی دوڑ میں داخلی اتحاد ووٹر ٹرن آؤٹ اور مہم کی توانائی پر اثرانداز ہوسکتا ہے۔
overseaspost.net

لیکن مقامی سطح پر کچھ پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ریاستی قیادت نکسن کے پیچھے اتنی واضح قوت سے نہیں آئی جتنی توقع کی جا رہی تھی۔

فلوریڈا ڈیموکریٹک پارٹی اس تاثر کو مسترد کرتی ہے۔ 

پارٹی کے مطابق چیئرپرسن نکی فرائیڈ نکسن کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں شرکت کر چکی ہیں اور تنظیم ان کی انتخابی ٹیم سے مسلسل رابطے میں ہے۔

یعنی یہاں بھی اختلاف اس بات پر ہے کہ ’حمایت‘ موجود ہے یا نہیں، بلکہ یہ کہ وہ حمایت کتنی نمایاں اور عملی ہے۔

اعداد ڈیموکریٹس کے لیے حوصلہ افزا، مگر ضمانت نہیں

ان اندرونی اختلافات کے باوجود قومی سطح پر تازہ اعداد ڈیموکریٹس کے لیے نسبتاً بہتر تصویر پیش کرتے ہیں۔

14 ستمبر کو جاری Reuters/Ipsos سروے میں جب امریکیوں سے پوچھا گیا کہ اگر کانگریس کے انتخابات ابھی ہوں تو وہ کس جماعت کو ووٹ دیں گے، 44 فیصد نے ڈیموکریٹس اور 37 فیصد نے ریپبلکنز کا انتخاب کیا۔

NYOVERSEAS POST | NEW YORKنیویارک: سوشلزم پر کھلی بحث
نیویارک میں کامیاب جمہوری سوشلسٹ امیدواروں نے ان ڈیموکریٹس پر تنقید کی جو ریپبلکنز کے ساتھ سوشلزم کی مذمت کرنے والی قرارداد کے حق میں گئے۔
یہ بحث محض ایک قرارداد تک محدود نہیں بلکہ پارٹی کی سیاسی شناخت اور نظریاتی حدود سے جڑی ہوئی ہے۔
ترقی پسند حلقے وسیع اتحاد پر زور دیتے ہیں، جبکہ معتدل ارکان بعض نظریاتی لیبلز سے فاصلہ رکھنے کو انتخابی طور پر اہم سمجھتے ہیں۔
یہ کشمکش دکھاتی ہے کہ پارٹی کے اندر اختلاف امیدواروں سے آگے بڑھ کر مستقبل کی سمت تک پہنچ چکا ہے۔
overseaspost.net

یہ 7 پوائنٹس کا فرق جنوری 2025 میں ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس واپسی کے بعد اس سروے میں ڈیموکریٹس کی سب سے بڑی برتری تھی۔

اسی سروے میں صدر ٹرمپ کی مجموعی کارکردگی کی منظوری 35 فیصد رہی، جو گزشتہ سروے کے 33 فیصد سے دو پوائنٹس زیادہ تھی۔

تاہم قومی ’جنیرک بیلٹ‘ کو انتخابی نتیجے کی پیش گوئی نہیں سمجھا جا سکتا۔ 

امریکی سینیٹ اور ایوان نمائندگان کا کنٹرول الگ الگ ریاستوں اور حلقوں میں ہونے والے مقابلوں سے طے ہوتا ہے، جہاں امیدوار، مقامی حالات، ووٹر ٹرن آؤٹ اور انتخابی نقشہ سب اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

اصل سوال: اختلاف کے باوجود ساتھ چل سکیں گے؟

ڈیموکریٹ رکن کانگریس سمر لی نے موجودہ صورتحال کا خلاصہ کرتے ہوئے کہا کہ چاہے کوئی ترقی پسند ڈیموکریٹ ہو، روایتی پارٹی دھڑے سے تعلق رکھتا ہو یا نسبتاً قدامت پسند ہو، سب کا مفاد اس میں ہے کہ نومبر میں پارٹی کے ہر امیدوار کو کامیابی کے لیے زیادہ سے زیادہ مدد ملے۔

یہی 2026 کے انتخابات سے پہلے ڈیموکریٹس کا بنیادی تنظیمی امتحان ہے۔

FLOVERSEAS POST | FLORIDAفلوریڈا: پارٹی کتنی متحد؟
فلوریڈا میں ڈیموکریٹ سینیٹ امیدوار کے پیچھے ریاستی پارٹی کی مکمل عملی یکجہتی پر سوال اٹھے ہیں۔
رائٹرز کے مطابق یہ تاثر موجود ہے کہ پارٹی نے امیدوار کے گرد اتنی تیزی سے صف بندی نہیں کی جتنی ایک سخت ریاستی مقابلے میں درکار ہوسکتی ہے۔
پارٹی کے اندر اس بحث کا مرکز یہ ہے کہ حمایت صرف رسمی بیان تک محدود ہے یا فنڈنگ، کارکنوں اور مشترکہ مہم میں بھی نظر آتی ہے۔
فلوریڈا کی مثال بتاتی ہے کہ پرائمری ختم ہونا ہمیشہ داخلی تناؤ کے فوراً خاتمے کے برابر نہیں ہوتا۔
overseaspost.net

پارٹی میں سیاسی اختلاف کوئی نئی بات نہیں۔ 

بڑی جماعتوں کے اندر مختلف نظریاتی دھڑے ہمیشہ موجود رہتے ہیں۔ 

اصل فرق اس وقت پڑتا ہے جب پرائمری ختم ہونے کے بعد سابق حریف ایک دوسرے کے لیے کارکن، سرمایہ، توثیق اور ووٹر فراہم کرنے میں کس حد تک تعاون کرتے ہیں۔

مین میں ایک گورنر کی خاموشی، ٹیکساس میں سابق حریفوں کے درمیان فاصلہ، مشی گن میں نظریاتی اختلاف، نیویارک میں سوشلزم پر بحث اور فلوریڈا میں پارٹی حمایت سے متعلق شکایات بظاہر الگ واقعات ہیں۔

لیکن 3 نومبر سے پہلے یہ سب ایک ہی بڑے سوال میں سمٹتے ہیں:

کیا ڈیموکریٹس اپنے اندر موجود اختلافات برقرار رکھتے ہوئے بھی انتخابی میدان میں ایک متحد جماعت کی طرح کام کر سکیں گے؟

اس سوال کا جواب قومی سروے نہیں بلکہ اہم ریاستوں اور کانگریسی حلقوں میں ووٹوں کی گنتی دے گی۔

OVERSEAS POST | SOURCESاصل اور معتبر ذرائع
overseaspost.net