امریکا کے وسط مدتی انتخابات سے چند ہفتے پہلے ڈیموکریٹک پارٹی قومی سطح پر نسبتاً بہتر پوزیشن میں دکھائی دیتی ہے، مگر اہم ریاستوں میں اس کے اپنے دھڑوں کے درمیان اختلافات سامنے آ رہے ہیں۔
مین میں امیدوار کی توثیق کا مسئلہ، ٹیکساس میں سابق حریفوں کے درمیان فاصلہ، مشی گن میں نظریاتی اختلاف، نیویارک میں سوشلزم پر کشمکش اور فلوریڈا میں پارٹی حمایت سے متعلق سوالات نے ایک بنیادی مسئلہ کھڑا کردیا ہے:
کیا ڈیموکریٹس سیاسی اختلاف برقرار رکھتے ہوئے بھی انتخابی میدان میں متحد رہ سکیں گے؟
امریکا کے وسط مدتی انتخابات میں اب زیادہ وقت باقی نہیں۔
ڈیموکریٹک پارٹی کی نگاہ کانگریس میں اپنی طاقت بڑھانے پر ہے اور حالیہ قومی رائے عامہ بھی اسے کچھ حوصلہ دے رہی ہے، مگر انتخابی میدان میں ایک ایسی کمزوری مسلسل سامنے آ رہی ہے جس کا تعلق ریپبلکن حریفوں سے نہیں بلکہ خود ڈیموکریٹس کے اندر موجود اختلافات سے ہے۔
مین، ٹیکساس، مشی گن، نیویارک اور فلوریڈا میں حالات مختلف ہیں، لیکن ایک بات تقریباً مشترک دکھائی دیتی ہے:
پرائمری انتخابات میں سخت مقابلوں کے بعد پارٹی کے بعض بااثر رہنما ابھی تک کامیاب امیدواروں کے ساتھ مکمل طور پر کھڑے دکھائی نہیں دے رہے۔
◆OVERSEAS POST | SPECIAL REPORTاہم نکات⌄
کہیں توثیق نہیں کی گئی، کہیں رسمی حمایت موجود ہے مگر مشترکہ انتخابی مہم نہیں، اور کہیں ترقی پسند اور معتدل دھڑے پارٹی کی مستقبل کی سمت پر کھل کر ایک دوسرے سے اختلاف کر رہے ہیں۔
3 نومبر کو امریکی ووٹر ایوان نمائندگان کی تمام نشستوں اور سینیٹ کی متعدد نشستوں کے لیے ووٹ دیں گے۔
ایسے میں چند اہم مقابلے دونوں بڑی جماعتوں کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔
اسی لیے ڈیموکریٹس کے سامنے سوال صرف یہ نہیں کہ ان کے امیدوار ریپبلکنز کے مقابلے میں کتنے مضبوط ہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ انتخابی دن سے پہلے پارٹی اپنے مختلف دھڑوں کو عملی طور پر کس حد تک ایک ساتھ لا سکتی ہے۔
مزید پڑھیں
مین: ایک توثیق جو ابھی تک نہیں آئی
مین میں ڈیموکریٹس کے لیے سینیٹ کا مقابلہ خاص اہمیت رکھتا ہے۔
ڈیموکریٹ امیدوار ٹرائے جیکسن ریپبلکن سینیٹر سوزن کولنز کا مقابلہ کر رہے ہیں۔
جیکسن مین کی ریاستی سینیٹ کے سابق صدر ہیں، لیکن ریاست کی
ڈیموکریٹ گورنر جینٹ ملز نے اب تک ان کی باقاعدہ حمایت کا اعلان نہیں کیا۔
یہ معاملہ اس لیے بھی توجہ حاصل کر رہا ہے کہ ملز خود بھی سینیٹ کی نشست کے لیے امیدوار بننا چاہتی تھیں۔
iOVERSEAS POST | FACT BOXفیکٹ باکس⌄
یونیورسٹی آف مین ایٹ فارمنگٹن کے سیاسیات کے پروفیسر جم میلچر کے مطابق ریاست میں ڈیموکریٹس بڑی حد تک متحد دکھائی دیتے ہیں، مگر ملز کی جانب سے جیکسن کی توثیق نہ کرنا نمایاں استثنا ہے۔
ریاستی ڈیموکریٹک پارٹی اس بات پر زور دیتی ہے کہ کارکن متحد ہیں اور جیکسن کی مہم کے لیے زمینی سطح پر خاصا جوش موجود ہے۔
یوں مسئلہ کھلی بغاوت کا نہیں بلکہ اس علامتی حمایت کا ہے جو ایک سخت انتخابی مقابلے میں اہم تصور کی جاتی ہے۔
ٹیکساس: حمایت موجود، ساتھ مہم نہیں
ٹیکساس میں اختلاف کی شکل کچھ اور ہے۔
کانگریس کی رکن جیسمین کروکیٹ سینیٹ کی ڈیموکریٹک نامزدگی حاصل نہیں کر سکیں اور ریاستی نمائندے جیمز ٹالاریکو نے پرائمری میں انہیں شکست دے دی۔
5OVERSEAS POST | MAP OF THE STORYپانچ ریاستیں، ایک مشترک مسئلہ⌄
کروکیٹ نے ٹالاریکو کی حمایت کا اعلان کیا ہے، لیکن متعدد درخواستوں کے باوجود ان کے ساتھ انتخابی مہم چلانے سے گریز کیا۔
جون میں ٹیکساس ڈیموکریٹس کے ریاستی کنونشن میں بھی انہوں نے ٹالاریکو کو متعارف کرانے سے انکار کیا تھا۔
ٹالاریکو اب ریپبلکن امیدوار کین پیکسٹن کا مقابلہ کر رہے ہیں۔
کروکیٹ کا مؤقف ہے کہ وہ ان نسبتاً چھوٹے حلقوں پر توجہ دینا چاہتی ہیں جہاں ان کی موجودگی زیادہ فرق ڈال سکتی ہے، اور ان کے مطابق وہاں ڈیموکریٹ ووٹرز کو متحرک کرنے سے سینیٹ امیدوار کو بھی فائدہ ہوگا۔
یعنی دونوں جانب سے کھلی سیاسی جنگ نہیں، لیکن پرائمری کی تلخی بھی مکمل طور پر ختم ہوتی دکھائی نہیں دیتی۔
مشی گن: اصل اختلاف نظریاتی
مشی گن شاید ڈیموکریٹس کے اندر نظریاتی تقسیم کی سب سے واضح مثال ہے۔
سینیٹ کے امیدوار عبد ال سید پارٹی کے ترقی پسند حلقے سے تعلق رکھتے ہیں۔
پرائمری کے بعد ان کی سابق حریف ہیلی اسٹیونز نے انہیں اپنی ’مکمل حمایت‘ دینے کا اعلان کیا اور دونوں ایک اتحاد کی تقریب میں بھی ساتھ نظر آئے۔
عبد ال سید کی مہم کے مطابق دونوں کی ٹیمیں مسلسل رابطے میں ہیں۔
MOVERSEAS POST | MAINEمین: ایک توثیق جو نہیں آئی⌄
اس کے باوجود پارٹی کے کچھ معتدل رہنما اب تک ان کی توثیق نہیں کر سکے۔
ان کے بعض ناقدین نے اسرائیل سے متعلق ان کے بیانات اور متنازع اسٹریمر حسن پائیکر کے ساتھ ان کے تعلق پر اعتراضات اٹھائے ہیں۔
عبد ال سید نومبر میں ریپبلکن مائیک راجرز کا مقابلہ کر رہے ہیں۔
یہ معاملہ صرف ایک امیدوار تک محدود نہیں بلکہ ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر طویل عرصے سے جاری اس بحث کو بھی نمایاں کرتا ہے کہ پارٹی کی مستقبل کی سمت کتنی ترقی پسند اور کتنی معتدل ہونی چاہئے۔
نیویارک: سوشلزم پر پارٹی کے اندر نئی بحث
یہی اختلاف واشنگٹن اور نیویارک میں ایک اور شکل میں سامنے آیا۔
کانگریس میں آٹھ معتدل ڈیموکریٹ ارکان نے ریپبلکنز کے ساتھ مل کر سوشلزم کی مذمت کرنے والی قرارداد کی حمایت کی۔
TOVERSEAS POST | TEXASٹیکساس: حمایت ہے، مشترکہ مہم نہیں⌄
اس پر نیویارک میں ڈیموکریٹک پرائمری جیتنے والی جمہوری سوشلسٹ امیدوار ڈریالیزا اویلا شیوالیئر اور کلیئر والڈیز نے تنقید کی۔
شیوالیئر نے کہا کہ قرارداد کا ہدف ان جیسے جمہوری سوشلسٹ تھے اور پارٹی کو اپنے اندر دائرہ محدود کرنے کے بجائے مختلف سیاسی حلقوں کو ساتھ لے کر چلنا چاہئے۔
یہ اختلاف ظاہر کرتا ہے کہ ڈیموکریٹس کے اندر بحث صرف انتخابی حکمت عملی پر نہیں بلکہ پارٹی کی سیاسی شناخت پر بھی جاری ہے۔
فلوریڈا: امیدوار جیت گئی، مگر اتحاد پر سوال برقرار
فلوریڈا میں ڈیموکریٹک سینیٹ امیدوار اینجی نکسن نے اگست کی پرائمری میں سابق لیفٹیننٹ کرنل الیکس ونڈمین کو دوہرے ہندسے کے فرق سے شکست دی۔
ونڈمین نے نتیجہ قبول کرتے ہوئے نکسن کی حمایت کا اعلان کیا اور ڈیموکریٹ امیدواروں کی مدد کے لیے 825,000 ڈالر فراہم کیے، جن میں 400,000 ڈالر فلوریڈا ڈیموکریٹک پارٹی کو دیے گئے۔
MIOVERSEAS POST | MICHIGANمشی گن: نظریاتی فاصلے کا امتحان⌄
لیکن مقامی سطح پر کچھ پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ریاستی قیادت نکسن کے پیچھے اتنی واضح قوت سے نہیں آئی جتنی توقع کی جا رہی تھی۔
فلوریڈا ڈیموکریٹک پارٹی اس تاثر کو مسترد کرتی ہے۔
پارٹی کے مطابق چیئرپرسن نکی فرائیڈ نکسن کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں شرکت کر چکی ہیں اور تنظیم ان کی انتخابی ٹیم سے مسلسل رابطے میں ہے۔
یعنی یہاں بھی اختلاف اس بات پر ہے کہ ’حمایت‘ موجود ہے یا نہیں، بلکہ یہ کہ وہ حمایت کتنی نمایاں اور عملی ہے۔
اعداد ڈیموکریٹس کے لیے حوصلہ افزا، مگر ضمانت نہیں
ان اندرونی اختلافات کے باوجود قومی سطح پر تازہ اعداد ڈیموکریٹس کے لیے نسبتاً بہتر تصویر پیش کرتے ہیں۔
14 ستمبر کو جاری Reuters/Ipsos سروے میں جب امریکیوں سے پوچھا گیا کہ اگر کانگریس کے انتخابات ابھی ہوں تو وہ کس جماعت کو ووٹ دیں گے، 44 فیصد نے ڈیموکریٹس اور 37 فیصد نے ریپبلکنز کا انتخاب کیا۔
NYOVERSEAS POST | NEW YORKنیویارک: سوشلزم پر کھلی بحث⌄
یہ 7 پوائنٹس کا فرق جنوری 2025 میں ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس واپسی کے بعد اس سروے میں ڈیموکریٹس کی سب سے بڑی برتری تھی۔
اسی سروے میں صدر ٹرمپ کی مجموعی کارکردگی کی منظوری 35 فیصد رہی، جو گزشتہ سروے کے 33 فیصد سے دو پوائنٹس زیادہ تھی۔
تاہم قومی ’جنیرک بیلٹ‘ کو انتخابی نتیجے کی پیش گوئی نہیں سمجھا جا سکتا۔
امریکی سینیٹ اور ایوان نمائندگان کا کنٹرول الگ الگ ریاستوں اور حلقوں میں ہونے والے مقابلوں سے طے ہوتا ہے، جہاں امیدوار، مقامی حالات، ووٹر ٹرن آؤٹ اور انتخابی نقشہ سب اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
اصل سوال: اختلاف کے باوجود ساتھ چل سکیں گے؟
ڈیموکریٹ رکن کانگریس سمر لی نے موجودہ صورتحال کا خلاصہ کرتے ہوئے کہا کہ چاہے کوئی ترقی پسند ڈیموکریٹ ہو، روایتی پارٹی دھڑے سے تعلق رکھتا ہو یا نسبتاً قدامت پسند ہو، سب کا مفاد اس میں ہے کہ نومبر میں پارٹی کے ہر امیدوار کو کامیابی کے لیے زیادہ سے زیادہ مدد ملے۔
یہی 2026 کے انتخابات سے پہلے ڈیموکریٹس کا بنیادی تنظیمی امتحان ہے۔
FLOVERSEAS POST | FLORIDAفلوریڈا: پارٹی کتنی متحد؟⌄
پارٹی میں سیاسی اختلاف کوئی نئی بات نہیں۔
بڑی جماعتوں کے اندر مختلف نظریاتی دھڑے ہمیشہ موجود رہتے ہیں۔
اصل فرق اس وقت پڑتا ہے جب پرائمری ختم ہونے کے بعد سابق حریف ایک دوسرے کے لیے کارکن، سرمایہ، توثیق اور ووٹر فراہم کرنے میں کس حد تک تعاون کرتے ہیں۔
مین میں ایک گورنر کی خاموشی، ٹیکساس میں سابق حریفوں کے درمیان فاصلہ، مشی گن میں نظریاتی اختلاف، نیویارک میں سوشلزم پر بحث اور فلوریڈا میں پارٹی حمایت سے متعلق شکایات بظاہر الگ واقعات ہیں۔
لیکن 3 نومبر سے پہلے یہ سب ایک ہی بڑے سوال میں سمٹتے ہیں:
کیا ڈیموکریٹس اپنے اندر موجود اختلافات برقرار رکھتے ہوئے بھی انتخابی میدان میں ایک متحد جماعت کی طرح کام کر سکیں گے؟
اس سوال کا جواب قومی سروے نہیں بلکہ اہم ریاستوں اور کانگریسی حلقوں میں ووٹوں کی گنتی دے گی۔