براہ راست نشریات

24.3 ارب ڈالر کی ڈیل، سعودی عرب کو 48 جدید F-35 مل سکتے ہیں

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
Saudi Arabia F-35

امریکہ نے سعودی عرب کو 48 F-35A لڑاکا طیاروں کی ممکنہ فروخت کی منظوری دے دی ہے۔
24.3 ارب ڈالر کے مجوزہ پیکیج میں طیاروں کے ساتھ انجن، تربیت، اسپیئر پارٹس اور تکنیکی مدد بھی شامل ہے۔
تاہم کانگریس کے جائزے سمیت اہم مراحل ابھی باقی ہیں۔

سعودی عرب دنیا کے جدید ترین لڑاکا طیاروں میں شمار ہونے والے امریکی F-35 حاصل کرنے کے مزید قریب پہنچ گیا ہے۔ 

امریکی محکمہ خارجہ نے سعودی عرب کو 48 F-35A لڑاکا طیاروں کی ممکنہ فروخت کی منظوری دی ہے۔ 

پورے دفاعی پیکیج کی مالیت تقریباً 24.3 ارب ڈالر بتائی گئی ہے۔

یہ صرف جنگی طیاروں کی ایک بڑی خریداری نہیں۔ 

اگر تمام مراحل مکمل ہونے کے بعد سعودی عرب کو F-35 مل جاتے ہیں تو اس سے سعودی فضائیہ کی طاقت میں نمایاں اضافہ ہوسکتا ہے اور مشرقِ وسطیٰ میں فضائی طاقت کے موجودہ نقشے پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔

OVERSEAS POST | SPECIAL REPORT اہم نکات
  • امریکی محکمہ خارجہ نے سعودی عرب کو 48 F-35A طیاروں کی ممکنہ فروخت کی منظوری دی ہے۔
  • مجوزہ دفاعی پیکیج کی مالیت تقریباً 24.3 ارب ڈالر ہے۔
  • پیکیج میں طیاروں کے ساتھ انجن، تربیت، اسپیئر پارٹس اور تکنیکی مدد بھی شامل ہے۔
  • ڈیل ابھی حتمی نہیں؛ امریکی کانگریس کا جائزہ اور دوسرے مراحل باقی ہیں۔
overseaspost.net

تاہم ایک بات واضح رہنی چاہئے: ابھی طیارے سعودی عرب کو فروخت نہیں ہوئے۔ 

امریکی محکمہ خارجہ نے ممکنہ فروخت کی منظوری دی ہے، جس کے بعد کانگریس کے جائزے اور دوسرے ضروری مراحل باقی ہیں۔

مزید پڑھیں

سعودی عرب کو کیا ملے گا؟

مجوزہ معاہدے کے تحت سعودی عرب 48 F-35A طیارے حاصل کرنا چاہتا ہے۔ 

ان کے ساتھ 49 انجن بھی پیکیج میں شامل ہیں، جن میں ایک اضافی انجن ہوگا۔

اس کے علاوہ پائلٹوں کی تربیت، سمیولیٹر، اسپیئر پارٹس، مرمت، 

مواصلاتی نظام اور تکنیکی مدد بھی شامل ہوگی۔

اسی لیے 24.3 ارب ڈالر کو صرف 48 طیاروں کی قیمت نہیں سمجھنا چاہئے۔ 

اس رقم میں طیاروں کے ساتھ انہیں چلانے اور طویل عرصے تک استعمال کرنے کے لیے ضروری کئی دوسرے نظام اور خدمات بھی شامل ہیں۔

i OVERSEAS POST | FACT BOX فیکٹ باکس
  • طیارہ: F-35A Lightning II
  • تعداد: 48 طیارے
  • ممکنہ مالیت: 24.3 ارب ڈالر
  • انجن: 49، جن میں ایک اضافی
  • مرحلہ: ممکنہ فروخت کی امریکی منظوری
overseaspost.net

F-35 میں خاص کیا ہے؟

F-35 کی سب سے اہم خوبی اس کی اسٹیلتھ ٹیکنالوجی ہے۔ آسان الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہے کہ عام لڑاکا طیاروں کے مقابلے میں دشمن کے ریڈار کے لیے اسے تلاش کرنا زیادہ مشکل ہوسکتا ہے۔

لیکن اس طیارے کی طاقت صرف یہی نہیں۔

اس میں جدید سینسر، کیمرے اور کمپیوٹر نظام موجود ہیں جو پائلٹ کو اردگرد موجود خطرات اور اہداف کے بارے میں بڑی مقدار میں معلومات فراہم کرتے ہیں۔

یہ دوسرے طیاروں اور دفاعی نظاموں کے ساتھ معلومات کا تبادلہ بھی کرسکتا ہے۔ 

یوں F-35 صرف حملہ کرنے والا طیارہ نہیں رہتا بلکہ فضائی جنگ کے دوران معلومات جمع کرنے اور دوسرے یونٹس تک پہنچانے والا اہم مرکز بھی بن جاتا ہے۔

سعودی فضائیہ کتنی مضبوط ہوگی؟

سعودی عرب کے پاس پہلے ہی جدید F-15 لڑاکا طیاروں کا بڑا بیڑا موجود ہے۔ 

F-35 ملنے کی صورت میں سعودی فضائیہ کو ایک ایسی صلاحیت حاصل ہوگی جو اس وقت خطے کے بہت کم ممالک کے پاس ہے۔

OVERSEAS POST | TECHNOLOGY F-35 میں خاص کیا ہے؟
  • اسٹیلتھ ٹیکنالوجی اسے ریڈار پر تلاش کرنا نسبتاً مشکل بناتی ہے۔
  • جدید سینسر پائلٹ کو خطرات اور اہداف کی وسیع تصویر دیتے ہیں۔
  • یہ دوسرے طیاروں اور دفاعی نظاموں کے ساتھ معلومات کا تبادلہ کرسکتا ہے۔
overseaspost.net

خاص طور پر دشمن کے فضائی دفاع سے بچتے ہوئے کارروائی، دور سے معلومات حاصل کرنے اور دوسرے دفاعی نظاموں کے ساتھ مل کر کام کرنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

لیکن صرف جدید طیارہ خرید لینا کافی نہیں ہوتا۔ 

پائلٹوں کی تربیت، ہتھیار، دیکھ بھال، انٹیلی جنس اور عملی تجربہ بھی فضائی طاقت کا اہم حصہ ہیں۔

اسی لیے F-35 کی ممکنہ آمد کو سعودی فضائیہ میں بڑی تبدیلی تو کہا جاسکتا ہے، لیکن صرف طیاروں کی تعداد دیکھ کر پورے خطے کی فوجی طاقت کا موازنہ کرنا درست نہیں ہوگا۔

اسرائیل کیوں اہم ہے؟

اس معاملے کا سب سے حساس پہلو اسرائیل ہے۔

اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل واحد ملک ہے جو F-35 استعمال کرتا ہے۔ 

اگر سعودی عرب کو بھی یہ طیارے مل جاتے ہیں تو وہ خطے میں اس امریکی اسٹیلتھ لڑاکا طیارے تک رسائی رکھنے والا دوسرا ملک بن سکتا ہے۔

OVERSEAS POST | AIR POWER سعودی فضائی طاقت پر اثر
  • سعودی فضائیہ پہلے ہی جدید F-15 طیاروں کا بڑا بیڑا رکھتی ہے۔
  • F-35 سے اسٹیلتھ، جدید سینسر اور نیٹ ورک سے منسلک کارروائی کی نئی صلاحیت شامل ہوسکتی ہے۔
  • تربیت، ہتھیار، دیکھ بھال اور عملی تجربہ بھی مجموعی طاقت کا تعین کرتے ہیں۔
overseaspost.net

امریکہ قانون اور اپنی دیرینہ پالیسی کے تحت اسرائیل کی معیاری فوجی برتری برقرار رکھنے کو اہم سمجھتا ہے۔ 

یعنی اسرائیل کے پاس ایسی فوجی صلاحیت موجود رہے جو خطے میں اس کے ممکنہ مخالفین کے مقابلے میں اسے تکنیکی برتری دے۔

اسی وجہ سے سعودی عرب کی F-35 درخواست کو صرف ریاض اور واشنگٹن کے درمیان دفاعی معاہدے کے طور پر نہیں دیکھا جارہا۔ 

اس کے ساتھ یہ سوال بھی جڑا ہے کہ امریکہ سعودی عرب کو جدید طیارے دیتے ہوئے اسرائیل کی فوجی برتری سے متعلق اپنی ذمہ داری کس طرح پوری کرے گا۔

ایران بھی اس کہانی کا حصہ ہے

خطے کی موجودہ کشیدگی نے بھی اس ڈیل کی اہمیت بڑھا دی ہے۔

خلیجی ممالک کو میزائلوں، ڈرونز اور دوسرے فضائی خطرات کا سامنا رہا ہے۔ 

سعودی عرب گزشتہ برسوں کے دوران اپنے فضائی اور میزائل دفاع کو مسلسل مضبوط کرتا آیا ہے۔

F-35 اس دفاعی نظام میں ایک نئی صلاحیت کا اضافہ کرسکتا ہے۔ 

OVERSEAS POST | REGIONAL BALANCE اسرائیل کا پہلو
  • اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل F-35 استعمال کرنے والا واحد ملک ہے۔
  • ڈیل مکمل ہوئی تو سعودی عرب خطے میں F-35 حاصل کرنے والا دوسرا ملک بن سکتا ہے۔
  • امریکی پالیسی میں اسرائیل کی معیاری فوجی برتری برقرار رکھنا اہم عنصر ہے۔
overseaspost.net

یہ صرف دشمن کے طیاروں کا مقابلہ کرنے کے لیے نہیں بلکہ زمینی اہداف، فضائی دفاعی نظام اور دوسرے خطرات کی نشاندہی اور ان کے خلاف کارروائی میں بھی استعمال ہوسکتا ہے۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ مجوزہ فروخت سعودی عرب کو موجودہ اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے میں مدد دے گی۔

چین کا سوال کہاں سے آگیا؟

F-35 امریکہ کی انتہائی حساس فوجی ٹیکنالوجی میں شمار ہوتا ہے۔ 

اسی لیے واشنگٹن میں یہ سوال بھی اٹھایا جاتا رہا ہے کہ سعودی عرب کے چین کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات کے درمیان اس ٹیکنالوجی کو کس طرح محفوظ رکھا جائے گا۔

OVERSEAS POST | REGIONAL SECURITY ایران کا عنصر
  • خلیج میں میزائل، ڈرون اور دوسرے فضائی خطرات نے جدید فضائی دفاع کی اہمیت بڑھائی ہے۔
  • F-35 فضائی اور زمینی اہداف کی نشاندہی اور کارروائی میں سعودی صلاحیت بڑھا سکتا ہے۔
  • امریکہ کے مطابق مجوزہ فروخت موجودہ اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے میں مدد دے گی۔
overseaspost.net

امریکہ کے لیے یہ معاملہ خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ F-35 میں حساس اسٹیلتھ ٹیکنالوجی، سافٹ ویئر، سینسر اور مواصلاتی نظام موجود ہیں۔

اسی وجہ سے ممکنہ معاہدے میں امریکی ٹیکنالوجی کے تحفظ کے لیے سخت شرائط شامل ہونا غیرمعمولی بات نہیں ہوگی۔

کیا اب ڈیل یقینی ہے؟

نہیں۔ ابھی اسے حتمی معاہدہ نہیں سمجھنا چاہئے۔

امریکی محکمہ خارجہ کی منظوری ایک اہم مرحلہ ضرور ہے، لیکن کانگریس کا جائزہ اور دیگر قانونی و تجارتی مراحل ابھی باقی ہیں۔ 

مذاکرات کے دوران قیمت، سازوسامان یا دوسری شرائط میں تبدیلی بھی ہوسکتی ہے۔

OVERSEAS POST | TECH SECURITY چین کا سوال
  • F-35 امریکہ کی انتہائی حساس فوجی ٹیکنالوجی میں شمار ہوتا ہے۔
  • سعودی عرب کے چین کے ساتھ تعلقات کے تناظر میں ٹیکنالوجی کے تحفظ پر بحث رہی ہے۔
  • حساس سافٹ ویئر، سینسر اور دوسری ٹیکنالوجی کے تحفظ کی شرائط اہم ہوسکتی ہیں۔
overseaspost.net

طیاروں کی تیاری، سعودی پائلٹوں کی تربیت اور ضروری زمینی نظام قائم کرنے میں بھی وقت درکار ہوگا۔

اس لیے F-35 سعودی عرب کے آسمان پر فوری طور پر دکھائی نہیں دیں گے۔

اصل تبدیلی کہاں ہوگی؟

اگر یہ معاہدہ تمام مراحل مکمل کرلیتا ہے تو اس کا اثر صرف سعودی فضائیہ تک محدود نہیں رہے گا۔

سعودی عرب پہلی مرتبہ پانچویں نسل کے امریکی اسٹیلتھ لڑاکا طیاروں کے کلب میں شامل ہوسکتا ہے، جبکہ امریکہ اور سعودی عرب کے دفاعی تعلقات مزید گہرے ہوں گے۔

✓? OVERSEAS POST | VERIFIED کیا مصدقہ، کیا باقی؟
  • مصدقہ: 48 F-35A کی ممکنہ فروخت کی امریکی منظوری۔
  • مصدقہ: مجوزہ پیکیج تقریباً 24.3 ارب ڈالر۔
  • ابھی باقی: کانگریس کا جائزہ، حتمی معاہدہ، آخری قیمت اور فراہمی کا شیڈول۔
  • اسے ابھی حتمی فروخت یا فوری فراہمی نہ سمجھا جائے۔
overseaspost.net

واشنگٹن کے سامنے پھر ایک ساتھ کئی اہم معاملات ہوں گے: 

سعودی عرب کی دفاعی صلاحیت مضبوط کرنا، اسرائیل کی معیاری فوجی برتری برقرار رکھنا اور اپنی حساس F-35 ٹیکنالوجی کو محفوظ رکھنا۔

اسی لیے 24.3 ارب ڈالر کی یہ مجوزہ ڈیل صرف 48 طیاروں کی کہانی نہیں، بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں آنے والے برسوں کے دفاعی نقشے میں ایک بڑی تبدیلی کی بنیاد بن سکتی ہے۔

OVERSEAS POST | SOURCES اصل اور معتبر ذرائع
overseaspost.net