ایران کے وسط میں نطنز سے چند کلومیٹر دور ایک پہاڑ اچانک ’تہران واشنگٹن جنگ‘ کے سب سے زیادہ زیرِ بحث مقامات میں شامل ہوگیا ہے۔
مزید پڑھیں
اس کا نام ہے جبل الفأس، یا Pickaxe Mountain۔ باہر سے یہ ایک عام پہاڑی سلسلہ دکھائی دیتا ہے، مگر اس کے اندر موجود گہری سرنگیں اب واشنگٹن کی توجہ کا مرکز ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ حالیہ ہفتوں میں ایک سے زیادہ بار اس مقام کو نشانہ بنانے کا امکان ظاہر کر چکے ہیں۔
9 ستمبر کو ٹرمپ نے کہا کہ امریکا نے وہاں کچھ سرگرمی دیکھی ہے اور
ایران کو خبردار کیا۔ دوسری طرف ایران اپنے جوہری پروگرام کو پرامن قرار دیتا ہے اور جولائی میں اس کی وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ جبل الفأس میں کوئی جوہری سرگرمی نہیں ہو رہی۔
⛰️
جبل الفأس کے اندر آخر کیا چھپا ہے؟
+
جبل الفأس کے اندر آخر کیا چھپا ہے؟
تہران سے 220 کلومیٹر جنوب اور نطنز جوہری کمپلیکس سے بمشکل 2 کلومیٹر دُور واقع ’پک ایکس ماؤنٹین‘ (جبل الفأس) 2020 کی مبینہ تخریب کاری کے بعد انتہائی خفیہ زیرِ زمین عسکری و سائنسی قلعے کے طور پر تعمیر کیا گیا۔
🛡️ 100 میٹر گہری قدرتی گرینائٹ ڈھال
سیٹلائٹ تصاویر کے مطابق مرکزی ہال پہاڑ کی چٹانوں میں کم از کم 100 میٹر اندر واقع ہیں، جو اسے روایتی فضائی بمباری سے مکمل محفوظ رکھنے کے لیے کھودے گئے ہیں۔
🚇 2 جوڑوں پر مشتمل سرنگوں کا جال
پہاڑ کے مختلف اطراف میں کم از کم 4 داخلی راستے اور گہری سرنگیں موجود ہیں، جن کا مقصد بھاری مشینری کی محفوظ منتقلی اور کسی ایک دہانے کی تباہی پر متبادل راستہ برقرار رکھنا ہے۔
⚡ جدید سینٹری فیوج ہالز کی منصوبہ بندی
ایرانی حکام کے ماضی کے بیانات کے مطابق یہ مقام جدید ترین سینٹری فیوجز کی تیاری اور افزودگی کو زمین بوس حملوں سے بچانے کے لیے مختص کیا گیا تھا۔
💣 سب سے بڑے بنکر شکن بم کا چیلنج
دفاعی ماہرین کے مطابق امریکی اسلحہ خانے کا وزنی ترین بم GBU-57 بھی اتنی غیر معمولی چٹانی گہرائی میں موجود اہم ترین تنصیبات کو بیک جنبش مکمل تباہ کرنے کی ضمانت نہیں دیتا۔
فریقین کے درمیان یہی اختلاف اس پہاڑ کو محض ایک فوجی ہدف سے کہیں زیادہ اہمیت دے رہا ہے۔
جبل الفأس کے اندر آخر ہے کیا؟
رائٹرز کے مطابق یہ تہران سے تقریباً 220 کلومیٹر جنوب اور نطنز جوہری کمپلیکس سے 2 کلومیٹر دُور ہے۔
سیٹلائٹ تصاویر کا جائزہ لینے والے ماہرین کے مطابق یہاں 2 جوڑوں پر مشتمل سرنگوں کے داخلی راستے موجود ہیں، جبکہ مرکزی تنصیب پہاڑ کے اندر کم از کم 100 میٹر گہرائی میں ہو سکتی ہے۔
جبل الفأس کی گہری سرنگوں پر ممکنہ امریکی حملے کے خدشات نے آبنائے ہرمز میں تجارتی آمدورفت مفلوج اور عالمی توانائی منڈی کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
سیٹلائٹ جائزوں کے مطابق ایرانی سینٹری فیوجز کی مرکزی تنصیب پہاڑ کے اندر انتہائی گہرائی میں تعمیر کی گئی ہے۔
کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز سے روزانہ کی اوسط سولہ جہازوں کے مقابلے میں گھٹ کر صرف چار تجارتی جہاز رہ گئی ہے۔
امریکی بجٹ دفتر کے مطابق محاذ آرائی پر اب تک بھاری خرچ ہو چکا ہے جس میں ماہانہ تین ارب ڈالر کا مسلسل اضافہ جاری ہے۔
پاکستان کو ستمبر میں گزشتہ سال کے چار لاکھ نوے ہزار ٹن کے مقابلے میں معمولی مائع گیس ملنے کا امکان ہے، جس سے توانائی بحران کا خدشہ ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق امریکہ کے طاقتور ترین جی بی یو بم بھی پہاڑ کی چٹانی گہرائی کے باعث زیرِ زمین کمانڈ کو مکمل تباہ کرنے کی ضمانت نہیں دے سکتے۔
اس مقام کی تعمیر 2020 میں نطنز میں تخریب کاری کے ایک واقعے کے بعد شروع ہوئی تھی۔
ایران کے اُس وقت کے جوہری سربراہ علی اکبر صالحی نے بھی پہاڑ کے اندر جدید سینٹری فیوجز سے متعلق ایک بڑے مرکز کی تعمیر کا ذکر کیا تھا۔
تاہم موجودہ مقام کے استعمال اور وہاں سازوسامان سے متعلق آزادانہ طور پر مکمل معلومات دستیاب نہیں ہیں۔
🎯
اگر حملہ ہوا تو سب سے پہلے کیا بدلے گا؟
▼
اگر حملہ ہوا تو سب سے پہلے کیا بدلے گا؟
فضائی دفاع اور راڈارز پر پیشگی ضرب
عسکری ماہرین کے مطابق براہِ راست پہاڑ پر بمباری سے پہلے خطے میں موجود ایرانی اینٹی ایئر کرافٹ بیٹریاں، نگرانی کے راڈار اور اصفہان و شیراز کے ملحقہ ائیر بیسز پر مرحلہ وار بمباری کی جائے گی تاکہ حملہ آور طیاروں کا راستہ صاف ہو۔
آبنائے ہرمز کی عملاً ناکہ بندی اور تیل کا دھماکہ
حملے کی پہلی خبر کے ساتھ ہی انشورنس کمپنیوں کی جانب سے خلیج فارس میں جہاز رانی معطل ہوگی، جس سے خام تیل کی قیمتیں فوری طور پر 120 تا 130 ڈالر فی بیرل کی غیر معمولی بلندی کو چھو سکتی ہیں۔
پراکسی میزائل ردِعمل اور خلیجی تنصیبات پر دباؤ
ایران کی جوابی کارروائی صرف روایتی دفاع تک محدود نہیں رہے گی بلکہ خلیج میں امریکی اڈوں اور خطے کے انرجی ٹرمینلز پر غیر متناسب ڈرون و میزائل دباؤ بڑھنے سے بحران کثیر القومی جنگ میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
اگلی امریکی کارروائی کی شکل کیا ہوسکتی ہے؟
الجزیرہ سے گفتگو میں عسکری ماہر کرنل نضال ابو زید نے ایک ایسا ممکنہ منظرنامہ پیش کیا ہے جس میں بڑی اور مسلسل جنگی مہم کے بجائے مرحلہ وار کارروائیاں کی جا سکتی ہیں۔
اُن کے تجزیے کے مطابق پہلے فضائی نگرانی اور دفاعی صلاحیتوں سے متعلق اہداف اور اس کے بعد انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر زیادہ مخصوص مقامات زیرِ غور آ سکتے ہیں۔ انہوں نے ممکنہ اسرائیلی فضائی کردار کا بھی ذکر کیا ہے۔
اسی تجزیے میں جبل الفأس کے علاوہ تہران کے جنوب میں خوجیر اور یزد، اصفہان، کرمانشاہ اور شیراز میں بعض فوجی یا میزائل صنعت سے جڑے مقامات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
تاہم ابو زید خود واضح کرتے ہیں کہ اصل اہداف کا فیصلہ امریکی قیادت اور دستیاب انٹیلی جنس پر منحصر ہوگا۔
📉
پاکستان کی جیب پر اس جنگ کا کتنا اثر؟
‹
پاکستان کی جیب پر اس جنگ کا کتنا اثر؟
⛽ ایندھن کا درآمدی بل اور روپے پر دباؤ
پاکستان اکنامک سروے کے مطابق تیل کی قیمت 100 ڈالر سے اوپر برقرار رہنے سے ملکی تجارتی خسارے میں اربوں ڈالر کا اضافہ ہوگا، جس کے نتیجے میں روپیہ گراوٹ اور درآمدی پیٹرولیم مصنوعات پر مزید ٹیکس لگانے کا دباؤ بڑھے گا۔
🔥 موسمِ سرما میں گیس اور بجلی کا بحران
ہرمز کے بحران اور اسپاٹ مارکیٹ میں گیس کی انتہائی بلند قیمتوں کی وجہ سے پاکستان کو ایل این جی کارگوز کی شدید کمی کا سامنا ہے، جس کا براہِ راست اثر کارخانوں کی پیداوار اور گھریلو صارفین کے بلوں پر پڑے گا۔
کیا امریکا کا طاقتور ترین بم کافی ہوگا؟
یہ سوال جبل الفأس سے جڑی موجودہ بحث کا سب سے دلچسپ پہلو ہے۔
اصل تجزیے میں امریکی GBU-57 بنکر شکن بم کا ذکر کیا گیا ہے، جو انتہائی مضبوط زیرزمین تنصیبات کے خلاف استعمال کے لیے بنایا گیا ہے۔
لیکن رائٹرز سے بات کرنے والے ماہرین کا اندازہ اس سے بھی زیادہ پیچیدہ تصویر پیش کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق جبل الفأس کی تنصیبات اتنی گہرائی میں ہو سکتی ہیں کہ موجودہ امریکی اسلحہ خانے کے سب سے طاقتور بنکر شکن بم کے لیے بھی انہیں مکمل طور پر تباہ کرنا مشکل ہو۔
یہی وجہ ہے کہ اس مقام پر فی الوقت امریکی دھمکیاں اہم ضرور ہیں، مگر کسی ممکنہ حملے کے مؤثر نتائج کے بارے میں یقین سے کچھ کہنا ممکن نہیں۔
🌊
آبنائے ہرمز بند ہوئی تو دنیا پر کیا گزرے گی؟
عالمی اثرات
آبنائے ہرمز بند ہوئی تو دنیا پر کیا گزرے گی؟
تازہ بحری ڈیٹا کے مطابق کشیدگی کے باعث ہرمز سے یومیہ گزرنے والے تجارتی جہاز 16 سے گھٹ کر صرف 4 رہ گئے ہیں۔ دنیا کے 20 فیصد خام تیل اور گیس کی یہ گزرگاہ بند ہونا عالمی معیشت کے لیے تباہ کن ہوگا۔
⚡ عالمی توانائی کا تاریخی خسارہ
سعودی عرب، عراق، امارات، کویت اور قطر کا تیل و ایل این جی باہر نہیں نکل سکے گا، جس سے یورپ اور امریکا میں ایندھن کی شدید ترین راشننگ شروع ہو سکتی ہے۔
🏭 ایشیائی صنعتی پیداوار کو شدید جھٹکا
چین، جاپان، بھارت اور جنوبی کوریا اپنی توانائی کی 60 فیصد سے زائد ضروریات کے لیے خلیج پر منحصر ہیں؛ سپلائی رکنے سے عالمی پروڈکشن چین جام ہو جائے گی۔
🚢 شپنگ انشورنس اور بحری کوریڈورز کا خاتمہ
جنگی رسک انشورنس میں ہوشربا اضافے کی وجہ سے تجارتی کمپنیاں خلیج میں آئل ٹینکرز بھیجنا مکمل بند کر دیں گی جس کا کوئی زمینی متبادل پائپ لائن سسٹم موجود نہیں۔
📈 بے قابو عالمی مہنگائی اور کساد بازاری
ٹرانسپورٹ اور بجلی کی پیداواری لاگت بڑھنے سے بین الاقوامی افراطِ زر میں خطرناک اضافہ ہوگا، جس سے عالمی معیشت گہری کساد بازاری (Recession) میں داخل ہو سکتی ہے۔
دباؤ صرف پہاڑ پر نہیں، ہرمز پر بھی ہے
جبل الفأس اس وقت سرخیوں میں ہے، مگر عالمی معیشت کے لیے زیادہ اہم میدان آبنائے ہرمز ہے۔
18 ستمبر کے تازہ شپنگ ڈیٹا کے مطابق ایک دن میں صرف 4 تجارتی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جبکہ گزشتہ 10 دنوں کی اوسط تقریباً 16 جہاز تھی۔
جنگ سے پہلے دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کا تیل اور گیس اسی راستے سے گزرتا تھا۔ یہ رکاوٹ تیل اور گیس کی قیمتوں میں واضح ہو رہی ہے۔
18 ستمبر کو برینٹ خام تیل تقریباً 104 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ چکا تھا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 100 ڈالر سے اوپر چل رہا تھا۔
🔮
اگلا مرحلہ: جنگ پھیلے گی یا دباؤ بڑھے گا؟
➔
اگلا مرحلہ: جنگ پھیلے گی یا دباؤ بڑھے گا؟
تزویراتی دباؤ اور کنٹرولڈ کشیدگی
امریکا کانگریس کے بجٹ دفتر (CBO) کے مطابق پہلے ہی 38 ارب ڈالر خرچ کر چکا ہے اور ماہانہ 3 ارب ڈالر کی لاگت و گولہ بارود کے ذخائر پر دباؤ کا سامنا ہے۔ اس معاشی بوجھ کے سبب واشنگٹن ہمہ گیر جنگ کے بجائے جبل الفأس کے نام پر سخت عسکری ڈیٹرنس اور تنہائی کی پالیسی کو ترجیح دے سکتا ہے۔
مرحلہ وار فضائی ضربات کا آغاز
اگر عسکری کارروائی ناگزیر سمجھی گئی تو پہلے دور افتادہ راڈارز، میزائل فیکٹریوں اور خوجیر و اصفہان جیسے اہداف کو نشانہ بنایا جائے گا۔ تاہم گہرے پہاڑی بنکرز پر حملے کا نتیجہ ہرمز اور خلیج میں فوری علاقائی تصادم کی صورت میں نکل سکتا ہے۔
⚖️ فیصلہ کن موڑ
آنے والے دنوں کا اصل چیلنج یہ نہیں کہ بمباری کتنی شدید ہوگی، بلکہ یہ ہے کہ کیا دونوں فریق اس جھڑپ کو محدود رکھ پائیں گے یا تیل کی منڈی اور ہرمز کی لائف لائن خطے کو ایک بے قابو معاشی طوفان میں جھونک دے گی۔
پاکستان کے لیے اس ممکنہ جنگ کی اہمیت؟
ایران امریکا جنگ بظاہر پاکستان سے باہر لڑی جا رہی ہے، مگر اس کا معاشی اثر پاکستانی گھروں تک پہنچ گیا ہے۔
پاکستان اکنامک سروے 2025-26 کے مطابق جنگ کے ابتدائی عرصے میں برینٹ خام تیل دسمبر 2025 کے اوسط 62.7 ڈالر سے بڑھ کر مارچ 2026 میں 103.7 ڈالر فی بیرل تک پہنچا، جس سے پاکستانی درآمدی بل پر دباؤ بڑھا۔
حکومت کو ایندھن کی دستیابی اور متبادل کارگوز کی نگرانی کے لیے خصوصی انتظامات بھی کرنا پڑے۔
اسی طرح گیس کا معاملہ بھی کم تشویش ناک نہیں ہے۔
رائٹرز کے مطابق پاکستان کو ستمبر میں تقریباً 120 ہزار ٹن LNG ملنے کی توقع ہے، جبکہ گزشتہ سال اسی مہینے یہ مقدار 490 ہزار ٹن تھی۔
قطر سے LNG ترسیل میں خلل اور مہنگی اسپاٹ قیمتیں جنوبی ایشیائی خریداروں کے لیے مسئلہ بن چکی ہیں۔
جنگ امریکا کے لیے بھی سستی نہیں
امریکی کانگریس کے غیر جماعتی بجٹ دفتر CBO کے مطابق یکم اگست تک ایران جنگ پر امریکی لاگت تقریباً 38 ارب ڈالر ہو چکی تھی اور موجودہ رفتار برقرار رہنے کی صورت میں ہر ماہ مزید تقریباً 3 ارب ڈالر خرچ ہونے کا تخمینہ دیا گیا۔
رپورٹ نے امریکی میزائل ذخائر پر دباؤ کا بھی ذکر کیا ہے۔ اگرچہ پینٹاگون نے اسلحے کی کمی سے متعلق بعض نتائج سے اختلاف بھی ظاہر کیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق جبل الفأس کی بحث صرف ایک پہاڑ یا ممکنہ بمباری تک محدود نہیں ہے۔
اس کے ساتھ ایران کا جوہری پروگرام، امریکی فوجی حکمت عملی، آبنائے ہرمز، عالمی تیل و گیس کی قیمتیں اور پاکستان جیسے درآمدی توانائی پر انحصار کرنے والے ممالک سب جڑے ہوئے ہیں۔
آنے والے دنوں میں اصل مسئلہ صرف یہ نہیں ہوگا کہ امریکا جبل الفأس پر حملہ کرتا ہے یا نہیں، بلکہ زیادہ بڑا سوال یہ ہے کہ واشنگٹن اور تہران اس محاذ آرائی کو محدود رکھ سکتے ہیں، یا ہر نیا حملہ ہرمز، توانائی کی منڈی اور خطے کی معیشت کو مزید غیر یقینی صورت حال کی طرف لے جائے گا۔