تھائی لینڈ کے Thong Pha Phum National Park میں دریافت ہونے والا Thismia daemona عام پودوں کے برعکس سورج کی روشنی سے خوراک نہیں بناتا۔
سیاہ اور نارنجی رنگ، سینگ نما ساخت اور فنگس پر انحصار نے اس نایاب پودے کو سائنس دانوں کے لیے غیر معمولی بنا دیا ہے۔
محققین نے اسی محدود آبادی اور انتہائی چھوٹے قدرتی علاقے کو دیکھتے ہوئے اسے ابتدائی طور پر IUCN کے معیار کے مطابق ’انتہائی خطرے سے دوچار‘ یعنی Critically Endangered قرار دینے کی سفارش کی ہے۔
تاہم یہ ایک ابتدائی سائنسی جائزہ ہے، اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ پودا پہلے ہی IUCN کی عالمی ریڈ لسٹ میں باضابطہ طور پر درج ہو چکا ہے۔
دریافت کا ایک اور اہم پہلو اس کا جغرافیہ ہے۔ Thismia daemona فی الحال صرف تھائی لینڈ میں معلوم ہے، لیکن سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ مغربی تھائی لینڈ اور قریبی میانمار میں ملتی جلتی نباتاتی آب و ہوا موجود ہے، اس لیے ممکن ہے کہ مستقبل میں اس کی مزید آبادیاں دریافت ہوجائیں۔
Thismia کی انواع اکثر اتنی چھوٹی اور پوشیدہ ہوتی ہیں کہ انہیں تلاش کرنا آسان نہیں۔ مزید سروے ہی واضح کرسکتے ہیں کہ ’شیطانی پھول‘ واقعی ایک انتہائی محدود علاقے تک مقید ہے یا اس کے دوسرے ٹھکانے اب بھی انسانی نظروں سے اوجھل ہیں۔