براہ راست نشریات

سورج چاہئے، نہ سبز پتے.. تھائی جنگل میں حیران کن ’شیطانی پھول‘

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
Devil Flower Thailand

تھائی لینڈ کے Thong Pha Phum National Park میں دریافت ہونے والا Thismia daemona عام پودوں کے برعکس سورج کی روشنی سے خوراک نہیں بناتا۔
سیاہ اور نارنجی رنگ، سینگ نما ساخت اور فنگس پر انحصار نے اس نایاب پودے کو سائنس دانوں کے لیے غیر معمولی بنا دیا ہے۔

تھائی لینڈ کے گھنے پہاڑی جنگلات میں سائنس دانوں نے ایک ایسا عجیب و غریب پودا دریافت کیا ہے جو بظاہر پودوں کے بنیادی اصولوں ہی کو چیلنج کرتا دکھائی دیتا ہے۔ 

اس کے نہ عام سبز پتے ہیں، نہ یہ سورج کی روشنی سے اپنی خوراک تیار کرتا ہے، جبکہ اس کا سیاہ مائل پھول، سرخی مائل نارنجی حصے اور اوپر اٹھے تین سینگ نما ابھار اسے کسی خیالی مخلوق جیسی شکل دیتے ہیں۔ 

اسی غیر معمولی ساخت کی وجہ سے محققین نے اسے Thismia daemona کا نام دیا ہے، جبکہ اسے ’Devil Flower‘ یا ’شیطانی پھول‘ بھی کہا جا رہا ہے۔

OVERSEAS POST | SPECIAL REPORTشیطانی پھول — اہم نکات
  • نئی نوع کا سائنسی نام Thismia daemona ہے، جسے اس کی گہری رنگت اور سینگ نما ساخت کی وجہ سے “Devil Flower” کہا جا رہا ہے۔
  • یہ پودا مغربی تھائی لینڈ کے Thong Pha Phum National Park میں دریافت ہوا۔
  • اس میں کلوروفل نہیں ہوتا، اس لیے یہ عام پودوں کی طرح سورج کی روشنی سے فوٹو سنتھیسز کرکے خوراک نہیں بناتا۔
  • یہ زیرِ زمین فنگس سے کاربن اور غذائی اجزا حاصل کرتا ہے؛ ایسے پودوں کو mycoheterotrophic plants کہا جاتا ہے۔
  • اب تک اس کی صرف ایک معلوم آبادی ملی ہے اور 50 سے بھی کم پودے ریکارڈ کئے گئے ہیں۔
  • محققین نے اس کی انتہائی محدود آبادی کے باعث اسے ابتدائی طور پر Critically Endangered معیار کے مطابق رکھنے کی سفارش کی ہے۔
overseaspost.net

اس نئی نوع کو مغربی تھائی لینڈ کے صوبہ کانچانابوری کے Thong Pha Phum National Park میں شناخت کیا گیا۔ 

نمونے مئی 2025 میں تقریباً 950 سے 970 میٹر کی بلندی پر جمع کئے گئے تھے، تاہم سائنس دانوں نے جسمانی ساخت اور جینیاتی شواہد کی تفصیلی جانچ کے بعد اسے باقاعدہ نئی نوع قرار دیا۔ 

تحقیق 17 اگست 2026 کو نباتات کے سائنسی جریدے PhytoKeys میں شائع ہوئی۔

مزید پڑھیں

یہ پودا صرف اپنی شکل کی وجہ سے حیران کن نہیں۔ اس کی اصل انفرادیت اس کے طرزِ زندگی میں پوشیدہ ہے۔ عام پودے کلوروفل کی مدد سے سورج کی روشنی کو توانائی میں تبدیل کرتے ہیں اور فوٹو سنتھیسز کے ذریعے خوراک بناتے ہیں، مگر Thismia کی انواع میں کلوروفل موجود نہیں ہوتا۔ 

یہی وجہ ہے کہ Thismia daemona بھی اپنی خوراک بنانے کے لیے سورج کی روشنی پر انحصار نہیں کرتا۔

سائنس دان ایسے پودوں کو mycoheterotrophic plants کہتے ہیں۔ 

آسان الفاظ میں یہ پودے زیرِ زمین فنگس کے ساتھ تعلق قائم کرکے کاربن اور دوسرے غذائی اجزا حاصل کرتے ہیں۔ 

جنگل کی مٹی میں موجود فنگس اردگرد کے درختوں کی جڑوں سے جڑی ہوتی ہے۔ 

یوں ایک زیرِ زمین نیٹ ورک بنتا ہے جس سے یہ پودا فائدہ اٹھاتا ہے اور اپنی زندگی کا بڑا حصہ گرے ہوئے پتوں کے درمیان چھپا رہتا ہے۔

i OVERSEAS POST | FACT BOXThismia daemona: فیکٹ باکس
سائنسی نام
Thismia daemona
عام نام
Devil Flower / شیطانی پھول
ملک
تھائی لینڈ
مقام
Thong Pha Phum National Park
نمونے جمع ہوئے
مئی 2025
سائنسی اشاعت
17 اگست 2026
طرزِ غذائیت
فنگس سے کاربن اور غذائی اجزا؛ فوٹو سنتھیسز نہیں
معلوم آبادی
50 سے بھی کم پودے
overseaspost.net

اس کا پھول بھی نباتاتی دنیا میں خاصا غیر معمولی ہے۔ 

محققین کے مطابق پھول کا بنیادی رنگ گہرا بھورا سے تقریباً سیاہ ہے، جبکہ بیرونی حصوں میں سرخی مائل نارنجی، موٹے اور گوشت دار حصے نظر آتے ہیں۔ 

اندرونی حصے ایک گنبد نما ساخت بناتے ہیں جس کے اوپر 3 باریک اور لمبے ابھار موجود ہوتے ہیں۔ 

انہی ابھاروں نے اسے سینگوں جیسی شکل دی۔ 

اس کے اندر بعض تولیدی حصے نیم شفاف نیلے رنگ کے ہیں، جو اس کی بناوٹ کو مزید منفرد بناتے ہیں۔

نام میں موجود daemona بھی اتفاقی انتخاب نہیں۔ 

تحقیق کرنے والی ٹیم کے مطابق گہرا رنگ، نارنجی حصے اور سینگ نما ساخت اسے پراسرار شکل دیتے ہیں، اسی بنا پر نئی نوع کو یہ نام دیا گیا۔ 

انٹرنیشنل پلانٹ نیمز انڈیکس کے ریکارڈ میں بھی نام کی وجہ اس کے ’devil-like appearance‘ یعنی شیطان سے مشابہ ظاہری شکل کو قرار دیا گیا ہے۔

OverseasPost Template 5 5

لیکن اس دریافت کے ساتھ ایک تشویشناک پہلو بھی سامنے آیا ہے۔ 

اب تک اس پودے کی صرف ایک قدرتی آبادی معلوم ہوئی ہے اور سائنس دانوں کو 50 سے بھی کم پودے ملے ہیں۔ 

یہ پوری معلوم آبادی 0.05 مربع کلومیٹر سے بھی کم علاقے تک محدود ہے۔ 

اگرچہ یہ جگہ قومی پارک کے اندر محفوظ علاقے میں واقع ہے، مگر وہاں سیاحوں کی آمدورفت ہوتی ہے، جس سے اس نازک مسکن کو نقصان پہنچنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔

گہری سیاہ رنگت،
نارنجی حصے
اور سینگ نما ساخت
نے اسے
’Devil Flower‘
کا نام دلوایا

محققین نے اسی محدود آبادی اور انتہائی چھوٹے قدرتی علاقے کو دیکھتے ہوئے اسے ابتدائی طور پر IUCN کے معیار کے مطابق ’انتہائی خطرے سے دوچار‘ یعنی Critically Endangered قرار دینے کی سفارش کی ہے۔ 
تاہم یہ ایک ابتدائی سائنسی جائزہ ہے، اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ پودا پہلے ہی IUCN کی عالمی ریڈ لسٹ میں باضابطہ طور پر درج ہو چکا ہے۔
دریافت کا ایک اور اہم پہلو اس کا جغرافیہ ہے۔ Thismia daemona فی الحال صرف تھائی لینڈ میں معلوم ہے، لیکن سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ مغربی تھائی لینڈ اور قریبی میانمار میں ملتی جلتی نباتاتی آب و ہوا موجود ہے، اس لیے ممکن ہے کہ مستقبل میں اس کی مزید آبادیاں دریافت ہوجائیں۔
Thismia کی انواع اکثر اتنی چھوٹی اور پوشیدہ ہوتی ہیں کہ انہیں تلاش کرنا آسان نہیں۔ مزید سروے ہی واضح کرسکتے ہیں کہ ’شیطانی پھول‘ واقعی ایک انتہائی محدود علاقے تک مقید ہے یا اس کے دوسرے ٹھکانے اب بھی انسانی نظروں سے اوجھل ہیں۔

OVERSEAS POST | ANALYSISیہ دریافت کیوں اہم ہے؟

Thismia daemona کی دریافت تین سطحوں پر خاص اہمیت رکھتی ہے:

غیر معمولی حیاتیاتکلوروفل نہ ہونے کے باعث یہ سورج کی روشنی سے اپنی خوراک نہیں بناتا، بلکہ زیرِ زمین فنگس کے نیٹ ورک پر انحصار کرتا ہے۔
نایاب تنوعانتہائی چھوٹے جغرافیائی علاقے میں ملنے والی یہ نئی نوع ظاہر کرتی ہے کہ محفوظ جنگلات میں ابھی بھی غیر شناخت شدہ نباتاتی تنوع موجود ہے۔
تحفظ کی ضرورتصرف ایک معلوم آبادی اور 50 سے کم پودوں کی موجودگی اس نوع کو معمولی ماحولیاتی تبدیلیوں کے مقابلے میں بھی بہت حساس بناتی ہے۔
اصل اہمیت: یہ پودا اس پیچیدہ زیرِ زمین تعلق کی مثال ہے جس میں درخت، فنگس اور چھوٹے پودے ایک دوسرے سے جڑے ہوتے ہیں؛ اسی لیے اس کی دریافت محض ایک نئی نوع کا اضافہ نہیں بلکہ جنگلاتی ماحولیاتی نظام کو سمجھنے کے لیے بھی اہم ہے۔
overseaspost.net

یہ دریافت ایک بار پھر دکھاتی ہے کہ نسبتاً اچھی طرح معلوم سمجھے جانے والے جنگلات میں بھی ایسی انواع موجود ہوسکتی ہیں جنہیں سائنس نے ابھی تک باقاعدہ شناخت نہیں کیا۔ Thismia daemona نہ صرف اپنی عجیب شکل کی وجہ سے توجہ حاصل کر رہا ہے بلکہ یہ اس پیچیدہ زیرِ زمین حیاتیاتی نظام کی بھی مثال ہے جس میں درخت، فنگس اور چھوٹے پودے ایک دوسرے سے جڑے ہوتے ہیں۔

ایک ایسا پھول جو سورج کے بجائے جنگل کی تاریک تہوں میں چھپے فنگس نیٹ ورک سے اپنی زندگی کا سہارا لیتا ہے، واقعی قدرت کے غیر معمولی طریقوں کی ایک نادر مثال ہے۔

OVERSEAS POST | SOURCES اصل اور معتبر ذرائع

بنیادی حوالہ اصل PhytoKeys تحقیق ہے؛ دیگر لنکس تصدیق اور اضافی پس منظر کے لیے شامل ہیں۔

overseaspost.net