35 سالہ شخص پیشاب میں خون اور تکلیف کی شکایت لے کر اسپتال گیا۔
سی ٹی اسکین میں جسم کے کئی حصوں میں سوئی نما دھاتی اشیا ملیں۔
سب سے حیران کن دریافت دل کے بائیں حصے میں پیوست 36 ملی میٹر کی زنگ آلود سوئی تھی، جسے آپریشن کرکے نکال دیا گیا۔
9 ماہ بعد مریض کی دل کی کارکردگی نمایاں طور پر بہتر ہوگئی۔
ایک 35 سالہ شخص پیشاب میں خون اور تکلیف کی شکایت لے کر اسپتال پہنچا تو شاید اسے بھی اندازہ نہیں تھا کہ معمول کی نظر آنے والی یہ شکایت ڈاکٹروں کو ایک انتہائی حیران کن دریافت تک پہنچا دے گی۔
طبی معائنے اور اسکین کے دوران پتا چلا کہ اس کے جسم کے مختلف حصوں میں سوئیوں جیسی دھاتی اشیا موجود ہیں اور ان میں سے ایک تقریباً 36 ملی میٹر لمبی سوئی دل کے بائیں حصے میں پیوست ہے۔
◆ OVERSEAS POST | SPECIAL REPORTدل میں سوئی — اہم نکات ⌄
- ✓35 سالہ مریض تقریباً دو ہفتوں سے پیشاب میں خون اور تکلیف کی شکایت کے بعد اسپتال پہنچا۔
- ✓ابتدائی اسکین میں دل، پیٹ کی دیوار، پیڑو، مثانے اور عضو تناسل میں سوئی نما دھاتی اشیا نظر آئیں۔
- ✓ایکوکارڈیوگرافی میں دل کے بائیں وینٹریکل میں تقریباً 36 ملی میٹر لمبی دھاتی سوئی دیکھی گئی۔
- ✓دل کی سوئی کو اوپن ہارٹ سرجری کے ذریعے نکالا گیا؛ رپورٹ میں اسے سیاہ اور زنگ آلود بتایا گیا۔
- ✓آپریشن کے بعد دل کی پمپنگ صلاحیت تقریباً 45 فیصد تک آگئی، لیکن فالو اپ میں بہتری دیکھی گئی۔
- ✓تقریباً نو ماہ بعد LVEF 57 فیصد تک پہنچ گئی اور مریض کی حالت مستحکم رہی۔
یہ غیر معمولی طبی کیس چین کے شہر چانگشا میں واقع Hunan Provincial People’s Hospital سے تعلق رکھتا ہے اور اس کی تفصیلات سائنسی جریدے BMC Cardiovascular Disorders میں 7 ستمبر 2026 کو شائع کی گئی ہیں۔
مزید پڑھیں
اسپتال کیوں پہنچا؟
طبی رپورٹ کے مطابق 35 سالہ مریض تقریباً دو ہفتوں سے پیشاب میں خون آنے اور پیشاب کے دوران تکلیف کی شکایت کر رہا تھا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اسے سینے میں درد، سانس میں دشواری یا دل سے متعلق کوئی دوسری نمایاں علامت نہیں تھی۔
اس کا بلڈ پریشر اور مجموعی حالت بھی مستحکم تھی۔
ڈاکٹروں نے وجہ جاننے کے لیے سی ٹی اسکین کیا تو معاملہ صرف پیشاب کے نظام تک محدود نہیں نکلا۔
اسکین میں دل کے قریب، پیٹ کی دیوار، پیڑو، مثانے اور عضو تناسل سمیت جسم کے مختلف مقامات پر سوئی جیسی دھاتی اشیا دکھائی دیں۔
اس دریافت کے بعد ڈاکٹروں نے دل کا تفصیلی معائنہ بھی کیا۔
i OVERSEAS POST | FACT BOXدل میں سوئی: فیکٹ باکس ⌄
- مریض کی عمر
- 35 سال
- بنیادی شکایت
- پیشاب میں خون اور تکلیف
- علامات کی مدت
- تقریباً دو ہفتے
- دل میں دھاتی شے
- تقریباً 36 ملی میٹر
- متاثرہ حصہ
- بایاں وینٹریکل
- علاج
- اوپن ہارٹ سرجری
- دیگر دریافت
- جسم کے متعدد حصوں میں سوئی نما دھاتی اشیا
- نو ماہ بعد LVEF
- 57 فیصد
دل میں 36 ملی میٹر کی سوئی
ایکوکارڈیوگرافی کے دوران ڈاکٹروں کو دل کے بائیں وینٹریکل میں تقریباً 36 ملی میٹر لمبی دھاتی شے دکھائی دی۔
یہ دل کی حرکت کے ساتھ حرکت کر رہی تھی اور اس کی پوزیشن کو دیکھتے ہوئے ڈاکٹروں نے اسے نکالنے کا فیصلہ کیا۔
بائیں وینٹریکل دل کا وہ اہم حصہ ہے جو آکسیجن سے بھرپور خون کو پورے جسم میں پمپ کرتا ہے، اس لیے وہاں کسی دھاتی شے کی موجودگی سنگین پیچیدگی پیدا کرسکتی تھی۔
ڈاکٹروں نے سینے کو کھول کر کیے جانے والے آپریشن کے ذریعے سوئی نکالی۔
◎ OVERSEAS POST | ANALYSISیہ طبی کیس کیوں اہم ہے؟ ⌄
یہ کیس تین اہم طبی نکات اجاگر کرتا ہے:
طبی رپورٹ کے مطابق باہر نکالی گئی دھاتی سوئی سیاہ اور زنگ آلود تھی اور دل کے بائیں وینٹریکل کی اگلی دیوار میں پیوست تھی۔
جسم کے دوسرے حصوں میں موجود دھاتی اشیا کو مختلف شعبوں کے ڈاکٹروں کی مشاورت کے بعد فوری طور پر نہ نکالنے اور ان کی نگرانی کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
آپریشن کے بعد نئی پیچیدگی
سوئی کامیابی سے نکل جانے کے باوجود معاملہ وہیں ختم نہیں ہوا۔
آپریشن کے ساتویں دن کیے گئے ایکو میں دل کے بائیں وینٹریکل کے آخری حصے میں تقریباً 33 بائی 21 ملی میٹر کا ابھار دکھائی دیا، جبکہ وہاں 13 بائی 7 ملی میٹر کے ممکنہ خون کے لوتھڑے کا بھی شبہ ہوا۔
✓? OVERSEAS POST | VERIFIEDکیا مصدقہ ہے، کہاں احتیاط ضروری ہے؟ ⌄
مصدقہ معلومات
- مریض 35 سالہ شخص تھا اور پیشاب میں خون کی شکایت پر اسپتال آیا۔
- سی ٹی اسکین میں جسم کے متعدد حصوں میں سوئی نما دھاتی اشیا نظر آئیں۔
- دل کے بائیں وینٹریکل میں تقریباً 36 ملی میٹر دھاتی سوئی دیکھی گئی۔
- دل کی سوئی سرجری کے ذریعے نکالی گئی اور بعد میں دل کی کارکردگی کی نگرانی کی گئی۔
- نو ماہ کے فالو اپ میں LVEF تقریباً 57 فیصد تک بہتر ہونے کی اطلاع دی گئی۔
ادارتی احتیاط
- سوئیاں جسم میں کیسے پہنچیں، اسے قطعی حقیقت کے طور پر بیان نہ کیا جائے؛ رپورٹ اسے ممکنہ خود داخل کردہ اشیا کے طور پر زیرِ بحث لاتی ہے۔
- پیشاب میں خون کو براہِ راست دل کی سوئی کا ثابت شدہ نتیجہ نہ لکھا جائے؛ دونوں ایک ہی کیس میں سامنے آئے۔
- جسم کے دوسرے حصوں میں موجود تمام دھاتی اشیا کے انجام کے بارے میں غیر مصدقہ نتیجہ نہ نکالا جائے۔
- اس ایک کیس کو عام طبی صورتِ حال یا ہر مریض کے لیے قابلِ اطلاق نتیجہ نہ سمجھا جائے۔
اس دوران دل کی خون پمپ کرنے کی صلاحیت، جسے طبی اصطلاح میں LVEF کہا جاتا ہے، کم ہو کر تقریباً 45 فیصد رہ گئی۔
محققین کے مطابق اس تبدیلی میں طویل عرصے تک دھاتی سوئی سے دل کے پٹھے کو پہنچنے والی جلن یا نقصان اور آپریشن کے دباؤ دونوں کا کردار ہوسکتا ہے۔
مریض کو آپریشن کے نویں دن اسپتال سے فارغ کردیا گیا۔
نو ماہ بعد کیا ہوا؟
ڈاکٹروں نے مریض کو طویل عرصے تک نگرانی میں رکھا۔
9 ماہ بعد کیے گئے معائنے میں اس کی حالت مستحکم تھی اور دل کی مجموعی کارکردگی میں بھی نمایاں بہتری آچکی تھی۔
دل کی پمپنگ صلاحیت 45 فیصد سے بڑھ کر 57 فیصد ہوگئی جبکہ دل کے متاثرہ حصے کی ساخت بھی مستحکم دکھائی دی۔
1′ OVERSEAS POST | QUICK READایک منٹ میں پوری کہانی ⌄
ایک 35 سالہ شخص تقریباً دو ہفتوں سے پیشاب میں خون اور تکلیف کے باعث اسپتال پہنچا۔ اسے سینے میں درد یا واضح قلبی شکایت نہیں تھی۔
سی ٹی اسکین میں جسم کے مختلف حصوں میں سوئی نما دھاتی اشیا ملیں، جبکہ ایکو میں دل کے بائیں وینٹریکل میں تقریباً 36 ملی میٹر سوئی سامنے آئی۔
آپریشن کے بعد دل کی پمپنگ صلاحیت تقریباً 45 فیصد تک آگئی، لیکن فالو اپ میں بہتری دیکھی گئی۔ الدرعیہ میں ان کی نمازِ جنازہ ادا ہوئی، اور یوں ایک فوٹوگرافر کا سفر اسی سرزمین پر ختم ہوا جسے اس نے دہائیوں تک اپنی عدسہ میں محفوظ کیا۔
سوئیاں جسم میں کیسے پہنچیں؟
یہ اس کیس کا سب سے بڑا سوال ہے۔
رپورٹ کے مطابق مریض کو بچپن سے علمی معذوری تھی اور اپنی طبی تاریخ واضح طور پر بیان کرنا مشکل تھا۔
محققین کا خیال ہے کہ ممکنہ طور پر یہ دھاتی اشیا خود جسم میں داخل کی گئی تھیں، تاہم تمام سوئیاں کب، کیسے اور کس ترتیب سے جسم میں پہنچیں، اس بارے میں حتمی معلومات دستیاب نہیں ہیں۔
اسی لیے اسے کسی ثابت شدہ حقیقت کے بجائے ڈاکٹروں کا ممکنہ طبی اندازہ سمجھنا زیادہ درست ہے۔
محققین کے مطابق یہ کیس اس لیے اہم ہے کہ دل میں داخل ہونے والی دھاتی اشیا بعض اوقات طویل عرصے تک واضح علامات پیدا نہیں کرتیں۔
ایسے مریضوں میں سی ٹی اسکین اور ایکوکارڈیوگرافی کا مشترکہ استعمال نہ صرف دھاتی شے کی درست جگہ معلوم کرنے بلکہ دل کو پہنچنے والے نقصان اور آپریشن کے بعد ہونے والی تبدیلیوں کی نگرانی میں بھی اہم ثابت ہوسکتا ہے۔
↗ OVERSEAS POST | SOURCESاصل اور معتبر ذرائع ⌄
یہ کارڈز منظور شدہ اوورسیز پوسٹ ٹیمپلیٹ کو برقرار رکھتے ہیں؛ صرف مواد اس غیر معمولی طبی کیس کے مطابق تبدیل کیا گیا ہے۔