الجزائر نے متحدہ عرب امارات کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرتے ہوئے اماراتی سفیر کو 48 گھنٹے میں ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا ہے۔
الجزائر نے امارات پر مبینہ ’معاندانہ اقدامات‘ کا الزام لگایا، تاہم ان کی مکمل تفصیل سامنے نہیں لائی۔
دوسری جانب ابوظبی نے سخت جوابی زبان سے گریز کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ الجزائر کا فیصلہ عارضی ہوگا۔ دونوں ملکوں کے تعلقات میں مغربی صحارا، مراکش، اسرائیل اور افریقہ میں علاقائی اثرورسوخ جیسے معاملات پر طویل عرصے سے اختلافات موجود ہیں۔
الجزائر نے
اماراتی سفیر کو
48 گھنٹے میں
ملک چھوڑنے کا
حکم دے دیا
معاملہ اچانک یہاں تک نہیں پہنچا
اگرچہ سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا اعلان ایک بڑا اور غیر معمولی قدم ہے، لیکن الجزائر اور امارات کے درمیان اختلافات نئے نہیں۔
گزشتہ کئی ماہ سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں سرد مہری نمایاں ہوتی جا رہی تھی۔ الجزائر کے صدر عبدالمجید تبون بھی ماضی میں ایک خلیجی ملک پر الجزائر کے داخلی معاملات میں مداخلت اور ملک کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کا الزام لگا چکے ہیں۔
انہوں نے اس ملک کا نام واضح طور پر نہیں لیا تھا، تاہم عالمی میڈیا نے ان بیانات کو امارات کی طرف اشارہ قرار دیا تھا۔
کشیدگی کا ایک واضح اشارہ فروری 2026 میں سامنے آیا، جب الجزائر نے متحدہ عرب امارات کے ساتھ فضائی خدمات کا معاہدہ ختم کرنے کا عمل شروع کردیا۔
یہ معاہدہ 2013 میں طے پایا تھا اور دونوں ملکوں کے درمیان فضائی رابطوں کی قانونی بنیاد فراہم کرتا تھا۔
الجزائر نے اس وقت اپنے فیصلے کی تفصیلی وجہ نہیں بتائی تھی۔
اماراتی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے جواب میں کہا تھا کہ قانونی نوٹس کی مدت کے دوران پروازیں معمول کے مطابق جاری رہیں گی۔
یوں فروری کا فضائی معاہدے سے متعلق فیصلہ اب دیکھا جائے تو تعلقات میں پیدا ہونے والی گہری دراڑ کا ابتدائی عملی اظہار معلوم ہوتا ہے۔
اختلاف کی اصل وجوہ کیا ہیں؟
الجزائر نے تازہ بیان میں تفصیلی فہرست جاری نہیں کی کہ وہ امارات کے کن اقدامات کو معاندانہ سمجھتا ہے، اس لیے کسی ایک واقعے کو سفارتی تعلقات ختم ہونے کی حتمی وجہ قرار دینا درست نہیں ہوگا۔
تاہم بین الاقوامی تجزیوں میں کئی ایسے معاملات کی نشاندہی کی جا رہی ہے جن پر دونوں ملکوں کی علاقائی پالیسی ایک دوسرے سے مختلف ہے۔
سب سے اہم مسئلہ مغربی صحارا ہے۔
الجزائر پولیساریو فرنٹ کی حمایت کرتا ہے جو مغربی صحارا کی آزادی چاہتا ہے، جبکہ متحدہ عرب امارات مراکش کے مغربی صحارا پر دعوے کی حمایت کرنے والے اہم عرب ملکوں میں شامل ہے۔
الجزائر اور مراکش کے تعلقات پہلے ہی انتہائی کشیدہ ہیں اور الجزائر نے اگست 2021 میں مراکش کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کردیے تھے۔ اسی لیے مراکش سے متعلق کسی دوسرے ملک کی پالیسی الجزائر کے لیے خاص طور پر حساس سمجھی جاتی ہے۔
دوسرا معاملہ اسرائیل سے تعلقات کا ہے۔
متحدہ عرب امارات نے ابراہیمی معاہدوں کے تحت اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے، جبکہ الجزائر اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی سخت مخالفت کرتا رہا ہے۔
یہ اختلاف براہ راست الجزائر اور امارات کے درمیان تنازع کا واحد سبب نہیں، لیکن دونوں ملکوں کے وسیع تر علاقائی نقطہ نظر میں نمایاں فرق ضرور ظاہر کرتا ہے۔
افریقہ میں اثرورسوخ کی کشمکش
ایک اور اہم پہلو ساحل اور شمالی افریقہ میں بڑھتا ہوا سیاسی اور اقتصادی اثرورسوخ ہے۔
الجزائر خود کو شمالی افریقہ اور ساحل کے خطے میں ایک اہم سیاسی اور سلامتی طاقت سمجھتا ہے۔
دوسری طرف گزشتہ برسوں میں امارات نے افریقہ میں اپنی سرمایہ کاری، بندرگاہوں، تجارتی روابط اور سفارتی موجودگی میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔
بین الاقوامی مبصرین کے مطابق بعض علاقوں میں الجزائر اور امارات کے مفادات اور سیاسی ترجیحات ایک دوسرے سے مختلف ہو جاتی ہیں۔
یہی اختلاف باہمی بداعتمادی کو بڑھانے کا سبب بن سکتا ہے۔
مہینوں سے
جاری کشیدگی کے
پیچھے مغربی
صحارا، علاقائی
سیاست اور
باہمی عدم اعتماد
اہم عوامل ہیں
امارات کے جواب میں اہم پیغام
اس بحران میں سب سے دلچسپ پہلو ابوظبی کا ابتدائی ردعمل ہے۔
الجزائر نے انتہائی سخت سفارتی قدم اٹھایا، لیکن امارات نے فوری طور پر الجزائر کے خلاف اسی نوعیت کی سخت زبان استعمال نہیں کی۔
اس کے بجائے امارات نے امید ظاہر کی کہ الجزائر کا فیصلہ عارضی ہوگا اور دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان تعلقات قائم رہیں گے۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ابوظبی فی الحال سفارتی واپسی کا دروازہ مکمل طور پر بند نہیں کرنا چاہتا۔
تاہم آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا امارات الجزائر کے سفارت کاروں کے بارے میں بھی جوابی اقدام کرتا ہے یا کسی تیسرے ملک کی وساطت سے کشیدگی کم کرنے کی کوشش شروع ہوتی ہے۔
عام لوگوں پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟