ڈارک ویب سے
تعلق ثابت نہیں
مگر اس امکان کی
سائنسی جانچ کا
مطالبہ کیا
جاسکتا ہے
آیت نور کے مقدمے میں پولیس کے اپنے بیانات کئی اہم سوالات پیدا کرتے ہیں۔
پولیس کے مطابق دو سو سے زائد نگرانی کے کیمروں کا ریکارڈ حاصل کیا گیا۔
ان میں سے بارہ کیمروں کی تصاویر نے تفتیش میں مدد دی۔
کالوں کا ریکارڈ، جغرافیائی دائرہ بندی اور تقریباً بیس مشتبہ نمبروں کا فنی تجزیہ بھی کیا گیا۔
پولیس نے 5 مشتبہ افراد کی شناخت کی بات بھی کی تھی۔
پھر مقدمہ ایک ایسے مقام پر پہنچتا ہے جہاں سوال مزید بڑھ جاتے ہیں۔
پولیس سے منسوب تفصیلات کے مطابق عثمان نے عدالت میں دیے گئے بیان میں طلحہ، قاسم اور دو نامعلوم افراد کا ذکر کیا۔
یہ بھی بتایا گیا کہ پہلے گرفتار ہونے والے عثمان، قاسم اور طلحہ میں سے کسی نے پولیس کو یہ نہیں بتایا کہ آیت نور کو آخرکار کہاں چھوڑا گیا تھا۔
بعد میں حسن سامنے آیا اور پولیس کے مطابق اسی کی نشاندہی پر وہ کنواں ملا جہاں سے آیت نور کی لاش برآمد ہوئی۔
یہاں رک کر سوال کیجیے۔
اگر پہلے گرفتار افراد ایک ہی واقعے کے تمام مراحل سے پوری طرح واقف تھے تو وہ لاش کے مقام سے لاعلم کیوں تھے؟
اگر وہ لاعلم تھے تو آیت کو ایک مقام سے دوسرے مقام تک کون لے گیا؟
وہ دو نامعلوم افراد کون تھے؟
کیا ان میں سے کسی کا کردار بعد میں سامنے آنے والے شخص سے ملتا تھا یا وہ بالکل الگ لوگ تھے؟
اور اگر مختلف افراد کے پاس وقوعے کے مختلف حصوں کی معلومات تھیں تو اس پوری زنجیر کو ایک واضح نقشے کی صورت میں عوام اور عدالت کے سامنے کیوں نہ رکھا جائے؟
سوال کسی ایک نوجوان کو مجرم ثابت کرنے کا نہیں، بلکہ معلومات اور کرداروں کی پوری زنجیر کو سمجھنے کا ہے۔
مقدمے کے ابتدائی مراحل میں ایک اور کم عمر شخص سے حاصل ہونے والی معلومات کے ذریعے پولیس کے دوسرے مشتبہ افراد تک پہنچنے کے دعوے بھی زیرِ بحث آئے۔
ایسے میں بنیادی سوال یہ ہونا چاہیے کہ کسی شخص کے پاس دوسرے مشتبہ فرد تک پہنچانے والی معلومات کہاں سے آئیں؟
کیا وہ عینی شاہد تھا؟
کسی گفتگو سے واقف تھا؟
کسی کے رابطے میں تھا؟
یا اس نے محض ایک سراغ دیا تھا؟
کسی شخص کو صرف اس بنیاد پر مجرم نہیں کہا جا سکتا، لیکن اس سراغ کا منبع معلوم کرنا تفتیش کا لازمی حصہ ہے۔
آیت نور کے مقدمے کا سب سے تکلیف دہ حصہ اس کی طبی رپورٹ ہے۔
8 رکنی طبی مجلس کی رپورٹ کے حوالے سے بتایا گیا کہ بچی کی موت شدید صدمے اور زیادہ خون بہنے سے ہوئی، جبکہ ڈی پی او ہری پور کے مطابق دونوں رانوں کی ہڈیاں بھی ٹوٹی ہوئی تھیں۔
یہ تفصیلات اس جرم کی غیر معمولی سفاکی کو ظاہر کرتی ہیں۔
موبائل، کمپیوٹر،
حذف شدہ فائلوں،
رابطوں اور
مالی لین دین کے
فرانزک جائزے
کی ضرورت ہے
لیکن یہاں بھی ایک احتیاط بہت ضروری ہے۔ایسے جرم کے بعد ہم غصے میں فوراً کہہ دیتے ہیں کہ ایسا کرنے والا ’ذہنی مریض‘ ہوگا۔
یہ اصطلاح استعمال کرتے ہوئے احتیاط ہونی چاہیے۔
ہر ذہنی بیماری کا شکار شخص خطرناک نہیں ہوتا اور نہ ہر سفاک مجرم لازماً ذہنی بیماری کا مریض ہوتا ہے۔
کسی شخص کی ذہنی کیفیت کا فیصلہ ماہرین کرتے ہیں۔
البتہ یہ سوال ضرور بنتا ہے کہ اتنی شدید سفاکی کے پیچھے محرک کیا تھا؟
جنسی انحراف؟
انتقام؟
طاقت کا اظہار؟
گروہی جرم؟
کسی دوسرے شخص کی ہدایت؟
مالی فائدہ؟
یا کچھ اور؟
یہیں سے انٹرنیٹ کی خفیہ دنیا کا سوال پیدا ہوتا ہے۔
ایک بار پھر واضح کر دوں کہ آیت نور کے مقدمے کا خفیہ انٹرنیٹ سے تعلق ثابت نہیں ہوا۔ لیکن یہ کہنا بھی درست نہیں ہوگا کہ پاکستان میں بچوں پر ظلم ریکارڈ کرکے خفیہ آن لائن حلقوں تک پہنچانے کا تصور محض کسی فلم کی کہانی ہے۔
جون 2025ء میں مظفرگڑھ سے ایسا مقدمہ سامنے آیا جہاں حکام کے مطابق 6 سے 10 برس کے بچوں کو ایک نام نہاد کھیلوں کے مرکز میں لایا جاتا، ان پر ظلم کیا جاتا، اسے ریکارڈ کیا جاتا اور مواد خفیہ انٹرنیٹ پر فروخت کرنے کا الزام تھا۔
قومی ادارہ برائے تحقیقاتِ جرائمِ برقی نے کارروائی کی، بچوں کو بازیاب کیا اور گرفتاریاں ہوئیں۔
فروری 2026ء میں اسی قومی ادارے نے راولپنڈی میں ایک ملزم کی گرفتاری کے بعد 6 سو سے زیادہ بچوں سے متعلق قابلِ اعتراض ویڈیوز برآمد کرنے کا دعویٰ کیا۔
تفتیش میں خفیہ انٹرنیٹ سے ممکنہ تعلق کا پہلو بھی شامل کیا گیا۔
اگست 2026ء میں سرگودھا میں کم سن بہن بھائی پر ظلم کی ویڈیو بنانے اور اسے خفیہ انٹرنیٹ پر ڈالنے کے الزام میں مقدمہ اور گرفتاریاں بھی سامنے آئیں۔
یہ الزام ابھی عدالتی جانچ کا محتاج ہے، مگر اتنا ضرور ظاہر کرتا ہے کہ ہمارے تفتیشی ادارے خود ایسے امکانات کو فرضی کہانی سمجھ کر نظرانداز نہیں کرتے۔
دنیا کے تجربات بھی یہی بتاتے ہیں۔
بین الاقوامی پولیس تنظیم اور یورپی پولیس ادارے برسوں سے ایسے جرائم کی نشاندہی کر رہے ہیں جن میں بچوں پر ہونے والا ظلم براہِ راست نشر کیا جاتا ہے، بیرونِ ملک موجود افراد رقم دے کر مخصوص نوعیت کا مواد بنوانے کی کوشش کرتے ہیں اور انٹرنیٹ کے خفیہ راستے مجرموں کو ایک دوسرے سے رابطے اور مواد کے تبادلے کی سہولت دیتے ہیں۔
یورپی پولیس کے مطابق بعض مجرمانہ حلقوں میں نیا اور پہلے نہ دیکھا گیا مواد خاص اہمیت رکھتا ہے۔
اسی لیے آیت نور کے مقدمے میں سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ:
’خفیہ انٹرنیٹ تھا یا نہیں؟‘
اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ:
کیا اس امکان کی مکمل سائنسی جانچ ہوئی یا نہیں؟
کیا وقوعے سے متعلق کسی موبائل، کمپیوٹر، حافظہ رکھنے والے آلے یا آن لائن ذخیرے سے کوئی تصویر یا ویڈیو بنائی گئی؟
کیا کوئی فائل مٹائی گئی؟
کیا مٹایا گیا مواد واپس حاصل کرنے کی کوشش ہوئی؟
کیا گرفتار اور زیرِ تفتیش افراد سے منسلک نمبروں کے درمیان وقوعے سے پہلے یا بعد کوئی غیر معمولی رابطہ ہوا؟
کیا کسی ایسے شخص کا نمبر سامنے آیا جو جائے وقوعہ پر موجود نہیں تھا، مگر ایک سے زیادہ کرداروں کے رابطے میں تھا؟
کیا کسی رقم کی منتقلی ہوئی؟
کیا رمز بند پیغام رسانی یا شناخت چھپانے والے انٹرنیٹ راستوں کے استعمال کے آثار ملے؟
کیا کسی مشترکہ فون، کمپیوٹر یا کسی تیسرے شخص کے آلے کو استعمال کیا گیا؟
بچوں کی حفاظت
کے لیے صرف
’اجنبی سے بچو‘
کا اصول
کافی نہیں
یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ ہر شخص کے ہاتھ میں الگ موبائل ہونا ضروری نہیں۔
ایک ہی آلہ کئی لوگوں کے درمیان استعمال ہوسکتا ہے۔
ایک شخص رابطے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
کوئی فرد وقوعے میں شریک ہوئے بغیر تصاویر، پیغام رسانی یا مالی لین دین سنبھال سکتا ہے۔لہٰذا یہ دلیل کافی نہیں کہ کسی ملزم کے پاس اپنا موبائل نہیں تھا۔
اصل سوال یہ ہے کہ وہ رابطہ کس ذریعے سے کر رہا تھا اور کس سے کر رہا تھا؟
قومی ادارہ برائے تحقیقاتِ جرائمِ برقی خود برقی آلات سے مٹائے گئے یا محفوظ اعداد و معلومات کے سائنسی معائنے، کمپیوٹر کے تجزیے اور بچوں کے آن لائن استحصال سے متعلق جرائم کی تحقیق کی صلاحیت رکھتا ہے۔
میری رائے میں آیت نور مقدمے میں یہی ایک کام تمام قیاس آرائیوں کا راستہ بند کر سکتا ہے:
تمام متعلقہ برقی آلات، مشتبہ نمبروں، رابطوں، مالی لین دین اور دستیاب اعداد و معلومات کا آزادانہ اور مکمل سائنسی معائنہ کرایا جائے۔
اگر اس تحقیق میں انٹرنیٹ کی خفیہ دنیا، کسی تیسرے شخص، کسی خریدار یا منظم گروہ کا کوئی تعلق سامنے نہیں آتا تو بہت اچھا۔
اس امکان کا دروازہ ثبوت کے ساتھ ہمیشہ کے لیے بند کر دیا جائے۔
لیکن دروازہ کھولے بغیر یہ اعلان کر دینا کہ دوسری طرف کچھ نہیں ہے، مکمل تفتیش نہیں کہلاتی۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق بھی آیت نور مقدمے کی ازسرِنو تحقیقات اور عدالتی کمیشن کی سفارش کر چکی ہے۔
اس کا مطلب یہی ہے کہ سوال صرف یہ نہیں کہ گرفتار کون ہوا، اصل سوال یہ ہے کہ پورا سچ سامنے آیا یا نہیں؟
چند ہفتے پہلے کراچی میں صرف 18 ماہ کی آئزل کا مقدمہ سامنے آیا۔
پولیس کے مطابق اسے ایک قریبی رشتہ دار چیز دلانے کے بہانے اپنے ساتھ لے گیا تھا۔
اس سے کچھ پہلے کراچی ہی میں چھ سالہ محمد ولی گھر کے قریب سے لاپتہ ہوا۔
پولیس کے مطابق اس مقدمے میں گرفتار شخص اس کا پڑوسی تھا۔
یعنی خطرہ ہمیشہ کسی اجنبی چہرے سے نہیں آتا۔
بعض اوقات بچہ اس شخص کے ساتھ چلا جاتا ہے جسے وہ پہلے سے جانتا ہے اور جس سے اسے خوف محسوس نہیں ہوتا۔
یہ شاید اس پورے کالم کا سب سے اہم حصہ ہے۔
ہم بچوں کو ہمیشہ یہ سکھاتے ہیں کہ اجنبی کے ساتھ مت جانا، لیکن اب والدین کو اس سے ایک قدم آگے جانا ہوگا۔
چھوٹا بچہ کسی کے ساتھ بھی اکیلا نہیں جائے گا—چاہے وہ پڑوسی ہو، دور کا رشتہ دار ہو، جان پہچان والا نوجوان ہو، دکاندار ہو یا ایسا شخص جسے گھر والے برسوں سے جانتے ہوں۔
بچہ کھیلنے جائے تو معلوم ہو کہ کہاں ہے۔
اسے لینے اور واپس لانے کا بندوبست ہو۔
چند منٹ کی غیر معمولی تاخیر کو معمولی نہ سمجھا جائے۔
بچوں کو جسمانی حدود کے بارے میں عمر کے مطابق تربیت دی جائے۔
انہیں یہ اعتماد دیا جائے کہ اگر کوئی شخص انہیں ڈرائے، غلط انداز سے چھوئے، کوئی بات راز رکھنے کو کہے یا تصویر اور ویڈیو بنائے تو وہ فوراً ماں باپ کو بتا سکتے ہیں اور انہیں ڈانٹ نہیں پڑے گی۔
آیت نور کا انصاف صرف چند افراد کو سزا ملنے کا نام نہیں ہونا چاہیے۔
آیت نور کا انصاف یہ ہے کہ اس مقدمے کا آخری کردار، آخری رابطہ، آخری نمبر، آخری آلہ اور آخری سوال بھی جانچا جائے۔
اگر بابر نواز خان کا خدشہ غلط ہے تو تفتیش اسے غلط ثابت کر دے۔
اگر خفیہ انٹرنیٹ کا کوئی تعلق نہیں تو سائنسی معائنہ اسے خارج کر دے۔
اگر کوئی پانچواں، چھٹا یا پس پردہ کردار نہیں تو شواہد یہ بات واضح کر دیں۔
لیکن اگر کہیں کوئی ایسی کڑی موجود ہے جسے ابھی تک چھوا ہی نہیں گیا تو اسے تلاش کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔
کیونکہ 5 سالہ آیت نور اب خود بول نہیں سکتی۔
اس کے زخم سوال بن چکے ہیں۔
اور ان سوالوں کا جواب دینا پولیس، تفتیشی اداروں، عدالت اور ریاست—سب پر قرض ہے۔
تنویر اعوانصحافی اور آزاد لکھاری ہیں۔ وہ دنیا نیوز، روزنامہ امت اور آن لائن انٹرنیشنل نیوز نیٹ ورک سے وابستہ رہ چکے ہیں اور عوامی مسائل، حکمرانی، انسانی حقوق اور احتساب کے موضوعات پر لکھتے ہیں۔
ایکس: https://x.com/hTanveerAwan