براہ راست نشریات

محاصرے باوجود ایران کے 9 ارب ڈالر امریکی بینکوں سے کیسے گزرے؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
Iranian Shadow Banking

امریکی FinCEN کے مطابق 2024 میں تقریباً 9 ارب ڈالر کی ایسی مالی سرگرمی امریکی کورسپونڈنٹ اکاؤنٹس سے گزری جس کے ممکنہ ایرانی شیڈو بینکنگ نیٹ ورکس سے تعلق کی نشاندہی کی گئی۔
معاملہ ظاہر کرتا ہے کہ فرنٹ کمپنیاں، تیسرے ممالک کے بینک اور کورسپونڈنٹ بینکنگ کا پیچیدہ نظام کس طرح پابندیوں کی نگرانی مشکل بنا سکتا ہے۔

امریکا نے ایران کو عالمی مالیاتی نظام سے الگ تھلگ کرنے کے لیے دنیا کے سخت ترین پابندیوں کے نظام میں سے ایک نافذ کر رکھا ہے۔ 

ایرانی تیل کی فروخت سے لے کر بینکوں اور کمپنیوں تک، واشنگٹن کی کوشش ہے کہ تہران کے لیے ڈالر تک رسائی زیادہ سے زیادہ مشکل بنائی جائے۔

لیکن اب ایک حیران کن حقیقت سامنے آئی ہے۔ 

جس امریکی مالیاتی نظام کو ایران کے خلاف ہتھیار بنایا گیا، ایرانی نیٹ ورکس سے ممکنہ طور پر منسلک اربوں ڈالر اسی نظام سے گزرنے میں کامیاب ہوئے۔

OVERSEAS POST | SPECIAL REPORTایران کے 9 ارب ڈالر — اہم نکات
  • FinCEN کے مطابق 2024 میں تقریباً 9 ارب ڈالر کی ممکنہ ایرانی شیڈو بینکنگ سرگرمی امریکی کورسپونڈنٹ اکاؤنٹس سے گزری۔
  • یہ رقم ایران سے براہ راست امریکی بینکوں میں منتقل ہونے کا دعویٰ نہیں؛ ممکنہ راستے میں فرنٹ کمپنیاں اور غیر ملکی بینک شامل ہیں۔
  • ڈالر میں عالمی ادائیگیوں کے لیے کورسپونڈنٹ بینکنگ بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔
  • امارات میں بینک مصر کی شاخوں سے متعلق تقریباً 1.8 ارب ڈالر کے لین دین امریکی جانچ کی زد میں آئے۔
  • امریکی حکام کے مطابق یہ معاملات 103 کمپنیوں سے متعلق تھے جن کے ممکنہ ایرانی نیٹ ورکس سے تعلق کا شبہ ظاہر کیا گیا۔
  • تمام 9 ارب یا 1.8 ارب ڈالر کو عدالتی طور پر براہ راست ایرانی غیر قانونی رقم ثابت نہیں کیا گیا۔
overseaspost.net

امریکی فنانشل کرائمز انفورسمنٹ نیٹ ورک FinCEN کے مطابق 2024 کے دوران تقریباً 9 ارب ڈالر کی ایسی مالی سرگرمی امریکی کورسپونڈنٹ بینک اکاؤنٹس سے گزری، جس کے ایرانی شیڈو بینکنگ نیٹ ورکس سے ممکنہ تعلق کی نشاندہی کی گئی۔

یہاں اہم سوال یہ ہے کہ سخت امریکی پابندیوں کے باوجود اتنی بڑی رقم امریکی بینکاری نظام تک کیسے پہنچی؟

مزید پڑھیں

ایران سے براہ راست امریکا نہیں

اس کا مطلب یہ نہیں کہ کسی ایرانی بینک نے تہران سے براہ راست نیویارک کے کسی بینک میں اربوں ڈالر منتقل کردیے۔

اصل طریقہ اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔

امریکی حکام کے مطابق ایران سے منسلک مالیاتی نیٹ ورکس بیرون 

ملک فرنٹ کمپنیوں، مالیاتی ایجنٹوں اور تیسرے ممالک کے بینکوں کا استعمال کرتے ہیں۔ 

رقم پہلے کسی ایسی کمپنی کے اکاؤنٹ میں پہنچ سکتی ہے جس کے نام سے ایران کا کوئی تعلق ظاہر نہ ہو۔

i OVERSEAS POST | FACT BOXایران اور امریکی بینک: فیکٹ باکس
اہم رقم
9 ارب ڈالر
مدت
2024
امریکی ادارہ
FinCEN
بنیادی نظام
کورسپونڈنٹ بینکنگ
بینک مصر کیس
1.8 ارب ڈالر
متعلقہ کمپنیاں
103
ممکنہ طریقہ
فرنٹ کمپنیاں، مالیاتی ایجنٹ، غیر ملکی بینک اور امریکی کورسپونڈنٹ اکاؤنٹس
اہم احتیاط
اعداد کو ممکنہ ایرانی شیڈو بینکنگ سرگرمی کے طور پر بیان کیا جائے، ثابت شدہ براہ راست ایرانی ملکیت کے طور پر نہیں۔
overseaspost.net

جب کسی بین الاقوامی لین دین کو ڈالر میں مکمل کرنا ہو تو غیر امریکی بینک اپنے امریکی کورسپونڈنٹ بینک کے ذریعے ادائیگی کلیئر کرسکتا ہے۔

یوں رقم کا سفر بظاہر کچھ اس طرح ہوسکتا ہے:

ایرانی فریق ← فرنٹ کمپنی یا ایجنٹ ← غیر ملکی بینک ← امریکی کورسپونڈنٹ اکاؤنٹ ← وصول کنندہ

اس پورے عمل میں امریکی بینک کے سامنے آنے والی معلومات میں ایران کا نام براہ راست موجود نہ ہو تو اصل مستفید ہونے والے فریق کی شناخت مشکل ہوسکتی ہے۔

9 ارب ڈالر کا سوال

FinCEN نے 2024 میں تقریباً 9 ارب ڈالر کی ممکنہ ایرانی شیڈو بینکنگ سرگرمی کی نشاندہی کی جو امریکی کورسپونڈنٹ اکاؤنٹس سے گزری۔

یہاں ایک فرق سمجھنا ضروری ہے۔

OVERSEAS POST | ANALYSISیہ معاملہ کیوں اہم ہے؟

یہ معاملہ تین سطحوں پر اہم ہے:

پابندیوں کی کمزوریسخت امریکی پابندیوں کے باوجود پیچیدہ عالمی بینکاری نیٹ ورک میں پوشیدہ مالی راستے باقی رہ سکتے ہیں۔
ڈالر کی طاقتڈالر کی عالمی حیثیت واشنگٹن کو پابندیاں نافذ کرنے کی غیر معمولی طاقت دیتی ہے۔
وہی نظام، وہی خطرہکورسپونڈنٹ بینکنگ کا وسیع جال اصل مستفید ہونے والے فریق کی شناخت کو بعض اوقات مشکل بھی بناتا ہے۔
اصل سوال: کیا امریکا ایرانی مالی راستوں کو بند کرتے ہوئے ڈالر کے عالمی نظام کو اتنا سخت ہونے سے بچا سکتا ہے کہ ممالک متبادل ادائیگی نظام کی طرف تیزی سے نہ جائیں؟
overseaspost.net

اس رقم کا یہ مطلب نہیں کہ امریکی بینکوں نے جان بوجھ کر ایران کے لیے 9 ارب ڈالر منتقل کئے، اور نہ ہی یہ ثابت ہوا ہے کہ اس پوری رقم کی ملکیت براہ راست ایران کی تھی۔

اصل اہمیت یہ ہے کہ امریکی حکام نے اس مالی سرگرمی کو ممکنہ ایرانی شیڈو بینکنگ نیٹ ورکس سے جوڑا ہے۔

یہی بات امریکی پابندیوں کے نظام کے لیے ایک بڑی مشکل کی نشاندہی کرتی ہے۔

امارات میں بینک مصر کا معاملہ

اس مسئلے کی ایک نمایاں مثال حال ہی میں سامنے آئی۔

امریکی محکمہ خزانہ نے 28 اگست کو متحدہ عرب امارات میں بینک مصر کی شاخوں کے خلاف کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ شاخیں ایرانی مالیاتی نیٹ ورکس کے لیے ڈالر تک رسائی کا ایک اہم راستہ بن سکتی ہیں۔

✓? OVERSEAS POST | VERIFIEDکیا ثابت ہے، کیا ابھی ثابت نہیں؟

مصدقہ / سرکاری طور پر بیان کردہ

  • FinCEN نے 2024 میں تقریباً 9 ارب ڈالر کی ممکنہ ایرانی شیڈو بینکنگ سرگرمی کی نشاندہی کی۔
  • امارات میں بینک مصر کی شاخوں سے متعلق تقریباً 1.8 ارب ڈالر کے لین دین امریکی کارروائی میں زیرِ بحث آئے۔
  • امریکی حکام نے 103 کمپنیوں کے ممکنہ تعلق کا ذکر کیا۔

جو ثابت نہیں

  • یہ ثابت نہیں کہ پورے 9 ارب ڈالر براہ راست ایران کی ملکیت تھے۔
  • یہ کہنا درست نہیں کہ امریکی بینکوں نے جان بوجھ کر ایران کے لیے یہ پوری رقم منتقل کی۔
  • تمام 1.8 ارب ڈالر کو عدالتی طور پر غیر قانونی ایرانی رقم قرار نہیں دیا گیا۔

اہم ادارتی احتیاط: خبر میں “ممکنہ ایرانی شیڈو بینکنگ سرگرمی” کی اصطلاح برقرار رکھی جائے تاکہ سرکاری دعوے اور ثابت شدہ حقیقت کے درمیان فرق واضح رہے۔

overseaspost.net

امریکی حکام کے مطابق جنوری 2024 سے جون 2026 کے درمیان ان شاخوں نے تقریباً 1.8 ارب ڈالر کے لین دین 103 کمپنیوں کے لیے پروسیس کئے، جن کے بارے میں شبہ ظاہر کیا گیا کہ وہ ایرانی شیڈو بینکنگ نیٹ ورکس کا حصہ ہوسکتی ہیں۔

FinCEN نے تجویز دی کہ امریکی مالیاتی اداروں کو امارات میں بینک مصر کی ان شاخوں کے لیے کورسپونڈنٹ اکاؤنٹس رکھنے یا ان سے متعلق مخصوص معاملات کی پروسیسنگ سے روکا جائے۔

تاہم یہاں بھی احتیاط ضروری ہے۔ 

1.8 ارب ڈالر کے تمام لین دین کے بارے میں عدالتی طور پر یہ ثابت نہیں ہوا کہ وہ غیر قانونی ایرانی رقوم تھیں۔ 

امریکی اقدام حکام کے مالیاتی جائزے اور شبہات کی بنیاد پر کیا گیا۔

ایران اپنا تعلق کیسے چھپاتا ہے؟

امریکی حکام کے مطابق شیڈو بینکنگ نیٹ ورکس کی اصل طاقت تہہ در تہہ نظام میں ہے۔

ایک کمپنی کسی تیسرے ملک میں رجسٹرڈ ہوسکتی ہے، اس کا بینک اکاؤنٹ کسی اور ملک میں ہو اور رقم کسی تیسرے ادارے کو منتقل کی جارہی ہو۔ 

ظاہری طور پر یہ عام تجارتی لین دین دکھائی دے سکتا ہے۔

OVERSEAS POST | CASEبینک مصر کیس
امریکی حکام کے مطابق امارات میں بینک مصر کی شاخوں نے جنوری 2024 سے جون 2026 کے درمیان تقریباً 1.8 ارب ڈالر کے معاملات 103 کمپنیوں کے لیے پروسیس کئے، جن کے ممکنہ ایرانی شیڈو نیٹ ورکس سے تعلق کا شبہ ظاہر کیا گیا۔
overseaspost.net

جتنی زیادہ کمپنیاں، ایجنٹ اور بینک درمیان میں شامل ہوں، اصل مالک یا مستفید ہونے والے شخص تک پہنچنا اتنا ہی مشکل ہوجاتا ہے۔

اسی وجہ سے کسی کمپنی یا اکاؤنٹ کی نشاندہی کے بعد بھی پورا نیٹ ورک ختم کرنا آسان نہیں۔ ایک راستہ بند ہونے پر نئی کمپنی، نیا ایجنٹ یا نیا بینک استعمال کیا جاسکتا ہے۔

امریکا یہ راستہ مکمل بند کیوں نہیں کرتا؟

یہاں واشنگٹن ایک مشکل صورتحال سے دوچار ہے۔

کورسپونڈنٹ بینکنگ کوئی غیر قانونی نظام نہیں بلکہ عالمی تجارت کے بنیادی ڈھانچے کا اہم حصہ ہے۔ 

دنیا کے ہزاروں بینک ڈالر میں ادائیگیاں مکمل کرنے کے لیے امریکی بینکوں سے تعلق رکھتے ہیں۔

OVERSEAS POST | DILEMMAواشنگٹن کی مشکل
امریکا نگرانی سخت کرسکتا ہے، لیکن کورسپونڈنٹ بینکنگ عالمی ڈالر نظام کا بنیادی حصہ ہے۔ بہت زیادہ سختی غیر ملکی اداروں کو مقامی کرنسیوں، یوان یا متبادل ادائیگی نظام کی طرف جانے کی ترغیب دے سکتی ہے۔
overseaspost.net

امریکا نگرانی مزید سخت کرسکتا ہے، لیکن اگر ڈالر میں لین دین انتہائی مشکل اور خطرناک بنادیا جائے تو غیر ملکی بینک اور ممالک متبادل نظام تلاش کرنے کی کوشش تیز کرسکتے ہیں۔

یہ متبادل مقامی کرنسیاں، چینی یوان یا ایسے ادائیگی کے نظام ہوسکتے ہیں جن میں امریکی بینکوں کی ضرورت نہ ہو۔

یہی وجہ ہے کہ ڈالر کی طاقت اور امریکا کی مشکل ایک ہی جگہ موجود ہیں۔

کیا امریکی پابندیاں ناکام ہوگئیں؟

ضروری نہیں۔

پابندیوں نے ایران کے لیے عالمی مالیاتی لین دین زیادہ مہنگا، پیچیدہ اور خطرناک بنایا ہے۔ تہران کو فرنٹ کمپنیوں، ایجنٹوں اور متعدد بینکوں پر مشتمل نیٹ ورکس استعمال کرنا پڑتے ہیں۔

OVERSEAS POST | BOTTOM LINEاصل نتیجہ
9 ارب ڈالر کا معاملہ پابندیوں کی مکمل ناکامی ثابت نہیں کرتا، مگر یہ ضرور دکھاتا ہے کہ مالی پابندیاں ناقابلِ عبور دیوار نہیں۔ عالمی بینکاری جتنی پیچیدہ ہوگی، اصل مستفید ہونے والے فریق کو چھپانے کے امکانات اتنے ہی زیادہ رہیں گے۔
overseaspost.net

امریکا کسی راستے کی شناخت ہونے پر اس سے منسلک بینک کو ڈالر کے نظام سے باہر کرنے کی دھمکی بھی دے سکتا ہے، جو بیشتر بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے لیے بہت بڑا خطرہ ہے۔

لیکن 9 ارب ڈالر کا معاملہ یہ بھی بتاتا ہے کہ مالی پابندیاں کوئی ایسا بند دروازہ نہیں جسے عبور کرنا ناممکن ہو۔

اصل تضاد یہی ہے۔

امریکا ڈالر کی عالمی بالادستی کو ایران کے خلاف طاقتور مالی ہتھیار کے طور پر استعمال کررہا ہے، جبکہ ایران اسی وسیع عالمی ڈالر نیٹ ورک میں موجود پیچیدگیوں اور پوشیدہ راستوں سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کررہا ہے۔

یوں واشنگٹن کے سامنے اب بڑا سوال صرف یہ نہیں کہ ایرانی پیسہ کہاں جارہا ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ کیا امریکا ڈالر کو ایران کے خلاف ہتھیار بنائے رکھتے ہوئے اسی نظام میں موجود ان راستوں کو بند کرسکتا ہے جن سے اربوں ڈالر اس کی اپنی بینکاری حدود تک پہنچ رہے ہیں؟

OVERSEAS POST | SOURCES اصل اور معتبر ذرائع

رپورٹ میں امریکی حکام کے دعووں، سرکاری اعدادوشمار اور تحقیقاتی رپورٹ کے نتائج کو الگ الگ حیثیت سے بیان کیا گیا ہے۔

overseaspost.net