براہ راست نشریات

سعودی عرب نے 21 شہروں کو صحت کا عالمی ماڈل کیسے بنایا؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
Saudi Healthy Cities

سعودی عرب میں عالمی ادارۂ صحت سے منظور شدہ صحت مند شہروں کی تعداد 21 ہوگئی۔
پروگرام صرف ہسپتالوں تک محدود نہیں بلکہ ماحول، تعلیم، شہری منصوبہ بندی، احتیاطی صحت اور معیارِ زندگی سمیت تقریباً 80 عالمی معیارات پر مبنی ہے۔

سعودی عرب نے عالمی ادارۂ صحت کے ہیلتھی سٹیز پروگرام میں ایک اور اہم پیش رفت کرتے ہوئے عالمی سطح پر منظور شدہ صحت مند شہروں اور مقامات کی تعداد 21 تک پہنچا دی ہے، جس کے بعد مملکت مشرقی بحیرہ روم اور شمالی افریقہ کے خطے میں اس شعبے میں نمایاں مقام پر آ گئی ہے۔

نئی فہرست میں ابہا، محایل عسیر، طریب اور کنگ خالد یونیورسٹی سٹی بھی شامل ہو گئے ہیں۔ 

بظاہر یہ ایک بین الاقوامی سرٹیفکیٹ اور شہروں کی تعداد میں اضافہ ہے، لیکن اس پروگرام کی اصل اہمیت اس سوال میں پوشیدہ ہے کہ آخر ایک شہر کو ’صحت مند‘ قرار دینے کا مطلب کیا ہے؟

OVERSEAS POST | SPECIAL REPORT21 صحت مند شہر — اہم نکات
  • سعودی عرب میں عالمی ادارۂ صحت سے منظور شدہ صحت مند شہروں اور مقامات کی تعداد 21 ہوگئی ہے۔
  • مملکت اس تعداد کے ساتھ مشرقی بحیرۂ روم اور شمالی افریقہ کے خطے میں سرفہرست ہے۔
  • تازہ ترین منظوری ابہا، محایل عسیر، طریب اور کنگ خالد یونیورسٹی سٹی کو ملی ہے۔
  • اعتماد کیلئے شہروں کو 80 بین الاقوامی معیارات پورے کرنا ہوتے ہیں، جو 9 بنیادی محوروں میں تقسیم ہیں۔
  • یہ تصور صرف ہسپتالوں تک محدود نہیں؛ اس میں شہری ماحول، تعلیم، ہنگامی تیاری اور کمیونٹی شراکت بھی شامل ہے۔
  • سعودی ہیلتھی سٹیز پروگرام WHO کا خطے میں پہلا تعاون مرکز اور دنیا میں چوتھا ہے۔
overseaspost.net

صحت صرف ہسپتال کا نام نہیں

روایتی طور پر جب کسی شہر کے صحت کے نظام کا ذکر کیا جاتا ہے تو ذہن میں ہسپتال، ڈاکٹر، دوائیں اور طبی مراکز آتے ہیں۔

مزید پڑھیں

مگر عالمی ادارۂ صحت کا ’ہیلتھی سٹی‘ تصور اس سے کہیں وسیع ہے۔

اس میں دیکھا جاتا ہے کہ شہری ماحول انسان کو صحت مند زندگی گزارنے میں کس حد تک مدد فراہم کرتا ہے۔ 

کیا لوگ محفوظ طریقے سے پیدل چل سکتے ہیں؟ 

کیا بچوں اور خاندانوں کیلئے مناسب پارکس اور کھلی جگہیں دستیاب ہیں؟ کیا ماحول صاف ہے؟

 کیا اسکول صحت مند عادات کو فروغ دیتے ہیں؟ 

کیا ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کا مؤثر نظام موجود ہے؟ 

اور کیا مقامی آبادی اپنے علاقے سے متعلق فیصلوں میں شریک ہے؟

یعنی سوال صرف یہ نہیں رہتا کہ بیمار شخص کا علاج کتنی اچھی طرح کیا جا رہا ہے بلکہ یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ لوگوں کو بیمار ہونے سے بچانے کیلئے شہر کیا کر رہا ہے۔

80 عالمی معیار

صحت مند شہر کا عالمی اعزاز محض نام یا تشہیری مہم سے حاصل نہیں ہوتا۔

اس کیلئے شہر کو تقریباً 80 بین الاقوامی معیارات پورے کرنا ہوتے ہیں، جو نو بنیادی شعبوں میں تقسیم کئے گئے ہیں۔

ان میں شہری ماحول کی بہتری، صحت کی خدمات، تعلیم، ہنگامی حالات کیلئے تیاری، معاشرتی شراکت، مختلف حکومتی اداروں کے درمیان تعاون، مقامی صلاحیتوں کی تعمیر اور کمیونٹی کو بااختیار بنانے جیسے پہلو شامل ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ کسی شہر کو صحت مند بنانے کی ذمہ داری صرف وزارت صحت کی نہیں ہوتی۔

i OVERSEAS POST | FACT BOXسعودی صحت مند شہر: فیکٹ باکس
منظور شدہ شہر/مقامات
21
بین الاقوامی معیارات
80
بنیادی محور
9
نئی منظوریاں
4
علاقائی WHO تعاون مرکز
پہلا
عالمی درجہ
چوتھا
عسیر میں متوقع اوسط عمر
81.1 سال
overseaspost.net

بلدیاتی ادارے سڑکوں، پارکس، صفائی اور شہری ماحول پر کام کرتے ہیں، تعلیمی ادارے بچوں اور نوجوانوں میں صحت مند رویوں کو فروغ دیتے ہیں جبکہ صحت کا شعبہ علاج کے ساتھ بیماریوں سے بچاؤ اور ابتدائی تشخیص پر توجہ دیتا ہے۔

اس ماڈل کو عمومی طور پر ’صحت کو ہر پالیسی کا حصہ بنانے‘ کے تصور سے جوڑا جاتا ہے۔

علاج سے پہلے بیماری روکنے کی کوشش

سعودی عرب کے صحت مند شہروں کے پروگرام کا ایک بڑا مقصد علاج پر انحصار کم کرکے احتیاط اور بیماریوں کی روک تھام کو مضبوط بنانا ہے۔

مثلاً اگر کسی علاقے میں پیدل چلنے کیلئے محفوظ راستے، ورزش کی جگہیں اور پارکس موجود ہوں تو لوگوں کی جسمانی سرگرمی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

OVERSEAS POST | EXPLAINER’صحت مند شہر‘ کا مطلب کیا ہے؟

وزارتِ صحت کے مطابق صحت مند شہر وہ ہے جو صاف ماحول، مربوط صحت خدمات اور مؤثر سماجی شراکت کے ذریعے رہائشیوں کے طرزِ زندگی کو بہتر بنائے۔

صاف ماحولشہری صفائی، سبز مقامات، پانی، نکاسی، خوراک کی سلامتی اور ہوا کے معیار جیسے عناصر اہم ہیں۔
مربوط خدماتصحت کو صرف علاج نہیں بلکہ بنیادی خدمات، آگاہی، احتیاط اور روزمرہ شہری منصوبہ بندی سے جوڑا جاتا ہے۔
کمیونٹی شراکتمقامی آبادی کو مسائل کی نشاندہی، ترجیحات اور صحت و ترقی کے منصوبوں میں شریک کیا جاتا ہے۔
سادہ الفاظ میں: مقصد ایسا شہر بنانا ہے جہاں ماحول اور نظام دونوں انسان کو زیادہ صحت مند زندگی گزارنے میں مدد دیں۔
overseaspost.net

اسی طرح بہتر غذا سے متعلق آگاہی، ابتدائی طبی معائنے اور صحت مند طرز زندگی کو فروغ دینے والے پروگرام طویل مدت میں موٹاپے، ذیابیطس، بلند فشار خون اور دل کے امراض جیسے مسائل کا بوجھ کم کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔

یوں پارک یا پیدل چلنے کا راستہ صرف شہری خوبصورتی کا منصوبہ نہیں رہتا بلکہ صحت کی پالیسی کا حصہ بن جاتا ہے۔

عسیر نمایاں کیوں؟

تازہ منظوریوں کے بعد عسیر ریجن صحت مند شہروں کے سعودی نقشے میں نمایاں ہو گیا ہے۔

ابہا، محایل عسیر، طریب اور کنگ خالد یونیورسٹی سٹی کی شمولیت نے خطے کی موجودگی کو مزید مضبوط بنایا ہے۔

OVERSEAS POST | STANDARDS80 معیار، 9 بنیادی محور
  • 1کمیونٹی کو بااختیار بنانا — صحت اور مقامی ترقی میں عوامی شراکت۔
  • 2بین الادارہ شراکت — صحت، بلدیات، تعلیم اور دیگر شعبوں کا تعاون۔
  • 3کمیونٹی انفارمیشن سینٹر — مقامی ڈیٹا اور منصوبہ بندی کیلئے معلوماتی نظام۔
  • 4مہارت اور صلاحیت — مقامی ٹیموں اور رضاکاروں کی تربیت۔
  • 5صحت کی خدمات — قابل رسائی اور بہتر صحت سہولیات۔
  • 6شہری ماحول — پانی، نکاسی، خوراک کی سلامتی اور ہوا کا معیار۔
  • 7ہنگامی تیاری — بحران اور ایمرجنسی کیلئے مؤثر ردعمل۔
  • 8تعلیم — صحت مند رویوں اور آگاہی کی مضبوطی۔
  • 9چھوٹے منصوبوں کی معاونت — مقامی معاشی اور سماجی استحکام کی حمایت۔
overseaspost.net

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق عسیر میں متوقع اوسط عمر 81.1 سال تک پہنچ چکی ہے۔ اگرچہ اس بہتری کو صرف صحت مند شہروں کے پروگرام کا نتیجہ قرار نہیں دیا جا سکتا، تاہم یہ اعدادوشمار اس وسیع تبدیلی کی طرف اشارہ کرتے ہیں جس میں علاج، احتیاط، ماحول اور معیارِ زندگی کو ایک دوسرے سے جوڑا جا رہا ہے۔

سعودی تجربے کی عالمی اہمیت

سعودی عرب صرف اپنے شہروں کیلئے عالمی منظوری حاصل نہیں کر رہا بلکہ صحت مند شہروں کے پروگرام میں علاقائی سطح پر بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

سعودی وزارت صحت کا ہیلتھی سٹیز پروگرام عالمی ادارۂ صحت کا خطے میں پہلا تعاون مرکز جبکہ دنیا میں چوتھا مرکز قرار دیا گیا ہے۔

i OVERSEAS POST | ASIRعسیر کی 4 نئی عالمی منظوریاں
شہر
ابہا
شہر
محایل عسیر
شہر
طریب
جامعاتی مقام
کنگ خالد یونیورسٹی سٹی
نتیجہ
ان چار نئی منظوریوں کے بعد مملکت کا مجموعی عدد 21 تک پہنچ گیا۔
عسیر کا صحت اشاریہ
خطے میں متوقع اوسط عمر 81.1 سال رپورٹ کی گئی ہے۔
overseaspost.net

اس کا مطلب یہ ہے کہ سعودی تجربہ اب صرف مقامی پروگرام نہیں رہا بلکہ دوسرے ممالک کے ساتھ تجربات، معلومات اور کامیاب ماڈلز کے تبادلے میں بھی کردار ادا کرسکتا ہے۔

گزشتہ چند برسوں میں منظور شدہ سعودی شہروں کی تعداد میں مسلسل اضافہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ یہ منصوبہ چند مخصوص شہروں تک محدود رکھنے کے بجائے بتدریج وسیع کیا جا رہا ہے۔

شہری اور مقیم غیر ملکی کو کیا ملے گا؟

کسی شہر کو عالمی ادارۂ صحت کی سند ملنے کے بعد شہری کو فوری طور پر کوئی مخصوص مالی فائدہ یا نئی سہولت نہیں ملتی۔

اصل فائدہ بتدریج روزمرہ زندگی میں ظاہر ہوتا ہے۔

OVERSEAS POST | DAILY LIFEشہری اور مقیم کو کیا فائدہ؟

عالمی سند کوئی براہِ راست مالی فائدہ نہیں؛ اصل اثر شہر کی روزمرہ سہولیات اور ماحول میں بتدریج نظر آنا چاہئے۔

بہتر شہری ماحولصاف مقامات، سبز جگہیں، چلنے پھرنے کیلئے موزوں ماحول اور معیارِ زندگی پر توجہ۔
زیادہ احتیاطصحت آگاہی، بنیادی خدمات اور بیماریوں سے بچاؤ کو شہری زندگی کا حصہ بنانا۔
زیادہ تیاریہنگامی حالات، کمیونٹی شراکت اور اداروں کے درمیان بہتر رابطے پر زور۔
اہم نکتہ: بہتر شہری ماحول کا فائدہ سعودی شہری اور غیر ملکی مقیم دونوں کو ہوتا ہے، کیونکہ یہ پورے شہر کی زندگی کے معیار سے متعلق ہے۔
overseaspost.net

بہتر پارکس، پیدل چلنے کیلئے محفوظ ماحول، صحت سے متعلق آگاہی، بیماریوں کی ابتدائی تشخیص، بہتر بنیادی طبی خدمات، صاف شہری ماحول، ہنگامی حالات کیلئے بہتر تیاری اور کمیونٹی کی زیادہ شمولیت اس پروگرام کے ممکنہ عملی نتائج ہیں۔

یہ فوائد سعودی شہری اور غیر ملکی مقیم دونوں کیلئے یکساں اہمیت رکھتے ہیں، کیونکہ شہر کا ماحول پاسپورٹ دیکھ کر اثر نہیں ڈالتا۔

اگر محلہ صحت مند ہے تو وہاں رہنے والا ہر شخص اس سے فائدہ اٹھاتا ہے۔

اصل امتحان اب شروع ہوتا ہے

21 شہروں کا عالمی سطح پر منظور ہونا یقیناً سعودی عرب کیلئے ایک اہم کامیابی ہے، لیکن اس پروگرام کی حقیقی کامیابی صرف سرٹیفکیٹس کی تعداد سے نہیں ناپی جائے گی۔

1′ OVERSEAS POST | HEALTH SHIFTعلاج سے پہلے بیماری روکنے کی کوشش

ہیلتھی سٹیز ماڈل صحت کو صرف ہسپتال کے اندر فراہم ہونے والی خدمت نہیں سمجھتا بلکہ اسے شہری ماحول اور روزمرہ عادات سے جوڑتا ہے۔

پارکس، صاف ماحول، پیدل چلنے کی سہولت، صحت آگاہی، اسکول اور بنیادی صحت خدمات ایسے عوامل ہیں جو بیماریوں کی روک تھام میں مدد کرسکتے ہیں۔

اسی لئے پروگرام کا بنیادی رخ یہ ہے کہ شہر صرف بیماری کا علاج نہ کرے بلکہ صحت مند زندگی کیلئے سازگار ماحول بھی پیدا کرے۔

overseaspost.net

اصل سوال یہ ہوگا کہ کیا وہاں رہنے والے لوگوں کو اپنی روزمرہ زندگی میں فرق محسوس ہوتا ہے؟

کیا وہ زیادہ پیدل چل رہے ہیں؟ کیا بچوں کیلئے بہتر ماحول ہے؟ 

کیا بیماریوں کی بروقت تشخیص ہو رہی ہے؟ 

کیا آلودگی اور صحت کے خطرات کم ہو رہے ہیں؟ اور کیا شہر ہنگامی صورتحال کا پہلے سے بہتر مقابلہ کرسکتا ہے؟

اگر ان سوالات کے جواب مثبت ہوتے ہیں تو سعودی عرب کا 21 صحت مند شہروں تک پہنچنا صرف عالمی فہرست میں ایک نیا ریکارڈ نہیں ہوگا بلکہ شہر کو علاج کی جگہ سے بیماری سے بچاؤ کے نظام میں تبدیل کرنے کی ایک بڑی کوشش ثابت ہوگا۔

OVERSEAS POST | SOURCESاصل اور معتبر ذرائع

تم الحفاظ على قالب البطاقات المعتمد كما هو، مع استبدال محتوى التقرير فقط وإكمال العدد إلى 10 بطاقات.

overseaspost.net