دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ نے 2026 کی پہلی ششماہی میں 3 کروڑ 15 لاکھ مسافروں کو خدمات فراہم کیں، جو گزشتہ سال سے 31.3 فیصد کم ہیں۔
رائٹرز اور دبئی ایئرپورٹس کے مطابق علاقائی جنگ، فضائی حدود کی پابندیوں اور پروازوں کی منسوخی نے ٹریفک کو شدید متاثر کیا، تاہم ایئرلائنز کی واپسی اور فضائی رابطوں کی بحالی سے حالات بہتر ہونا شروع ہوگئے ہیں۔
دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ، جو دنیا کے مصروف ترین بین الاقوامی فضائی مراکز میں شمار ہوتا ہے، 2026 کی پہلی ششماہی میں ایک غیر معمولی جھٹکے سے گزرا۔
علاقائی جنگ، فضائی حدود کی بندش اور متعدد بین الاقوامی پروازوں کی منسوخی کے باعث ایئرپورٹ پر مسافروں کی تعداد میں 31 فیصد سے زیادہ کمی ریکارڈ کی گئی، تاہم تازہ اعداد بتاتے ہیں کہ سال کے دوسرے نصف میں بحالی کے آثار نمایاں ہونا شروع ہوگئے ہیں۔
رائٹرز کے مطابق دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ نے جنوری سے جون 2026 کے درمیان 3 کروڑ 15 لاکھ مسافروں کو خدمات فراہم کیں، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے تقریباً 4 کروڑ 60 لاکھ مسافروں کے مقابلے میں 31.3 فیصد کم ہیں۔
اسی دوران طیاروں کی آمد و رفت بھی 32.1 فیصد کم ہوکر تقریباً ایک لاکھ 50 ہزار 600 رہ گئی۔
◆ OVERSEAS POST | SPECIAL REPORTدبئی ایئرپورٹ — اہم نکات ⌄
- ✓2026 کی پہلی ششماہی میں دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ نے 3 کروڑ 15 لاکھ مسافروں کو خدمات فراہم کیں۔
- ✓مسافروں کی تعداد سالانہ بنیاد پر 31.3 فیصد کم رہی۔
- ✓طیاروں کی آمد و رفت بھی 32.1 فیصد کم ہوکر تقریباً 150,600 موومنٹس رہ گئی۔
- ✓بڑی وجہ علاقائی جنگ، فضائی حدود میں رکاوٹ اور متعدد بین الاقوامی پروازوں کی منسوخی رہی۔
- ✓دوسری سہ ماہی میں تقریباً ایک کروڑ 30 لاکھ مسافر ریکارڈ ہوئے، جس سے بحالی کے آثار سامنے آئے۔
یہ کمی اس لئے بھی غیر معمولی ہے کہ دبئی 2026 میں ایک اور تاریخی ریکارڈ بنانے کی تیاری کررہا تھا۔
جنگ سے پہلے دبئی ایئرپورٹس نے رواں سال تقریباً 10 کروڑ مسافروں تک پہنچنے کی پیش گوئی کی تھی، لیکن فروری کے آخر میں ایران سے جنگ شروع ہونے اور خلیجی فضائی حدود میں بڑے پیمانے پر خلل آنے کے بعد صورتحال یکسر تبدیل ہوگئی۔
مزید پڑھیں
اصل مسئلہ سیاحوں کی دلچسپی نہیں
اعداد و شمار کو دیکھ کر بظاہر ایسا محسوس ہوسکتا ہے کہ دبئی کی سیاحتی کشش کم ہوئی ہے، تاہم صورتحال اس سے مختلف ہے۔
رائٹرز کے مطابق 28 فروری سے شروع ہونے والی جنگ کے بعد خلیج میں فضائی سفر بری طرح متاثر ہوا۔
متعدد پروازیں منسوخ ہوئیں، بعض کے روٹس تبدیل کرنا پڑے جبکہ
کئی بین الاقوامی ایئرلائنز نے خطے کے لئے اپنی سروس محدود یا عارضی طور پر معطل کردی۔
جنگ کے نتیجے میں جیٹ فیول کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا، جس نے ایئرلائنز کی آپریشنل لاگت بڑھائی۔
اس کے ساتھ بعض ممالک کی جانب سے سفری انتباہات نے بھی مسافروں اور ایئرلائنز کے فیصلوں کو متاثر کیا۔
i OVERSEAS POST | FACT BOXدبئی ایئرپورٹ: فیکٹ باکس ⌄
اس لئے پہلی ششماہی کی کمزور کارکردگی کو صرف دبئی کی سیاحت کے لئے منفی اشارہ سمجھنا درست نہیں ہوگا۔
بڑی وجہ یہ تھی کہ دبئی آنے یا یہاں سے ٹرانزٹ کرنے کے خواہش مند مسافروں کے لئے دستیاب پروازوں اور نشستوں کی تعداد اچانک کم ہوگئی تھی۔
دوسری سہ ماہی میں بحالی کے آثار
دلچسپ بات یہ ہے کہ شدید بحران کے باوجود دبئی ایئرپورٹ نے دوسری سہ ماہی میں تقریباً ایک کروڑ 30 لاکھ مسافروں کو سنبھالا۔
دبئی ایئرپورٹس کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی فضائی رابطے میں بتدریج بہتری، طیاروں میں نشستیں بھرنے کی شرح میں اضافہ اور غیر ملکی ایئرلائنز کی واپسی اس بات کی علامت ہے کہ مسافروں کا اعتماد بحال ہورہا ہے۔
کمپنی نے 26 اگست کو اپنی تازہ اپ ڈیٹ میں بھی کہا کہ DXB اب نسبتاً مضبوط دوسری ششماہی میں داخل ہورہا ہے۔
✓? OVERSEAS POST | VERIFIEDکیا مصدقہ ہے، کیا احتیاط چاہتا ہے؟ ⌄
خلیج کی بڑی ایئرلائنز بھی تقریباً 90 فیصد آپریشنل صلاحیت بحال کرچکی ہیں، اگرچہ Lufthansa، British Airways اور Singapore Airlines سمیت بعض بڑی بین الاقوامی کمپنیوں نے اپنی کچھ پروازوں کی معطلی میں توسیع کی ہے۔
یہی پہلو دبئی کی مکمل بحالی کے لئے اہم ہوگا۔
اگر بین الاقوامی ایئرلائنز تیزی سے واپس آتی ہیں تو ایئرپورٹ نہ صرف ٹرانزٹ مسافروں کو دوبارہ حاصل کرسکتا ہے بلکہ شہر کی سیاحت، ہوٹلوں اور ریٹیل سیکٹر کو بھی براہ راست فائدہ پہنچے گا۔
صرف مسافر ایئرپورٹ کی آمدنی نہیں
دبئی کے لئے ایئرپورٹ پر مسافروں کی تعداد محض ایوی ایشن کا عدد نہیں۔
دبئی پہنچنے والا ایک بین الاقوامی سیاح ہوٹل میں قیام کرتا ہے، ٹیکسی یا میٹرو استعمال کرتا ہے، ریستوران جاتا ہے، شاپنگ کرتا ہے اور تفریحی سرگرمیوں پر رقم خرچ کرتا ہے۔
اسی لئے ایئرپورٹ کی ٹریفک میں 31 فیصد کمی کے اثرات صرف فضائی صنعت تک محدود نہیں رہتے بلکہ سیاحت، ہوٹلنگ، ریٹیل، ٹرانسپورٹ اور دیگر خدمات تک منتقل ہوتے ہیں۔
1′ OVERSEAS POST | QUICK READایک منٹ میں پوری کہانی ⌄
دوسری جانب ٹرانزٹ مسافر بھی دبئی کی عالمی حیثیت کے لئے انتہائی اہم ہیں۔ DXB نے گزشتہ دو دہائیوں میں خود کو ایشیا، یورپ، افریقہ اور امریکا کے درمیان ایک بڑے فضائی پل کے طور پر قائم کیا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ دبئی ایئرپورٹ کی بحالی کا انحصار صرف شہر میں آنے والے سیاحوں پر نہیں بلکہ عالمی ایوی ایشن نیٹ ورک کے معمول پر واپس آنے پر بھی ہے۔
کیا ریکارڈ دوبارہ حاصل ہوسکے گا؟
سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا دبئی 2026 کے باقی مہینوں میں پہلی ششماہی کا نقصان پورا کرسکے گا؟
اس کا فوری جواب شاید نہیں۔
31.3 فیصد کی کمی اتنی بڑی ہے کہ اسے چند مہینوں میں مکمل طور پر پورا کرنا آسان نہیں ہوگا، خصوصاً ایسے وقت میں جب بعض بڑی بین الاقوامی ایئرلائنز اب بھی پوری صلاحیت کے ساتھ واپس نہیں آئیں۔
✦ OVERSEAS POST | TOURISM IMPACTمسافروں کی کمی سے کس پر اثر پڑتا ہے؟ ⌄
تاہم موجودہ اعداد میں ایک مثبت پہلو واضح ہے: گراوٹ کا سلسلہ رکنے اور بحالی کا رجحان شروع ہونے کے آثار موجود ہیں۔
دبئی ایئرپورٹس بھی بہتر فضائی رابطے، مضبوط لوڈ فیکٹر اور بین الاقوامی ایئرلائنز کی بتدریج واپسی کو سال کے دوسرے نصف کے لئے مثبت اشارہ قرار دے رہا ہے۔
اگر خطے کی سکیورٹی صورتحال مزید خراب نہیں ہوتی اور عالمی ایئرلائنز اپنے روٹس بحال کرتی رہتی ہیں تو دبئی کے لئے 2027 میں دوبارہ ریکارڈ سطح کی طرف بڑھنا زیادہ مشکل نہیں ہوگا۔
گزشتہ برسوں میں دبئی ایئرپورٹ کے بارے میں بنیادی سوال یہ ہوتا تھا کہ وہ اگلا ریکارڈ کب توڑے گا۔
2026 نے سوال بدل دیا ہے۔
اب اصل سوال یہ ہے کہ دنیا کے بڑے فضائی مراکز میں شامل دبئی اپنے کھوئے ہوئے لاکھوں مسافروں کو کتنی تیزی سے واپس لاسکتا ہے؟
ابتدائی اشارے یہی بتاتے ہیں کہ دھچکا بہت بڑا تھا، لیکن واپسی شروع ہوچکی ہے۔