دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ DXB پر جدید سیکیورٹی اسکینرز سفر کا تجربہ بدلنے لگے ہیں۔
اپ گریڈ شدہ لینز میں لیپ ٹاپ اور مائعات بیگ کے اندر رکھے جاسکتے ہیں جبکہ جوتے اور بیلٹ اتارنے کی ضرورت بھی کم کی جارہی ہے۔
تاہم نئی سہولت ابھی مرحلہ وار نافذ ہو رہی ہے اور موجودہ 100 ملی لیٹر مائع کی پابندی برقرار ہے۔
سفر کے دوران چند منٹ بعض اوقات سب سے زیادہ تھکا دینے والے بن جاتے ہیں۔
لیپ ٹاپ بیگ سے نکالنا، مائعات الگ کرنا، بیلٹ یا جوتے اتارنا، پھر سیکیورٹی چیک کے بعد سب کچھ دوبارہ ترتیب دینا۔
دنیا کے زیادہ تر بڑے ایئرپورٹس پر یہ ایک معمول کی مشق ہے، مگر دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ DXB اب اس مرحلے کو آہستہ آہستہ زیادہ آسان بنانے کی سمت بڑھ رہا ہے۔
نئے سیکیورٹی اسکینرز بعض جدید چیک پوائنٹس پر مسافروں کو یہ سہولت دیتے ہیں کہ وہ لیپ ٹاپ، ٹیبلٹ اور مائعات بیگ کے اندر ہی رہنے دیں۔
اسی طرح بعض مقامات پر جوتے اور بیلٹ اتارنے کی ضرورت بھی کم کی جا رہی ہے۔
اصل مقصد صرف چند منٹ بچانا نہیں، بلکہ سفر کے سب سے زیادہ پریشان کن مراحل میں سے ایک کو زیادہ تیز، ہموار اور کم مداخلت والا بنانا ہے۔
◆OVERSEAS POST | HIGHLIGHTSدبئی ایئرپورٹ — اہم نکات⌄
- ✓DXB جدید سیکیورٹی اسکینرز کے ذریعے چیکنگ کے عمل کو زیادہ تیز اور آسان بنا رہا ہے۔
- ✓اپ گریڈ شدہ بعض لینز میں لیپ ٹاپ اور ٹیبلٹ بیگ کے اندر رکھے جاسکتے ہیں۔
- ✓جوتے اور بیلٹ اتارنے کی ضرورت بھی بعض جدید چیک پوائنٹس پر کم کی جارہی ہے۔
- ✓نئی سہولت ابھی پورے ایئرپورٹ پر یکساں طور پر نافذ نہیں ہوئی؛ اپ گریڈ مرحلہ وار جاری ہے۔
مزید پڑھیں
اصل تبدیلی کیا ہے؟
نئے اسکیننگ سسٹمز روایتی ایکس رے مشینوں کے مقابلے میں زیادہ تفصیلی امیجنگ فراہم کرتے ہیں۔
اس سے سیکیورٹی اہلکار بیگ کے اندر موجود اشیا کو بہتر انداز میں دیکھ سکتے ہیں، بغیر اس کے کہ ہر الیکٹرانک ڈیوائس یا مائع کی بوتل الگ سے نکلوائی جائے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ جدید لین سے گزرنے والے مسافر کو بعض صورتوں میں لیپ ٹاپ یا ٹیبلٹ باہر نکالنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔
اسی طرح جدید سسٹم جوتے اور بیلٹ اتارنے کی ضرورت بھی کم کرسکتے ہیں، جو خاص طور پر خاندانوں، بزرگوں اور زیادہ سامان رکھنے والے مسافروں کے لیے ایک بڑی سہولت ہے۔
لیکن ایک اہم بات یہ ہے کہ یہ سہولت ابھی پورے ایئرپورٹ پر ایک ہی وقت میں نافذ نہیں ہوئی۔
اپ گریڈ مرحلہ وار جاری ہے۔
iOVERSEAS POST | FACT BOXدبئی ایئرپورٹ: فیکٹ باکس⌄
- ✓ایئرپورٹ: دبئی انٹرنیشنل DXB
- ✓تبدیلی: جدید سیکیورٹی اسکیننگ
- ✓فائدہ: کم سامان باہر نکالنا، زیادہ تیز چیکنگ
- ✓نفاذ: مرحلہ وار
- ✓100ml قاعدہ: فی الحال برقرار
کیا ہر مسافر اب یہی سہولت حاصل کرے گا؟
ابھی نہیں۔
DXB میں کچھ سیکیورٹی لینز جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہو چکی ہیں، جبکہ دیگر مقامات پر روایتی طریقہ کار اب بھی موجود ہے۔
اس لیے ممکن ہے ایک مسافر ایسے لین سے گزرے جہاں لیپ ٹاپ بیگ میں رکھنے کی اجازت ہو، جبکہ دوسرے مسافر کو روایتی ہدایت کے مطابق لیپ ٹاپ باہر نکالنا پڑے۔
یہی وجہ ہے کہ مسافروں کو ابھی بھی موجودہ سرکاری ہدایات کے مطابق سفر کی تیاری کرنی چاہئے۔
100 ملی لیٹر کی شرط ختم نہیں ہوئی
یہ سب سے اہم وضاحت ہے۔
اگرچہ نئے اسکینرز بعض مقامات پر مائعات بیگ کے اندر رہنے دیتے ہیں، لیکن دبئی ایئرپورٹ کی موجودہ سرکاری ہدایات کے مطابق ہینڈ بیگیج میں مائع کی ہر بوتل عام طور پر 100 ملی لیٹر کی حد کے اندر ہونی چاہئے۔
▣OVERSEAS POST | WHAT CHANGESسیکیورٹی چیک میں کیا بدل رہا ہے؟⌄
- ✓جدید اسکینرز بیگ کے اندر موجود اشیا کی زیادہ تفصیلی تصویر فراہم کرتے ہیں۔
- ✓بعض اپ گریڈ شدہ لینز میں الیکٹرانک ڈیوائسز الگ کرنے کی ضرورت کم ہوجاتی ہے۔
- ✓مقصد مسافر کے اقدامات کم کرکے قطاروں اور انتظار کے وقت کو محدود کرنا ہے۔
یعنی یہ سمجھنا غلط ہوگا کہ نئی مشینوں کے آنے کے بعد مسافر اب بڑی بوتلیں یا کسی بھی مقدار میں مائع لے جا سکتے ہیں۔
اسی طرح اگر مسافر کسی ایسے سیکیورٹی چیک پوائنٹ سے گزرتا ہے جو ابھی اپ گریڈ نہیں ہوا، تو اسے لیپ ٹاپ نکالنے، بعض جوتے اتارنے یا بیلٹ ہٹانے کے لیے تیار رہنا چاہئے۔
مختصر یہ کہ: نئی سہولت آ رہی ہے، مگر پرانی ہدایات ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئیں۔
دبئی کو ان چند منٹوں کی اتنی فکر کیوں ہے؟
بڑے ایئرپورٹس میں چند سیکنڈ بھی بہت اہم ہوتے ہیں۔
اگر ہر مسافر کو بیگ کھولنے، لیپ ٹاپ نکالنے اور دوبارہ رکھنے میں صرف ایک یا دو منٹ بھی لگیں، تو ہزاروں مسافروں کے ساتھ یہی وقت لمبی قطاروں میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
جدید اسکینرز اس عمل کو مختصر کرسکتے ہیں، جس سے ایک گھنٹے میں زیادہ مسافر سیکیورٹی سے گزر سکتے ہیں۔
اس کا فائدہ صرف ایئرپورٹ کو نہیں، بلکہ مسافر کو بھی ہوتا ہے: کم انتظار، کم الجھن اور کم دباؤ۔
▤OVERSEAS POST | KEEP IN BAGبیگ میں کیا رہ سکتا ہے؟⌄
- ✓جدید لینز میں لیپ ٹاپ اور بعض دیگر الیکٹرانک ڈیوائسز بیگ کے اندر رہ سکتی ہیں۔
- ✓مائعات کو بھی بعض جدید اسکیننگ لینز میں بیگ سے نکالنے کی ضرورت نہیں پڑ سکتی۔
- ✓لیکن مسافر کو عملے کی ہدایات پر عمل کرنا ہوگا، کیونکہ تمام لینز ابھی اپ گریڈ نہیں ہوئیں۔
سب سے زیادہ فائدہ کس کو ہوگا؟
خاندانوں کو اس تبدیلی سے خاص فائدہ ہو سکتا ہے۔
بچوں کے ساتھ سفر کرنے والے والدین عموماً کئی بیگ، الیکٹرانک ڈیوائسز اور ضروری مائعات ساتھ رکھتے ہیں۔ روایتی سیکیورٹی چیک میں یہ سب الگ کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔
بزرگ مسافروں کے لیے بھی جوتے یا بیلٹ اتارنا ایک اضافی پریشانی بن سکتا ہے۔
کاروباری مسافر، جو اکثر ایک سے زیادہ الیکٹرانک ڈیوائسز رکھتے ہیں، بھی تیز سیکیورٹی پراسیس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
ایئرپورٹس کی نئی دوڑ: وقت بچاؤ
آج دنیا کے بڑے ایئرپورٹس صرف زیادہ پروازوں یا بہتر ڈیوٹی فری شاپنگ پر مقابلہ نہیں کر رہے۔
اصل مقابلہ اب اس بات پر بھی ہے کہ مسافر کتنی تیزی سے ایئرپورٹ کے دروازے سے جہاز کے گیٹ تک پہنچ سکتا ہے۔
100OVERSEAS POST | LIQUID RULE100 ملی لیٹر کا قاعدہ ختم ہوا؟⌄
- ✓نہیں۔ موجودہ سرکاری ہدایات کے مطابق ہینڈ بیگیج میں مائع کی ہر بوتل عام طور پر 100 ملی لیٹر کی حد میں ہونی چاہئے۔
- ✓نیا اسکینر مائع کو بیگ میں رہنے دے سکتا ہے، لیکن اس کا مطلب مقدار کی پابندی ختم ہونا نہیں۔
- ✓مسافر کو سفر سے پہلے موجودہ سرکاری قواعد کے مطابق ہی تیاری کرنی چاہئے۔
اسی لیے بائیومیٹرک گیٹس، ڈیجیٹل شناخت، سیلف سروس بیگیج، اسمارٹ امیگریشن اور جدید سیکیورٹی اسکینرز پر سرمایہ کاری بڑھ رہی ہے۔
دبئی بھی اسی سمت جا رہا ہے، لیکن اس کی کوشش یہ ہے کہ یہ تمام ٹیکنالوجیز الگ الگ نظام نہ رہیں، بلکہ ایک مسلسل اور ہموار سفر کا حصہ بن جائیں۔
اسمارٹ ایئرپورٹ سے ’بلا رکاوٹ‘ سفر تک
اسمارٹ ایئرپورٹ میں مسافر ٹیکنالوجی استعمال کرتا ہے۔
لیکن ایک تقریباً بلا رکاوٹ ایئرپورٹ میں ٹیکنالوجی پس منظر میں کام کرتی ہے اور مسافر کو بار بار رکنا، کاغذ دکھانا یا بیگ کھولنا نہیں پڑتا۔
دبئی کی موجودہ سمت اسی تصور کے قریب جاتی دکھائی دیتی ہے۔
جتنا کم مسافر کو اپنے سفر کے دوران رکنا پڑے گا، اتنا ہی سفر آسان محسوس ہوگا۔
✓OVERSEAS POST | WHO BENEFITSسب سے زیادہ فائدہ کس کو؟⌄
- ✓خاندان: بچوں، متعدد بیگز اور ضروری سامان کے ساتھ چیکنگ آسان ہوسکتی ہے۔
- ✓بزرگ: جوتے یا بیلٹ اتارنے کی ضرورت کم ہونے سے سہولت بڑھ سکتی ہے۔
- ✓کاروباری مسافر: لیپ ٹاپ اور دیگر ڈیوائسز کے ساتھ سیکیورٹی چیک تیز ہوسکتا ہے۔
- ✓تمام مسافر: کم انتظار اور کم پریشانی۔
DXB میں سرمایہ کاری کیوں جاری ہے؟
دبئی میں المکتوم انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے بڑے مستقبل کے منصوبے موجود ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ موجودہ DXB کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
DXB آنے والے برسوں میں بھی لاکھوں مسافروں کے لیے ایک بنیادی عالمی گیٹ وے رہے گا۔ اسی لیے اس کی سیکیورٹی، امیگریشن، ریٹیل اور مسافر سہولیات میں اپ گریڈ جاری ہیں۔
یعنی مستقبل کے نئے ایئرپورٹ کی تیاری اور موجودہ ایئرپورٹ کی بہتری، دونوں کام ایک ساتھ چل رہے ہیں۔
⏱OVERSEAS POST | WHY TIME MATTERSچند منٹ اتنے اہم کیوں؟⌄
- ✓ایک مسافر کا صرف ایک یا دو منٹ بچنا معمولی لگتا ہے، لیکن ہزاروں مسافروں کے ساتھ یہی وقت بڑی قطاروں کو کم کرسکتا ہے۔
- ✓کم سامان باہر نکالنے سے ہر لین ایک گھنٹے میں زیادہ مسافروں کو گزار سکتی ہے۔
- ✓DXB جیسے مصروف عالمی مرکز میں رفتار خود مسافر کے تجربے کا اہم حصہ ہے۔
خلاصہ
دبئی ایئرپورٹ سیکیورٹی ختم نہیں کر رہا، بلکہ اسے مسافر کے لیے کم محسوس ہونے والا بنا رہا ہے۔
جدید اسکینرز بعض اپ گریڈ شدہ لینز میں لیپ ٹاپ اور مائعات بیگ کے اندر رکھنے کی اجازت دیتے ہیں، جبکہ جوتے اور بیلٹ اتارنے کی ضرورت بھی کم کی جا رہی ہے۔
لیکن یہ تبدیلی ابھی مرحلہ وار ہے۔
100 ملی لیٹر کی موجودہ مائع پالیسی برقرار ہے اور روایتی لینز پر پرانے طریقہ کار کا سامنا اب بھی ہو سکتا ہے۔
اصل کہانی صرف ایک نئی مشین کی نہیں، بلکہ ایک نئے تصور کی ہے:
ایسا ایئرپورٹ جہاں سیکیورٹی موجود ہو، مگر مسافر کو اس کا بوجھ کم سے کم محسوس ہو۔
↗ OVERSEAS POST | SOURCESاصل اور معتبر ذرائع ⌄
اہم وضاحت: جدید اسکینرز کا نفاذ مرحلہ وار ہے۔ Dubai Airports کی موجودہ سرکاری ہدایات میں 100 ملی لیٹر مائع کی حد اور روایتی لینز کے لیے لیپ ٹاپ، بعض جوتے اور دھاتی بیلٹ الگ رکھنے کی ہدایت اب بھی موجود ہے۔