ستمبر قریب آتے ہی دنیا بھر کے آئی فون صارفین کی نظریں ایپل کے نئے ماڈلز پر جم جاتی ہیں۔
📉
10 دن کا خطرناک کھیل: آئی فون کی قیمت کب گرتی ہے؟
+
10 دن کا خطرناک کھیل: آئی فون کی قیمت کب گرتی ہے؟
ایپل کی جانب سے نئے آئی فون کے باضابطہ اعلان اور مارکیٹ میں اس کی حقیقی دستیابی کے درمیانی 10 سے 14 دن پرانے ماڈلز کی ٹریڈ اِن ویلیو کے لیے سب سے زیادہ تباہ کن ثابت ہوتے ہیں۔
مرحلہ 1: ایپل تقریب کا باضابطہ اعلان (9 ستمبر)
جیسے ہی تقریب میں نیا ماڈل سامنے آتا ہے، سیکنڈ ہینڈ مارکیٹ میں پرانے فونز کی سپلائی اچانک بڑھ جاتی ہے اور خریدار قیمتیں کم کرنا شروع کر دیتے ہیں۔
مرحلہ 2: پری آرڈرز کے 10 دن کا ونڈو
اعلان سے لے کر اسٹورز میں فون پہنچنے کے دوران 92.6 فیصد ماڈلز کی قیمتوں میں تیز ترین گراوٹ ریکارڈ ہوتی ہے جہاں اوسطاً 20 فیصد تک قدر کم ہو جاتی ہے۔
مرحلہ 3: باضابطہ مارکیٹ سیلز کا آغاز
نیا فون عام خریداروں کے ہاتھ پہنچتے ہی پرانے ماڈل کی ری سیل ویلیو نچلی ترین سطح پر جم جاتی ہے اور نقصان مستقل ہو جاتا ہے۔
مزید پڑھیں
ماہرین کے مطابق نیا آئی فون خریدنے کی جلدی میں ایسا مالی نقصان چھپا ہے، جسے عام طور پر بیشتر صارفین شاید محسوس بھی نہ کریں۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق پرانا فون صرف چند دن اپنے پاس رکھنا اس کی قیمت تیزی سے گرا سکتا ہے۔
صارفین کے سروے کے ساتھ گزشتہ 3 لانچز کا ڈیٹا کھنگالا ہے۔
ایپل کے نئے ماڈل کے اعلان کے صرف 10 دن کے اندر پرانے فونز کی قیمتوں میں 20 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس سے تاخیر کرنے والے صارفین کو مالی نقصان ہوتا ہے۔
ماڈلز نے نئے فون کے اعلان اور مارکیٹ آمد کے درمیانی 10 دنوں میں اپنی قدر کھو دی۔
تک قیمت چند ہی دنوں میں گر گئی جس سے صارفین کو فی فون 129 ڈالر تک کا خسارہ ہوا۔
صارفین پرائس لاک جیسی سہولت سے بے خبر رہے جو پیشگی قیمت محفوظ رکھنے میں مدد دیتی ہے۔
اوورسیز پوسٹ انٹرایکٹیو انفوگرافک سسٹم
اس کا نتیجہ چونکا دینے والا ہے۔ یعنی آئی فون 15، 16 اور 17 کے ادوار میں مانیٹر کیے گئے 156 ماڈلز میں سے 117 کی قیمت اعلان اور فروخت شروع ہونے کے درمیان گر گئی۔ یعنی ہر 4 میں سے 3 فون سستے ہوئے۔
آئی فون 17 کے وقت صورتحال مزید واضح تھی۔ صرف 10 دن میں 54 میں سے 50 ماڈلز، یعنی 92.6 فیصد، اپنی ٹریڈ اِن ویلیو کھو بیٹھے اور اوسط نقصان 36.46 ڈالر رہا۔
📊
فیکٹ باکس: صرف چند دن میں کتنا نقصان ہوسکتا ہے؟
مارکیٹ ڈیٹا
فیکٹ باکس: صرف چند دن میں کتنا نقصان ہوسکتا ہے؟
ماڈلز کی قیمت میں کمی
گزشتہ 3 لانچز کے 156 میں سے 117 ماڈلز اعلان کے فوری بعد سستے ہوئے۔
زیادہ سے زیادہ نقد نقصان
آئی فون 16 پلس (512GB) کی قیمت 695 ڈالر سے گر کر 566 ڈالر رہ گئی۔
سب سے بڑی فیصد گراوٹ
آئی فون 15 پلس نے صرف 10 دنوں میں اپنی کل ری سیل ویلیو کا پانچواں حصہ کھو دیا۔
SellCell ریسرچ کا نتیجہ: آئی فون 17 لانچ کے دوران 92.6 فیصد فونز کی ری سیل ویلیو میں اوسطاً 36.46 ڈالر فی ڈیوائس کا فوری نقصان ریکارڈ کیا گیا۔
صرف 10 دن میں 20 فیصد نقصان
مارکیٹ کے مطابق سب سے بڑا نقد نقصان 512GB آئی فون 16 پلس پر ہوا، جس کی قیمت 695 ڈالر سے گر کر 566 ڈالر رہ گئی۔ یعنی 129 ڈالر کم۔
اسی طرح 128GB آئی فون 15 پلس نے بھی فیصد کے لحاظ سے بڑا جھٹکا کھایا، جس کی قیمت 440 سے 351 ڈالر ہوگئی، یعنی صرف 10 دن میں 20.2 فیصد کمی۔
پاکستانی صارف کے لیے یہ نکتہ خاص اہم ہے۔ یہاں آئی فون مہنگی خریداری ہے اور استعمال شدہ فون کی ری سیل ویلیو اکثر اگلے ماڈل کے بجٹ کا اہم حصہ بنتی ہے۔
💡
اپ گریڈ الرٹ: پرانا آئی فون بیچنے کا بہترین وقت
اسمارٹ گائیڈ
اپ گریڈ الرٹ: پرانا آئی فون بیچنے کا بہترین وقت
1۔ ایپل ایونٹ (9 ستمبر) سے پہلے قیمت فکس کریں
اگر آپ نئے آئی فون 18 یا الٹرا پر منتقل ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں تو اعلان ہونے سے پہلے یا اسی دن اپنے موجودہ فون کا سودا طے کرنا سب سے زیادہ منافع بخش رہتا ہے۔
2۔ پرائس لاک (Price Lock) فیچر کا استعمال
ٹریڈ اِن پلیٹ فارمز پر موجودہ ریٹ 14 تا 30 دن کے لیے فکس کر لیں تاکہ نیا فون آنے تک پرانا فون بھی استعمال ہوتا رہے اور قیمت بھی نہ گرے۔
3۔ بیک اپ پہلے سے تیار رکھیں
فون حوالے کرنے سے قبل آئی کلاؤڈ یا کمپیوٹر پر مکمل ڈیٹا بیک اپ بنا لیں تاکہ فون بیچنے کے عمل میں تاخیر سے بچا جا سکے۔
عالمی ٹریڈ اِن ڈیٹا پاکستانی مارکیٹ کی قیمتوں کی براہِ راست پیش گوئی نہیں، لیکن نئی جنریشن آتے ہی پرانے ماڈل پر قیمت کا دباؤ ایک اہم اشارہ ضرور ہے۔
صارف انتظار کیوں کرتے ہیں؟
اصل مشکل صارفین کی ضرورت اور قیمت کے درمیان ہے۔
SellCell کے سروے میں 54.1 فیصد صارفین نے کہا کہ نیا فون ملنے تک انہیں پرانا استعمال کرنا ہوتا ہے، جبکہ 23.3 فیصد کو ڈیٹا منتقل کرنے کے لیے اس کی ضرورت رہتی ہے۔ دونوں وجوہات ملا کر 77.4 فیصد بنتی ہیں۔
یہ غلطی بیشتر آئی فون صارفین کیوں کرتے ہیں؟
▼
یہ غلطی بیشتر آئی فون صارفین کیوں کرتے ہیں؟
📱 1۔ نیا فون ہاتھ آنے تک پرانا پاس رکھنا (54.1%)
صارفین کی اکثریت رابطہ منقطع ہونے کے ڈر سے پرانا فون اس وقت تک نہیں بیچتی جب تک نیا ڈیوائس ان کے پاس نہ پہنچ جائے۔
🔄 2۔ ڈیٹا ٹرانسفر کا انتظار (23.3%)
واٹس ایپ اور تصاویر کو آمنے سامنے ٹرانسفر کرنے کی مجبوری صارفین کو فوری فروخت سے روکتی ہے جس پر وہ 20 فیصد تک رقم گنوا بیٹھتے ہیں۔
🔒 3۔ پرائس لاک فیچر سے لاعلمی (82.8%)
80 فیصد سے زائد صارفین کو معلوم ہی نہیں ہوتا کہ وہ فون اپنے پاس رکھتے ہوئے بھی پہلے سے مارکیٹ ریٹ لاک کر سکتے ہیں۔
سروے کا نتیجہ: 77.4 فیصد صارفین محض عارضی سہولت اور لاعلمی کی وجہ سے اپنا فون سستے داموں بیچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ 82.8 فیصد صارفین کو معلوم ہی نہیں تھا کہ بعض خریدار price lock دیتے ہیں، یعنی قیمت پہلے طے کرکے فون کچھ عرصہ بعد حوالے کیا جاسکتا ہے۔
66.1 فیصد نے کہا کہ ایسی سہولت انہیں جلد فیصلہ کرنے پر آمادہ کرسکتی ہے۔
اس بار گھڑی واقعی چل پڑی ہے
اس وقت یہ معاملہ محض متوقع تاریخ کا نہیں رہا، کیونکہ ایپل نے 9 ستمبر 2026 کو اپنی سالانہ آئی فون تقریب کی تصدیق کردی ہے۔
پاکستانی صارفین کے لیے سبق؟
◀
پاکستانی صارفین کے لیے سبق؟
🇵🇰 پی ٹی اے ٹیکس اور بجٹ کا توازن
پاکستان میں بھاری پی ٹی اے ٹیکس اور ڈالر ریٹ کی وجہ سے نیا فون انتہائی مہنگا پڑتا ہے؛ پرانے فون کی زیادہ سے زیادہ ری سیل ویلیو حاصل کرنا اگلے بجٹ کے لیے فیصلہ کن ہے۔
📉 لوکل مارکیٹ میں قیمتوں کا دباؤ
عالمی لانچ کے ساتھ ہی پاکستانی مارکیٹ میں پرانے نان پی ٹی اے اور فیکٹری ان لاک فونز کے ریٹ گرنا شروع ہو جاتے ہیں، اس لیے بروقت فروخت ہی مالی نقصان سے بچا سکتی ہے۔
حتمی مشورہ: اگر آپ آئی فون 18 پر اپ گریڈ کا سوچ رہے ہیں تو اعلان ہوتے ہی مقامی مارکیٹ یا آن لائن پلیٹ فارمز پر اپنا موجودہ فون فروخت کے لیے پیش کر دیں تاکہ 10 دن کی تاخیر آپ کی جیب پر 30 سے 40 ہزار روپے کا اضافی بوجھ نہ ڈالے۔
اس تقریب میں آئی فون 18 پرو، 18 پرو میکس اور متوقع فولڈ ایبل iPhone Ultra سامنے آنے کی توقع ہے۔
اس لیے اپ گریڈ کا ارادہ رکھنے والوں کے لیے سادہ سبق ہے کہ نئے آئی فون کے بازار میں آنے کا انتظار کرنے کے بجائے اعلان ہوتے ہی اپنے موجودہ فون کی مختلف ری سیل اور ٹریڈ اِن قیمتیں دیکھنا شروع کردیں۔
چند دن کی سہولت کبھی کبھی فون کی قدر کا قابلِ ذکر حصہ لے جاتی ہے۔