مفتی تنظیم عالم قاسمی
حیدرآباد دکن
رسول اکرمﷺ نے صرف 23 برس میں جزیرۂ عرب کے افکار، اخلاق اور معاشرت کو یکسر بدل دیا۔
یہ انقلاب عمارتوں یا شہروں کا نہیں بلکہ انسانوں کے دل، کردار اور سوچ بدلنے کا تھا۔
یہی وہ تربیت تھی جس نے صحابۂ کرامؓ کو تاریخِ انسانیت کا مثالی گروہ بنا دیا۔
1/2
رسول اکرمﷺ کی ولادت کی تاریخ میں اختلاف ہوسکتا ہے، لیکن مہینہ ربیع الاول تھا، اس پر تقریباً تمام محققین کا اتفاق ہے۔
اسی لیے اس مہینے کا چاند نظر آتے ہی مسلمانوں کے دلوں میں خوشی کی لہر دوڑ جاتی ہے۔
آپﷺ کی آمد سے قبل جزیرۂ عرب کے حالات، ولادتِ باسعادت کے وقت پیش آنے والے غیر معمولی واقعات، آپﷺ کا بچپن اور جوانی، بعثت کے بعد کفارِ مکہ کی مخالفت، مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت، غزوات کا سلسلہ اور پھر تمام عداوتوں اور مخالفتوں کے باوجود فتحِ مکہ کا عظیم الشان واقعہ—غرض آپﷺ کی ذاتِ اقدس سے وابستہ نہ جانے کتنے واقعات ذہن میں گردش کرنے لگتے ہیں۔
تاریخِ انسانیت کی اس عدیم المثال ہستی کی آمد پر خوشی کے جذبات دل و دماغ میں مچلنے لگتے ہیں، اور یہ ہونا بھی چاہئے، اس لیے کہ آپﷺ دنیا کے عظیم ترین قانون داں، سپہ سالار، قائد اور مصلح بن کر آئے۔
◆ OVERSEAS POST | SPECIAL REPORT23 برس میں دلوں کا انقلاب — اہم نکات ⌄
- ✓بعثت سے پہلے عرب معاشرے میں شرک، بت پرستی، شراب نوشی، قتل و غارت اور دختر کشی جیسی خرابیاں پھیلی ہوئی تھیں۔
- ✓رسول اکرم ﷺ نے صرف 23 برس میں ایک گہرا اخلاقی، فکری اور سماجی انقلاب برپا کیا۔
- ✓یہ انقلاب عمارتوں اور بستیوں کا نہیں بلکہ دل، سوچ، فکر اور کردار بدلنے کا انقلاب تھا۔
- ✓جو لوگ لوٹ مار کرتے تھے وہ جان و مال کے محافظ بنے اور جنگ و عداوت کی جگہ امن و اخوت نے لی۔
- ✓مائیکل ایچ ہارٹ نے اپنی کتاب The 100 میں حضرت محمد ﷺ کو انسانی تاریخ کی سب سے مؤثر شخصیت قرار دیا۔
- ✓سیرتِ نبوی ﷺ کا اصل پیغام محض واقعات سننا نہیں بلکہ اسوۂ نبوی ﷺ کو زندگی میں اپنانا ہے۔
مخلوقات میں آپﷺ کی ہستی کا ثانی کوئی نہیں۔
صرف مسلمان مؤرخین نے ہی نہیں بلکہ متعدد انصاف پسند غیر مسلم مصنفین نے بھی آپﷺ کی غیر معمولی عظمت اور تاریخ پر آپ کے اثرات کا اعتراف کیا ہے۔
مزید پڑھیں
دنیا کی مؤثر ترین شخصیت
امریکا سے شائع ہونے والی معروف کتاب The 100 کے مصنف مائیکل ایچ ہارٹ نے انسانی تاریخ کی ایک سو ایسی شخصیات کا انتخاب کیا جنہوں نے، ان کے نزدیک، تاریخ پر سب سے زیادہ اثرات مرتب کئے۔
مصنف مذہبی اعتبار سے عیسائی پس منظر رکھتا ہے اور علمی طور پر سائنس سے وابستہ رہا، لیکن اس نے اپنی فہرست میں پہلے نمبر پر
نہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو رکھا اور نہ نیوٹن کو، بلکہ پیغمبرِ اسلام حضرت محمدﷺ کو دنیا کی سب سے مؤثر شخصیت قرار دیا۔
مصنف کے نزدیک حضرت محمدﷺ نے انسانی تاریخ پر جو وسیع اور ہمہ گیر اثرات مرتب کئے، وہ کسی دوسری مذہبی یا غیر مذہبی شخصیت کے حصے میں نہیں آئے۔
رسول اللہﷺ کی عظمت کا معاملہ صرف عقیدے تک محدود نہیں کہ آپﷺ پر ایمان لانے والے محبت و عقیدت کی بنیاد پر آپ کی عظمت تسلیم کرتے ہوں، بلکہ یہ ایک تاریخی حقیقت بھی ہے کہ انقلاب آفریں اوصاف و کمالات اور حیرت انگیز اثرات کا جو ظہور آپﷺ کی ذاتِ اقدس سے ہوا، پوری انسانی تاریخ میں اس کی مثال ملنا مشکل ہے۔
تاریخ کا کوئی انصاف پسند طالب علم اس حقیقت کا اعتراف کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔
i OVERSEAS POST | FACT BOX23 سالہ نبوی انقلاب: فیکٹ باکس ⌄
- مدتِ نبوی انقلاب
- 23 برس
- کتاب
- The 100
- مصنف
- مائیکل ایچ ہارٹ
- فہرست میں مقام
- پہلا نمبر
- مرکزی تبدیلی
- دل، فکر اور کردار کی اصلاح
- معاشرتی نتیجہ
- عدل، امن، اخوت اور انسانی احترام
- مضمون کا بنیادی پیغام
- سیرتِ نبوی ﷺ کو محض تاریخی تذکرہ نہیں بلکہ عملی اسوہ اور زندگی کا نمونہ بنایا جائے۔
جاہلیت سے انسانیت تک
ذرا بعثت سے قبل جزیرۂ عرب کے حالات پر غور کیجئے۔
سیرت نگاروں کے بیان کے مطابق شرک و بت پرستی، شراب نوشی، زناکاری، لوٹ کھسوٹ، قتل و غارت گری اور دختر کشی سمیت معاشرے میں متعدد سنگین برائیاں پھیلی ہوئی تھیں۔
انہی اخلاقی اور سماجی خرابیوں کے باعث اس دور کو زمانۂ جاہلیت کہا گیا اور آج تک اسے اسی نام سے یاد کیا جاتا ہے۔
لیکن جب رسول اکرمﷺ کی بعثت ہوئی تو صرف 23 سال کی مختصر مدت میں ایسا انقلاب برپا ہوا جس کی وسعت اور گہرائی پر عقل آج بھی حیران رہ جاتی ہے۔
پچھلے انبیائے کرام علیہم السلام مدتوں دعوت و تبلیغ کا فریضہ انجام دیتے رہے۔
کہیں چند لوگوں نے ایمان قبول کیا اور کہیں اس سے کچھ زیادہ، لیکن رسول اکرمﷺ نے تمام تکالیف، مشقتوں اور مخالفتوں کے باوجود اپنے مشن اور جدوجہد کو جاری رکھا۔
پھر دیکھتے ہی دیکھتے ایک ایسی اسلامی ریاست وجود میں آگئی جس میں عدل، انسانیت اور اخلاقی اقدار کو بنیادی حیثیت حاصل ہوئی۔
◎ OVERSEAS POST | ANALYSISیہ 23 سالہ انقلاب کیوں اہم ہے؟ ⌄
یہ تبدیلی صرف اقتدار یا جغرافیے کی نہیں تھی؛ اس نے انسان کے باطن سے لے کر پورے معاشرے کی ساخت تک کو بدل دیا۔
اگر کوئی شخص بعثت کے ابتدائی دور میں جزیرۂ عرب سے باہر چلا جاتا اور 23 سال بعد واپس آتا تو یہاں کے حالات، نظام اور لوگوں کے کردار کو دیکھ کر شاید اسے یقین کرنا مشکل ہوجاتا کہ یہ وہی سرزمین اور وہی معاشرہ ہے جسے وہ چھوڑ کر گیا تھا۔
کبھی یہاں قتل و قتال کے باعث جان، مال اور عزت و آبرو محفوظ نہیں تھے، مگر اب یہی معاشرہ ایک بالکل نئی اخلاقی اور انسانی شناخت اختیار کرچکا تھا۔
23 سال میں دلوں کا انقلاب
23 سال کا عرصہ بہت مختصر ہے۔
اتنی مدت کے لیے آج بھی لوگ کسی شہر یا ملک سے باہر جاتے ہیں اور واپسی پر عموماً کوئی ایسی حیرت انگیز تبدیلی نہیں دیکھتے۔
زیادہ سے زیادہ کچھ نئی عمارتیں تعمیر ہوجاتی ہیں، کہیں جنگل کی جگہ شہر یا کوئی نئی بستی آباد ہوجاتی ہے، مگر لوگوں کے مزاج، سوچ، رسم و رواج اور بنیادی رویوں میں اتنی بڑی تبدیلی شاذ ہی دکھائی دیتی ہے۔
رسول اکرمﷺ کا برپا کردہ انقلاب عمارتوں اور بستیوں کا انقلاب نہیں تھا، بلکہ دلوں کے بدلنے، افکار کی اصلاح اور سوچ و فکر کے تغیر کا انقلاب تھا۔
اور یہی انسانی زندگی کا سب سے مشکل مرحلہ ہے۔
لوگوں کے ذہن و فکر بدلے تو پورے جزیرۂ عرب کا ماحول بدل گیا۔
✓? OVERSEAS POST | BEFORE & AFTERبعثت سے پہلے اور 23 سال بعد ⌄
23 سال بعد
- توحید، جواب دہی اور مقصدِ زندگی کا واضح شعور۔
- جان، مال اور عزت و آبرو کی حرمت کا مضبوط تصور۔
- ایثار، اخوت، امانت اور کمزوروں کی مدد کا مزاج۔
- عورتوں اور محروم طبقات کے حقوق کی حفاظت۔
- عدل، امن اور اجتماعی ذمہ داری پر مبنی معاشرتی نظم۔
بعثت سے پہلے
- شرک و بت پرستی اور جاہلی رسوم کا غلبہ۔
- قبائلی انتقام، قتل و غارت اور مسلسل باہمی کشمکش۔
- لوٹ مار اور کمزور کی جان و مال کا غیر محفوظ ہونا۔
- عورتوں اور محروم طبقات کے حقوق کی پامالی۔
- طاقت، مفاد اور قبائلی برتری کو سماجی معیار سمجھا جانا۔
اس تبدیلی کی بنیاد رسول اکرم ﷺ کی تربیت، تعلیمات اور صحابۂ کرامؓ کے عملی التزام پر قائم ہوئی؛ اسی لیے مضمون اسے دلوں اور کردار کا انقلاب قرار دیتا ہے۔
جو لوگ کبھی لوٹ مار کرتے تھے وہ جان و مال کے محافظ بن گئے۔
جن سے دوسروں کو خطرہ محسوس ہوتا تھا وہ امن اور صلح کے داعی ہوگئے۔
جو دوسروں کے مال و دولت پر للچائی ہوئی نظر رکھتے تھے، وہ ایسے ایثار کرنے والے بنے کہ خود ضرورت مند ہونے کے باوجود دوسروں کو ترجیح دیتے تھے۔
جہاں عورتوں کی عصمت و عفت محفوظ نہ تھی وہاں پاکیزگی اور احترام کا ماحول قائم ہوا۔ انہی لوگوں کی تربیت ایسی ہوئی کہ وہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی مقدس جماعت بن گئے اور قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کی رضا کی بشارتوں کے مستحق قرار پائے۔
صحابۂ کرامؓ کے واقعات پڑھتے ہوئے انسان حیران رہ جاتا ہے کہ کیا یہ وہی معاشرہ تھا جس میں رسول اکرمﷺ نے اپنی دعوت کا آغاز کیا تھا؟
آپﷺ کی تربیت نے ایسے انسان تیار کئے جو آنے والی نسلوں کے لیے ہدایت، کردار اور قربانی کی روشن مثال بن گئے۔
1′ OVERSEAS POST | QUICK READایک منٹ میں پوری کہانی ⌄
بعثت سے پہلے جزیرۂ عرب متعدد اخلاقی اور سماجی خرابیوں میں گھرا ہوا تھا۔ رسول اکرم ﷺ نے صرف 23 برس میں ایسا انقلاب برپا کیا جس نے معاشرے کی سوچ، اقدار اور کردار بدل دیے۔
یہ تبدیلی شہروں اور عمارتوں کی نہیں بلکہ انسانوں کے دلوں کی تبدیلی تھی۔ لوٹ مار کرنے والے جان و مال کے محافظ، عداوت رکھنے والے امن کے داعی اور خود غرض لوگ ایثار و اخوت کی مثال بن گئے۔
مضمون کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ سیرتِ نبوی ﷺ کو صرف تاریخی واقعات یا جذباتی تذکرے تک محدود نہ رکھا جائے، بلکہ اسوۂ نبوی ﷺ کو عملی زندگی کا نمونہ بنایا جائے۔
بقول شاعر:
خود نہ تھے جو راہ پہ، اوروں کے ہادی بن گئے
کیا نظر تھی جس نے مردوں کو مسیحا کردیا
سیرت صرف بیان کرنے کے لیے نہیں
رسول اکرمﷺ کا تذکرہ دائمی ہے۔
ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ پورے سال اور پوری زندگی آپﷺ کی سیرت پڑھے، حیاتِ طیبہ کا ذکر کرے اور سب سے بڑھ کر اس پر عمل کرنے کی کوشش کرے۔
ماہِ ربیع الاول میں بالخصوص جب سیرت کے اجتماعات منعقد کئے جائیں تو ان میں آپﷺ کی ذاتِ اقدس کو اسوہ اور عملی نمونے کے طور پر لوگوں کے سامنے پیش کیا جانا چاہئے اور مسلمانوں کو عمل کا پیغام دیا جانا چاہئے، کیونکہ یہی مقصدِ رسالت اور یہی راہِ نجات ہے۔
(جاری ہے)