براہ راست نشریات

طالبان کے 5 سال: مفادات دنیا کو پھر کابل لے آئے

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
Taliban Government

افغانستان میں طالبان حکومت کے 5 سال مکمل ہوگئے۔
روس باضابطہ طور پر طالبان کو تسلیم کرچکا ہے جبکہ چین، بھارت، ایران اور یورپی ممالک اپنے سیاسی، اقتصادی اور سکیورٹی مفادات کے تحت کابل سے رابطے بڑھا رہے ہیں۔
اس کے باوجود خواتین کی تعلیم پر پابندی اور پاکستان سے کشیدگی طالبان کی عالمی قبولیت کو محدود کیے ہوئے ہے۔

OVERSEAS POST  |  PREMIUM LEAD STORY

15 اگست 2021 کو کابل پر طالبان حکومت کے 5 سال بعد افغانستان اب اس مکمل سفارتی تنہائی میں نہیں رہا جو امریکی افواج کے انخلا اور سابق حکومت کے خاتمے کے فوراً بعد پیدا ہوئی تھی۔ 

طالبان نے ریاستی اداروں پر اپنا کنٹرول مضبوط کر لیا ہے، پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات بڑھائے ہیں اور اس کے عہدیدار علاقائی اور بین الاقوامی اجلاسوں میں شرکت کر رہے ہیں۔

اس کے باوجود طالبان حکام کے ساتھ عملی سطح پر معاملات طے کرنے اور انہیں افغانستان کی قانونی حکومت تسلیم کرنے کے درمیان اب بھی ایک واضح فرق موجود ہے۔ 

روس کے سوا دنیا کا کوئی ملک طالبان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کرتا، حالانکہ اس کے ساتھ سیاسی، اقتصادی اور سکیورٹی رابطوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

ایک منٹ میں پوری کہانی

طالبان نے اگست 2021 میں کابل کا کنٹرول سنبھالا تھا۔ پانچ سال بعد وہ اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط کر چکے ہیں اور دنیا ان کے ساتھ دوبارہ رابطے بڑھا رہی ہے۔

روس طالبان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے والا پہلا ملک بن چکا ہے، جبکہ چین، بھارت، ایران، وسطی ایشیا اور یورپی ممالک سکیورٹی، تجارت اور ہجرت جیسے معاملات پر کابل سے بات کر رہے ہیں۔

بڑی رکاوٹ: خواتین کی تعلیم اور ملازمت پر پابندیاں، وسیع البنیاد حکومت کا فقدان اور پاکستان کے ساتھ سرحدی کشیدگی طالبان کی مکمل عالمی قبولیت کو روکے ہوئے ہیں۔

اقتدار میں واپسی کی پانچویں سالگرہ پر طالبان نے کابل میں تقریبات منعقد کیں، جن میں سابق امریکی سفارت خانے کے سامنے اجتماع بھی شامل تھا۔ 

طالبان رہنماؤں نے غیر ملکی افواج کے انخلا اور پورے ملک پر دوبارہ کنٹرول کو ایسی کامیابی قرار دیا جس نے کئی دہائیوں کی جنگ اور غیر ملکی مداخلت کا خاتمہ کیا۔

طالبان حکومت کے
5 سال بعد دنیا
کابل سے روابط
کیوں بڑھا رہی ہے

دوسری جانب اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیمیں ایک مختلف تصویر پیش کرتی ہیں۔ 
ان کے مطابق بعض علاقوں میں نسبتاً امن ضرور قائم ہوا، لیکن اس کے ساتھ شدید انسانی بحران، خواتین اور لڑکیوں پر بڑھتی پابندیاں، مسلح تنظیموں کے خطرات اور پاکستان کے ساتھ کشیدہ تعلقات بھی برقرار ہیں۔
جولائی 2025 میں ایک اہم سفارتی پیش رفت اس وقت ہوئی جب روس طالبان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے والا پہلا ملک بن گیا۔
ماسکو نے طالبان کے مقرر کردہ افغان سفیر کی اسناد قبول کر لیں۔
روسی وزارت خارجہ کے مطابق اس فیصلے سے سلامتی، انسداد دہشت گردی، منشیات کی روک تھام اور تجارت کے شعبوں میں تعاون کے نئے راستے کھلیں گے۔
بعد ازاں ماسکو نے کابل کے ساتھ جامع شراکت داری قائم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے خطے کے دیگر ممالک سے بھی افغان حکومت کے ساتھ روابط بڑھانے کی اپیل کی۔

رپورٹ کے اہم نکات
  • طالبان نے پانچ سال کے دوران ریاستی اداروں پر اپنا کنٹرول مستحکم کرلیا۔
  • روس واحد ملک ہے جس نے طالبان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا ہے۔
  • دیگر ممالک رسمی تسلیم کے بجائے عملی سفارتی اور اقتصادی روابط بڑھا رہے ہیں۔
  • عالمی رابطوں کی بنیاد نظریاتی حمایت نہیں بلکہ سلامتی، تجارت، معدنیات اور ہجرت کے مفادات ہیں۔
  • خواتین کی تعلیم پر پابندی طالبان کی عالمی قبولیت میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
  • پاکستان اور افغانستان کے تعلقات تعاون سے نکل کر سرحدی تصادم تک پہنچ چکے ہیں۔

تاہم روس کے فیصلے کے بعد عالمی سطح پر طالبان کو تسلیم کرنے کا کوئی سلسلہ شروع نہیں ہوا۔ 

چین، ایران، پاکستان، بھارت اور وسطی ایشیائی ممالک طالبان حکام کے ساتھ مختلف سطحوں پر رابطے تو رکھتے ہیں، لیکن انہوں نے ابھی تک انہیں مکمل قانونی حیثیت نہیں دی۔

یہ صورت حال دو الگ پالیسیوں کو ظاہر کرتی ہے: 

پہلی، طالبان حکومت کو قانونی طور پر تسلیم کرنا، اور دوسری، اسے افغانستان پر مؤثر کنٹرول رکھنے والی ایسی طاقت سمجھ کر معاملات طے کرنا جسے سرحد، تجارت، ہجرت اور دہشت گردی جیسے معاملات میں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

دنیا طالبان سے رابطہ کیوں کر رہی ہے؟

مختلف ممالک طالبان کے سیاسی نظام سے اتفاق کے بجائے اپنے قومی اور علاقائی مفادات کے تحت کابل واپس آ رہے ہیں۔ 

روس اور وسطی ایشیائی ریاستیں داعش اور دیگر مسلح تنظیموں کے خطرات کو اپنی سرحدوں تک پہنچنے سے روکنا چاہتی ہیں، جبکہ چین، افغانستان کو علاقائی تجارتی منصوبوں کی ایک اہم کڑی اور معدنی وسائل کا ممکنہ ذریعہ سمجھتا ہے۔

ایران کو افغان حکام کے ساتھ پناہ گزینوں، پانی، تجارت اور سرحدی سلامتی کے معاملات طے کرنا ہیں۔ 

دوسری طرف بھارت نے افغانستان میں اپنے پرانے مفادات کے تحفظ اور میدان کو مکمل طور پر چین اور پاکستان کے لیے نہ چھوڑنے کی خاطر طالبان سے روابط بڑھائے ہیں۔

یہ معاملہ کیوں اہم ہے؟

افغانستان وسطی اور جنوبی ایشیا کے سنگم پر واقع ہے۔ یہاں کا امن پاکستان، ایران، چین، روس اور خلیجی ممالک کی سلامتی، تجارت اور علاقائی رابطوں کو براہ راست متاثر کرتا ہے۔

طالبان کو تسلیم کیے بغیر اس کے ساتھ بڑھتا ہوا عالمی تعاون ایک نیا سفارتی نمونہ تشکیل دے رہا ہے: قانونی قبولیت کے بغیر عملی شراکت داری۔

سلامتیتجارتہجرتعلاقائی سیاست

جولائی 2026 میں افغانستان اور بھارت کی وزارت ہائے خارجہ کی مشترکہ کمیٹی کا اجلاس نئی دہلی میں ہوا، جس میں سلامتی، تجارت اور سیاسی تعاون پر بات چیت کی گئی۔ 

یہ پیش رفت دونوں ملکوں کے بڑھتے تعلقات کی اہم علامت ہے۔

طالبان کی پالیسیوں سے اختلاف رکھنے والے یورپی ممالک بھی بعض معاملات پر اس سے رابطہ کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ 

جون 2026 میں طالبان کے ایک وفد کو بیلجیئم کے ویزے دیئے گئے تاکہ وہ یورپی یونین کے ساتھ ہجرت اور مسترد شدہ افغان پناہ گزینوں کی واپسی پر ہونے والے اجلاس میں شریک ہو سکے۔

ان ملاقاتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ طالبان نے افغانستان کے جغرافیائی محل وقوع اور اس سے منسلک سکیورٹی اور انسانی بحرانوں کو ایسی مذاکراتی طاقت میں تبدیل کر لیا ہے جو دنیا کو اس کے ساتھ بات چیت پر مجبور کرتی ہے۔

طالبان کا مؤقف کیا ہے؟

طالبان حکومت مغربی تنقید کے مقابلے میں ایک مختلف بیانیہ پیش کرتی ہے۔ 

اس کا کہنا ہے کہ اس نے ملک میں وسیع جنگ ختم کی، بیشتر علاقوں میں امن بحال کیا، پوست کی کاشت کم کی، سرکاری محصولات میں اضافہ کیا اور افغان سرزمین کو دوسرے ممالک کے خلاف استعمال ہونے سے روکا۔

پاکستان کے لیے اس کا مطلب
  • اسلام آباد کو خدشہ ہے کہ تحریک طالبان پاکستان افغان سرزمین استعمال کر رہی ہے؛ کابل اس الزام کی تردید کرتا ہے۔
  • 2026 کی سرحدی لڑائی نے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا۔
  • مارچ کی جھڑپوں کے نتیجے میں سرحدی علاقوں سے تقریباً ایک لاکھ افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔
  • طالبان اور بھارت کے بڑھتے روابط پاکستان کے علاقائی خدشات میں اضافہ کر رہے ہیں۔
  • طویل کشیدگی تجارت، افغان مہاجرین اور سرحدی آبادیوں کے لیے مزید مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔

طالبان حکام یہ بھی کہتے ہیں کہ انہوں نے پانچ سالہ قومی ترقیاتی حکمت عملی شروع کی، برآمدات میں اضافہ کیا، کان کنی، توانائی اور بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری حاصل کی اور غیر ملکی امداد پر مکمل انحصار کے بجائے ملکی محصولات سے حکومتی اخراجات پورے کیے۔

افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی کے مطابق افغانستان سکیورٹی خطرات کا مرکز رہنے کے بجائے علاقائی استحکام اور اقتصادی رابطوں کا ممکنہ شراکت دار بن چکا ہے۔ 

طالبان حکومت منجمد افغان اثاثوں کی بحالی اور ان پابندیوں کے خاتمے کا بھی مطالبہ کرتی ہے جنہیں وہ ملکی ترقی میں رکاوٹ قرار دیتی ہے۔

تاہم طالبان کے اقتصادی دعوؤں کا آزادانہ جائزہ ضروری ہے، کیونکہ ملک میں غربت، روزگار کے محدود مواقع، غیر ملکی امداد میں کمی اور لاکھوں افراد کا انسانی امداد پر انحصار اب بھی برقرار ہے۔

خواتین کا مسئلہ عالمی تسلیم کی راہ میں رکاوٹ

خواتین اور لڑکیوں کی صورت حال طالبان حکومت کو عالمی سطح پر تسلیم کیے جانے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ 

افغانستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں لڑکیوں کو سرکاری طور پر ثانوی اور اعلیٰ تعلیم سے محروم کر دیا گیا ہے۔

آگے کے تین ممکنہ منظرنامے
  1. عملی روابط جاری: ممالک تجارت اور سلامتی کے معاملات پر طالبان سے تعاون بڑھائیں، لیکن رسمی تسلیم مؤخر رکھیں۔
  2. محدود علاقائی قبولیت: ایک یا دو ممالک اقتصادی مفادات کی بنیاد پر روس کی پیروی کرتے ہوئے طالبان کو تسلیم کرلیں۔
  3. دوبارہ تنہائی: پاکستان سے جنگ، مسلح گروہوں کی سرگرمیوں یا خواتین پر نئی پابندیوں کے باعث عالمی روابط محدود ہوجائیں۔

سلامتی کونسل میں پیش کردہ یونیسیف کے اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ 5 سال کے دوران 26 لاکھ سے زیادہ افغان لڑکیاں ثانوی تعلیم سے محروم ہوئی ہیں۔ 

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خواتین نے بھی طالبان حکومت کے ایسے 100 سے زیادہ احکامات اور ہدایات ریکارڈ کی ہیں جنہوں نے خواتین کی تعلیم، ملازمت، نقل و حرکت اور عوامی زندگی میں شرکت کو متاثر کیا۔

طالبان کا مؤقف ہے کہ خواتین کے حقوق کا تعین اسلامی شریعت اور افغان ثقافت کے مطابق کیا جا رہا ہے اور بعض پابندیاں مناسب حالات پیدا ہونے تک عارضی ہیں۔ 

لیکن مسلسل اسلامی اور بین الاقوامی مطالبات کے باوجود طالبان نے لڑکیوں کے اسکول اور جامعات دوبارہ کھولنے کا کوئی نظام الاوقات پیش نہیں کیا۔

انسانی حقوق کے کارکنوں کو خدشہ ہے کہ بڑھتے ہوئے عالمی رابطے ایسے عمل میں تبدیل ہو سکتے ہیں جس کے تحت طالبان کو سیاسی اور اقتصادی فوائد تو مل جائیں، لیکن اسے اپنی داخلی پالیسیوں میں تبدیلی نہ کرنا پڑے۔ 

پاکستان؛ قریبی تعلق سے سرحدی تصادم تک

پاکستان کے ساتھ تعلق طالبان حکومت کے لیے سب سے مشکل علاقائی مسئلہ بن چکا ہے۔ 2021 میں بہت سے مبصرین کا خیال تھا کہ طالبان کی واپسی سے اسلام آباد کا افغانستان میں اثرورسوخ بڑھے گا اور اس کی مغربی سرحد زیادہ محفوظ ہو جائے گی، لیکن عملی نتائج اس کے برعکس نکلے۔

کیا ثابت ہے، کیا ابھی واضح نہیں؟

تصدیق شدہ: روس طالبان حکومت کو رسمی طور پر تسلیم کرچکا ہے، مختلف ممالک کابل سے رابطے بڑھا رہے ہیں اور 26 لاکھ سے زیادہ افغان لڑکیاں ثانوی تعلیم سے محروم ہیں۔

ابھی واضح نہیں: کون سا ملک روس کے بعد طالبان کو تسلیم کرے گا، پاکستان سے مستقل امن کب قائم ہوگا اور لڑکیوں کے اسکول اور جامعات کب دوبارہ کھلیں گے۔

پاکستان کا الزام ہے کہ افغان طالبان حکومت تحریک طالبان پاکستان کے جنگجوؤں کو افغان سرزمین پر پناہ دے رہی ہے، جہاں سے وہ پاکستان کے اندر حملے کرتے ہیں۔ 

کابل اس الزام کی تردید کرتے ہوئے کہتا ہے کہ پاکستان کے داخلی سکیورٹی مسائل کی ذمہ داری افغانستان پر عائد نہیں کی جا سکتی۔

2026 کے دوران یہ اختلاف وسیع سرحدی جھڑپوں میں تبدیل ہوگیا، جن میں اقوام متحدہ کے مطابق سیکڑوں شہری ہلاک اور زخمی ہوئے۔ 

مارچ میں ہونے والی لڑائی کے نتیجے میں سرحدی علاقوں سے تقریباً ایک لاکھ افراد کو نقل مکانی کرنا پڑی۔

طالبان اور بھارت کے بڑھتے ہوئے روابط نے بھی اسلام آباد کی تشویش میں اضافہ کیا ہے۔ پاکستان کو خدشہ ہے کہ افغانستان میں اس کا روایتی اثرورسوخ کم ہو کر اس کے علاقائی حریف بھارت کے لیے جگہ پیدا کر رہا ہے۔

آگے کیا ہو سکتا ہے؟ تین ممکنہ منظرنامے

پہلا منظرنامہ: عملی رابطوں کا سلسلہ جاری رہے گا

یہ سب سے زیادہ ممکنہ صورت حال ہے۔ 

ممالک طالبان کے ساتھ اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات بڑھاتے رہیں گے، لیکن خواتین کے حقوق اور وسیع البنیاد حکومت کی عدم موجودگی کے باعث رسمی سفارتی تسلیم مؤخر رہے گی۔

اوورسیز پوسٹ ایپ
کیسے استعمال کریں؟ مکمل رہنمائی کے لیے کلک کریں
📱
☝️

دوسرا منظرنامہ: چند علاقائی ممالک طالبان کو تسلیم کرلیں

اگر افغانستان میں امن بہتر ہوا اور بڑے اقتصادی مفادات سامنے آئے تو ایک یا دو علاقائی ممالک روس کی پیروی کر سکتے ہیں۔ 

تاہم اس سے طالبان کو لازمی طور پر وسیع مغربی یا عالمی قبولیت حاصل نہیں ہوگی۔

تیسرا منظرنامہ: دوبارہ تنہائی اور علاقائی کشیدگی

اگر پاکستان کے ساتھ جنگ میں وسعت آئی، مسلح تنظیموں کی سرگرمیاں بڑھیں یا طالبان نے خواتین پر مزید پابندیاں عائد کیں تو عالمی روابط دوبارہ محدود اور افغانستان کی سیاسی تنہائی مزید گہری ہو سکتی ہے۔

5 سال بعد طالبان اقتدار برقرار رکھنے کی جنگ جیت چکی ہے اور اس نے خود کو ایسی قوت کے طور پر منوا لیا ہے جسے نظرانداز کرنا ممکن نہیں۔ لیکن قانونی اور عالمی قبولیت کی جنگ ابھی باقی ہے۔

دنیا اپنے مفادات اور سکیورٹی ضروریات کے تحت بتدریج کابل کی دہلیز پر واپس آ رہی ہے، مگر افغانستان کی لاکھوں خواتین اور لڑکیوں کے لیے اسکولوں، جامعات اور عوامی زندگی کے دروازے اب بھی بند ہیں۔

رپورٹ کے بنیادی ذرائع