عالمی ادارۂ صحت کے مطابق ٹریفک حادثات سالانہ 11 لاکھ 60 ہزار افراد کی جان لے رہے ہیں۔
پاکستان میں 2021 کی سرکاری تعداد 5,816 تھی، مگر عالمی ادارے نے 27,568 اموات کا تخمینہ لگایا۔
سعودی عرب میں 2024 کے دوران 17,231 سنگین حادثات میں 4,282 افراد ہلاک اور 24,077 زخمی ہوئے۔
گولی کو موت کی ایک واضح علامت سمجھا جاتا ہے، لیکن سڑک پر دوڑتی گاڑی کا خطرہ اکثر ہماری نظروں سے اوجھل رہتا ہے۔
گاڑی سفر، روزگار اور سہولت کا ذریعہ ہے، مگر تیز رفتاری، موبائل فون، تھکاوٹ، غیر محفوظ سڑک، ناقص گاڑی یا حفاظتی قوانین پر کمزور عمل درآمد اسے چند لمحوں میں جان لیوا ہتھیار بنا سکتا ہے۔
عالمی، پاکستانی اور سعودی اعداد کو ایک ساتھ رکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ٹریفک حادثات محض اتفاقی واقعات نہیں بلکہ صحتِ عامہ کا ایک مسلسل بحران ہیں۔
دنیا میں ہر 27 سیکنڈ بعد ایک موت
عالمی ادارۂ صحت کی 20 جولائی 2026 کو تازہ کردہ معلومات کے مطابق دنیا بھر میں ٹریفک حادثات سالانہ تقریباً 11 لاکھ 60 ہزار جانیں لے رہے ہیں۔
یہ یومیہ قریب 3,178، ہر گھنٹے 132 اور تقریباً ہر 27 سیکنڈ میں ایک موت بنتی ہے۔
اس کے علاوہ ہر سال دو کروڑ سے 5 کروڑ افراد ایسے حادثات میں زخمی ہوتے ہیں اور ان میں سے بہت سے مستقل معذوری کا شکار ہو جاتے ہیں۔
مزید پڑھیں
یہ بحران سب پر یکساں اثر انداز نہیں ہوتا۔
دنیا کی تقریباً 60 فیصد گاڑیاں کم اور متوسط آمدنی والے ممالک میں ہیں، مگر عالمی سڑک اموات کا 92 فیصد انہی ملکوں میں واقع ہوتا ہے۔
نصف سے زیادہ ہلاک شدگان پیدل چلنے والے، سائیکل سوار اور موٹر سائیکل سوار ہوتے ہیں، جبکہ 5 سے 29 سال کی عمر کے بچوں اور نوجوانوں میں سڑک حادثات موت کی سب سے بڑی وجہ ہیں۔
دو تہائی اموات 18 سے 59 سال کے کام کرنے کی عمر رکھنے والے افراد کی ہوتی ہیں۔
اس لیے ایک حادثہ صرف ایک جان نہیں لیتا بلکہ خاندان کی آمدن اور مستقبل بھی متاثر کرتا ہے۔
عالمی ادارۂ صحت کے مطابق ٹریفک حادثات کی معاشی قیمت بیشتر ملکوں کی مجموعی قومی پیداوار کے تقریباً 3 فیصد کے برابر ہے۔
ایک منٹ میں کہانی
دنیا میں ہر 27 سیکنڈ بعد ایک شخص سڑک حادثے میں جان کھو رہا ہے۔ پاکستان میں عالمی ادارۂ صحت کا تخمینہ سرکاری ریکارڈ سے تقریباً پانچ گنا زیادہ ہے، جبکہ سعودی عرب میں 2024 کے دوران روزانہ قریب 12 اموات ریکارڈ ہوئیں۔ رفتار، موبائل فون، غیر محفوظ سڑک اور حفاظتی قوانین کی خلاف ورزی گاڑی کو چند لمحوں میں جان لیوا ہتھیار بنا سکتی ہے۔
دستیاب عالمی تحقیقی جائزوں میں 2019 کے دوران آتشیں اسلحے سے ڈھائی لاکھ سے زیادہ اموات کا ذکر ملتا ہے۔
اس کے مقابلے میں سڑکوں پر سالانہ اموات 4 گنا سے بھی زیادہ ہیں۔
تاہم یہ اعداد مختلف برسوں اور الگ طریقۂ شمار سے حاصل ہوئے ہیں۔
اس لیے ان کا مقصد کسی ایک گاڑی کو بندوق سے زیادہ خطرناک قرار دینا نہیں، اصل حقیقت یہ ہے کہ روزمرہ زندگی کا مانوس ذریعہ مجموعی طور پر کہیں زیادہ جانیں لے رہا ہے۔
پاکستان: ایک ملک، اموات کے دو مختلف اعداد
پاکستان میں سب سے بڑا مسئلہ حادثات کے ساتھ ساتھ ان کی نامکمل رپورٹنگ بھی ہے۔
عالمی ادارۂ صحت کے پاکستان کنٹری پروفائل کے مطابق 2021 میں حکام کے پاس 5,816 ٹریفک اموات درج ہوئیں، لیکن ادارے نے اسی سال کی تخمینی تعداد 27,568 بتائی، یعنی سرکاری ریکارڈ سے تقریباً 4.7 گنا زیادہ۔
اس تخمینے کی نچلی حد 23,854 اور بالائی حد 31,282 تھی، جبکہ شرح 11.9 اموات فی ایک لاکھ آبادی بنتی ہے۔
مرکزی تخمینے کے مطابق پاکستان میں روزانہ تقریباً 76 افراد، یا ہر 19 منٹ میں ایک شخص، سڑک حادثے میں جان کھو رہا تھا۔
پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے سرکاری ریکارڈ کے مطابق مالی سال 2022-23 میں 9,008 حادثات رپورٹ ہوئے اور 5,286 افراد ہلاک ہوئے۔
یہ اعداد صرف پولیس یا متعلقہ سرکاری نظام تک پہنچنے والے واقعات کی نمائندگی کرتے ہیں۔ دور دراز علاقوں کے حادثات، اسپتال پہنچنے کے بعد ہونے والی اموات، پولیس میں مقدمہ درج نہ ہونے اور صوبائی ڈیٹا نظاموں کے فرق کی وجہ سے اصل تعداد کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
یہی سبب ہے کہ کسی رپورٹ میں صرف 5,286 کو پاکستان کی مکمل سالانہ ٹریفک ہلاکتیں کہنا گمراہ کن ہوگا۔
پاکستان میں خطرہ خاص طور پر سڑک کے غیر محفوظ استعمال کنندگان کے لیے شدید ہے۔ 2021 میں رپورٹ شدہ اموات کی تقسیم کے مطابق 41 فیصد ہلاک شدگان پیدل چلنے والے اور 39 فیصد موٹر سائیکل یا تین پہیوں والی گاڑیوں کے سوار تھے۔
یوں ہر پانچ میں سے چار اموات انہی دو زمروں میں ہوئیں۔
اسی سال ملک میں 3 کروڑ 43 لاکھ سے زیادہ رجسٹرڈ گاڑیاں تھیں، جن میں 2 کروڑ 72 لاکھ سے زیادہ، یعنی تقریباً 80 فیصد، موٹر سائیکلیں اور تین پہیوں والی گاڑیاں تھیں۔
ہیلمٹ کے کم استعمال، غیر محفوظ کراسنگ، فٹ پاتھوں کی کمی، تیز رفتار ٹریفک اور حادثے کے بعد طبی امداد میں تاخیر کا مجموعہ معمولی غلطی کو مہلک بنا دیتا ہے۔
سعودی عرب: بہتری کے باوجود روزانہ قریب 12 اموات
سعودی عرب کے 2024 کے سرکاری اعداد زیادہ منظم اور نسبتاً تازہ تصویر پیش کرتے ہیں۔
جنرل اتھارٹی فار اسٹیٹسٹکس کے مطابق مملکت میں 17,231 سنگین ٹریفک حادثات ہوئے، جن میں 4,282 افراد ہلاک اور 24,077 زخمی ہوئے۔
اس طرح روزانہ اوسطاً 47 سنگین حادثات، قریب 12 اموات اور 66 زخمی بنتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں تقریباً ہر دو گھنٹے بعد ایک جان ضائع ہوئی۔
دنیا میں سڑک حادثات کا جانی نقصان
مثبت پہلو یہ ہے کہ فی ایک لاکھ آبادی اموات کی شرح 2023 کے مقابلے میں 7.1 فیصد کم ہو کر 12.13 رہ گئی، جبکہ زخمیوں کی شرح 3.8 فیصد کم ہو کر 68.21 فی ایک لاکھ ہو گئی۔
مجموعی اموات بھی 2023 کی 4,423 سے کم ہو کر 4,282 ہوئیں۔
تاہم سنگین حادثات 16,534 سے بڑھ کر 17,231 اور زخمی 24,002 سے بڑھ کر 24,077 ہو گئے۔
مزید یہ کہ 60.3 فیصد سنگین حادثات شہروں کے اندر پیش آئے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسئلہ صرف طویل شاہراہوں یا صحرائی راستوں تک محدود نہیں۔
2024 کے اختتام پر سعودی عرب میں زیرِ استعمال اور کارآمد رجسٹرڈ گاڑیوں کی تعداد ایک کروڑ 58 لاکھ تک پہنچ چکی تھی۔
کیا پاکستان اور سعودی عرب کی شرح برابر ہے؟
پاکستان کی عالمی ادارۂ صحت والی شرح 11.9 اور سعودی عرب کی سرکاری شرح 12.13 بظاہر قریب دکھائی دیتی ہیں، لیکن ان سے براہِ راست درجہ بندی نہیں کی جا سکتی۔
پاکستانی عدد 2021 کا عالمی ادارۂ صحت کا تخمینہ ہے، جبکہ سعودی عدد 2024 کے انتظامی ریکارڈ پر مبنی ہے۔
دونوں ملکوں میں ڈیٹا جمع کرنے اور حادثات درج کرنے کی صلاحیت بھی مختلف ہے۔
پاکستان: سرکاری ریکارڈ اور تخمینے میں بڑا فرق
مرکزی تخمینے کے مطابق پاکستان میں روزانہ تقریباً 76 افراد، یعنی ہر 19 منٹ میں ایک شخص، سڑک حادثے میں جان کھو رہا تھا۔
درست نتیجہ یہ ہے کہ پاکستان میں مجموعی جانی نقصان اور کمزور رپورٹنگ بہت بڑا مسئلہ ہے، جبکہ سعودی عرب میں بہتر نگرانی اور شرح میں کمی کے باوجود حادثات کی روزانہ انسانی قیمت اب بھی بھاری ہے۔
رفتار گاڑی کو ہتھیار کیسے بناتی ہے؟
عالمی ادارۂ صحت کے مطابق اوسط رفتار میں ہر ایک فیصد اضافہ مہلک حادثے کے خطرے کو 4 فیصد اور سنگین حادثے کے خطرے کو 3 فیصد بڑھاتا ہے۔
کسی پیدل شخص کو ٹکر مارنے والی گاڑی کی رفتار 50 سے بڑھ کر 65 کلومیٹر فی گھنٹہ ہو جائے تو اس کے مرنے کا خطرہ 4.5 گنا ہو جاتا ہے۔
موبائل فون استعمال کرنے والا ڈرائیور حادثے میں ملوث ہونے کے اعتبار سے تقریباً چار گنا زیادہ خطرے میں ہوتا ہے۔ ہینڈز فری فون بھی خاصا محفوظ متبادل نہیں۔
حفاظتی اقدامات کے نتائج بھی واضح ہیں۔ درست ہیلمٹ موت کے خطرے کو چھ گنا سے زیادہ اور دماغی چوٹ کے خطرے کو 74 فیصد تک کم کر سکتا ہے۔
سعودی عرب: بہتری کے باوجود بھاری جانی قیمت
روزانہ اوسطاً قریب 12 اموات ہوئیں۔ پاکستان اور سعودی عرب کے اعداد مختلف برسوں اور الگ طریقۂ شمار پر مبنی ہیں، اس لیے براہِ راست درجہ بندی درست نہیں۔
سیٹ بیلٹ گاڑی میں موجود افراد کے مرنے کا خطرہ 50 فیصد تک گھٹا سکتی ہے، جبکہ بچوں کی موزوں حفاظتی نشست شیر خوار بچوں کی اموات میں 71 فیصد تک کمی لا سکتی ہے۔
رفتار پر مؤثر نگرانی، پیدل افراد کے لیے محفوظ راستے، موٹر سائیکل سواروں کے لیے معیاری ہیلمٹ، بچوں کی نشست، گاڑیوں کی تکنیکی جانچ اور حادثے کے فوراً بعد طبی امداد ایسی پالیسیاں ہیں جو ہزاروں جانیں بچا سکتی ہیں۔
اصل سبق
سڑک پر موت ہمیشہ اچانک آتی ہے، لیکن اس کے اسباب اکثر پہلے سے معلوم ہوتے ہیں۔
پاکستان میں اصل ترجیح قومی سطح پر مربوط ڈیٹا، موٹر سائیکل اور پیدل افراد کا تحفظ، ہیلمٹ اور رفتار کے قوانین کا نفاذ اور فوری طبی امداد ہونی چاہئے۔
سعودی عرب میں شرحِ اموات میں کمی حوصلہ افزا ہے، مگر شہروں کے اندر ہونے والے حادثات، بڑھتی گاڑیوں اور سنگین حادثات کی تعداد پر مسلسل توجہ ضروری ہے۔
گاڑی بذاتِ خود قاتل نہیں، رفتار، غفلت، کمزور حفاظتی نظام اور چند سیکنڈ کا غلط فیصلہ اسے ہتھیار بنا دیتے ہیں۔
گولی چلنے کی آواز سب کو سنائی دیتی ہے، مگر سڑکوں پر جاری یہ خاموش بحران ہر 27 سیکنڈ بعد دنیا کے کسی نہ کسی گھر کو سوگوار کر رہا ہے۔