براہ راست نشریات

ترازو دھوکا دے سکتا ہے: کمر کا گھیراؤ دل کے خطرے کی بڑی نشانی

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
Waist circumference heart risk

ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ صرف باڈی ماس انڈیکس دل کی بیماری کے خطرے کا مکمل اندازہ نہیں دیتا۔ کمر کا گھیراؤ اور کمر و کولہے کا تناسب جسم میں چربی کی جگہ واضح کرکے خطرے کی بہتر نشاندہی کرسکتے ہیں۔ نارمل یا زیادہ وزن کے ساتھ پیٹ کی اضافی چربی رکھنے والوں میں بیشتر قلبی نتائج کا خطرہ 15 سے 50 فیصد زیادہ پایا گیا۔

بظاہر نارمل وزن رکھنے والا شخص بھی دل کی بیماری کے خطرے سے دوچار ہوسکتا ہے، اگر اس کے پیٹ کے گرد چربی زیادہ جمع ہو۔ 

ایک نئی وسیع تحقیق کے مطابق باڈی ماس انڈیکس، یعنی بی ایم آئی، کے ساتھ کمر کے گھیراؤ اور کمر و کولہے کے تناسب کو دیکھا جائے تو قلبی خطرات کا زیادہ درست اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

یہ تحقیق 11 اگست 2026 کو امریکن کالج آف کارڈیالوجی کے طبی جریدے JACC میں شائع ہوئی۔ 

محققین نے 15 طویل مدتی مطالعات میں شامل 259,388 بالغ افراد کے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا۔ 

اہم نکات: کمر کا گھیراؤ اور دل کا خطرہ +
  • تحقیق میں 259,388 بالغ افراد کے اعداد و شمار شامل کیے گئے۔
  • شرکا کی اوسطاً 20 سال تک نگرانی کی گئی۔
  • پیٹ کی اضافی چربی کے ساتھ بیشتر قلبی نتائج کا خطرہ 15 سے 50 فیصد زیادہ پایا گیا۔
  • نارمل بی ایم آئی ہمیشہ کم خطرے کی ضمانت نہیں؛ چربی کہاں جمع ہے، یہ بھی اہم ہے۔

شرکا کو ابتدا میں دل کی شریانوں کی بیماری لاحق نہیں تھی اور ان کی اوسطاً 20 سال نگرانی کی گئی۔ نو قلبی اور امواتی نتائج کا جائزہ لیا گیا۔

مزید پڑھیں

وزن نارمل، خطرہ پھر بھی زیادہ

تحقیق میں معلوم ہوا کہ بی ایم آئی کے مطابق نارمل وزن رکھنے والوں میں بھی 5 فیصد کا کمر کا گھیراؤ زیادہ تھا، جبکہ 18 فیصد میں کمر اور کولہے کا تناسب مقررہ حد سے بلند تھا۔ 

زیادہ وزن والے افراد میں یہ شرح بالترتیب 39 اور 40 فیصد رہی۔

نارمل یا زیادہ وزن رکھنے والے جن افراد کے پیٹ کے گرد چربی زیادہ

 تھی، ان میں بیشتر قلبی نتائج کا خطرہ 15 سے 50 فیصد تک زیادہ پایا گیا۔ 

اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر بڑے پیٹ والا شخص لازماً دل کا مریض بن جائے گا، نتیجہ یہ بتاتا ہے کہ یکساں بی ایم آئی رکھنے والے دو افراد کا خطرہ جسم میں چربی کی جگہ کے لحاظ سے مختلف ہوسکتا ہے۔

بی ایم آئی کہاں دھوکا دے سکتا ہے؟

بی ایم آئی وزن کو قد کے مربع پر تقسیم کرکے نکالا جاتا ہے۔ 

یہ مفید پیمانہ ہے، لیکن نہیں بتاتا کہ وزن میں چربی کتنی، پٹھے کتنے اور چربی کہاں جمع ہے۔ پیٹ کے اندرونی اعضا کے گرد موجود ’وسرل فیٹ‘ کا دل کی بیماری، ذیابیطس اور دوسری میٹابولک خرابیوں سے زیادہ مضبوط تعلق ہے۔ 

اسی لیے بی ایم آئی نارمل ہونے کے باوجود قلبی خطرہ بلند ہوسکتا ہے۔ 

فیکٹ باکس: تحقیق ایک نظر میں +
طبی جریدہجرنل آف دی امریکن کالج آف کارڈیالوجی، JACC
اشاعت11 اگست 2026
شرکا259,388 بالغ افراد، 15 طویل مدتی مطالعات
مدتِ نگرانیاوسطاً 20 سال
جائزہدل کا دورہ، فالج، ہارٹ فیل ہونے، بے ترتیب دھڑکن اور اموات سمیت نو نتائج
تحقیق کی نوعیتمشاہداتی؛ تعلق ثابت ہوا، براہِ راست وجہ نہیں

گھر پر کمر کیسے ناپیں؟

عالمی ادارۂ صحت کے مطابق سیدھے کھڑے ہوکر آخری محسوس ہونے والی پسلی اور کولہے کی اوپری ہڈی کے درمیان درمیانی مقام تلاش کریں۔ 

نرم فیتہ کمر کے گرد زمین کے متوازی رکھیں، پیٹ اندر نہ کھینچیں اور معمول کا سانس خارج کرنے کے بعد پیمائش لیں۔ فیتہ جسم سے لگا ہو لیکن جلد کو دبائے نہیں۔

کمر و کولہے کا تناسب جاننے کے لیے کولہوں کے سب سے چوڑے حصے کی پیمائش کریں، پھر کمر کا عدد کولہے کے عدد پر تقسیم کردیں۔

کس حد پر توجہ ضروری ہے؟

تحقیق میں بلند کمر کی حد مردوں کے لیے 102 سینٹی میٹر سے زیادہ اور خواتین کے لیے 88 سینٹی میٹر سے زیادہ رکھی گئی۔ 

کمر و کولہے کا بلند تناسب مردوں میں 0.90 اور خواتین میں 0.85 سے زیادہ تھا۔

البتہ پاکستانیوں سمیت جنوبی ایشیائی افراد میں نسبتاً کم کمر پر بھی میٹابولک خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ انٹرنیشنل ڈائبیٹیز فیڈریشن جنوبی ایشیائی مردوں کے لیے 90 اور خواتین کے لیے 80 سینٹی میٹر کی حد استعمال کرتی ہے۔ 

یہ اعداد حتمی تشخیص نہیں بلکہ مزید طبی جانچ کی ضرورت کا اشارہ ہیں۔

گھر پر کمر درست طریقے سے کیسے ناپیں؟ +
1سیدھے کھڑے ہوں اور آخری محسوس ہونے والی پسلی اور کولہے کی اوپری ہڈی کے درمیان درمیانی مقام تلاش کریں۔
2نرم فیتہ کمر کے گرد زمین کے متوازی رکھیں؛ پیٹ اندر نہ کھینچیں اور فیتہ جلد کو نہ دبائے۔
3معمول کا سانس خارج کرنے کے بعد پیمائش لیں۔ کولہوں کی پیمائش سب سے چوڑے حصے سے کریں۔
4کمر و کولہے کا تناسب معلوم کرنے کے لیے کمر کا عدد کولہے کے عدد پر تقسیم کریں۔
درست موازنہ کے لیے ہر مرتبہ ایک ہی مقام اور ایک ہی طریقۂ پیمائش استعمال کریں۔

کمر زیادہ ہو تو کیا کریں؟

پیمائش حد سے زیادہ آئے تو گھبرانے یا خود سے دوا لینے کے بجائے ڈاکٹر سے مجموعی قلبی خطرے کا جائزہ لیں۔ 

بلڈ پریشر، فاسٹنگ شوگر یا HbA1c، کولیسٹرول، تمباکو نوشی، خاندانی تاریخ اور جسمانی سرگرمی بھی اہم ہیں۔ متوازن غذا، باقاعدہ ورزش، مناسب نیند، تمباکو سے اجتناب اور بتدریج وزن میں کمی کمر اور مجموعی خطرہ کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔

تحقیق کی کچھ حدود ہیں۔ 

غذا، جسمانی سرگرمی اور موٹاپے کے جینیاتی عوامل کی مکمل معلومات دستیاب نہیں تھیں، جبکہ کمر اور کولہے کی پیمائش صرف ایک مرتبہ کی گئی۔ 

یہ مشاہداتی تحقیق ہے، اس نے تعلق دکھایا ہے، براہِ راست وجہ ثابت نہیں کی۔ 

بنیادی سبق یہ ہے کہ ترازو کا عدد اکیلا کافی نہیں، وزن کے ساتھ کمر کا گھیراؤ بھی دل کی صحت کی تصویر کا اہم حصہ ہے۔

رپورٹ کے اصل اور بنیادی ذرائع +