عالمی مالیاتی منڈی میں اس وقت ایک خاموش مگر اہم تبدیلی جنم لے رہی ہے۔
مزید پڑھیں
ایشیا کی ابھرتی ہوئی معیشتیں اپنی کرنسیوں کو بچانے کے لیے اب صرف زرمبادلہ کے ذخائر پر انحصار نہیں کر رہیں، بلکہ بھارت سے جنوبی کوریا اور انڈونیشیا تک مرکزی بینکس ڈالر ملک میں لانے کے نئے راستے تلاش کر رہے ہیں۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق اس اہم اور غیر معمولی تبدیلی کے پیچھے 2 بڑے خطرات ہیں۔
🛡️
ڈالر کا توڑ: ایشیا کے نئے ہتھیار
حکمتِ عملی
انڈیا: نان ریذیڈنٹ ڈپازٹس ($40B)
بیرونِ ملک مقیم شہریوں کے لیے نان ریذیڈنٹ ڈپازٹ اسکیموں پر بلند منافع کی پیشکش کر کے 40 ارب ڈالر کا اضافی سرمایہ ملک میں لایا گیا۔
جنوبی کوریا: کارپوریٹ ڈالر کی واپسی
بڑی مقامی کمپنیوں کو بیرونِ ملک کمائے گئے منافع جات کو واپس لا کر مقامی منڈی میں فروخت کرنے پر مراعات دی گئیں جس سے وون کی قدر سنبھلی۔
انڈونیشیا: بانڈ مراعات ($1.6B)
غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے مخصوص بانڈز پر پرکشش منافع اور ٹیکس چھوٹ دے کر دو ماہ میں 1.6 ارب ڈالر کھینچے گئے۔
تائیوان: ایکوائرنگ ایکسپورٹ فیول
مقامی برآمد کنندگان پر زور دیا گیا کہ وہ اپنی ڈالر آمدن کو غیر ملکی ہولڈنگز میں رکھنے کے بجائے مقامی کرنسی مارکیٹ میں مائع بنائیں۔
ایک یہ کہ مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی نے تیل مہنگا کیا ہے، جبکہ امریکی شرحِ سود طویل عرصے تک بلند رہنے کا امکان ڈالر کو طاقت دے رہا ہے۔
تیل درآمد کرنے والے ایشیائی ممالک کے لیے یہ دونوں دباؤ ایک ساتھ مشکل پیدا کر رہے ہیں۔
کرنسیوں کا دفاع: ایشیائی ممالک کا نیا معاشی ہتھیار
ایشیا کی ابھرتی ہوئی معیشتیں زرمبادلہ ذخائر خرچ کرنے کے بجائے ڈالرز کھینچنے کی نئی حکمت عملی پر گامزن ہیں
ایشیاء میں مرکزی بینکس ذخائر فروخت کرنے کی روایتی پالیسی کے بجائے غیر ملکی سرمائے کو متوجہ کر کے کرنسی مستحکم کرنے کا نیا طریقہ کار اپنا رہے ہیں۔
بھارت نے بیرون ملک مقیم شہریوں کے لیے کشش والے ڈپازٹس متعارف کروا کر اربوں ڈالر حاصل کیے، جس نے روپیہ سنبھالا۔
مشرق وسطیٰ کشیدگی اور مہنگے تیل کے باعث انڈیا، انڈونیشیا اور فلپائن سمیت کئی ممالک کے ذخائر میں نمایاں کمی آئی۔
غیر ملکی سرمایہ کاروں کو خصوصی مراعات دے کر محض ۲ ماہ کے قلیل عرصے میں اربوں ڈالر کی ترسیلات کو یقینی بنایا گیا۔
بلومبرگ کی ۲۲ ابھرتی ہوئی مارکیٹوں کی درجہ بندی میں ۵ سب سے زیادہ دباؤ کا شکار کرنسیاں ایشیائی خطے سے تعلق رکھتی ہیں۔
اوورسیز پوسٹ انٹرایکٹیو انفوگرافک سسٹم
انڈیا نے 40 ارب ڈالر کیسے کھینچے؟
انڈیا اس نئی حکمتِ عملی کی نمایاں مثال ہے، جس نے زیادہ منافع والے ڈالر ڈپازٹس کے ذریعے بیرونِ ملک مقیم بھارتیوں سے تقریباً 40 ارب ڈالر حاصل کیے گئے۔
اس اضافی ڈالر سپلائی نے بھارتی روپے کو مئی کی ریکارڈ کم ترین سطح سے سنبھلنے میں مدد دی۔
دوسری جانب جنوبی کوریا نے بھی ایک مختلف راستہ اختیار کیاہے، جہاں کمپنیوں کو بیرونِ ملک کمائے گئے ڈالر واپس لا کر فروخت کرنے کی ترغیب دی گئی۔
اس کے نتیجے میں جنوبی کوریائی وون نے 2022 کے بعد اپنی بہترین ماہانہ کارکردگی دکھائی۔
اسی طرح انڈونیشیا نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے مراعات متعارف کرائیں، جس کے بعد صرف 2 ماہ میں تقریباً 1.6 ارب ڈالر بانڈ مارکیٹ میں آگئے۔
اُدھر تائیوان بھی کمزور کرنسی کے ادوار میں برآمد کنندگان کو ڈالر فروخت کرنے کی جانب راغب کرتا رہا ہے۔
پاکستان کے لیے سبق: روپیہ کیسے محفوظ ہو سکتا ہے؟
▼
💡 دفاعی ذخائر کے بجائے متبادل آمدن
کرنسی کا تحفظ صرف اسٹیٹ بینک کے زرِ مبادلہ ذخائر خرچ کرنے سے ممکن نہیں۔ پاکستان کو بھارتی یا انڈونیشیائی ماڈل کی طرح ڈالر کی براہِ راست ان فلو بڑھانے کے مستقل معاشی راستے بنانے ہوں گے۔
1. روپشن ڈیجیٹل کو پرکشش بنانا
تارکینِ وطن پاکستانیوں کے لیے مزید جدید مالیاتی مصنوعات متعارف کروا کر غیر ملکی کھاتوں سے رقوم کو پاکستان لایا جا سکتا ہے۔
2. آئی ٹی برآمدی سیکیورٹی
برآمد کنندگان کو مقامی منڈی میں ڈالر لانے پر ٹیکس مراعات دی جائیں تاکہ وہ رقوم باہر رکھنے کے بجائے ملک میں منتقل کریں۔
3. ایندھن کا درآمدی تحفظ
مہنگی توانائی کا صدمہ کم کرنے کے لیے طویل المدتی معاشی اور توانائی کے معاہدے کیے جائیں تاکہ اچانک زرمبادلہ پر دباؤ نہ آئے۔
4. مقامی بانڈز پر منافع
بیرونی اداروں اور اوورسیز سرمایہ کاروں کے لیے شریہ کمپلائنٹ یا اعلیٰ منافع بخش ڈالری بانڈز جاری کرنا معاشی پناہ گاہ ثابت ہو سکتا ہے۔
ذخائر بچانا اب کیوں ضروری ہے؟
اصل مسئلہ یہ ہے کہ مرکزی بینک ہر بار اپنی کرنسی بچانے کے لیے ذخائر سے ڈالر فروخت نہیں کر سکتے۔
ایران سے متعلق جنگی صورتحال کے آغاز کے بعد انڈیا، انڈونیشیا، فلپائن اور تھائی لینڈ کے زرمبادلہ ذخائر میں تقریباً 4 سے 9 فیصد کمی آ چکی ہے۔
موجودہ صورت حال میں دلچسپ بات یہ ہے کہ کئی ایشیائی معیشتوں کی برآمدات مضبوط اور تجارتی کھاتے بہتر ہیں۔ اس کے باوجود ان کی کرنسیاں دباؤ میں ہیں۔
📉
کون سی کرنسیاں سب سے زیادہ دباؤ میں؟
◀
کون سی کرنسیاں سب سے زیادہ دباؤ میں؟
بلومبرگ کی 22 ابھرتی ہوئی معیشتوں کی فہرست میں بدترین کارکردگی دکھانے والی 5 کرنسیوں میں شامل۔
مئی میں ہسٹارک لو لیول کو چھونے کے بعد 40 ارب ڈالر کی بیرونی آمد کے ذریعے قدرے بحال ہوا مگر مسلسل دباؤ برقرار ہے۔
توانائی کی درآمدی لاگت اور سرمایے کا اخراج تھائی لینڈ کے زرمبادلہ کو مسلسل دباؤ میں رکھے ہوئے ہے۔
شرحِ سود میں 50 بیسس پوائنٹس اضافے اور مداخلت کے باوجود زرمبادلہ کے ذخائر میں نمایاں کمی دیکھ رہا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اقتصادی ماہرین اسے تجارت سے زیادہ عالمی سرمایے کی نقل و حرکت کا مسئلہ قرار دیتے ہیں۔
واضح رہے کہ انڈونیشیائی روپیہ، انڈین روپیہ اور تھائی بھات بلومبرگ کی 22 ابھرتی ہوئی مارکیٹوں کی فہرست میں 5 کمزور ترین کرنسیوں میں شامل ہیں۔
⚠️
ذخائر کیوں گھٹ رہے ہیں؟ اصل خطرہ کہاں ہے؟
رسک فیکٹرز
4% سے 9% زرمبادلہ کا زوال
مشرقِ وسطیٰ میں سیکیورٹی کشیدگی کے بعد سے انڈیا، انڈونیشیا، فلپائن اور تھائی لینڈ کے سرکاری زرمبادلہ ذخائر میں ڈرامائی کمی درج کی گئی۔
تیل کی مہنگائی اور در آمدی بوجھ
ایشیا کی زیادہ تر معیشتیں ایندھن کی در آمد پر انحصار کرتی ہیں، جس سے ڈالر کا تیزی سے اخراج ہوتا ہے اور ادائیگیوں کا توازن متاثر ہوتا ہے۔
امریکی شرحِ سود کا دباؤ
امریکہ میں بلند شرحِ سود کے باعث عالمی سرمایہ دار ایشیائی منڈیوں سے ڈالر نکال کر محفوظ امریکی بونڈز میں منتقل کر رہے ہیں۔
پرانے ہتھیار ابھی ختم نہیں ہوئے
ایشیا میں نئی حکمتِ عملی کے باوجود شرحِ سود بڑھانے کا روایتی طریقہ برقرار ہے۔
انڈونیشیا نے مئی اور جون میں مجموعی طور پر 100 بیسس پوائنٹس، جبکہ فلپائن نے 50 بیسس پوائنٹس اضافہ کیا۔ جنوبی کوریا نے بھی 3 سال بعد پہلی مرتبہ پالیسی سخت کی۔
اس کے برعکس کولمبیا، برازیل اور میکسیکو کی کرنسیاں بہتر کارکردگی دکھا رہی ہیں۔ بلند شرحِ سود کے ساتھ تیل برآمد کرنے کی صلاحیت نے انہیں مہنگی توانائی کے جھٹکے سے نسبتاً محفوظ رکھا ہے۔
پاکستان کے لیے اہم سبق
یہ تبدیلی پاکستان جیسے ڈالر اور درآمدی توانائی پر انحصار رکھنے والے ملک کے لیے بھی قابلِ توجہ ہے۔ ایشیا کا تجربہ بتاتا ہے کہ کرنسی کا دفاع صرف ذخائر خرچ کرنے کا نام نہیں رہا۔
🔭
اگلا مرحلہ کیا ہوگا؟
تخمینے
مرکزی بینکس کا سخت ردِعمل
انڈونیشیا اور فلپائن کی طرح دیگر ایشیائی مرکزی بینک بھی شرحِ سود میں مزید اضافہ کر کے سرمایے کے اخراج کو روکنے کی کوشش کریں گے۔
دوملکی تجارت میں ڈالر سے بریک
ایشیا کی ابھرتی معیشتیں ایک دوسرے کے ساتھ باہمی تجارت کے لیے ڈالر کے بجائے اپنی مقامی کرنسیوں کے تبادلے (Currency Swaps) کا دائرہ بڑھائیں گی۔
بیرونی سرمایے کی جنگ
اوورسیز شہریوں اور غیر ملکیوں کے لیے خاص ڈالر بانڈز اور ٹیکس ریلیف کی شرح میں اور مقابلہ بازی نظر آئے گی۔
مالیاتی پناہ گاہیں
تیل برآمد کرنے والے ممالک (مثلاً کولمبیا و برازیل) کی طرح توانائی کی خودکفالت حاصل کرنے والے ملک ہی معاشی دھچکے سے محفوظ رہ سکیں گے۔
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل کی جنگ ڈالر کے ذخائر کے ساتھ ڈالر کی آمد بڑھانے کی بھی ہے۔
ترسیلات، برآمدی آمدن اور بیرونی سرمایہ کاری جتنی مضبوط ہوگی، مرکزی بینک کو اپنی قیمتی مالیاتی گنجائش بچانے کا اتنا ہی زیادہ موقع ملے گا۔