اغوا، جبری تربیت، تشدد اور محاذ سے واپسی پر اپنوں کی بے رخی—6 بچوں کی گواہیاں
سوڈان کی جنگ میں بچوں کو اغوا، دباؤ اور جبری بھرتی کے ذریعے میدانِ جنگ میں اتارا گیا۔
سابق کم عمر جنگجوؤں کے مطابق، انہیں توپ خانے، بھاری ہتھیاروں اور ڈرونز کی تربیت دی گئی۔
بعض بچوں نے کولمبیائی تربیت کاروں کا ذکر کیا، تاہم متعلقہ فریق ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔
اس جنگ نے بچوں سے صرف تحفظ نہیں بلکہ ان کا بچپن، تعلیم اور مستقبل بھی چھین لیا۔
ان بچوں کی ہولناک گواہیاں
جنہیں اغوا کرکے توپیں اور ڈرونز چلانے پر مجبور کیا گیا
مگر محاذ سے واپسی پر
انہیں زخموں، ڈراؤنے خوابوں اور اپنوں کی بے رخی کا سامنا کرنا پڑا
سوڈان کے اس بچے نے اس سے پہلے کبھی ہتھیار نہیں چلایا تھا، لیکن ایک دن اس نے خود کو ہاتھ پاؤں سے بندھا ہوا ایک گاڑی پر نصب طیارہ شکن توپ کے ساتھ پایا۔
خرطوم کی فضا میں جنگی طیارے منڈلا رہے تھے، جنگجو اور تربیت دینے والے افراد محفوظ پناہ گاہوں میں چھپ گئے، جبکہ بچے کو باہر گولہ باری کا سامنا کرنے کے لیے چھوڑ دیا گیا۔
اسے جنگی طیاروں پر فائرنگ کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔
فرار کا کوئی راستہ نہیں تھا، کیونکہ زنجیروں نے اس کی حرکت روک رکھی تھی اور بھاگنے کی کوشش کرنے والے کو محفوظ مقام تک پہنچنے سے پہلے ہی قتل کیا جاسکتا تھا۔
اس کے قریب ایک اور بچہ گاڑی کے اسٹیئرنگ سے بندھا ہوا تھا۔
گویا دونوں بچے انسان نہیں بلکہ فوجی سازوسامان کا حصہ تھے، جنہیں جنگ نے گھر اور اسکول سے چھین کر میدانِ جنگ میں لا پھینکا تھا۔
مزید پڑھیں
یہ ان 6 بچوں کی گواہیوں میں سے ایک ہے جن سے امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے ایک تفصیلی تحقیق کے دوران گفتگو کی۔
ان بچوں کا کہنا تھا کہ انہیں ریپڈ سپورٹ فورسز، یعنی آر ایس ایف، نے اغوا کرکے لڑنے پر مجبور کیا۔ ان میں سے دو بچوں نے بتایا کہ کولمبیا سے تعلق رکھنے والے تربیت کاروں نے بچوں کو
بھاری توپیں اور ڈرونز چلانا سکھایا۔
ام درمان کے بازار سے جنگی محاذ تک
یہ بچہ 15 برس کا تھا جب ریپڈ سپورٹ فورسز کے اہلکاروں نے اسے ام درمان کے ایک بازار سے پکڑا، جہاں وہ سگریٹ فروخت کرتا تھا۔
اس کے مطابق جنگجو اپنی صفوں سے فرار ہونے والوں کو تلاش کررہے تھے، مگر غلطی سے اسے بھی اپنے ساتھ لے گئے۔
✦خلاصہ ⌄
سوڈان کی جنگ میں اغوا کیے گئے بچوں کو طیارہ شکن توپیں، بھاری توپ خانہ اور ڈرونز چلانے پر مجبور کیے جانے کی ہولناک گواہیاں سامنے آئی ہیں۔ بعض بچوں نے کولمبیائی تربیت کاروں کی موجودگی کا دعویٰ کیا، تاہم تمام تفصیلات آزادانہ طور پر ثابت نہیں ہوسکیں۔ جنگ سے واپس آنے والے بچے اب جسمانی زخموں، ذہنی صدمے اور اپنے خاندانوں کی بے رخی کا سامنا کررہے ہیں۔
کسی فوجی تربیت کے بغیر اسے اگلے مورچوں پر بھیج دیا گیا۔
وہاں گولے کے ٹکڑوں سے زخمی ہونے کے باعث اس کے سر اور آنکھ کے نیچے مستقل نشانات پڑگئے۔
بعد میں اسے ام درمان میں ریپڈ سپورٹ فورسز کے ایک کیمپ منتقل کیا گیا، جہاں درجنوں دوسرے بچے بھی موجود تھے۔
بحالی مرکز
میں 200 سے زیادہ بچے موجود تھے، بعض جسمانی اعضا کھوچکے تھے
کھانا کھاتے وقت بھی ان کے ہاتھ بندھے رہتے تھے۔
انہیں معمول کے مطابق نہانے کی اجازت نہیں تھی بلکہ زنجیروں میں جکڑے رہنے کے دوران ہی ان کے جسموں پر پانی ڈال دیا جاتا تھا۔
بچے نے بتایا کہ کیمپ میں موجود کچھ غیر ملکیوں کو ریپڈ سپورٹ فورسز کے جنگجو کولمبیائی قرار دیتے تھے۔
وہ مترجموں کے ذریعے بچوں کو طیارہ شکن توپیں چلانے کی تربیت دیتے۔
جب فضائی حملے شروع ہوتے تو تربیت کار محفوظ پناہ گاہوں میں چلے جاتے، جبکہ بچوں کو توپوں کے ساتھ باندھ کر باہر چھوڑ دیا جاتا۔
یہ بچہ تقریباً 18 ماہ تک جنگ کا حصہ بنا رہا۔
اس کے مطابق ایک مرتبہ جب اس نے طیارے پر فائرنگ سے انکار کیا تو ریپڈ سپورٹ فورسز کے جنگجوؤں نے سزا کے طور پر اس کے پاؤں پر گولی ماردی۔ علاج نہ ہونے کی وجہ سے زخم بری طرح خراب ہوگیا۔
بعد میں جنگجو اسے چھوڑ گئے اور بالآخر اسے بچوں کی بحالی کے ایک مرکز پہنچایا گیا۔
توپیں، ڈرونز اور بجلی کے ڈنڈوں سے تشدد
ایک اور بچے نے بتایا کہ وہ بھی 15 برس کا تھا جب اسے ایک دوسرے کیمپ میں قید کیا گیا۔
وہاں کولمبیائی تربیت کاروں نے اسے اور دوسرے بچوں کو بھاری توپ خانے اور ڈرونز کے استعمال کی تربیت دی۔
اسے ایک کمرے میں بند رکھا جاتا اور صرف حملہ کرنے کے لیے باہر نکالا جاتا۔ ڈرون کیمروں کے ذریعے وہ نیچے موجود مقامات اور لوگوں کو دیکھ سکتا تھا۔ بعض اوقات مطلوبہ ہدف کے قریب عام شہری بھی نظر آتے، لیکن اسے پھر بھی گولہ باری کا حکم دیا جاتا۔
جب وہ فائرنگ سے انکار کرتا تو اسے مارا پیٹا جاتا اور بعض اوقات بجلی کے ڈنڈے سے تشدد کیا جاتا۔
اس کے ایک 18 سالہ ساتھی نے کیمپ سے فرار ہونے کی کوشش کی تو ریپڈ سپورٹ فورسز کے جنگجوؤں نے اسے گولی مار کر ہلاک کردیا۔
یہ واقعہ دیکھنے والا بچہ آج بھی ڈراؤنے خوابوں سے بیدار ہوجاتا ہے، جو اسے دوبارہ اسی کیمپ اور میدانِ جنگ میں لے جاتے ہیں۔
طاقتور گواہیاں، مگر ایک ضروری وضاحت
ایسوسی ایٹڈ پریس نے ان بچوں سے خرطوم کے قریب قائم بحالی مرکز میں گفتگو کی، جسے سوڈانی فوج کی حمایت یافتہ حکام چلاتے ہیں۔
خبر رساں ادارے کے دورے کے دوران فوجی میڈیا آفس کا ایک اہلکار بھی موجود تھا، تاہم اس نے ان بچوں کا انتخاب نہیں کیا جن سے صحافیوں نے گفتگو کی۔ ادارے کے مطابق تحقیق پر مکمل ادارتی اختیار بھی اسی کا رہا۔
ایسوسی ایٹڈ پریس نے یہ وضاحت بھی کی کہ وہ بچوں کی گواہیوں میں بیان کی گئی ہر تفصیل کی آزادانہ تصدیق نہیں کرسکا۔
تاہم یہ بیانات کولمبیائی جنگجوؤں کی موجودگی اور سوڈانی جنگ میں بچوں کی بھرتی سے متعلق دوسری تحقیقات اور شہادتوں سے مطابقت رکھتے ہیں۔
بچوں کی شناخت انتقامی کارروائی کے خدشے کے باعث ظاہر نہیں کی گئی۔
یہ احتیاط ان کی گواہیوں کو رد نہیں کرتی، مگر متاثرین کے بیانات اور آزاد شواہد یا عدالتی فیصلوں سے ثابت ہونے والے حقائق کے درمیان فرق برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے۔
بڑوں کی جنگ میں 8 سال کے بچے
بچوں کی بہبود کے لیے قائم سوڈان کی قومی کونسل کے ایک عہدیدار کا اندازہ ہے کہ اپریل 2023 میں جنگ شروع ہونے کے بعد دسیوں ہزار بچوں کو بھرتی کیا گیا، جن میں بعض کی عمر صرف 8 برس تھی۔
★3 اہم ترین ہائی لائٹس ⌄
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ بچوں کی بھرتی صرف ایک فریق تک محدود نہیں رہی۔ جنگ کے مختلف فریقوں نے بچوں کو استعمال کیا، جن میں سوڈانی فوج کی اتحادی مسلح تنظیمیں بھی شامل ہیں۔
وسیع تر اعداد و شمار اس ماحول کی نشاندہی کرتے ہیں جس میں بچے اغوا اور جبری بھرتی کے زیادہ خطرے سے دوچار ہوجاتے ہیں۔
یونیسیف نے اپریل 2026 میں بتایا تھا کہ سوڈان میں تقریباً 3 کروڑ 30 لاکھ افراد کو انسانی امداد کی ضرورت ہے اور ان میں نصف سے زیادہ بچے ہیں۔
جنگ کے باعث بے گھر ہونے والوں کی تعداد تقریباً ڈیڑھ کروڑ بتائی گئی، جن میں لگ بھگ 50 لاکھ بچے شامل ہیں۔
صرف دارفور میں 50 لاکھ سے زیادہ بچے شدید محرومی کا شکار ہیں، جہاں تعلیمی اور طبی سہولتیں تباہ ہوچکی ہیں جبکہ بھوک، بیماریوں اور تشدد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔
بچہ جتنے طویل عرصے تک اسکول اور خاندان سے دور رہتا ہے، اس کے کسی مسلح گروہ کے ہاتھ لگنے کا خطرہ اتنا ہی بڑھ جاتا ہے۔
▦فیکٹ باکس ⌄
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی 8 ماہ پر محیط اپنی تحقیق میں شمالی دارفور میں ریپڈ سپورٹ فورسز کے سنگین جرائم دستاویزی شکل میں محفوظ کیے۔
یہ تحقیق 247 انٹرویوز پر مبنی تھی، جن میں 39 بچوں کے انٹرویوز بھی شامل تھے۔ تنظیم نے نتیجہ اخذ کیا کہ بعض خلاف ورزیاں انسانیت کے خلاف جرائم کے زمرے میں آتی ہیں۔
بوگوٹا سے سوڈان کے میدانِ جنگ تک
بہت سے کولمبیائی جنگجو طویل فوجی تجربہ رکھتے ہیں۔
کولمبیا میں کئی دہائیوں تک جاری رہنے والی داخلی جنگ نے جدید ہتھیاروں اور خصوصی فوجی کارروائیوں کا تجربہ رکھنے والے سابق اہلکاروں کی ایک بڑی تعداد پیدا کی ہے۔
محدود پنشن اور شہری شعبے میں ملازمتوں کی کمی ان میں سے بعض سابق فوجیوں کو بیرون ملک جنگوں میں شرکت کی پیشکشیں قبول کرنے پر مجبور کرتی ہے۔
!یہ کیوں اہم ہے؟ ⌄
یہ معاملہ محض بچوں کی جبری بھرتی تک محدود نہیں۔ بچوں کو جدید ہتھیاروں اور ڈرونز کی تربیت دینے سے ظاہر ہوتا ہے کہ سوڈان کی داخلی جنگ کس طرح بین الاقوامی جنگی کاروبار، نجی سکیورٹی کمپنیوں اور غیرملکی جنگجوؤں سے جڑ چکی ہے۔
اصل چیلنج بچوں کو محاذ سے نکالنا ہی نہیں بلکہ انہیں ذہنی علاج، تعلیم، خاندان اور معاشرتی قبولیت واپس دینا بھی ہے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو جنگ ختم ہونے کے بعد بھی اس کے اثرات ایک پوری نسل کے اندر زندہ رہیں گے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اقوام متحدہ کا اندازہ ہے کہ تقریباً 10 ہزار کولمبیائی شہری گزشتہ برسوں کے دوران یوکرین، صومالیہ اور سوڈان سمیت مختلف ملکوں کی جنگوں میں کرائے کے جنگجو بن چکے ہیں۔
مارچ 2026 میں اقوام متحدہ کے ماہرین نے کولمبیا میں ایک ایسے قانون کی منظوری کا خیرمقدم کیا جو کرائے کے جنگجوؤں کی بھرتی، استعمال، مالی معاونت اور تربیت کے خلاف بین الاقوامی معاہدے کی توثیق کرتا ہے۔
تاہم ماہرین نے خبردار کیا کہ بھرتی کرنے والے نیٹ ورکس اب بھی سرگرم ہیں۔
ہیومن رائٹس واچ کی ایک رپورٹ کے مطابق میڈیا رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگست 2024 تک کم از کم 300 کولمبیائی جنگجو علاقے میں تعینات کیے جاچکے تھے۔
تنظیم نے انٹرویوز، دستاویزات، ویڈیوز، سوشل میڈیا مواد اور سیٹلائٹ تصاویر کا بھی تجزیہ کیا۔
ایک سابق کولمبیائی جنگجو نے تنظیم کو بتایا کہ اس نے نیالا کے قریب ریپڈ سپورٹ فورسز میں شامل ہونے والوں کو تربیت دی اور زیرِ تربیت افراد میں متعدد کم عمر بچے بھی شامل تھے۔
تنظیم نے الفاشر کے اطراف ہسپانوی زبان بولنے والے جنگجوؤں کی ریپڈ سپورٹ فورسز کے ساتھ موجودگی کی ویڈیوز بھی دستاویزی شکل میں محفوظ کیں۔
ایک تازہ پیش رفت میں خبر رساں ادارے رائٹرز نے اقوام متحدہ کے ماہرین کی ایک مسودہ رپورٹ کے حوالے سے بتایا کہ سوڈان میں کولمبیائی جنگجوؤں کی تعداد 1500 سے 2000 کے درمیان ہوسکتی ہے۔
تاہم یہ تخمینہ ایک مسودہ رپورٹ کا حصہ ہے، جس کا حتمی نسخہ بعد میں جاری کیا جانا ہے، اسے کسی عدالتی فیصلے کا درجہ حاصل نہیں۔
الزامات اور متحدہ عرب امارات کا مکمل انکار
ایسوسی ایٹڈ پریس اور ہیومن رائٹس واچ کے مطابق کولمبیائی جنگجوؤں کو ابوظبی میں قائم ایک نجی سکیورٹی کمپنی کے ذریعے بھرتی کیا گیا اور ان میں سے بعض نے سوڈان جانے سے پہلے متحدہ عرب امارات میں موجود تنصیبات پر قیام کیا۔
تاہم متحدہ عرب امارات نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بھیجے گئے بیان میں سوڈان کی جنگ کے کسی بھی فریق کو ہتھیار یا فوجی مدد فراہم کرنے کی تردید کی۔
✓کیا تصدیق شدہ ہے، کیا ابھی ثابت نہیں؟ ⌄
تصدیق شدہ یا دستاویزی معلومات
- چھ بچوں کے تفصیلی انٹرویوز کیے گئے۔
- سوڈان میں کولمبیائی جنگجوؤں کی موجودگی دستاویزی ہے۔
- بچوں کی بھرتی متعدد جنگی فریقوں نے کی۔
- ہسپانوی بولنے والے جنگجوؤں کی ویڈیوز کا تجزیہ کیا گیا۔
- متحدہ عرب امارات نے تمام الزامات کی تردید کی۔
جو ابھی عدالتی طور پر ثابت نہیں
- بچوں کی گواہیوں کی ہر جزوی تفصیل۔
- ہر بیان کردہ واقعے میں کولمبیائی تربیت کاروں کا کردار۔
- کرائے کے جنگجوؤں کی حتمی تعداد۔
- اماراتی حکومت کی براہِ راست شمولیت۔
- کسی ریاست یا کمپنی کی حتمی قانونی ذمہ داری۔
امارات نے کرائے کے جنگجوؤں یا غیرملکی لڑاکوں کو سوڈان منتقل کرنے میں سہولت فراہم کرنے اور ان سے کسی قسم کا تعلق رکھنے کے الزامات بھی مسترد کردیے۔
رائٹرز کے مطابق اقوام متحدہ میں متحدہ عرب امارات کے مشن کے ترجمان نے کہا کہ اماراتی حکام نے متعلقہ کمپنی کی تحقیقات کیں، مگر سوڈان میں کرائے کے جنگجوؤں کی سرگرمیوں سے اس کا کوئی تعلق نہیں ملا۔
ترجمان کے مطابق کمپنی اماراتی قوانین، ضوابط اور بین الاقوامی قانون کی مکمل پابندی کررہی ہے۔
دوسری جانب کولمبیا کی حکومت کا کہنا ہے کہ اس کے پاس ایسی کوئی سرکاری اطلاع موجود نہیں جو اس بات کی تصدیق کرے کہ کولمبیائی شہریوں نے سوڈان میں بچوں کو بھرتی یا تربیت دی۔
تاہم حکومت نے جنگ میں بچوں کے استعمال کی مذمت کی۔
ریپڈ سپورٹ فورسز اور سوڈانی حکومت نے ایسوسی ایٹڈ پریس کی جانب سے بھیجے گئے تفصیلی سوالات کا جواب نہیں دیا۔
یہ بچے ملزم نہیں، جنگ کے متاثرین ہیں
روم اساسنامے کے تحت 15 سال سے کم عمر بچوں کو بھرتی کرنا یا انہیں براہِ راست جنگ میں استعمال کرنا جنگی جرم ہے۔
بچوں کے تحفظ سے متعلق اقوام متحدہ کے اصول کسی مسلح فورس یا گروہ کے ساتھ وابستہ ہر 18 سال سے کم عمر شخص کو ایسا بچہ قرار دیتے ہیں جسے تحفظ اور بحالی کی ضرورت ہے۔
◷ایک منٹ میں کہانی ⌄
ایک پندرہ سالہ بچہ ام درمان کے بازار میں سگریٹ فروخت کررہا تھا جب اسے جنگجو اٹھا کر لے گئے۔ اسے طیارہ شکن توپ کے ساتھ باندھا گیا اور جنگی طیاروں پر فائرنگ کا حکم دیا گیا۔ انکار پر اسے گولی ماری گئی۔
ایک دوسرے بچے کو توپ خانہ اور ڈرونز چلانے کی تربیت دی گئی۔ فائرنگ سے انکار پر اسے بجلی کے ڈنڈے سے تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔
محاذ سے واپسی کے بعد بھی ان کی آزمائش ختم نہیں ہوئی۔ کسی نے اپنا ہاتھ کھویا، کوئی ڈراؤنے خوابوں میں قید ہے اور کسی کو اس کے خاندان نے قبول کرنے سے انکار کردیا۔
تاہم جنگی محاذ سے واپسی ہمیشہ گھر واپسی نہیں ہوتی۔
خرطوم کے قریب قائم بحالی مرکز میں ایسوسی ایٹڈ پریس کے صحافیوں نے 200 سے زیادہ ایسے بچوں کو دیکھا جو مسلح گروہوں کے ساتھ رہ چکے تھے۔
کسی کا ہاتھ ضائع ہوچکا تھا، کسی کے جسم پر تشدد کے نشانات تھے اور کوئی شدید زخموں کے ساتھ زندگی گزار رہا تھا۔
طیارہ شکن توپ کے ساتھ باندھے جانے والے بچے کی والدہ جنگ کے دوران بیماری کے باعث انتقال کرگئیں۔
جب اس نے والد کے پاس واپس جانے کی کوشش کی تو والد نے کہا کہ وہ بیٹے کے کیے پر شرمندہ ہیں اور اسے اپنے پاس نہیں رکھنا چاہتے۔
اس طرح بچہ دو مرتبہ ظلم کا شکار ہوا، پہلے اسے اغوا کرکے جنگ پر مجبور کیا گیا اور پھر معاشرے نے ان اعمال کی سزا دی جن کا انتخاب اس نے خود نہیں کیا تھا۔
مرکز میں نفسیاتی ماہرین خاندانوں کو سمجھانے کی کوشش کرتے رہے کہ یہ بچے مجرم نہیں۔
یونیسیف کا بھی مؤقف ہے کہ ان کے ساتھ سب سے پہلے بچوں جیسا برتاؤ کیا جانا چاہیے۔
اپریل میں خبر رساں ادارے کے دورے کے بعد مرکز میں موجود بچوں کو رہا کردیا گیا، لیکن آزادی نہ نفسیاتی صدمہ مٹا سکتی ہے اور نہ ہی بچپن کے کھوئے ہوئے برس واپس لاسکتی ہے۔
ایک بچے نے کہا کہ وہ ماضی سے نکل کر اپنے ملک کی تعمیرِ نو میں حصہ لینا چاہتا ہے۔
لیکن سوڈان کی تعمیرِ نو کا آغاز ان غیرمرئی زنجیروں کو توڑنے سے ہوگا جو آج بھی ان بچوں کو توپوں سے باندھے ہوئے ہیں—خوف، شرمندگی، ڈراؤنے خواب اور معاشرتی بے دخلی۔
جنگ نے انہیں صرف گھروں سے نہیں چھینا بلکہ انہیں ہتھیاروں میں تبدیل کرنے کی کوشش کی۔
امن کا اصل امتحان یہ ہوگا کہ سوڈان اور دنیا انہیں دوبارہ بچے بنا پاتے ہیں یا نہیں۔
🧒
اصل اور بنیادی ذرائع
سوڈان میں کم عمر جنگجوؤں، کولمبیائی کرائے کے اہلکاروں اور دارفور کے بچوں کے انسانی بحران سے متعلق بنیادی ذرائع
6 بنیادی ذرائع
اصل اور بنیادی ذرائع
سوڈان میں کم عمر جنگجوؤں، کولمبیائی کرائے کے اہلکاروں اور دارفور کے بچوں کے انسانی بحران سے متعلق بنیادی ذرائع