سعودی جہازوں پر حملوں کے بعد بحیرۂ احمر کی کشیدگی الحدیدہ میں فوجی ردعمل تک پہنچ گئی
بحیرۂ احمر میں سعودی کمپنیوں سے وابستہ تجارتی جہازوں پر مسلسل حملوں کے بعد عرب اتحاد نے یمن کے صوبہ الحدیدہ میں حوثیوں کے فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔
سعودی جہاز NCC MASA کو معمولی نقصان پہنچا تاہم عملہ محفوظ رہا اور جہاز نے اپنا سفر جاری رکھا۔
اتحاد نے واضح کیا ہے کہ الحدیدہ بندرگاہ کارروائی کا ہدف نہیں تھی۔
یمن میں آئینی حکومت کی حمایت کرنے والے عرب اتحاد نے صوبہ الحدیدہ میں حوثیوں کے فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا ہے۔
اتحاد کے مطابق یہ کارروائی ان مقامات کے خلاف کی گئی جو بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو لاحق خطرات اور حملوں سے براہِ راست منسلک تھے۔
اتحادی افواج کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے کہا کہ یہ کارروائی تجارتی جہازوں پر حوثیوں کے مسلسل حملوں کے جواب میں ایک متناسب فوجی ردعمل کے طور پر کی گئی۔
ان کے مطابق نشانہ بنائے گئے مقامات جائز فوجی اہداف تھے اور ان کا تعلق ایسی صلاحیتوں سے تھا جنہیں بحیرۂ احمر میں جہاز رانی کو خطرے میں ڈالنے کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔
اہم نکات +
- عرب اتحاد نے الحدیدہ میں حوثیوں سے وابستہ فوجی اہداف کو نشانہ بنایا۔
- اتحاد کے مطابق کارروائی بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے جواب میں کی گئی۔
- الحدیدہ بندرگاہ کو فوجی کارروائی میں نشانہ نہیں بنایا گیا۔
- سعودی کمپنی سے وابستہ جہاز NCC MASA کو معمولی نقصان پہنچا، جبکہ عملہ محفوظ رہا۔
- دو روز سے بھی کم عرصے میں سعودی کمپنیوں سے وابستہ دو جہاز حملوں کا نشانہ بنے۔
- سعودی عرب نے اپنے جہازوں اور بحری راستوں کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
ترکی المالکی نے واضح کیا کہ الحدیدہ بندرگاہ کو نشانہ نہیں بنایا گیا اور صوبے کی تمام بندرگاہیں بحری آمدورفت اور تجارتی جہازوں کے لیے بدستور کھلی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ الحدیدہ بندرگاہ یمنی عوام کے لیے ایک اہم زندگی کی لکیر ہے، جہاں سے خوراک، ایندھن، تجارتی سامان اور تعمیراتی مواد ملک میں پہنچتا ہے۔ اتحاد کی کوشش ہے کہ انسانی ضروریات سے متعلق شہری تنصیبات کو کسی قسم کا نقصان نہ پہنچے۔
سعودی جہاز NCC MASA پر حملہ
یہ فوجی کارروائی ایسے وقت سامنے آئی جب سعودی عرب کی جنرل ٹرانسپورٹ اتھارٹی نے اعلان کیا کہ سعودی کمپنی سے تعلق رکھنے والے جہاز NCC MASA کو 24 جولائی 2026 کو بحیرۂ احمر میں سفر کے دوران نشانہ بنایا گیا۔
اتھارٹی کے ایک ذمہ دار ذریعے کے مطابق حملے سے جہاز کے ڈھانچے کو معمولی نقصان پہنچا، تاہم عملے کے تمام افراد محفوظ رہے۔
حفاظتی معائنے اور جہاز کی سلامتی یقینی بنانے کے بعد NCC MASA نے اپنا سفر جاری رکھا اور اپنی مقررہ منزل کی جانب روانہ ہوگیا۔
سعودی ٹرانسپورٹ اتھارٹی نے تجارتی جہازوں پر مسلسل حملوں کو بین الاقوامی قوانین اور ان روایات کی خلاف ورزی قرار دیا جو تجارتی جہازوں اور ان کے عملے کی سلامتی کی ضمانت دیتی ہیں۔
فیکٹ باکس +
NCC MASA پر حملہ دو روز سے بھی کم عرصے میں کسی سعودی کمپنی سے وابستہ جہاز پر ہونے والا دوسرا واقعہ ہے۔
اس سے قبل ENCELIA نامی جہاز کو بھی بحیرۂ احمر میں نشانہ بنایا گیا تھا، جس کے نتیجے میں جہاز کے اگلے حصے میں آگ بھڑک اٹھی تھی۔
بحیرۂ احمر میں خطرات بڑھنے لگے
میجر جنرل ترکی المالکی کے مطابق حالیہ واقعات بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کے خلاف حوثیوں کی کارروائیوں کے وسیع سلسلے کا حصہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ Magic Seas اور Eternity C سمیت مختلف تجارتی جہازوں کو بھی ایسے وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ دنیا کے اہم ترین بحری تجارتی راستوں میں سے ایک سے گزر رہے تھے۔
ترکی المالکی نے خبردار کیا کہ ان حملوں کا تسلسل بحیرۂ احمر اور آبنائے باب المندب میں آزاد جہاز رانی اور عالمی تجارت کے لیے براہِ راست خطرہ بن رہا ہے، جبکہ تجارتی جہازوں اور ان کے عملے کی سلامتی بھی متاثر ہو رہی ہے۔
سعودی عرب کے لیے کیا مطلب ہے؟ +
اتحادی ترجمان نے حوثیوں پر الزام عائد کیا کہ وہ الحدیدہ بندرگاہ اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی کو اپنی فوجی سرگرمیوں کی مالی معاونت اور اسلحے کے حصول کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
ان کے مطابق یہ اقدامات یمن کے بحران کو طول دینے اور یمنی عوام کی مشکلات میں مزید اضافے کا سبب بن رہے ہیں
طاقتور اور بازدار فوجی ردعمل
ترکی المالکی نے کہا کہ اتحادی کارروائی بین الاقوامی انسانی قانون اور اس کے مروجہ اصولوں کے مطابق انجام دی گئی، جبکہ حملوں کی نوعیت اور شدت کو موجودہ خطرے کے تناسب سے رکھا گیا۔
انہوں نے کہا کہ مشترکہ اتحادی افواج سعودی عرب کی سلامتی، قومی مفادات اور اہم تنصیبات کے تحفظ کے ساتھ ساتھ بحیرۂ احمر میں عالمی تجارت اور آزاد جہاز رانی کو محفوظ رکھنے کے لیے ضروری آپریشنل اقدامات جاری رکھیں گی۔
ممکنہ اگلا منظرنامہ +
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حوثی تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں جاری رکھتے ہیں تو ان کا جواب سخت اور فیصلہ کن ہوگا۔
ان کے مطابق بحری راستوں کا تحفظ اور آزاد جہاز رانی ایسی ترجیح ہے جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا۔
جہازوں اور سمندری راستوں کا تحفظ کریں گے
سعودی عرب نے واضح کیا ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون اور 1982 کے اقوام متحدہ کے سمندری قانون کے کنونشن کے مطابق اپنے تجارتی جہازوں کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔
ریاض کا کہنا ہے کہ عالمی معیشت کے لیے اہم بحری راستوں کا محفوظ اور کھلا رہنا انتہائی ضروری ہے، کیونکہ ان راستوں کا براہِ راست تعلق توانائی کی عالمی منڈی، سپلائی چین اور بین الاقوامی تجارت کے استحکام سے ہے۔
سعودی عرب بحری نگرانی بڑھانے، معلومات کے تبادلے، آپریشنل تیاریوں کو بہتر بنانے اور کسی بھی ممکنہ خطرے کا فوری جواب دینے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
تازہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب بحیرۂ احمر میں حملوں کے دائرہ کار میں توسیع کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔
ماہرین کے نزدیک اگر یہ حملے جاری رہے تو ان کے اثرات صرف جہازوں کی سلامتی تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی ترسیل اور بحیرۂ احمر و باب المندب سے گزرنے والی بین الاقوامی سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہوسکتی ہے۔
⚓
رپورٹ کے اصل اور بنیادی ذرائع
الحدیدہ میں اتحادی کارروائی، سعودی بحری جہازوں پر حملوں اور بحیرۂ احمر میں بڑھتے خطرات سے متعلق سرکاری اور بین الاقوامی ذرائع
6 بنیادی ذرائع
رپورٹ کے اصل اور بنیادی ذرائع
الحدیدہ میں اتحادی کارروائی، سعودی بحری جہازوں پر حملوں اور بحیرۂ احمر میں بڑھتے خطرات سے متعلق سرکاری اور بین الاقوامی ذرائع