چہرے پر بظاہر ایک عام چشمہ اور سامنے موجود شخص کو خبر بھی نہ ہو اور اس کی ویڈیو ریکارڈ ہو رہی ہو۔
مزید پڑھیں
ٹیکنالوجی ایکسپرٹس کا کہنا ہے کہ اسمارٹ گلاسز کی یہی صلاحیت اب ٹیکنالوجی کی سہولت سے بڑھ کر پرائیویسی کے لیے سنجیدہ مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔
میٹا کے اسمارٹ گلاسز سے لوگوں، بالخصوص خواتین کی لاعلمی میں ویڈیوز بنانے اور انہیں انسٹاگرام پر پوسٹ کرنے کے بڑھتے رجحان نے کمپنی کو بھی کارروائی پر مجبور کردیا ہے۔
اس سلسلے میں اب ایسے صارفین اور اکاؤنٹس کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جو خفیہ ریکارڈنگ کو ہراسانی یا دوسروں کو شرمندہ کرنے والے مواد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
اسمارٹ گلاسز کا غلط استعمال کیسے ہوا؟
میٹا کے جدید چشموں میں موجود کیمرہ صارف کو سامنے کا منظر ریکارڈ کرنے کی سہولت دیتا ہے۔
لیکن مسئلہ اس وقت پیدا ہوا جب بعض کانٹینٹ کریئیٹرز نے اسی سہولت کو لوگوں کی اجازت کے بغیر ویڈیوز بنانے کے لیے استعمال کرنا شروع کردیا۔
کچھ ویڈیوز میں ریسٹورنٹس، دکانوں اور دیگر مقامات پر کام کرنے والے ملازمین کے ساتھ نام نہاد ’پرینکس‘ کیے گئے، جبکہ پورا واقعہ خفیہ طور پر ریکارڈ کیا جاتا رہا۔
اسی طرح کئی معاملات میں مذاق اور ہراسانی کے درمیان فرق تقریباً ختم ہوتا دکھائی دیا۔
اس سے بھی زیادہ تشویش ان ویڈیوز پر سامنے آئی جن میں مرد عوامی مقامات پر خواتین سے گفتگو کرتے ہوئے انہیں بتائے بغیر ریکارڈ کرتے رہے۔
بعد ازاں یہی ویڈیوز سوشل میڈیا پر لاکھوں لوگوں کے سامنے پہنچ گئیں۔
یہ کیوں اہم ہے؟
انسٹاگرام نے لکیر کھینچ دی
انسٹاگرام کے سربراہ ایڈم موسیری نے واضح کیا ہے کہ لوگوں کا استحصال یا انہیں ہراساں کرکے تیار کیا گیا مواد پلیٹ فارم پر برداشت نہیں کیا جائے گا۔
بزنس انسائیڈر کے مطابق کم از کم 2 نمایاں اکاؤنٹس بھی بند کیے جا چکے ہیں جو خواتین کی رضامندی کے بغیر بنائی گئی ایسی ویڈیوز مسلسل شیئر کررہے تھے۔
میٹا نے تصدیق کی ہے کہ ان اکاؤنٹس کے خلاف کارروائی ہراسانی پر مبنی مواد کی وجہ سے ہوئی۔
🕶 میٹا گلاسز سے خفیہ ریکارڈنگ: انسٹاگرام کا بڑا ایکشن️
میٹا اسمارٹ گلاسز کے ذریعے خواتین اور شہریوں کی خفیہ ریکارڈنگ پر انسٹاگرام نے اکاؤنٹس بلاک کرنا اور کیمرہ لاک فیچر متعارف کرانا شروع کر دیا ہے۔
عوامی مقامات، ریسٹورنٹس اور شاپنگ مالز میں لوگوں بالخصوص خواتین کی اجازت کے بغیر ویڈیوز بنا کر پرینکس اور ہراسانی کا رجحان بڑھ گیا۔
انسٹاگرام انتظامیہ نے کارروائی کرتے ہوئے بغیر رضامندی ویڈیوز پوسٹ کرنے والے کم از کم 2 نمایاں اکاؤنٹس کو مستقل طور پر بند کر دیا۔
ریکارڈنگ بتانے والی لائٹ کو ٹیپ سے چھپانے یا چھیڑ چھاڑ کرنے والے صارفین کے گلاسز کا کیمرہ خودکار سافٹ ویئر سے بلاک ہو جائے گا۔
انسٹاگرام کے سربراہ کا واضح اعلان کہ ڈیوائس کا حق ریکارڈنگ الگ ہے، مگر کسی انسان کو اس کی اجازت کے بغیر ریکارڈ کرنا ناقابلِ برداشت ہے۔
اوورسیز پوسٹ انٹرایکٹیو انفوگرافک سسٹم
ریکارڈنگ لائٹ چھپانے کا توڑ بھی تیار
میٹا گلاسز میں ریکارڈنگ کے دوران ایک ایل ای ڈی لائٹ روشن ہوتی ہے تاکہ سامنے موجود شخص کو کیمرے کے استعمال کا اندازہ ہوسکے، لیکن بعض صارفین نے اسے ٹیپ یا دوسری چیزوں سے چھپانا شروع کردیا۔
یہاں تک کہ ایسے گلاسز کو تبدیل کرنے کی خدمات بھی سامنے آگئیں جن سے ریکارڈنگ کی نشاندہی مشکل بنائی جا سکے۔
فیکٹ باکس
میٹا نے اب سافٹ ویئر کے ذریعے اس کا توڑ نکالا ہے۔ اگر ریکارڈنگ کی نشاندہی کرنے والی ایل ای ڈی کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی جائے تو کیمرہ غیر فعال ہوسکتا ہے۔
اصل سوال ٹیکنالوجی نہیں، رضامندی کا ہے
یہ معاملہ صرف میٹا یا انسٹاگرام تک محدود نہیں۔ پہننے والی ٹیکنالوجی جتنی عام ہوگی، یہ پہچاننا اتنا ہی مشکل ہوسکتا ہے کہ سامنے والا شخص صرف چشمہ پہنے ہوئے ہے یا آپ کی ویڈیو بھی بنا رہا ہے۔
اہم نکات
پاکستان جیسے ملک میں، جہاں اسمارٹ فون سے کسی کی اجازت کے بغیر ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر ڈالنے کے واقعات پہلے ہی بحث کا موضوع رہتے ہیں، اسمارٹ گلاسز ایک نئی پیچیدگی پیدا کرسکتے ہیں۔
ٹیکنالوجی آگے بڑھ رہی ہے، مگر اس کے ساتھ ایک بنیادی اصول کی اہمیت بھی بڑھ رہی ہے کہ کسی ڈیوائس میں ریکارڈ کرنے کی صلاحیت ہونا اور کسی انسان کو اس کی اجازت کے بغیر ریکارڈ کرنے کا حق ہونا، دو بالکل مختلف باتیں ہیں۔