براہ راست نشریات

ایران کا نیا جوہری مرکز: اسرائیل اور امریکہ کیوں پریشان؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
ایران کا نیا جوہری مرکز جبل الفأس اور نطنز تنصیب
جبل الفأس سے متعلق اسرائیلی دعووں اور امریکی دھمکیوں نے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بڑھا دی ہے (فوٹو: اے آئی)

مشرقِ وسطیٰ میں ایران کے جوہری پروگرام پر کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے۔

مزید پڑھیں

اسرائیلی انٹیلی جنس کے تازہ جائزوں نے ایران کے ایک ایسے زیرِ زمین مقام کو عالمی بحث کا محور بنا دیا ہے جسے ’جبل الفأس‘ (Axe Mountain) کہا جا رہا ہے۔ 

اسرائیلی خفیہ اداروں کا دعویٰ ہے کہ نطنز کے قریب واقع یہ انتہائی محفوظ تنصیب مستقبل میں 90 فیصد تک یورینیم افزودہ کرنے کے لیے تیار کی جا رہی ہے۔

Iran Flag
ایران۔امریکہ: تمام اپڈیٹس ایک جگہ پر، کلک کریں
USA Flag

دوسری جانب ایران نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہاں صرف جدید سینٹری فیوجز کی تیاری اور اسمبلنگ کا کام ہوتا ہے۔

یہ دعوے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی اس مقام کو نشانہ بنانے کی دھمکی دے چکے ہیں، جس سے خطے میں ایک نئی عسکری کشیدگی کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔

ایران کا نیا جوہری مرکز جبل الفأس اور نطنز تنصیب
سیٹلائٹ تصویر میں نطنز جوہری تنصیب کے قریب واقع 'جبل الفأس' میں سرنگوں کے دہانے دیکھے جا سکتے ہیں۔ (فوٹو: رائٹرز)

اسرائیلی انٹیلی جنس کے دعوے

اسرائیلی آرمی ریڈیو اور دیگر ذرائع کے مطابق تل ابیب کا اندازہ ہے کہ ’جبل الفأس‘ کو اس انداز میں تعمیر کیا گیا ہے کہ وہاں زیرِ زمین یورینیم افزودگی کا پورا عمل محفوظ طریقے سے جاری رکھا جا سکے۔

اسرائیلی حکام کا خیال ہے کہ اگر اس تنصیب میں افزودہ یورینیم منتقل کر دیا گیا تو یہ ایک ایسی سرخ لکیر ہوگی جس کے بعد امریکی کارروائی کا امکان بہت زیادہ بڑھ جائے گا۔

اسرائیلی تجزیہ کار یہ بھی کہتے ہیں کہ اگرچہ امریکہ اس تنصیب کو شدید نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے، لیکن اس کی گہرائی اور مضبوط تعمیر کے باعث اسے مکمل طور پر تباہ کرنا آسان نہیں ہوگا۔ 

یہی وجہ ہے کہ اس مقام کو اسرائیلی میں ایران کے جوہری پروگرام کا ممکنہ محفوظ ترین مرکز قرار دیا جا رہا ہے۔

جبل الفأس ایران کے لیے اہم اور امریکہ و اسرائیل کے لیے پریشان کن کیوں ہے؟
جبل الفأس محض ایک زیرِ زمین تعمیر نہیں، بلکہ یہ ایران کے جوہری پروگرام کی بقا، بیرونی حملوں سے تحفظ اور مستقبل کی افزودگی کی صلاحیت سے جڑا ایک اہم مقام بن چکا ہے۔
🇮🇷 ایران کے لیے اس کی اہمیت
⛰️ انتہائی گہری اور محفوظ تنصیب: پہاڑ کے اندر تعمیر ہونے کی وجہ سے یہ مقام عام فضائی حملوں، میزائلوں اور تخریب کاری کے مقابلے میں زیادہ محفوظ سمجھا جاتا ہے۔
⚙️ جدید سینٹری فیوجز کے تحفظ کا امکان: اسرائیلی اندازوں کے مطابق ایران اپنے اہم اور جدید سینٹری فیوجز یہاں منتقل کرکے جوہری پروگرام کو اچانک حملے سے بچا سکتا ہے۔
☢️ اعلیٰ سطح کی افزودگی کی ممکنہ صلاحیت: اگر یہاں یورینیم افزودگی کا مکمل نظام نصب ہوجاتا ہے تو ایران نسبتاً محفوظ ماحول میں تیزی سے زیادہ افزودہ یورینیم تیار کرنے کی صلاحیت حاصل کرسکتا ہے۔
🛡️ جوہری پروگرام کے لیے حفاظتی ڈھال: نطنز کی دوسری تنصیبات کو نقصان پہنچنے کی صورت میں جبل الفأس ایران کے لیے متبادل مرکز یا محفوظ جوہری ذخیرے کا کردار ادا کرسکتا ہے۔
♟️ مذاکرات میں ایران کی طاقت: ایک ایسی تنصیب جسے مکمل طور پر تباہ کرنا مشکل ہو، ایران کو امریکہ اور مغربی ممالک کے ساتھ جوہری مذاکرات میں زیادہ مضبوط پوزیشن دے سکتی ہے۔
🇺🇸🇮🇱 امریکہ اور اسرائیل کے لیے پریشانی
🎯 مکمل تباہی تقریباً ناممکن: اس مقام کی گہرائی اور مضبوط تعمیر کے باعث امریکہ اسے نقصان تو پہنچا سکتا ہے، مگر اسے مکمل طور پر ختم کرنا انتہائی مشکل ہوسکتا ہے۔
🕵️ اندرونی سرگرمیوں کی محدود نگرانی: زیرِ زمین ہونے اور عالمی معائنہ کاروں کی محدود رسائی کے باعث یہ جاننا مشکل ہوسکتا ہے کہ تنصیب کے اندر کیا کام جاری ہے۔
جوہری ہتھیار بنانے کا وقت کم ہونے کا خدشہ: اگر ایران یہاں 90 فیصد تک یورینیم افزودہ کرنے لگتا ہے تو جوہری ہتھیار کے لیے درکار مواد تیار کرنے کا ممکنہ وقت نمایاں طور پر کم ہوسکتا ہے۔
✈️ فوجی کارروائی زیادہ پیچیدہ: کسی بھی حملے کے لیے انتہائی طاقتور بم، خصوصی طیارے، متعدد حملے اور درست انٹیلی جنس درکار ہوگی، جس سے جنگ پھیلنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
🔥 علاقائی جنگ کا امکان: جبل الفأس پر حملہ ایران کو اسرائیل، امریکی اڈوں یا خطے میں واشنگٹن کے اتحادیوں کے خلاف بڑے جوابی حملے پر مجبور کرسکتا ہے۔
⚠️ اہم وضاحت: تنصیب کے اندر فعال یورینیم افزودگی یا 90 فیصد افزودگی کی تیاری سے متعلق دعوے بنیادی طور پر اسرائیلی اور امریکی انٹیلی جنس اندازوں پر مبنی ہیں۔ ان کی مکمل آزادانہ بین الاقوامی تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی۔

ٹرمپ کے سخت بیانات

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں ایک مرتبہ پھر ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ ’بہت جلد‘ اس مقام پر کاری ضرب لگا سکتا ہے۔

اس سے پہلے بھی وہ واضح الفاظ میں کہہ چکے ہیں کہ اگر ضرورت پڑی تو ’جبل الفأس‘  کو تباہ کر دیا جائے گا۔

امریکی قیادت کے ان بیانات نے اس تاثر کو تقویت دی ہے کہ واشنگٹن ایران کے جوہری پروگرام کو صرف سفارتی مسئلہ نہیں بلکہ اپنی قومی سلامتی سے جڑا معاملہ سمجھتا ہے۔

Logo

ایران کا نیا جوہری مرکز: جبل الفأس اور عالمی تشویش

اسرائیلی انٹیلی جنس دعوے اور ٹرمپ کی دھمکیوں کے بعد خطے میں نئی عسکری کشیدگی کے خدشات بڑھ گئے۔

نطنز کے قریب واقع زیرِ زمین تنصیب جبل الفأس 90 فیصد یورینیم افزودگی کے خدشات اور امریکی و اسرائیلی دھمکیوں کے باعث عالمی تنازع کا نیا مرکز بن چکی ہے۔

نقطہ 1

⚠️ اسرائیلی انٹیلی جنس کا دعویٰ

تل ابیب کے مطابق نطنز کے قریب 'جبل الفأس' میں زیرِ زمین 90 فیصد تک یورینیم افزودگی کی تیاری کی جا رہی ہے جو ایک سرخ لکیر ہے۔

نقطہ 2

💣 ٹرمپ کا سخت موقف

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ واشنگٹن ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے کے لیے اس مقام پر جلد حملہ کر سکتا ہے۔

نقطہ 3

🛡️ تہران کا اپنا موقف

ایران نے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ صرف جدید سینٹری فیوجز کی اسمبلنگ کے لیے ایک صنعتی و سویلین مرکز ہے۔

نقطہ 4

📍 حکمت عملی کا حامل محلِ وقوع

یہ مقام تہران سے 220 کلومیٹر جنوب اور نطنز سے صرف 2 کلومیٹر دور ہے، جس کی گہرائی اور مضبوطی اسے بیرونی حملوں سے محفوظ بناتی ہے۔

تہران کا مؤقف مختلف ہے!

دوسری جانب ایران مسلسل یہ مؤقف اختیار کیے ہوئے ہے کہ ’جبل الفأس‘ کوئی خفیہ افزودگی مرکز نہیں بلکہ 2020ء میں قائم کی گئی ایسی صنعتی تنصیب ہے جہاں جدید سینٹری فیوجز تیار اور اسمبل کیے جاتے ہیں۔

ایرانی حکام بارہا کہہ چکے ہیں کہ ان کا جوہری پروگرام پُرامن مقاصد کے لیے ہے اور اس کا مقصد توانائی، تحقیق اور دیگر سویلین ضروریات پوری کرنا ہے۔ 

اسی طرح تہران مغربی ممالک اور اسرائیل کے ان الزامات کو سیاسی دباؤ کا حصہ قرار دیتا ہے۔

📌 جبل الفأس فیکٹ باکس
📍 مقام نطنز جوہری مرکز کے قریب
🗺️ تہران سے فاصلہ تقریباً 220 کلومیٹر جنوب
📏 نطنز سے فاصلہ تقریباً 2 کلومیٹر
🏗️ تعمیر کا آغاز 2020
⛰️ تنصیب کی نوعیت گہری زیرِ زمین سرنگیں
⚙️ ایران کا سرکاری مؤقف سینٹری فیوجز کی تیاری
🛰️ اسرائیلی دعویٰ افزودگی کے لیے تیاری
☢️ ممکنہ افزودگی کی سطح 90 فیصد
🔄 سینٹری فیوجز کی مبینہ منتقلی ہزاروں یونٹس
🛡️ ایران کے لیے فائدہ حملوں سے زیادہ تحفظ
🎯 امریکہ کی ممکنہ صلاحیت نقصان پہنچانا
⚠️ بڑا عسکری مسئلہ مکمل تباہی مشکل
🏛️ بین الاقوامی نگران ادارہ IAEA
🔍 آزادانہ تصدیق تاحال دستیاب نہیں
📝 اہم وضاحت: جبل الفأس میں فعال یورینیم افزودگی، 90 فیصد افزودگی کی تیاری اور ہزاروں سینٹری فیوجز کی موجودگی سے متعلق معلومات اسرائیلی اور امریکی انٹیلی جنس اندازوں پر مبنی ہیں۔ ان دعوؤں کی مکمل آزادانہ بین الاقوامی تصدیق سامنے نہیں آئی۔

ہزاروں سینٹری فیوجز کی منتقلی کا دعویٰ

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے اپنی ایک رپورٹ میں اسرائیلی انٹیلی جنس کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ برس ہونے والی 12 روزہ جنگ کے بعد ایران نے ہزاروں سینٹری فیوجز کو ’جبل الفأس‘ کی گہری سرنگوں میں منتقل کر دیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق یہ معلومات اسرائیل نے امریکی حکام کے ساتھ بھی شیئر کی ہیں۔ 

اسی تناظر میں اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو واشنگٹن کو قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ایران کے جوہری ڈھانچے کے خلاف مزید سخت کارروائیاں ضروری ہیں۔

اگرچہ اس معاملے پر امریکہ اور اسرائیل کے اہداف میں بعض پہلوؤں پر اختلاف بھی موجود ہے۔

ایران کا نیا جوہری مرکز جبل الفأس اور نطنز تنصیب
ایران کی نطنز جوہری تنصیب کا 2007 میں لیا گیا ایک منظر (فوٹو: الجزیرہ)

اسی دوران امریکی ویب سائٹ المانیٹر نے بھی امریکی انٹیلی جنس ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ واشنگٹن کو شبہ ہے کہ ایران اس علاقے میں ایک ایسی محفوظ تنصیب تیار کر رہا ہے جس کا مقصد مستقبل میں اپنے جوہری پروگرام کو بیرونی حملوں سے بچانا ہے۔

نطنز کے قریب اہم محلِ وقوع

’جبل الفأس‘ تہران سے تقریباً 220 کلومیٹر جنوب میں واقع ہے اور نطنز کے معروف جوہری کمپلیکس سے صرف 2 کلومیٹر کے فاصلے پر بتایا جاتا ہے۔

نطنز وہی مقام ہے جو ماضی میں متعدد حملوں اور تخریب کاری کی کارروائیوں کا مرکز رہا ہے اور امریکہ و اسرائیل کی مشترکہ کارروائیوں کے دوران یہاں کے کئی حصے متاثر بھی ہوئے تھے۔ 

اوورسیز پوسٹ ایپ
کیسے استعمال کریں؟ مکمل رہنمائی کے لیے کلک کریں
📱
☝️

بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کے مطابق سطحِ زمین پر قائم افزودگی پلانٹ مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے، جبکہ زیرِ زمین پلانٹ کو بھی شدید نقصان پہنچنے کے امکانات ظاہر کیے گئے تھے، تاہم ’جبل الفأس‘ کو اب تک براہِ راست نشانہ نہیں بنایا گیا۔

خطے کے لیے اس تنازع کی اہمیت

جبل الفأس سے متعلق اسرائیلی دعووں اور امریکی دھمکیوں نے ایک مرتبہ پھر مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کو نمایاں کر دیا ہے۔

اگر اسرائیل کے اندازے درست ثابت ہوتے ہیں تو ایران کا جوہری پروگرام ایک نئے اور زیادہ محفوظ مرحلے میں داخل ہو سکتا ہے، جبکہ اگر یہ صرف انٹیلی جنس اندازے ہیں تو خطے میں سیاسی اور سفارتی دباؤ مزید بڑھنے کا امکان موجود ہے۔

ہم سے جڑے رہیں

فی الحال اس معاملے پر آزاد اور غیر جانبدار بین الاقوامی تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ عالمی برادری کی نظریں اب ایران، امریکہ، اسرائیل اور بین الاقوامی ایٹمی اداروں کی آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں، کیونکہ ان میں سے کسی ایک قدم سے بھی پورے مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی کی صورتحال متاثر ہو سکتی ہے۔

🛰️ اصل ذرائع VERIFIED SOURCES ایران کی زیرِ زمین جبل الفأس تنصیب، سینٹری فیوجز، امریکی دھمکیوں اور نطنز سے متعلق بنیادی رپورٹس 5 معتبر ذرائع
☢️ سینٹری فیوجز اور اسرائیلی انٹیلی جنس کا دعویٰ
``` وال اسٹریٹ جرنل — ہزاروں سینٹری فیوجز جبل الفأس منتقل کیے جانے کا دعویٰ اسرائیلی انٹیلی جنس کی اس اطلاع پر بنیادی رپورٹ کہ ایران نے 2025 کی 12 روزہ جنگ کے بعد ہزاروں یورینیم افزودگی سینٹری فیوجز جبل الفأس کی گہری سرنگوں میں منتقل کیے۔ بنیادی انٹیلی جنس رپورٹ ``` اصل رپورٹ کھولیں ↗
🇺🇸 ٹرمپ کی دھمکی اور امریکی مؤقف
``` Axios — ٹرمپ کا جبل الفأس پر بہت جلد حملے کا اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کی رپورٹ جس میں انہوں نے ایران کی زیرِ زمین تنصیب کے علاقے کو بہت جلد نشانہ بنانے کی دھمکی دی۔ امریکی سیاسی و عسکری رپورٹ ``` اصل رپورٹ کھولیں ↗ ``` ایسوسی ایٹڈ پریس — جبل الفأس میں آخر کیا موجود ہے؟ تنصیب کے مقام، ممکنہ گہرائی، سینٹری فیوجز کی موجودگی کے شبہے، IAEA کو رسائی نہ ملنے اور امریکی بموں کی محدود صلاحیت پر جامع وضاحتی رپورٹ۔ جامع عالمی وضاحتی رپورٹ ``` اصل رپورٹ کھولیں ↗
⛰️ تنصیب کا مقام، گہرائی اور تعمیراتی پس منظر
``` دی گارڈین — ایران کی پراسرار زیرِ زمین جوہری تنصیب کا پس منظر نطنز کے قریب قائم جبل الفأس، اس کی ممکنہ 100 میٹر گہرائی، مضبوط سرنگوں، زیرِ تعمیر حصوں اور فضائی حملے سے محفوظ رہنے کی صلاحیت پر تفصیلی جائزہ۔ مقام اور تکنیکی پس منظر ``` اصل رپورٹ کھولیں ↗
🏛️ نطنز سے متعلق اقوام متحدہ کا سرکاری ریکارڈ
``` IAEA — نطنز کے سطحی اور زیرِ زمین حصوں کو پہنچنے والے نقصان کی تفصیل عالمی جوہری نگران ادارے کے ڈائریکٹر جنرل کا سرکاری بیان، جس میں نطنز کے سطحِ زمین پر موجود حصے کی تباہی اور زیرِ زمین افزودگی پلانٹ کو ممکنہ نقصان کی وضاحت کی گئی۔ اقوام متحدہ کا سرکاری ماخذ ``` سرکاری بیان کھولیں ↗
📝 ادارتی نوٹ: اس رپورٹ کے بنیادی دعووں کی جانچ کے لیے وال اسٹریٹ جرنل، Axios، ایسوسی ایٹڈ پریس، دی گارڈین اور بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے مواد سے استفادہ کیا گیا ہے۔ ⚠️ جبل الفأس کے اندر یورینیم یا فعال افزودگی کے نظام کی موجودگی کی آزادانہ بین الاقوامی تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی، کیونکہ IAEA کو اس مقام تک رسائی حاصل نہیں رہی۔ BY: overseaspost.net