مشرقِ وسطیٰ میں ایران کے جوہری پروگرام پر کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے۔
مزید پڑھیں
اسرائیلی انٹیلی جنس کے تازہ جائزوں نے ایران کے ایک ایسے زیرِ زمین مقام کو عالمی بحث کا محور بنا دیا ہے جسے ’جبل الفأس‘ (Axe Mountain) کہا جا رہا ہے۔
اسرائیلی خفیہ اداروں کا دعویٰ ہے کہ نطنز کے قریب واقع یہ انتہائی محفوظ تنصیب مستقبل میں 90 فیصد تک یورینیم افزودہ کرنے کے لیے تیار کی جا رہی ہے۔
دوسری جانب ایران نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہاں صرف جدید سینٹری فیوجز کی تیاری اور اسمبلنگ کا کام ہوتا ہے۔
یہ دعوے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی اس مقام کو نشانہ بنانے کی دھمکی دے چکے ہیں، جس سے خطے میں ایک نئی عسکری کشیدگی کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔
اسرائیلی انٹیلی جنس کے دعوے
اسرائیلی آرمی ریڈیو اور دیگر ذرائع کے مطابق تل ابیب کا اندازہ ہے کہ ’جبل الفأس‘ کو اس انداز میں تعمیر کیا گیا ہے کہ وہاں زیرِ زمین یورینیم افزودگی کا پورا عمل محفوظ طریقے سے جاری رکھا جا سکے۔
اسرائیلی حکام کا خیال ہے کہ اگر اس تنصیب میں افزودہ یورینیم منتقل کر دیا گیا تو یہ ایک ایسی سرخ لکیر ہوگی جس کے بعد امریکی کارروائی کا امکان بہت زیادہ بڑھ جائے گا۔
اسرائیلی تجزیہ کار یہ بھی کہتے ہیں کہ اگرچہ امریکہ اس تنصیب کو شدید نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے، لیکن اس کی گہرائی اور مضبوط تعمیر کے باعث اسے مکمل طور پر تباہ کرنا آسان نہیں ہوگا۔
یہی وجہ ہے کہ اس مقام کو اسرائیلی میں ایران کے جوہری پروگرام کا ممکنہ محفوظ ترین مرکز قرار دیا جا رہا ہے۔
جبل الفأس ایران کے لیے اہم اور امریکہ و اسرائیل کے لیے پریشان کن کیوں ہے؟
ٹرمپ کے سخت بیانات
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں ایک مرتبہ پھر ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ ’بہت جلد‘ اس مقام پر کاری ضرب لگا سکتا ہے۔
اس سے پہلے بھی وہ واضح الفاظ میں کہہ چکے ہیں کہ اگر ضرورت پڑی تو ’جبل الفأس‘ کو تباہ کر دیا جائے گا۔
امریکی قیادت کے ان بیانات نے اس تاثر کو تقویت دی ہے کہ واشنگٹن ایران کے جوہری پروگرام کو صرف سفارتی مسئلہ نہیں بلکہ اپنی قومی سلامتی سے جڑا معاملہ سمجھتا ہے۔
ایران کا نیا جوہری مرکز: جبل الفأس اور عالمی تشویش
اسرائیلی انٹیلی جنس دعوے اور ٹرمپ کی دھمکیوں کے بعد خطے میں نئی عسکری کشیدگی کے خدشات بڑھ گئے۔
نطنز کے قریب واقع زیرِ زمین تنصیب جبل الفأس 90 فیصد یورینیم افزودگی کے خدشات اور امریکی و اسرائیلی دھمکیوں کے باعث عالمی تنازع کا نیا مرکز بن چکی ہے۔
⚠️ اسرائیلی انٹیلی جنس کا دعویٰ
تل ابیب کے مطابق نطنز کے قریب 'جبل الفأس' میں زیرِ زمین 90 فیصد تک یورینیم افزودگی کی تیاری کی جا رہی ہے جو ایک سرخ لکیر ہے۔
💣 ٹرمپ کا سخت موقف
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ واشنگٹن ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے کے لیے اس مقام پر جلد حملہ کر سکتا ہے۔
🛡️ تہران کا اپنا موقف
ایران نے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ صرف جدید سینٹری فیوجز کی اسمبلنگ کے لیے ایک صنعتی و سویلین مرکز ہے۔
📍 حکمت عملی کا حامل محلِ وقوع
یہ مقام تہران سے 220 کلومیٹر جنوب اور نطنز سے صرف 2 کلومیٹر دور ہے، جس کی گہرائی اور مضبوطی اسے بیرونی حملوں سے محفوظ بناتی ہے۔
اوورسیز پوسٹ انٹرایکٹیو انفوگرافک سسٹم
تہران کا مؤقف مختلف ہے!
دوسری جانب ایران مسلسل یہ مؤقف اختیار کیے ہوئے ہے کہ ’جبل الفأس‘ کوئی خفیہ افزودگی مرکز نہیں بلکہ 2020ء میں قائم کی گئی ایسی صنعتی تنصیب ہے جہاں جدید سینٹری فیوجز تیار اور اسمبل کیے جاتے ہیں۔
ایرانی حکام بارہا کہہ چکے ہیں کہ ان کا جوہری پروگرام پُرامن مقاصد کے لیے ہے اور اس کا مقصد توانائی، تحقیق اور دیگر سویلین ضروریات پوری کرنا ہے۔
اسی طرح تہران مغربی ممالک اور اسرائیل کے ان الزامات کو سیاسی دباؤ کا حصہ قرار دیتا ہے۔
📌 جبل الفأس فیکٹ باکس
ہزاروں سینٹری فیوجز کی منتقلی کا دعویٰ
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے اپنی ایک رپورٹ میں اسرائیلی انٹیلی جنس کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ برس ہونے والی 12 روزہ جنگ کے بعد ایران نے ہزاروں سینٹری فیوجز کو ’جبل الفأس‘ کی گہری سرنگوں میں منتقل کر دیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق یہ معلومات اسرائیل نے امریکی حکام کے ساتھ بھی شیئر کی ہیں۔
اسی تناظر میں اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو واشنگٹن کو قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ایران کے جوہری ڈھانچے کے خلاف مزید سخت کارروائیاں ضروری ہیں۔
اگرچہ اس معاملے پر امریکہ اور اسرائیل کے اہداف میں بعض پہلوؤں پر اختلاف بھی موجود ہے۔
اسی دوران امریکی ویب سائٹ المانیٹر نے بھی امریکی انٹیلی جنس ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ واشنگٹن کو شبہ ہے کہ ایران اس علاقے میں ایک ایسی محفوظ تنصیب تیار کر رہا ہے جس کا مقصد مستقبل میں اپنے جوہری پروگرام کو بیرونی حملوں سے بچانا ہے۔
نطنز کے قریب اہم محلِ وقوع
’جبل الفأس‘ تہران سے تقریباً 220 کلومیٹر جنوب میں واقع ہے اور نطنز کے معروف جوہری کمپلیکس سے صرف 2 کلومیٹر کے فاصلے پر بتایا جاتا ہے۔
نطنز وہی مقام ہے جو ماضی میں متعدد حملوں اور تخریب کاری کی کارروائیوں کا مرکز رہا ہے اور امریکہ و اسرائیل کی مشترکہ کارروائیوں کے دوران یہاں کے کئی حصے متاثر بھی ہوئے تھے۔
بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کے مطابق سطحِ زمین پر قائم افزودگی پلانٹ مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے، جبکہ زیرِ زمین پلانٹ کو بھی شدید نقصان پہنچنے کے امکانات ظاہر کیے گئے تھے، تاہم ’جبل الفأس‘ کو اب تک براہِ راست نشانہ نہیں بنایا گیا۔
خطے کے لیے اس تنازع کی اہمیت
جبل الفأس سے متعلق اسرائیلی دعووں اور امریکی دھمکیوں نے ایک مرتبہ پھر مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کو نمایاں کر دیا ہے۔
اگر اسرائیل کے اندازے درست ثابت ہوتے ہیں تو ایران کا جوہری پروگرام ایک نئے اور زیادہ محفوظ مرحلے میں داخل ہو سکتا ہے، جبکہ اگر یہ صرف انٹیلی جنس اندازے ہیں تو خطے میں سیاسی اور سفارتی دباؤ مزید بڑھنے کا امکان موجود ہے۔
فی الحال اس معاملے پر آزاد اور غیر جانبدار بین الاقوامی تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ عالمی برادری کی نظریں اب ایران، امریکہ، اسرائیل اور بین الاقوامی ایٹمی اداروں کی آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں، کیونکہ ان میں سے کسی ایک قدم سے بھی پورے مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی کی صورتحال متاثر ہو سکتی ہے۔