اکثر لوگوں کے ساتھ ایسا ہوتا ہے کہ وہ کسی چیز کے بارے میں سوچتے یا بات کرتے ہیں اور کچھ ہی دیر بعد اسی چیز کے اشتہارات موبائل فون پر نظر آنے لگتے ہیں۔
مزید پڑھیں
اسی وجہ سے عالمی سطح پر یہ سوال بار بار اٹھ رہا ہے کہ کیا اسمارٹ فون واقعی ہماری گفتگو سن رہے ہیں؟
دنیا بھر میں پھیلنے والی حالیہ رپورٹس سے معلوم ہوتا ہے کہ حقیقت اس سادہ خیال سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔
’ایکٹیو لسننگ‘ (Active Listening) کا تنازع
2024ء میں ٹیکنالوجی ویب سائٹ نے چشم کشا انکشافات کیے تھے۔
404 Media کی اس رپورٹ میں مارکیٹنگ کمپنی Cox Media Group کی ایک مبینہ لیک پریزنٹیشن سامنے آئی، جس میں Active Listening ٹیکنالوجی کا ذکر تھا۔
اس دستاویز کے مطابق:
- اسمارٹ ڈیوائسز صارفین کی گفتگو سے دلچسپیاں سمجھ سکتی ہیں۔
- اسی بنیاد پر اشتہارات کو زیادہ مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔
چشم کشا انکشافات پر مبنی اس اہم رپورٹ میں گوگل، ایمیزون اور فیس بک کا بھی ذکر تھا، تاہم بعد میں:
- گوگل نے کمپنی سے تعلق ختم کر دیا۔
- ایمیزون نے الزامات مسترد کیے۔
- کمپنی نے اسے پرانی دستاویز قرار دیا۔
📱 کیا اسمارٹ فون واقعی باتیں سنتا ہے؟
ڈیجیٹل جاسوسی کے حقائق، تعلیمی تحقیق اور الٹراسونک ٹریکنگ کے خوفناک انکشافات
تحقیقات کے مطابق اسمارٹ فونز ہر وقت گفتگو نہیں ریکارڈ کرتے، بلکہ صارف کی عادات ٹریک کرنے کے لیے الٹراسونک سگنلز اور اسکرین شاٹس کا سہارا لیا جاتا ہے۔
🔍 تعلیمی تحقیق کا انکشاف
17 ہزار اینڈرائیڈ ایپس کے جائزے میں مسلسل آواز ریکارڈ ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔
🚨 اسکرین ریکارڈنگ اور سیکیورٹی
کچھ ایپس صارف کی اجازت کے بغیر اسکرین شاٹس اور ویڈیو سیشنز ریکارڈ کر کے بھیج رہی تھیں۔
📡 الٹراسونک کراس ڈیوائس ٹریکنگ
ٹی وی اشتہارات کی پنہاں آوازوں سے مائیکروفون کے ذریعے فون اور لیپ ٹاپ منسلک کیے جاتے ہیں۔
🛡️ پرائیویسی کے تحفظ کے تدابیر
غیر ضروری ایپس سے مائیکروفون کی اجازت ختم کریں اور پرسنلائزڈ اشتہارات کی ترتیبات بند رکھیں۔
اوورسیز پوسٹ انٹرایکٹیو انفوگرافک سسٹم
تحقیق کیا کہتی ہے؟
دنیا بھر میں تشویش کا سبب بننے والے اس معاملے پر ایک اہم تعلیمی تحقیق بھی سامنے آئی۔
امریکی نارتھ ایسٹرن یونیورسٹی کے محققین نے تقریباً 17 ہزار اینڈرائیڈ ایپس کا جائزہ لیا، جس کے نتائج یوں تھے:
- ایپس کے ذریعے مسلسل آواز ریکارڈ ہونے کا کوئی واضح ثبوت نہیں ملا۔
- یعنی فون ہر وقت گفتگو سن رہا ہے، یہ بات ثابت نہیں ہوئی۔
اصل خطرہ کہاں ہے؟
تحقیق کے دوران ایک اور تشویشناک پہلو سامنے آیا، جس کے مطابق کئی ایپس:
- صارف کی اجازت کے بغیر اسکرین شاٹس لے رہی تھیں۔
- یہ ڈیٹا تھرڈ پارٹی کمپنیوں کو بھیجا جا رہا تھا۔
ایک ایپ تو اس حد تک گئی کہ:
- اسکرین کی مکمل ویڈیو ریکارڈ کر رہی تھی۔
- جس میں نجی پیغامات، براؤزنگ اور لاگ اِن معلومات شامل تھیں۔
الٹرا سونک ٹریکنگ کیا ہے؟
ماہرین کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ اصل خطرہ درحقیقت ایک اور ٹیکنالوجی سے جڑا ہے، جسے Ultrasonic Cross-Device Tracking کہا جاتا ہے۔
یہ کیسے کام کرتی ہے؟
- ٹی وی اشتہارات یا ویب سائٹس میں پوشیدہ آوازیں شامل کی جاتی ہیں۔
- یہ آوازیں انسانی کان نہیں سن سکتے۔
- مگر موبائل فون انہیں پکڑ لیتا ہے۔
📱 اسمارٹ فون ٹریکنگ: اہم فیکٹس
یہ ٹیکنالوجی کیا کرتی ہے؟
اگر کسی ایپ کو مائیکروفون کی اجازت ہو تو وہ:
- ان پوشیدہ سگنلز کو شناخت کر سکتی ہے۔
- مختلف ڈیوائسز کو آپس میں جوڑ سکتی ہے۔
مثلاً:
- فون
- ٹی وی
- لیپ ٹاپ
- ٹیبلیٹ
اس طرح اشتہاری کمپنیاں یہ سمجھ لیتی ہیں کہ یہ سب ایک ہی صارف استعمال کر رہا ہے۔
اہم بات:
- اس عمل میں گفتگو ریکارڈ نہیں ہوتی۔
- بلکہ عادات اور دلچسپیاں ٹریک کی جاتی ہیں۔
🛡️ جاسوسی کے خدشات سے بچنا کیوں اہم ہے؟
تحقیق کے اہم نکات
تحقیق کے مطابق:
- سیکڑوں اینڈرائیڈ ایپس میں یہ فیچر موجود تھا۔
- انٹرنیٹ یا وائی فائی ضروری نہیں تھا۔
- صرف مائیکروفون کی اجازت کافی تھی۔
یہ اجازت اکثر صارفین پہلے ہی دے چکے ہوتے ہیں۔
خود کو کیسے محفوظ رکھیں؟
ماہرین چند آسان اقدامات تجویز کرتے ہیں:
- غیر ضروری ایپس سے مائیکروفون کی اجازت ختم کریں۔
- پرسنلائزڈ اشتہارات بند کریں۔
- اسمارٹ ٹی وی کی ٹریکنگ سیٹنگز محدود کریں۔
- گوگل اسسٹنٹ یا الیکسا کی ریکارڈنگز حذف کریں۔
خدشات اور شواہد
موجودہ شواہد یہ ثابت نہیں کرتے کہ اسمارٹ فون ہر وقت ہماری گفتگو سن رہے ہیں، لیکن یہ ضرور واضح ہے کہ ہماری ڈیجیٹل سرگرمیوں کو مختلف طریقوں سے ٹریک کیا جا رہا ہے۔
اسی لیے ضروری ہے کہ:
- ایپس کو صرف ضروری اجازتیں دیں۔
- پرائیویسی سیٹنگز کا باقاعدگی سے جائزہ لیتے رہیں۔
یہی احتیاط آپ کی ذاتی معلومات کو محفوظ رکھنے میں مدد دے سکتی ہے۔