براہ راست نشریات

ورلڈکپ: انگلینڈ ارجنٹائن میچ میں ریفری کے سجدے کی ویڈیو وائرل

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
ورلڈکپ 2026 میں ارجنٹائن انگلینڈ میچ کے بعد ریفری اسماعیل الفتح کا میدان میں سجدہ کرنے کا وائرل منظر
میچ کی آخری سیٹی بجتے ہی امریکی نژاد مراکشی ریفری اسماعیل الفتح نے میدان میں سجدہ کیا (فوٹو: فیس بک)

فیفا ورلڈکپ 2026 کے سیمی فائنل میں اسماعیل الفتح کا سجدہ ریز ہونا سوشل میڈیا پر مقبولیت کی نئی بلندیوں کو چھو گیا ہے۔

مزید پڑھیں

امریکی شہر اٹلانٹا میں کھیلے گئے ارجنٹائن اور انگلینڈ کے اہم میچ کے اختتام پر اسماعیل الفتح کا یہ عمل دنیا بھر میں بحث اور ستائش کا باعث بنا ہوا ہے۔

تاریخ ساز لمحہ اور عوامی ردِعمل

میچ کی آخری سیٹی بجتے ہی امریکی نژاد مراکشی ریفری اسماعیل الفتح نے میدان میں سجدہ کیا۔ 

یہ جذباتی منظر چند گھنٹوں میں 4 ملین (40 لاکھ) سے زائد بار دیکھا گیا۔ سوشل میڈیا صارفین اسے ایک تاریخ ساز واقعہ قرار دے رہے ہیں جو عالمی اسٹیج پر عاجزی کی علامت ہے۔

اسلامی شناخت اور وقار کا اظہار

مداحوں کا کہنا ہے کہ اسماعیل الفتح نے مشکل ترین میچ کے دباؤ کے بعد کامیابی پر اللہ کا شکر ادا کر کے اپنی اسلامی شناخت کو نمایاں کیا۔

ناقدین کی تنقید کے باوجود اُن کا یہ اعتماد اور اپنی اقدار سے لگاؤ دنیا بھر کے کھیلوں کے شائقین کے لیے ایک متاثر کن پیغام ہے۔

فیفا ورلڈ کپ
تمام اپڈیٹس، نتائج اور تجزیے
ایک جگہ پر، کلک کریں
🏆

سخت ترین میچ اور میدان میں مہارت

اسماعیل الفتح نے ارجنٹائن اور انگلینڈ کے درمیان انتہائی حساس میچ میں شاندار امپائرنگ کا مظاہرہ کیا۔

ماضی کی سیاسی تلخیوں اور سخت دباؤ کے باوجود انہوں نے بغیر کسی بڑی غلطی کے میچ مکمل کرایا، جس پر عرب اور عالمی حلقوں نے ان کی غیر جانبدارانہ صلاحیتوں کو سراہا ہے۔

عالمی سطح پر پزیرائی

صرف عرب شائقین ہی نہیں بلکہ غیر ملکی مبصرین بھی اس ردِعمل کے معترف ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسماعیل الفتح کی یہ ادا اس بات کی یاد دہانی ہے کہ کامیابی کے لمحات میں بھی اپنے خالق کو یاد رکھنا ایک اعلیٰ ظرف انسان کی پہچان ہے، جو شہرت کی چکا چوند سے بالاتر ہے۔

اسماعیل الفتح کا پیشہ ورانہ سفر

برطانوی اخبار دی ایتھلیٹک کی رپورٹ کے مطابق 44 سالہ اسماعیل الفتح مراکش میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ٹیکساس یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی۔

وہ 2012 سے میجر لیگ سوکر میں خدمات انجام دے رہے ہیں اور 2016 میں انہیں فیفا کی جانب سے بین الاقوامی ریفری کا درجہ دیا گیا۔

اوورسیز پوسٹ ایپ
کیسے استعمال کریں؟ مکمل رہنمائی کے لیے کلک کریں
📱
☝️

ٹیکنالوجی اور تجربے کا امتزاج

وہ ویڈیو اسسٹنٹ ریفری (VAR) ٹیکنالوجی کو متعارف کرانے والے اولین ریفریز میں شامل رہے ہیں۔

اس سے قبل وہ قطر میں ہونے والے 2022 کے ورلڈ کپ فائنل میں بطور چوتھے ریفری فرائض انجام دے چکے ہیں اور وہ اپنے کھیل کو رواں رکھنے والے انداز کے لیے عالمی سطح پر جانے جاتے ہیں۔

ایک چیلنجنگ ٹورنامنٹ

اسماعیل الفتح کے لیے یہ ورلڈ کپ دباؤ سے بھرپور رہا ہے۔

خاص طور پر ارجنٹائن اور مصر کے درمیان راؤنڈ آف 16 کے متنازع میچ کے بعد اُن پر انگلینڈ اور ارجنٹائن کے اہم سیمی فائنل میں بہترین کارکردگی دکھانے کی بھاری ذمہ داری تھی، جسے انہوں نے بطریق احسن نبھایا۔

ہم سے جڑے رہیں

مبصرین کا کہنا ہے کہ اسماعیل الفتح کا یہ عمل محض ایک مذہبی اظہار نہیں بلکہ ایک پیشہ ور ریفری کے طور پر ان کی مضبوط شخصیت کی عکاسی ہے۔

انہوں نے اپنی بہترین کارکردگی کے ذریعے تنقید کا جواب دیا اور کھیلوں کی دنیا میں ایک ایسی مثال قائم کی ہے جو طویل عرصے تک یاد رکھی جائے گی۔