فیفا ورلڈکپ 2026 کے سیمی فائنل میں اسماعیل الفتح کا سجدہ ریز ہونا سوشل میڈیا پر مقبولیت کی نئی بلندیوں کو چھو گیا ہے۔
مزید پڑھیں
امریکی شہر اٹلانٹا میں کھیلے گئے ارجنٹائن اور انگلینڈ کے اہم میچ کے اختتام پر اسماعیل الفتح کا یہ عمل دنیا بھر میں بحث اور ستائش کا باعث بنا ہوا ہے۔
تاریخ ساز لمحہ اور عوامی ردِعمل
میچ کی آخری سیٹی بجتے ہی امریکی نژاد مراکشی ریفری اسماعیل الفتح نے میدان میں سجدہ کیا۔
یہ جذباتی منظر چند گھنٹوں میں 4 ملین (40 لاکھ) سے زائد بار دیکھا گیا۔ سوشل میڈیا صارفین اسے ایک تاریخ ساز واقعہ قرار دے رہے ہیں جو عالمی اسٹیج پر عاجزی کی علامت ہے۔
Ismail El Fath performed Sajdat al-Shukr (the Prostration of Gratitude) after the match to thank Allah. 🤲 pic.twitter.com/Tx9U3q35FN
— 11LIONS.NL🦁 (@11LionsNL) July 15, 2026
اسلامی شناخت اور وقار کا اظہار
مداحوں کا کہنا ہے کہ اسماعیل الفتح نے مشکل ترین میچ کے دباؤ کے بعد کامیابی پر اللہ کا شکر ادا کر کے اپنی اسلامی شناخت کو نمایاں کیا۔
ناقدین کی تنقید کے باوجود اُن کا یہ اعتماد اور اپنی اقدار سے لگاؤ دنیا بھر کے کھیلوں کے شائقین کے لیے ایک متاثر کن پیغام ہے۔
سخت ترین میچ اور میدان میں مہارت
اسماعیل الفتح نے ارجنٹائن اور انگلینڈ کے درمیان انتہائی حساس میچ میں شاندار امپائرنگ کا مظاہرہ کیا۔
ماضی کی سیاسی تلخیوں اور سخت دباؤ کے باوجود انہوں نے بغیر کسی بڑی غلطی کے میچ مکمل کرایا، جس پر عرب اور عالمی حلقوں نے ان کی غیر جانبدارانہ صلاحیتوں کو سراہا ہے۔
عالمی سطح پر پزیرائی
صرف عرب شائقین ہی نہیں بلکہ غیر ملکی مبصرین بھی اس ردِعمل کے معترف ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسماعیل الفتح کی یہ ادا اس بات کی یاد دہانی ہے کہ کامیابی کے لمحات میں بھی اپنے خالق کو یاد رکھنا ایک اعلیٰ ظرف انسان کی پہچان ہے، جو شہرت کی چکا چوند سے بالاتر ہے۔
👏🇲🇦 لقطة مؤثرة...
— رياض تايم (@chamar_ibrahim) July 15, 2026
الحكم المغربي إسماعيل الفتح يسجد شكرًا لله عز وجل عقب نهاية اللقاء، في مشهد يعكس التواضع والامتنان بعد إدارة مباراة بهذا الحجم.#كاس_العالم_٢٠٢٦ pic.twitter.com/r5oF9K3aKA
اسماعیل الفتح کا پیشہ ورانہ سفر
برطانوی اخبار دی ایتھلیٹک کی رپورٹ کے مطابق 44 سالہ اسماعیل الفتح مراکش میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ٹیکساس یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی۔
وہ 2012 سے میجر لیگ سوکر میں خدمات انجام دے رہے ہیں اور 2016 میں انہیں فیفا کی جانب سے بین الاقوامی ریفری کا درجہ دیا گیا۔
ٹیکنالوجی اور تجربے کا امتزاج
وہ ویڈیو اسسٹنٹ ریفری (VAR) ٹیکنالوجی کو متعارف کرانے والے اولین ریفریز میں شامل رہے ہیں۔
اس سے قبل وہ قطر میں ہونے والے 2022 کے ورلڈ کپ فائنل میں بطور چوتھے ریفری فرائض انجام دے چکے ہیں اور وہ اپنے کھیل کو رواں رکھنے والے انداز کے لیے عالمی سطح پر جانے جاتے ہیں۔
ایک چیلنجنگ ٹورنامنٹ
اسماعیل الفتح کے لیے یہ ورلڈ کپ دباؤ سے بھرپور رہا ہے۔
خاص طور پر ارجنٹائن اور مصر کے درمیان راؤنڈ آف 16 کے متنازع میچ کے بعد اُن پر انگلینڈ اور ارجنٹائن کے اہم سیمی فائنل میں بہترین کارکردگی دکھانے کی بھاری ذمہ داری تھی، جسے انہوں نے بطریق احسن نبھایا۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ اسماعیل الفتح کا یہ عمل محض ایک مذہبی اظہار نہیں بلکہ ایک پیشہ ور ریفری کے طور پر ان کی مضبوط شخصیت کی عکاسی ہے۔
انہوں نے اپنی بہترین کارکردگی کے ذریعے تنقید کا جواب دیا اور کھیلوں کی دنیا میں ایک ایسی مثال قائم کی ہے جو طویل عرصے تک یاد رکھی جائے گی۔