سعودی جنرل اتھارٹی برائے شماریات کی جاری کردہ تازہ ترین رپورٹ کے مطابق مملکت میں جون 2026 کے دوران سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح 1.8 فیصد پر برقرر رہی۔
مزید پڑھیں
یہ شرح مئی کے مہینے میں بھی اتنی ہی ریکارڈ کی گئی تھی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قیمتیں مستحکم ہیں۔
العربیہ کے مطابق مہنگائی میں اضافے کی بنیادی وجہ رہائش، پانی، بجلی، گیس اور دیگر ایندھن کی قیمتوں میں 3.5 فیصد اضافہ ہے۔
اس کے علاوہ شعبہ ٹرانسپورٹ میں 1.7 فیصد اور خوراک و مشروبات کی قیمتوں میں 1.4 فیصد تک کا نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
علاوہ ازیں ماہانہ بنیادوں پر جائزہ لیا جائے تو جون 2026 میں کنزیومر پرائس انڈیکس میں مئی کے مقابلے میں 0.2 فیصد کا معمولی اضافہ ہوا ہے۔
اس دوران ٹرانسپورٹ کے شعبے میں 0.4 فیصد، رہائش و یوٹیلیٹیز میں 0.1 فیصد اور خوراک و مشروبات کی قیمتوں میں 0.7 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ مملکت میں مہنگائی کا 2 فیصد سے کم رہنا جی 20 ممالک میں سب سے بہتر کارکردگی ہے۔
سعودی معیشت مستحکم: جون میں مہنگائی کی شرح میں استحکام
عالمی چیلنجز کے باوجود سعودی عرب میں مہنگائی کی شرح متوقع حد کے اندر برقرار ہے۔
سعودی عرب میں جون کے دوران سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح 1.8 فیصد پر مستحکم رہی، جو گروپ 20 ممالک میں بہترین معاشی کارکردگی کی عکاس ہے۔
اوورسیز پوسٹ انٹرایکٹیو انفوگرافک سسٹم
یہ اعداد و شمار عالمی چیلنجز کے باوجود سعودی معیشت کے مضبوط اور مستحکم ہونے کا واضح ثبوت فراہم کرتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق متعلقہ وزارتوں کی جانب سے تاجروں پر دباؤ ڈالا گیا ہے کہ وہ قیمتوں میں اضافے کا بوجھ براہ راست صارفین پر نہ ڈالیں۔
یہی وجہ ہے کہ مملکت میں رہائشی اخراجات میں ہونے والا اضافہ بھی حکومتی پالیسیوں کے تحت کنٹرول میں رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
مملکت میں کنزیومر پرائس انڈیکس کا تعین 582 اشیا اور خدمات پر مشتمل ایک باسکٹ کے ذریعے کیا جاتا ہے۔
ان اشیا کا انتخاب 2023 کے خاندانی اخراجات کے سروے کی بنیاد پر کیا گیا ہے، تاکہ صارفین کے حقیقی اخراجات اور معاشی رجحانات کی درست عکاسی کی جا سکے۔
جنرل اتھارٹی برائے شماریات نے ڈیٹا کا معیار بہتر بنانے کے لیے اگست 2025 سے ایک جدید طریقہ کار اپنایا ہے۔
اس نئے نظام میں جغرافیائی کوریج کو وسیع کیا گیا ہے، جس میں قیمتوں کے تعین کے لیے جدید ذرائع استعمال کیے جا رہے ہیں تاکہ عالمی معیارات کو یقینی بنایا جا سکے۔