عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی فچ نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں سعودی عرب کی طویل مدتی کریڈٹ ریٹنگ کو ’اے پلس‘ پر برقرار رکھا ہے اور ملک کے معاشی مستقبل کے حوالے سے آؤٹ لک کو مستحکم قرار دیا ہے۔
مزید پڑھیں
ایجنسی کے مطابق یہ درجہ بندی سعودی عرب کی مضبوط مالی پوزیشن اور بھاری مالیاتی ذخائر کی عکاس ہے۔
رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ مملکت کے سرکاری قرضوں کی شرح اور خودمختار غیر ملکی اثاثے ’اے‘ اور ’ڈبل اے‘ ریٹنگ والی دیگر معیشتوں کے اوسط سے کہیں زیادہ بہتر ہیں۔
جغرافیائی سیاسی تناؤ کے باوجود سعودی معیشت نے غیر تیل (نان آئل)
سرگرمیوں اور متوازن بجٹ کے ذریعے اپنی لچک کو کامیابی سے برقرار رکھا ہے۔
فچ نے پیش گوئی کی ہے کہ سعودی عرب کی حقیقی جی ڈی پی نمو 2026ء میں سست ہو کر 0.6 فیصد تک رہ سکتی ہے۔
تاہم ایجنسی کے مطابق 2027ء میں اس میں بہتری متوقع ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز سے جہاز رانی کی بحالی کے بعد تیل اور پیٹرو کیمیکلز کی پیداوار میں اضافہ ممکن ہو سکے گا۔
ایجنسی کے مطابق 2028ء تک سعودی معیشت کی ترقی کی شرح 2.9 فیصد تک پہنچنے کی توقع ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے عالمی مالیاتی فنڈ نے 2026ء کے لیے سعودی ترقی کی شرح کی پیش گوئی کو 1.4 فیصد کم کر کے 1.7 فیصد کر دیا تھا، جبکہ 2027ء کے لیے اسے 5.5 فیصد تک بڑھایا ہے۔
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی جانب سے یہ تبدیلیاں عالمی معیشت اور توانائی منڈیوں میں متوقع تبدیلیوں کے تناظر میں کی گئی ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ان اقتصادی پیش گوئیوں پر جغرافیائی سیاسی عوامل اور خام تیل کی پیداوار میں ہونے والی پیش رفت کے گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں جو برآمد کنندہ ممالک کی معیشتوں کو متاثر کر رہے ہیں۔