مصر کی سرزمین کو طویل عرصے سے مہاجرین کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ سمجھا جاتا ہے، جہاں دنیا بھر سے آنے والے افراد کو عزت و تکریم کے ساتھ رہائش اور روزگار کے مواقع میسر ہیں۔
مزید پڑھیں
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق یہاں کے مقامی باشندے اپنی فیاضی اور کشادہ دلی کے لیے مشہور ہیں۔
ایک شامی مہاجر خاتون نے اپنے تجربات بتاتے ہوئے کہا کہ مصر میں انہیں جو اپنائیت و اخوت ملی، اس نے انہیں یہاں کا گرویدہ بنا دیا ہے۔
اُن کا 10 سالہ بیٹا، جو مصر میں پیدا ہوا، مقامی اور شامی لہجوں میں مہارت رکھتا ہے۔
مصر میں قیام پذیر مہاجرین کی زندگی دیگر ممالک کے برعکس ہے، جہاں انہیں خیموں میں رہنے کے بجائے مقامی لوگوں کے ساتھ گھروں میں رہنے کا موقع ملا۔
یہاں سوڈان، ایتھوپیا، اریٹیریا، یمن اور عراق سمیت درجنوں ممالک کے لاکھوں افراد پرامن زندگی گزار رہے ہیں۔
ایک شامی باشندے نے 2012 سے شروع ہونے والے اپنے 5 سالہ قیام کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ گیزا کی سڑکوں پر مٹھائی بیچتے وقت مقامی خواتین نے میونسپلٹی کے اہلکاروں سے ان کی حفاظت کی۔
انہوں نے فخر سے بتایا کہ مصری شہریوں نے ان کی مدد کے لیے کئی بار تحفے بھی دیے۔
یہ واقعات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ مصر کی سرزمین اسلام کی تعلیمات کے مطابق مہمان نوازی اور انسانی ہمدردی کا بہترین مرکز ہے۔
نبی کریمﷺ کی احادیث کے مطابق پناہ مانگنے والوں کی مدد کرنا اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرنا یہاں کی ثقافت کا حصہ ہے۔
ایک چوہا اور غزہ
آخر میں اس تحریر کی مصنفہ نے اپنے ایک ذاتی تجربے کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ: میں اپنے کمرے میں بیٹھی فجر کی اذان کی پُرسکون کیفیت سے لطف اندوز ہو رہی تھی کہ اچانک میرے سامنے سے ایک چوہا گزرا۔
اس غیر متوقع منظر پر میں اس قدر خوفزدہ ہوئی کہ فوراً کمرے سے باہر بھاگ نکلی، میں نے مدد کے لیے اوپر کی منزل پر رہائش پذیر اپنے کزن کو پکارا، جو فوراً میری مدد کو پہنچ گئے۔
انہوں نے بتایا کہ کافی دیر تک تلاش کے باوجود جب وہ چوہے کو نہ ڈھونڈ سکے، تو انہوں نے ایک اور کزن کو مدد کے لیے بلایا اور ان دونوں نے ایک گھنٹے سے زائد وقت تک اس تلاش کو جاری رکھا۔
اس تمام تر صورتحال کے دوران میں اپنے اس خوف پر غور کرنے لگی جو ایک چھوٹے سے چوہے کے باعث مجھ پر طاری ہوا۔
دوسری طرف غزہ میں ہمارے بہن بھائی انہی چوہوں اور سانپوں کے درمیان زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
یہ سوچ کر مجھے اپنے خوف پر محسوس ہوئی۔ بے اختیار میرے لبوں سے یہ دعا نکلی: ’اے اللہ! دنیا کی فانی چکاچوند میں ڈوبی اس امت کو بیدار کر، تاکہ وہ فلسطین میں موجود ہمارے اپنوں کی مدد کو پہنچ سکے۔‘