براہ راست نشریات

نیا آئی فون لینے کے بجائے استعمال شدہ خریدنا سب سے بہتر فیصلہ کیوں؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
استعمال شدہ آئی فون، سیکنڈ ہینڈ مارکیٹ میں ایپل فونز کی خرید و فروخت اور قیمتوں کا موازنہ
عالمی سطح پر بڑھتی مہنگائی کے اثرات سے ایپل جیسی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں بھی محفوظ نہیں رہ سکیں (فوٹو: اے آئی)

صارفین کے لیے نیا آئی فون خریدنا ہمیشہ سے ایک سحر انگیز تجربہ رہا ہے، لیکن بدلتے ہوئے عالمی معاشی حالات اور ٹیکنالوجی کے منظر نامے نے اب اس سوچ کو یکسر تبدیل کر دیا ہے۔

مزید پڑھیں

حال ہی میں سامنے آنے والی سائنسی اور معاشی پیش رفت کے بعد استعمال شدہ آئی فون کی خریداری اب محض ایک مجبوری نہیں، بلکہ پہلے سے کہیں زیادہ عقلمندانہ اور منطقی فیصلہ بن چکی ہے۔ 

ایک طرف جہاں ٹیک انڈسٹری کی سب سے بڑی کمپنی ایپل اپنے نئے ماڈلز کی قیمتیں بڑھانے پر مجبور ہو رہی ہے، تو دوسری طرف پرانے آلات کے لیے سافٹ ویئر سپورٹ میں تاریخی بہتری دیکھی جا رہی ہے۔ 

معروف سائنسی و تکنیکی جریدے وائرڈ کی ایک حالیہ رپورٹ کے 

مطابق اب نیا فون خریدنے کے بجائے موجودہ ڈیوائس کو برقرار رکھنا یا سیکنڈ ہینڈ آئی فون کی طرف جانا صارفین کی جیب کے لیے سب سے بہترین آپشن بن چکا ہے۔

استعمال شدہ آئی فون، سیکنڈ ہینڈ مارکیٹ میں ایپل فونز کی خرید و فروخت اور قیمتوں کا موازنہ
استعمال شدہ آئی فون خریدنا اب مجبوری نہیں، بلکہ عقلمندانہ اور منطقی فیصلہ بن چکا ہے (فوٹو: انٹرنیٹ)

بڑھتی ہوئی قیمتیں اور عالمی سپلائی چین کا بحران

عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی مہنگائی کے اثرات سے ایپل جیسی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں بھی محفوظ نہیں رہ سکیں۔

ایپل کے سبکدوش ہونے والے چیف ایگزیکٹو آفیسر  ٹیم کک نے وال اسٹریٹ جرنل کو دیے گئے ایک حالیہ انٹرویو میں اعتراف کیا ہے کہ کمپنی کی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ اب ناگزیر ہو چکا ہے۔ 

اگرچہ انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ کون سے ماڈلز کب مہنگے ہوں گے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی سب سے بڑی وجہ عالمی مارکیٹ میں میموری چپس اور اسٹوریج کے بنیادی پرزہ جات کی شدید قلت ہے۔

آج کل دنیا بھر میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس  کے ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر میں غیر معمولی تیزی آئی ہے، جس کی وجہ سے ان چپس کی مانگ حد سے زیادہ بڑھ چکی ہے۔ 

اس کا براہ راست اثر عام صارفین اور ایپل کی مینوفیکچرنگ لاگت پر پڑ رہا ہے۔ 

مزید برآں امریکہ میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے عائد کردہ تجارتی ٹیرف (ٹیکسز) اور ایران کے ساتھ علاقائی کشیدگی و تنازعات کی وجہ سے خام مال کی فراہمی مشکل ہو چکی ہے، جس کا پورا بوجھ آخر کار صارفین ہی کی جیب پر ڈال دیا جائے گا۔

استعمال شدہ آئی فون، سیکنڈ ہینڈ مارکیٹ میں ایپل فونز کی خرید و فروخت اور قیمتوں کا موازنہ
عالمی معاشی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایپل نے اپنی حکمتِ عملی میں بڑی تبدیلیاں کی ہیں (فوٹو: انٹرنیٹ)

پرانے آئی فونز کی عمر میں اضافہ: ایپل کی نئی حکمتِ عملی

اس معاشی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایپل نے خود بھی اپنی حکمتِ عملی میں بڑی تبدیلیاں کی ہیں۔

جون کے آغاز میں منعقد ہونے والی ایپل کی ورلڈ وائیڈ ڈویلپرز کانفرنس  میں کمپنی نے اپنے نئے آپریٹنگ سسٹم iOS 27 کی تفصیلات جاری کی ہیں۔

اس نئے سسٹم میں سی پی یو شیڈولر  کو اس انداز میں اپ گریڈ کیا گیا ہے جو پرانے آئی فونز کی کارکردگی کو سست ہونے سے روکے گا۔ 

اس کا مطلب یہ ہے کہ اب آئی فون 11 جیسے پرانے ماڈلز بھی آنے والی اپ ڈیٹس کے بعد بالکل ہموار اور تیز رفتار کام کر سکیں گے۔ 

اس تکنیکی بہتری کے بعد صارف مکمل اعتماد کے ساتھ سیکنڈ ہینڈ مارکیٹ سے پرانا آئی فون خرید سکتا ہے، کیونکہ اسے معلوم ہے کہ اس کا فون جدید سافٹ ویئر کی دوڑ میں پیچھے نہیں رہے گا۔

استعمال شدہ آئی فون، سیکنڈ ہینڈ مارکیٹ میں ایپل فونز کی خرید و فروخت اور قیمتوں کا موازنہ
صارف مکمل اعتماد کے ساتھ سیکنڈ ہینڈ مارکیٹ سے پرانا آئی فون خرید سکتا ہے (فوٹو: انٹرنیٹ)

سستی مینٹی نینس اور سستے پرزے

گیجٹس کی مرمت اور صارفین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی عالمی تنظیم iFixit کے چیف ایگزیکٹو کائل وینز کا کہنا ہے کہ استعمال شدہ آئی فون خریدنے کا اِس سے بہتر وقت کوئی اور نہیں ہو سکتا، کیونکہ پچھلے چند سالوں میں لانچ کیے گئے فونز تکنیکی طور پر بے حد شاندار ہیں۔

پرانے آلات کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ ان کی مرمت اور بیٹری کی تبدیلی نئے ماڈلز کے مقابلے میں سستی ہے۔

مثال کے طور پر ایپل نئے آئی فون 17 کی بیٹری تبدیل کرنے کے لیے 119 ڈالرز وصول کرتا ہے، جبکہ آئی فون 13 کی بیٹری اس سے تقریباً 30 ڈالرز سستی تبدیل ہو جاتی ہے۔ 

صارفین کے لیے یہ ایک بہترین سودا ہے کہ وہ صرف ایک سال پرانا آئی فون خریدیں اور ضرورت پڑنے پر اس کی بیٹری تبدیل کر کے اسے نئے جیسا بنا لیں۔

آئی فون پرو ماڈل اور بنیادی آئی فون کے درمیان موازنہ اور خصوصیات کا فرق ویب سائٹ گرافک
(فوٹو: انٹرنیٹ)

سیکنڈ ہینڈ مارکیٹ میں تیزی اور صارفین کا رجحان

عالمی ریسرچ کمپنی آئی ڈی سی کے ریسرچ ڈائریکٹر جتیش اوبرانی کے مطابق ایپل حالیہ مہینوں میں صارفین کے درمیان اپنی ساکھ مضبوط کر چکا ہے۔

اس لیے وہ عام ماڈلز کی قیمتیں یکمشت نہیں بڑھائے گا، بلکہ یہ اضافہ زیادہ تر جدید اور مہنگے ماڈلز جیسے کہ آئی فون پرو سیریز، نئے میک بک  اور مستقبل میں آنے والے فولڈ ایبل  فونز پر دیکھنے کو ملے گا۔

اگر عام صارف تھوڑی سی کم کوالٹی کے کیمرے اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس  کے چند غیر ضروری فیچرز پر سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار ہو، تو سیکنڈ ہینڈ ڈیوائس اس کے لیے بہترین ہے۔ 

عام طور پر لوگ ہر ڈھائی سال بعد اپنا فون بدلتے تھے، لیکن اب فونز کو طویل عرصے تک استعمال کرنے کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ 

ری فربشڈ  اور سیکنڈ ہینڈ آلات کی معروف عالمی مارکیٹ پلیس بیک مارکیٹ کے سی ای او تیببو ہوگو ڈی لاروز نے بتایا کہ 2025 میں ٹرمپ انتظامیہ کے ممکنہ ٹیرفس کے خوف سے ان کی سیلز میں ریکارڈ اضافہ ہوا تھا اور اب ٹیم کک کے بیان کے بعد اس میں دوبارہ تیزی آ گئی ہے۔ 

آئی فون پرو ماڈل اور بنیادی آئی فون کے درمیان موازنہ اور خصوصیات کا فرق ویب سائٹ گرافک
(فوٹو: انٹرنیٹ)

انہوں نے کہا کہ لوگ اب نئے آئی فون کے لیے 2 ہزار ڈالرز دینے کو تیار نہیں ہیں، اس لیے ہمیں ایسے اقدامات کرنے چاہییں کہ صارفین اپنے موجودہ فونز ہی کو زیادہ سے زیادہ دیر تک استعمال کر سکیں۔

مارکیٹ ریسرچ فرم کاؤنٹر پوائنٹ کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ اگرچہ معاشی دباؤ کے باعث استعمال شدہ فونز کی قیمتوں میں بھی اگلے 3 سے 6 ماہ کے دوران معمولی اضافہ متوقع ہے، لیکن اس کے باوجود یہ نئے فلیگ شپ فونز کے مقابلے میں بہت سستے ثابت ہوں گے۔ 

موجودہ دور میں اسمارٹ فونز اب اپنی تکنیکی انتہا کو پہنچ چکے ہیں، جہاں ہر سال آنے والی تبدیلیاں معمولی نوعیت کی ہوتی ہیں۔ 

لہٰذا اب نئے فونز کی مہنگی ترین اپ گریڈیشن کے جال میں پھنسنے کے بجائے سیکنڈ ہینڈ فون خریدنا یا اپنے موجودہ فون کو ہی طویل عرصے تک چلانا معاشی اور تکنیکی دونوں اعتبار سے سب سے زیادہ فائدہ مند اور دانشمندانہ انتخاب بن چکا ہے۔