نیویارک کے میئر زہران ممدانی کی اہلیہ راما دواجی اپنے ایک حالیہ لباس کی وجہ سے سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بنی ہوئی ہیں۔
مزید پڑھیں
نیویارک نکس کی 53 سال بعد چیمپئن شپ جیت کے جشن کے دوران ان کے غیر روایتی ملبوسات پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
لباس کی تخلیق اور ڈیزائن کا پس منظر
راما دواجی نے تقریب کے لیے ڈیزائنر کلیئر سلیوان کا تیار کردہ لباس زیب تن کیا، جو باسکٹ بال ٹیم نیویارک نکس کی 3 جرسیوں کو ری سائیکل کر کے بنایا گیا تھا۔
اس ڈیزائن میں سفید، نیلے اور نارنجی رنگوں کا امتزاج ٹیم کی روایتی پہچان کی عکاسی کر رہا تھا۔
ڈیزائن کی تفصیلات اور تکنیکی پہلو
لباس کے اوپری حصے کو سفید جرسی سے بنایا گیا، جو کندھے پر کراس ہوتی ہے، جبکہ نیچے نیلے اور نارنجی حصوں سے گھیر دار اسکرٹ تشکیل دی گئی تھی۔
انہوں نے ٹیم کے رنگوں سے مطابقت رکھتی نارنجی بالیاں پہن کر اپنے لباس کو مکمل کیا تھا جو کافی نمایاں رہیں۔
عوامی آرا میں تقسیم
سوشل میڈیا پر اس لباس کو لے کر دو آرا سامنے آئی ہیں۔
حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ ایک تخلیقی اور جدید سوچ کا عکاس ہے جو نیویارک کی روح سے جڑتی ہے۔
دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ میئر کی اہلیہ کے لیے یہ لباس ضرورت سے زیادہ غیر رسمی تھا۔
ناقدین کا مؤقف اور تبصرے
کچھ ناقدین نے اس ڈیزائن کو کسی ٹی وی شو کے گھریلو فیشن پروجیکٹ سے تشبیہ دی۔
ان کا مؤقف ہے کہ نیویارک سٹی ہال کے سامنے منعقدہ اس سرکاری تقریب کے تقدس اور مقام کے لحاظ سے یہ انتخاب غیر مناسب تھا، جسے کچھ لوگوں نے بہت ہی زیادہ غیر رسمی قرار دیا۔
میئر زہران ممدانی کی شخصیت
زہران ممدانی ایک انڈین نژاد امریکی سیاستدان ہیں جو 1991 میں یوگنڈا میں پیدا ہوئے۔
2025 میں نیویارک کے میئر منتخب ہونے والے ممدانی اپنے سخت سیاسی مؤقف کے لیے معروف ہیں۔ جشن کے دوران انہوں نے بھی ٹیم کے رنگوں کی ٹائی اور ٹی شرٹ کے ساتھ سوٹ کا انتخاب کیا تھا۔
راما دواجی
شامی نژاد امریکی راما دواجی پیشے کے اعتبار سے آرٹسٹ اور ڈیجیٹل ڈیزائنر ہیں۔
ان کی زہران ممدانی سے ملاقات 2021 میں ایک ڈیٹنگ ایپ کے ذریعے ہوئی، جس کے بعد 2024 میں ان کی منگنی اور 2025 میں نیویارک میں شادی ہوئی۔ وہ اپنی تخلیقی سوچ کے لیے جانی جاتی ہیں۔
یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ عوامی عہدیداروں کی نجی زندگیاں اور فیشن کے انتخاب کس قدر تیزی سے عوامی بحث کا حصہ بن جاتے ہیں۔
اگرچہ راما دواجی کا اقدام جدید فیشن اور ری سائیکلنگ کے فروغ کا عملی نمونہ تھا، لیکن اس نے سرکاری تقاریب کے پروٹوکول پر ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔