براہ راست نشریات

افراطِ زر: جب آپ کا پیسہ آپ کی جیب میں رہتے ہوئے اپنی قدر کھو دے

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
افراط زر کی وجوہات اور عالمی معیشت پر بڑھتی ہوئی مہنگائی کے اثرات
افراطِ زر پر قابو پانے کے لیے مرکزی بینک بنیادی طور پر شرح سود میں اضافہ کرتے ہیں (فوٹو: انٹرنیٹ)

افراطِ زر سے مراد اشیا اور خدمات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہے، جس کے نتیجے میں صارف کی قوتِ خرید میں کمی واقع ہوتی ہے۔

مزید پڑھیں

اس کا آسان مطلب یہ ہے کہ صارف کو اتنی ہی اشیا خریدنے کے لیے پہلے کی نسبت زیادہ رقم خرچ کرنی پڑتی ہے۔

افراطِ زر کی اقسام

معاشی ماہرین افراطِ زر کو رفتار و اسباب کی بنیاد پر تقسیم کرتے ہیں۔

معتدل افراطِ زر عام طور پر سالانہ 10 فیصد تک رہتا ہے، تاہم جب قیمتیں 50 فیصد ماہانہ سے تجاوز کر جائیں تو اسے ’بے قابو افراطِ 

زر‘کہا جاتا ہے، جو کسی بھی معیشت کے لیے تباہ کن ثابت ہوتا ہے۔

افراط زر کی وجوہات اور عالمی معیشت پر بڑھتی ہوئی مہنگائی کے اثرات
صارف کو اتنی ہی اشیا خریدنے کے لیے پہلے کی نسبت زیادہ رقم خرچ کرنی پڑتی ہے (فوٹو: انٹرنیٹ)

افراطِ زر کی وجوہات

افراطِ زر کا بنیادی سبب طلب اور رسد میں عدم توازن ہے۔ 1جب حکومتیں پیداوار بڑھائے بغیر نوٹ چھاپتی ہیں یا کریڈٹ میں توسیع کرتی ہیں، تو کرنسی کی قدر گر جاتی ہے۔

علاوہ ازیں خام مال اور توانائی کی بڑھتی قیمتیں بھی پیداواری لاگت میں اضافہ کرکے مہنگائی کو جنم دیتی ہیں۔

افراط زر کی وجوہات اور عالمی معیشت پر بڑھتی ہوئی مہنگائی کے اثرات
ماہرین معاشیات افراطِ زر کو رفتار اور اسباب کی بنیاد پر تقسیم کرتے ہیں (فوٹو: انٹرنیٹ)

افراطِ زر کی پیمائش

حکومتیں اور مرکزی بینک افراطِ زر کو جانچنے کے لیے ’کنزیومر پرائس انڈیکس‘ (CPI) کا استعمال کرتے ہیں۔

اس کے علاوہ ’پرسنل کنزمپشن ایکسپینڈیچر‘ (PCE) اور پروڈیوسر پرائس انڈیکس (PPI) جیسے پیمانے بھی استعمال ہوتے ہیں، جو مارکیٹ کے بدلتے رجحانات اور اشیا کی قیمتوں میں اضافے کو بروقت ریکارڈ کرنے میں مدد دیتے ہیں۔

تاریخی تناظر

تاریخ میں ہنگری اور جرمنی جیسے ممالک بدترین افراطِ زر کا شکار ہو چکے ہیں۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد ہنگری کی معیشت تباہ ہوئی تو حکومت نے بے دریغ نوٹ چھاپے، جبکہ پہلی جنگ عظیم کے بعد جرمنی میں کرنسی کی قدر اس قدر گری کہ نوٹوں کو ایندھن کے طور پر جلایا گیا، جو لکڑی جلانے سے سستا تھا۔

افراط زر کی وجوہات اور عالمی معیشت پر بڑھتی ہوئی مہنگائی کے اثرات
افراطِ زر کا بنیادی سبب طلب اور رسد میں عدم توازن ہے (فوٹو: انٹرنیٹ)

زمبابوے کا معاشی انہدام

نومبر 2008 میں زمبابوے میں افراطِ زر کی شرح 79 ارب فیصد تک پہنچ گئی تھی۔

حالات اتنے سنگین تھے کہ قیمتیں ہر 24 گھنٹے میں دگنی ہو رہی تھیں۔ ایک ڈبل روٹی کی قیمت ایک ہی رات میں لاکھوں سے کروڑوں زمبابوین ڈالرز تک پہنچ گئی تھی، جس نے معاشی نظام درہم برہم کر دیا۔

افراطِ زر کنٹرول کرنے کے طریقے

افراطِ زر پر قابو پانے کے لیے مرکزی بینک بنیادی طور پر شرح سود میں اضافہ کرتے ہیں، جس سے قرض مہنگا ہو جاتا ہے اور مارکیٹ میں طلب کم ہوتی ہے۔

اسی طرح حکومتیں اخراجات میں کمی اور ٹیکسوں میں اضافے کے ذریعے معیشت میں موجود اضافی نقدی کو کھینچنے کی پالیسی اپناتی ہیں۔

افراط زر کی وجوہات اور عالمی معیشت پر بڑھتی ہوئی مہنگائی کے اثرات
خام مال اور توانائی کی بڑھتی قیمتیں بھی پیداواری لاگت میں اضافہ کر کے مہنگائی کو جنم دیتی ہیں (فوٹو: انٹرنیٹ)

افراطِ زر محض قیمتوں کا بڑھنا نہیں بلکہ معاشی استحکام کے لیے ایک خاموش دشمن ہے۔

پائیدار ترقی کے لیے ضروری ہے کہ پیداوار میں اضافہ کیا جائے اور ایسی مالیاتی پالیسیاں اپنائی جائیں جو طلب اور رسد کے توازن کو برقرار رکھ سکیں، تاکہ شہریوں کی قوتِ خرید محفوظ رہ سکے۔