ایران کو امریکی اسرائیلی جنگ سے قبل ہی بلند افراطِ زر اور کرنسی کی قدر میں کمی جیسے سنگین معاشی مسائل کا سامنا تھا۔
مزید پڑھیں
الجزیرہ کے مطابق حالیہ جنگی فضائی حملوں نے نہ صرف صنعتی پیداواری صلاحیت کو بری طرح متاثر کیا بلکہ بے روزگاری میں بھی ہوشربا اضافہ کر دیا ہے۔
معاشی طوفان اور زمینی حقائق
تہران میں چیمبر آف کامرس کے سربراہ آرمان خالقی کے مطابق ایران اس وقت 5 عوامل پر مشتمل ’مکمل اقتصادی طوفان‘کا شکار ہے۔
ان میں سب سے زیادہ کرنسی کا خاتمہ، عوامی احتجاج، جنگ کے افراطِ زر پر اثرات، اجرتوں میں اضافہ اور سمندری ناکہ بندی شامل ہیں۔
عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 2025 میں ایران کی جی ڈی پی میں 1.5 فیصد کمی واقع ہوئی۔
جون 2024 میں اسرائیل کی جانب سے شروع کی گئی 12 روزہ جنگ اور پابندیوں نے ایرانی معیشت کو مزید کمزور کر دیا ہے۔
جنگی نقصانات
بلومبرگ کے مطابق اپریل میں جنگ بندی سے قبل 6 ہفتوں کے فضائی حملوں سے ایران کو 270 ارب ڈالر کا معاشی نقصان پہنچا۔
یہ نقصان 2024 میں عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق ایران کی کل 475 ارب ڈالر جی ڈی پی کا ایک بڑا حصہ ہے۔
حملوں میں گیس فیلڈز، تیل ذخائر اور اسٹیل پلانٹس سمیت بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا۔
اس کے علاوہ ہزاروں کمپنیاں بند ہوئیں اور سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ایرانی لیبر مارکیٹ میں تقریباً 10 لاکھ ملازمتیں ضائع ہوئیں۔
نائب وزیر محنت غلام محسن محمدی نے بھی اس صورتحال کی تصدیق کی ہے۔
افراطِ زر اور انسانی المیہ
ایرانی مرکزی بینک کی حالیہ رپورٹ کے مطابق سالانہ افراطِ زر کی شرح 77.2 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جو 1942 کی دوسری جنگ عظیم کے بعد بلند ترین سطح ہے۔
یو این ڈی پی کے تخمینے کے مطابق مزید 40 لاکھ ایرانی خطِ غربت سے نیچے جانے کے دہانے پر ہیں۔
اسی طرح انٹرنیٹ کی بندش نے بھی ڈیجیٹل اور آن لائن کاروبار سے وابستہ نوجوانوں کو شدید متاثر کیا ہے، جبکہ خوراک اور بنیادی ضروریات مہنگی ہونے کے باعث ہزاروں خاندان قرض لینے پر مجبور ہیں۔
معاشی تباہی روکنے کے حکومتی اقدامات
تہران نے جنگ کے دوران ’شیڈو فلیٹ‘ (تاریک بیڑے) کے ذریعے چین کو تیل کی برآمد جاری رکھی۔
اسی طرح حکومت نے مقامی پیداوار کو تحفظ دینے کے لیے بنیادی اشیاء کی برآمد پر پابندی لگائی اور غیر ملکی زرمبادلہ کی ترجیحی تقسیم کے ذریعے درآمدات کو کنٹرول کیا۔
اس دوران پاکستان، افغانستان اور روس کے ساتھ زمینی اور بحری تجارتی راستوں کو وسعت دی گئی۔
یاد رہے کہ ایران 2013 سے ’اقتصادی مزاحمت‘ کی پالیسی پر گامزن ہے، جس کا مقصد خود انحصاری اور غیر ملکی پابندیوں کے اثرات کو کم سے کم کرنا ہے۔
مستقبل کا لائحہ عمل اور چیلنجز
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگ کے بعد بحالی کا عمل طویل اور مہنگا ہوگا۔
اس موقع پر ایران ایک بین الاقوامی سرمایہ کاری فنڈ کے قیام کا خواہاں ہے، جس کی مالیت 300 ارب ڈالر ہو سکتی ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف فنڈز کا حصول کافی نہیں، بلکہ درست منصوبہ بندی بھی ناگزیر ہے۔
ایران کا مؤقف ہے کہ پابندیوں کا خاتمہ ہی معیشت کو آزادانہ تجارت اور بحالی کی راہ پر گامزن کر سکتا ہے۔
اگر پابندیاں ختم ہوتی ہیں تو تیل کی برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدنی میں نمایاں اضافہ ممکن ہوگا، جو ملکی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی ثابت ہو سکتا ہے۔