امریکی ریاست جارجیا سے تعلق رکھنے والے نوجوان سینیٹر جان اوسوف ان دنوں ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر مستقبل کے ممکنہ صدر کے طور پر ابھر رہے ہیں۔
مزید پڑھیں
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق 40 سال سے کم عمر یہ سیاست دان اپنی جماعت کے لیے اُمید کی ایک نئی اور توانا کرن بن چکے ہیں۔
نیویارک ٹائمز کی کالم نگار مشیل گولڈ برگ نے ان کی سیاسی جدوجہد کو سراہتے ہوئے لکھا ہے کہ بہت سے لوگ انہیں ملک کے اعلیٰ ترین منصب پر دیکھنا چاہتے ہیں۔
معروف صحافی مہدی حسن کے مطابق دوبارہ انتخاب جان اوسوف کی
صدارتی نامزدگی کی راہ ہموار کرے گا۔
جان اوسوف 1987 میں پیدا ہوئے اور انہوں نے 2020 کے آخر میں محض 33 سال کی عمر میں سینیٹر منتخب ہو کر تاریخ رقم کی۔ وہ 1972 میں جو بائیڈن کے انتخاب کے بعد امریکی سینیٹ کے کم عمر ترین رکن بننے کا اعزاز رکھتے ہیں۔
جنوبی ریاست جارجیا سے تعلق رکھنے والے اوسوف کی شخصیت ڈیموکریٹس کے لیے انتہائی پرکشش ہے۔
ان کی اہلیہ الیشا کرامر ایک نامور ماہر امراض نسواں ہیں اور ان کی 2 چھوٹی بیٹیاں ایک روایتی اور مثالی امریکی خاندان کی تصویر پیش کرتی ہیں۔
اوسوف کی مقبولیت کی ایک بڑی وجہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں پر ان کی مسلسل اور سخت تنقید ہے۔
وہ اپنی انتخابی مہم میں ریپبلکن حریفوں کے بجائے ٹرمپ اور ’مارالاگو مافیا‘ کو نشانہ بناتے ہوئے کرپشن کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں۔
اُن کے سیاسی نظریات کا محور امریکی نظام میں موجود خرابیوں کی نشاندہی اور ایک کثیر الجہتی لبرل وژن کی فراہمی ہے۔ اُن کا ماننا ہے کہ امریکہ کی عظمت خون یا نسل سے نہیں بلکہ مشترکہ نظریات اور اعلیٰ انسانی اقدار سے وابستہ ہے۔
سیاست میں آنے سے قبل جان اوسوف دستاویزی فلمیں بنانے والی کمپنی کے سربراہ تھے، جہاں انہوں نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر کام کیا۔
انہوں نے داعش کے جرائم اور افریقہ میں کھیلوں کی کرپشن جیسے حساس موضوعات پر تحقیقاتی رپورٹنگ بھی کی ہے۔
اوسوف کا کہنا ہے کہ کرپشن ہی دراصل ظلم اور آمریت کی جڑ ہے جس کا تجربہ انہیں جنگی جرائم کی تحقیقات کے دوران ہوا۔ وہ مسلسل ’ایپسٹین کلاس‘ جیسے بااثر مالیاتی نیٹ ورکس پر تنقید کرتے ہوئے سیاسی نظام میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔
یہودی پس منظر رکھنے کے باوجود جان اوسوف اسرائیلی پالیسیوں کے بڑے ناقد سمجھے جاتے ہیں۔
انہوں نے 2024 میں برنی سینڈرز کی اس قرارداد کی حمایت کی تھی جس میں اسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی روکنے کا مطالبہ کیا گیا تھا، جو ایک جرات مندانہ قدم تھا۔
سینیٹ میں خطاب کے دوران انہوں نے غزہ میں معصوم فلسطینی شہریوں کی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ کا اظہار کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی عوام غزہ میں بچوں کی ہلاکتوں اور زخمی ہونے کے واقعات پر شدید صدمے کی حالت میں ہیں۔
مشیل گولڈ برگ کے مطابق اوسوف کا یہ متوازن مؤقف انہیں سیاسی طور پر منفرد بناتا ہے۔
اُن پر سامی دشمنی کا الزام لگانا مشکل ہے جبکہ بائیڈن انتظامیہ کی پالیسیوں کے ناقدین بھی ان کے انسانی ہمدردی کے موقف کی وجہ سے ان کے حامی ہیں۔
فی الوقت جان اوسوف صدارتی دوڑ میں شامل ہونے کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے انہیں محض ایک افواہ قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنی تمام تر توجہ 2026 کے وسط مدتی انتخابات میں دوبارہ کامیابی حاصل کرنے پر مرکوز رکھنا چاہتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اوسوف کی تردید کے باوجود ان کا سیاسی سفر باراک اوباما سے مشابہت رکھتا ہے۔
اگر وہ جارجیا میں واضح اکثریت سے کامیاب ہو جاتے ہیں تو پارٹی قیادت کا دباؤ انہیں صدارتی امیدوار بننے پر بھی مجبور کر سکتا ہے۔